آج کا کالم

پانچ ریاستوں  کے انتخابات میں  ابھرے صرف دو چٹكھ رنگ 

ملک کی توجہ فی الحال پانچ ریاستوں  میں  ہو رہے انتخابات کے رنگوں  کی طرف ہے، اور وہ بڑی تباہی کے ساتھ ان کے نتائج کا انتظار کر رہا ہے. اس کی وجہ ریاستوں  میں  ہونے والے سیاسی تبدیلی کو جاننا اتنا نہیں  ہے جتنا اس کی بنیاد پر پورے ملک میں  ہو رہے سیاسی تبدیلی کو سمجھنا ہے. بالخصوص وہ اس بات کی شناخت کے لئے خاص طور پر پریشان ہے کہ نوٹبدي کا انتخابات کے چہرے-ٹکڑے ٹکڑے اور اس کی صحت پر کیا اثر پڑا ہے. شمالی، شمال مشرقی اور جنوبی سمت کی ریاستوں  میں  ہونے والے یہ انتخابات بے شک نہ صرف سال 2019 میں  ہونے والے لوک سبھا کے انتخابات کی حکمت عملی کا تعین کرے گا، بلکہ اس درمیان تقریبا دو سالوں  کی حکومت کی پالیسیوں  پر بھی اپنا اثر دکھائیں  گے.

ان پچرگي انتخابات میں  فی الحال سب سے گاڑھا اور چٹكھ رنگ ہے یوپی کی، اور اس کے بعد باری آتی ہے پنجاب کی. لوک سبھا میں  بہت کم رہنما بھیجنے والے اتراکھنڈ (5)، گوا (2) اور منی پور (2) اس میں  محض كدمتال بھر کر رہے ہیں،  اگرچہ ‘آپ’ کی موجودگی کی وجہ سے گوا کے بارے میں  تھوڑا بہت سنائی پڑ جاتا ہے.

فی الحال ان انتخابات میں  انتخابی سیاست کے دو نئے رنگ ابھرتی ہوئی نظر آ رہے ہیں . ان میں  پہلا اور بہت دلچسپ بات یہ رنگ یہ ہے کہ سیاسی کارکنوں  کے پاس سے نوٹوں  کے بوریوں،  تھےلو، بیگ اور گڈڈيو کی برامدي کی اطلاعات مل تو رہی ہیں،  لیکن بہت ہی کم. اسی طرح کی مثبت اطلاعات ان سب کے بارے میں  بھی ہے، جن کا تعلق ووٹروں  کو ‘نام نہاد رشوت’ دینے سے تھا. یقینی طور پر یہاں  اروند کیجریوال کی وہ اپیل بہت کامیاب معلوم ہوتی دکھائی نہیں  پڑ رہی ہے کہ ‘اگر کوئی پیسے دیتا ہے تو انکار مت کرنا، لے لینا، لیکن ووٹ’ آپ ‘(عام آدمی پارٹی) کو ہی دینا … ‘بات صاف ہے کہ نوٹبدي نے انتخابات کے چہرے کو اور زیادہ سیاہ ہونے سے کچھ نہ کچھ تو بچا لیا ہی ہے، اور وہ بھی وقت سے پہلے کہ لوگ اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیں . اگر یہ سچ ثابت ہوا تو یہ دو سال تک بہنے والی ایک ایسی زبردست لہر ہوگی جو کمل کھلتے کے کام آئے گی.

دوسرا رنگ ہے مقبول اعلانات کا، جسے اگر ‘قانونی رشوت’ کہا جائے تو بہت غلط نہیں  ہوگا. پنجاب میں  بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اگر یہ کہتی ہے کہ وہ نیلے راشن کارڈ ہولڈرز کو 25 روپے فی کلو کی شرح سے گھی دے گی، تو کانگریس سستی چايپتتي اور چینی دینے کا وعدہ کرتی ہے. دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اتر پردیش میں  سماجوادی پارٹی کہتی ہے کہ وہ اسکول جانے والے ہر بچے کو ایک کلو گھی مفت دے گی. ساتھ ہی ہر عورت کو ایک پریشر ککر مفت دیا جائے گا. دنیا کے سب سے زیادہ غذائی قلت کے شکار ممالک میں  سے ایک ملک مفت گھی اور سستے میں  چايپتتي بانٹ کر ہی اس کلنک سے نجات پا سکے گا. اس سے بہترین کوئی مستقبل-نظر ہو سکتا ہے، سوچنا مشکل ہے.

یہاں  عوام کو ان سے دو سوال پوچھنے ہی چاہئے. پہلا سوال یہ کہ ‘یہ جو تم ڈاؤن دوگے، کیا یہ آپ کے گھر سے دو گے … کہیں  ایسا تو نہیں  کہ ہمارے ہی تعلیم اور صحت جیسے اخراجات میں  کمی کرکے بدلے میں  ہمیں ‘ گھی ‘پلا دو گے جو ہمیں  چاہئے ہی نہیں  … ‘پنجاب کے کسانوں  کو مفت بجلی دینے کے وعدے نے وہاں  کے سرکاری خزانے کا کیا حال کر دیا ہے، کسی سے پوشیدہ نہیں  ہے.

دوسرا سوال یہ ہے کہ ‘کیا آپ ہمیں  اس طرح کی رشوت دے دے کر ہمیں  ہمیشہ کے لئے اس طرح کی مپھتكھوري کی عادت کا شکار بنانا چاہتے ہو …؟ آپ ہمیں  اس لائق کیوں  نہیں  بنا دیتے کہ ضرورت پڑنے پر ہم خود ہی گھی خرید سکیں  … یہ تمہارے ہاتھ میں  ہے، اور آپ ایسا کر سکتے ہو … ‘ان سوالات کے صحیح جوابات ضرور سیاست کے رنگوں  کو تبدیل کر دیں  گے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close