آج کا کالم

پارلیمنٹ کے سینٹرل ہال میں نیتاؤں اور صحافیوں کی بحث

منورنجن بھارتی

(منورنجن بھارتی این ڈی ٹی وی انڈیا میں سینئر ایگزیکٹو ایڈیٹر ہیں)

پارلیمنٹ کے مرکزی کمرے یعنی سینٹرل ہال میں کچھ صحافیوں اور کچھ رہنماؤں کے درمیان اس بات پر بحث چھڑی ہوئی تھی کہ موجودہ حالات میں راہل گاندھی کا سیاسی گراف اوپر جا رہا ہے یا پھر وزیر اعظم کا گراف نیچے. کچھ صحافی اس تھیوری کو صحیح ثابت کرنے میں لگے تھے مگر بی جے پی لیڈروں کو یہ ناگوار لگ رہا تھا. ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ جس طریقے سے وزیر اعظم نے حالیہ تقریر میں ماضی کو زیادہ اہمیت دی ہو یا پھر نہرو بمقابلہ سردار پٹیل کا مقابلہ کیا ہو یا پھر رینوکا چودھری کیس ہو، اس سے بچا جا سکتا تھا.

بی جے پی نیتاؤں کا خیال تھا کہ رافیل کے مسئلے کو کانگریس بڑا بنا کر ایک گھوٹالے جیسا بنانے کی کوشش کرے گی، شاید اس سے ان کو تھوڑا سیاسی فائدہ مل بھی جائے، مگر آخر میں بی جے پی اسے قوم پرستی سے جوڑنے میں کامیاب رہے گی اور رافیل پر کچھ بھی بولنے سے انکار کرتے ہوئے اسے قومی سلامتی سے منسلک معاملہ بتاتی رہے گی. بار بار کہے گی کہ اس سے قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرنا ہوگا. پھر یہ معاملہ بھی آنے والے انتخابات میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندي جیسا ہی بن کر رہ جائے گا یعنی ٹائیں ٹائیں فش۔  یعنی مودی کا جادو برقرار رہے گا. راہل کو ابھی بہت محنت کرنی پڑے گی اور مودی سے بہت کچھ سیکھنا پڑے گا، خاص طور پر کسی چیز کی مارکیٹنگ کس طرح کی جاتی ہے اور لوگوں سے بات چیت کس طرح کی جاتی ہے. ساتھ ہی اپوزیشن پر کب سب سے شدید حملہ کیا جا سکتا ہے اور کب مؤثر طریقے سے.

دوسرا سب سے بڑا موضوع جو مرکزی ہال میں بحث میں تھا کہ لوک سبھا کے انتخابات آخر کب ہو سکتے ہیں. مختلف رہنما گروپ میں ایک ساتھ بیٹھے ہوئے تھے جس میں تمام جماعتوں کے رہنما ہوتے ہیں اور ان سے چپکے ہوئے تھے صحافی. کئی جگہ وزیر بھی ممبران پارلیمنٹ کے گروپ میں شامل تھے. کہیں اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ انتخابات دسمبر میں کئی ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ہی کرا لئے جائیں. اس سے ریاستوں میں ہونے والے نفع نقصان کو بی جے پی حکومت کم کر سکتی ہے. خود وزیر اعظم ریاستوں کے ساتھ لوک سبھا کا انتخابات کرانے کے حق میں ہیں. جبکہ کئی ممبران پارلیمنٹ کا خیال تھا کہ جس حالات میں حکومت ہے اور جو تیور راہل گاندھی نے اپنا رکھے ہیں، جلدی انتخابات کرانے میں ایک خطرہ بھی ہے.

ان ممبران پارلیمنٹ کا خیال تھا کہ حکومت کو کم از کم 6 ماہ تک اپنے پروگراموں پر توجہ مرکوز کرکے چیزوں کو سنبھالنے کی کوشش کرنی چاہئے. جبکہ اس کے اپوزیشن میں کچھ ممبران پارلیمنٹ کا خیال تھا کہ چیزیں جب ہاتھ سے نکلنے لگتی ہیں تو ویسے ہی نکلتی ہیں جیسے ہاتھ سے ریت. ان ممبران پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ راجیو گاندھی کی پرچنڈ اکثریت کی حکومت نے پہلے سکھ فسادات میں ڈھلائی برتی۔ شاہ بانو کیس پر ہنگامہ کیا، ایودھیا میں تالا كھلوایا، سری لنکا میں پربھاکرن سے دوستی کی پھر دشمنی اور بوفورس جیسی مثالیں تک دی گئیں. لہذا عوام کو بیوقوف نہیں سمجھنا چاہئے. عوام سب بھانپ لیتی ہے کہ اسے کیا کرنا چاہئے. آخر اس کے ہاتھ میں ہی جمہوریت کا ریموٹ کنٹرول ہوتا ہے.

آخر میں ممبران پارلیمنٹ کا ماننا تھا کہ ہمیں تو الیکشن میں جانا ہی ہے، تو تیاری شروع کی جائے اور چلو گاؤں کی جانب کی بات کہتے ہوئے رکن پارلیمنٹ اٹھ کھڑے ہوئے. کیونکہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی مارچ تک ملتوی ہو گئی تھی اور ان ممبران پارلیمنٹ کو اپنے علاقے میں بھی جانا تھا. یہ کہتے ہوئے کہ اگلے ماہ پھر ملتے ہیں ایک اور بحث کے لئے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close