آج کا کالم

ٹکٹ کی تقسیم میں جم کر چلا  "پریوار واد”

فرض کریں کہ آپ ایک ہوشیار ووٹر ہیں. ہر الیکشن میں آپ کی شیخی یہ ہوتی ہے کہ آپ نے بڑے بڑوں کو شکست دی، حکومتیں تبدیل دیں. آپ کے ان تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہم  ایک سوال کرنا چاہتے ہیں. فرض کریں کہ آپ اس بار حکمراں انقلابی پارٹی سے ناراض ہیں اور اس کی جگہ دوسری پارٹی کو ووٹ دینا چاہتے ہیں. پانچ سال تک انقلابی پارٹی کا ممبر اسمبلی سریش نظر نہیں آتا ہے، تبدیلی پارٹی کا رمیش ہر معاملے پر آواز اٹھاتا ہے. انتخابات کے وقت انحراف کر انقلابی پارٹی کا ممبر اسمبلی سریش تبدیلی پارٹی سے امیدوار بن جاتا ہے. ناراض رمیش تبدیلی پارٹی چھوڑتا ہے اور انقلابی پارٹی کا دامن تھام لیتا ہے. اب آپ ہوشیار ووٹر کے سامنے دو صورتیں ہیں. جس پارٹی کو آپ ووٹ نہیں دینا چاہتے تھے وہاں سے اب آپ کی پسندیدہ لیڈر کھڑا ہے. جس پارٹی کو آپ ووٹ دینا چاہتے ہیں وہاں سے وہ امیدوار ہے جسے آپ ہرانا چاہتے ہیں. آپ بتائیے آپ ووٹ کسے دیں گے. صحیح پارٹی کو چنیں گے یا دائیں امیدوار کو. صحیح پارٹی کو منتخب کرنے کے لئے آپ کو تبدیلی پارٹی کو ووٹ کرنا ہوگا، صحیح امیدوار منتخب کرنے کے لئے آپ کو انقلابی پارٹی کو ووٹ کرنا ہوگا.

جواب آپ پر چھوڑتا ہوں. یہ جانتے ہوئے کہ ووٹ کرنا آسان فیصلہ نہیں ہوتا ہے. کیا یہ عجیب نہیں ہے کہ آپ جس پارٹی کو جتانا چاہتے ہیں، اس کے لئے دن رات محنت کرنے والے کارکنوں کے تئیں آپ کی کوئی ہمدردی نہیں ہے. آپ کو دوسرے پارٹی سے آئے امیدوار کو ووٹ دے دیتے ہیں. ہر پارٹی میں انحراف برانچ ہے. دل اور دلبدلو دونوں ہی موقع پرست ہوتے ہیں. یہ بھی صحیح ہے کہ ٹکٹ بٹنے کے دو تین دن تک ہی دلبدلو اور کنبہ پروری کا مسئلہ حاوی رہتا ہے. اس کے بعد ریلیاں شروع ہوتے ہی سارا منظر کچھ اور ہو جاتا ہے. انحراف اور کنبہ پروری کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے. پھر اگلے انتخابات میں ابھرتا ہے.

غازی آباد ضلع میں اسمبلی کی پانچ سيٹیں ہیں. یہاں بی جے پی نے ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. کانگریس نے بھی ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. بی ایس پی نے کسی دلبدلو کو ٹکٹ نہیں دیا ہے. ہاپوڑ ضلع میں اسمبلی کی تین نشستیں ہیں. بی ایس پی نے کسی دلبدلو کو ٹکٹ نہیں دیا ہے. سماجوادی پارٹی نے بھی کسی دلبدلو کو نہیں دیا ہے. بی جے پی نے ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. سابق ممبر پارلیمنٹ رمیش چندر تومر جنہیں 2014 میں کانگریس نے نوئیڈا لوک سبھا سے ٹکٹ دیا تھا. تومر نے عین وقت پر انتخابات لڑنے سے انکار کر دیا اور بی جے پی میں شامل ہو گئے. چار بار بی جے پی سے ممبر پارلیمنٹ رہے ہیں. 2009 میں کانگریس کے ٹکٹ پر لوک سبھا الیکشن لڑ چکے ہیں.

الہ آباد میں اسمبلی کی 12 نشستیں ہیں. بی ایس پی نے ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. بی جے پی نے 8 ناموں کا اعلان کر دیا ہے، جس میں سے 5 دلبدلو ہیں. ایس پی اور کانگریس نے ایک بھی دلبدلو کو ٹکٹ نہیں دیا ہے. بلندشهر ضلع میں اسمبلی کی سات سیٹیں ہیں. یہاں سے بی جے پی، بی ایس پی نے ایک ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. قومی لوک دل نے پانچ دلبدلووں کو ٹکٹ دیے ہیں. آر ایل ڈی کے ٹکٹ پر ایس پی اور بی جے پی سے آئے لیڈر الیکشن لڑ رہے ہیں. بنارس ضلع میں آٹھ سیٹیں ہیں. بی جے پی، ایس پی اور کانگریس نے یہاں سرکاری طور پر نام کا اعلان نہیں کیا ہے. بی ایس پی نے کسی دلبدلو کو ٹکٹ نہیں دیا ہے. ناموں کا اعلان کردیا ہے.

بلیا میں سات اسمبلی سيٹیں ہیں. بی ایس پی نے ابھی تک ایک دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے. ایس پی نے 6 سیٹ پر ناموں کا اعلان کر دیا ہے مگر کسی دلبدلو کو ٹکٹ نہیں دیا ہے. بی جے پی نے ایک ہی نشست کا اعلان کیا ہے، دلبدلو کو نہیں دیا ہے. بلکہ ہنگامہ سے لگتا ہے کہ سارے جماعتوں نے بنیادی کارکنوں کو نظر انداز کیا ہے اور بیرونیوں کو ہی ٹکٹ دیا ہے. مگر ذلاوار جاکر دیکھنے سے لگتا ہے کہ دلبدلو تو سب یہاں ہیں. کسی ضلع میں کم ہیں یا کسی کسی میں بہت زیادہ. ‘روزانہ بھاسکر’ نے لکھا ہے کہ بی جے پی نے اب تک 300 امیدواروں میں سے 30 دلبدلو کو ٹکٹ دیا ہے.

ایک دوسرا مسئلہ ہے کنبہ پروری. اس بار بی جے پی میں بہت سے خاندانوں کو ٹکٹ ملا تو کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کے اندر اندر کنبہ پروری پبلک کی نظر سے بچ گئے. بی جے پی ضرور کنبہ پروری کی مخالفت کرتی ہے، لیکن اب اس کے لیڈر گاندھی کنبہ پروری اور اپنے یہاں کے باپ بیٹوں کی سیاست کے کنبہ پروری سے فرق کر رہے ہیں.

کانگریس کے رديپ سرجےوالا نے جواب نہیں دیا. وہ خود ایک سیاستدان کے بیٹے ہیں. بی جے پی کے اوم ماتھر نے جواب دیا کہ وہ گادھيپروار کے نسل پرستی اور بی جے پی کے اندر اندر نئے نئے خاندانوں میں فرق کرتے ہیں. ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ کانگریس میں گاندھی خاندان تو صرف اوپر کی کرسی پر بیٹھتا ہے. بی جے پی میں خاندان کے رکن کو کارکن سے اوپر کی طرف چڑھ پڑتا ہے. تنظیم میں کام کرنے پڑتے ہیں. ہم نے کچھ دن پہلے یوپی بی جے پی کے اندر اندر کنبہ پروری کی گنتی کی تھی. اس میں بہت سے نام جڑ گئے ہیں.

بی جے پی کے اندر اندر فلاح و بہبود خاندان ایس پی خاندان کا مقابلہ کرتا لگ رہا ہے. کلیان سنگھ گورنر ہیں. ان کے بیٹے بی جے پی سے ممبر پارلیمنٹ ہیں. بیٹے کے بیٹے کو اسمبلی کا ٹکٹ ملا ہے. بہو کو بھی ٹکٹ ملا ہے. پنکج سنگھ کو ٹکٹ ملنے کے ساتھ ہی راج ناتھ خاندان دوڑ میں آ گیا ہے. ممبران پارلیمنٹ اور رہنماؤں کی بیویوں، بیٹوں اور بہو کے نام کی بنیاد پر بی جے پی کے اندر اندر کے خاندانوں کے نام اس طرح ہیں برجبھوش خاندان، سرویش خاندان، کوشل کشور خاندان، موریہ خاندان، ٹنڈن خاندان، هكوم خاندان، راہی خاندان، کٹیار خاندان، شاستری خاندان، واجپئی خاندان، ترپاٹھی خاندان، گنگوار خاندان، چلبل سنگھ خاندان، شریواستو خاندان، رائے خاندان، کپور خاندان.

اس کا مطلب یہ نہیں کہ بی ایس پی، کانگریس اور سماج وادی پارٹی میں کنبہ پروری بند ہو گیا ہے. یوپی میں ملائم سنگھ کنبے کا کوئی خاندان مقابلہ نہیں کر سکتا ہے. ملائم سنگھ یادو کے کنبے کی فہرست اتنی طویل ہوتی جا رہی ہے کہ ایک دن اس کے خاندان سے یوپی کو تین چار ٹیم تو ملیں گے ہی. اس انتخاب میں بھی یادو خاندان کے دو نئے ورژن لانچ ہوئے ہیں. رام گوپال یادو کے بھانجے اروند سنگھ یادو کو قنوج کی چھبرامو سیٹ سے ٹکٹ ملا ہے. فیراری کار والے علامت یادو کی بیوی ارپنا یادو کو لکھنؤ کینٹ سے ٹکٹ ملا ہے. اس کے علاوہ ایس پی میں اعظم خاندان، اگروال خاندان، انصاری خاندان کی طرح بہت سے خاندان ہیں.

کانگریس نے پنجاب میں بہت ٹکٹ کنبہ پروری کی بنیاد پر بانٹے ہیں. بلکہ کیپٹن امرندر سنگھ نے کنبہ پروری کے نام پر ٹکٹ کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ‘ایک خاندان ایک ٹکٹ’ کا عجوبہ قوانین نکالا. میڈیا رپورٹ کی بنیاد پر کانگریس نے کنبہ پروری کی بنیاد پر 13 ٹکٹ دیے ہیں. ہر پارٹی نے کنبہ پروری کی بنیاد پر ٹکٹ دیئے ہیں، مگر اس طرح کے کوٹے کا کریڈٹ کیپٹن صاحب کو ہی جانا چاہئے. گوا اور یوپی کے لیے کانگریس نے ایسا اصول نہیں بنایا ہے. گوا میں کانگریس نے باپ بیٹے کو ٹکٹ دیا ہے. میاں بیوی کو ٹکٹ دیا ہے. بی ایس پی میں بھی کنبہ پروری کی بنیاد پر ٹکٹ ملے ہیں.

اب ووٹر کو طے کرنا ہے کہ وہ انتخابات میں حکومت منتخب کریں یا امیدوار منتخب. امیدوار کا انتخاب کرتے وقت پارٹی بدلنے، کنبہ پروری کا بھی علاج کرے. ویسے ووٹر کام امیدوار انتخاب ہوتا ہے، حکومت منتخب کرنا اس کا کام نہیں ہے. آپ ووٹر ہی بتا سکیں گے کہ سیاست اور سیاسی جماعت کے اندر اندر پرتیبھا کو کون زیادہ روک رہا ہے. پیسہ یا کنبہ پروری. اے ڈی آر کے اعداد و شمار کے مطابق لوک سبھا میں ایس ایس کیا ممبران پارلیمنٹ کی اوسط جائیداد 14 کروڑ بتائی جاتی ہے. پیسے والے سیاست میں آئیں گے تو انتخابات مہنگی ہی ہوتے جائیں گے. اس عمل میں نئی ​​پرتیبھا کے لئے چانس کم رہ جاتا ہے. سیاست خاندانوں کے آس پاس گھومتی رہتی ہے. آپ پارٹی تو بدل سکتے ہیں مگر خاندان تبدیل نہیں کر سکتے. پارٹی کے ساتھ ساتھ پیسہ اور خاندان بھی پیکیج میں جڑا ہوتا ہے

بھارتی سیاست مصنوعی ہوتی جا رہی ہے. تھوڑے بہت تفریقات کے ساتھ ہر پارٹی کا تھوڑا سا ہی پیٹرن لگتا ہے. صحافیوں کی کشمکش دیکھئے. پہلے وہ دادا جی کو احاطہ کرتے تھے، پھر ان کے بیٹے یا بیٹی کا احاطہ کرنے لگے، اب نواسی بحری جہاز کا احاطہ کرنا پڑ رہا ہے اور کر بھی رہے ہیں. لکھنے اور بولنے کے لئے سیاست میں نئی ​​باصلاحیت بہت کم دكھاي دے رہی ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close