آج کا کالم

پانچ سو سے زائد نئے دفتر کیوں بنا رہی ہے بی جے پی …!

رویش کمار

بھارتیہ جنتا پارٹی کے نئے ہیڈ کوارٹر کی اولین تقریب کی بات عام خبر سے زیادہ کی حیثیت نہیں پا سکی. اس کی وجہ دیگر اہم خبریں ضرور رہی ہوں گی لیکن ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ صحافی اور قاری کسی پارٹی کے طریقہ کار میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے ہیں. کوئی پارٹی یہ اعلان کرے کہ دہلی میں ماڈرن ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ساتھ 525 ضلعی کوارٹر میں جدید سہولیات سے آراستہ وپیراستہ دفتر بنانے کے لئے جا رہی ہے، تو یقینی طور پر کوئی عام واقعہ نہیں ہے. دہلی سے لے کر منڈل سطح تک کے کارکنوں سے لے کر واقعات تک کے دستاویزات تیار کرنا روزمرہ کی مشق نہیں لگتی.

راکھی کے دن دہلی کے دین دیال اپادھیائے مارگ پر نئے ہیڈ کوارٹر کی اولین تقریب ہوئی ہے. نئی عمارت کے بارے میں جو معلومات شائع ہیں وہ بتاتی ہیں کہ بی جے پی کے طریقہ کار میں کافی کچھ تبدیلیاں آ رہی ہیں. دو سال میں جب یہ ہیڈکوارٹر بن کر تیار ہو جائے گا تب اس میں 70 کمرے ہوں گے. وائی فائی سے لیس عمارت میں سیمینار روم، کانفرنس ہال، لائبریری، پڑھنے کا کمرہ، کافی اور کینٹین کے علاوہ اسکریننگ روم ہوں گے، ترجمان کے لئے اسٹوڈیو بنے ہوں گے جہاں سے وہ تمام ٹی وی چینلوں میں ہونے والی بحثوں میں حصہ لے سکیں گے. اس موقع پر پارٹی صدر امت شاہ نے پارٹی کے طریقہ کار کی جدیدکاری پر تفصیل سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم اور وسیع توسیع، کارکنوں اور ملک کے عوام کے ساتھ براہ راست وابستگی کے لئے بھارتی جنتا پارٹی نے فیصلہ لیا ہے کہ ملک کے تمام 525 تنظیمی اضلاع میں پارٹی کا اپنا تمام خصوصیات سے لیس ایک ماڈرن آفس ہونا چاہئے. بی جے پی کی جانب سے جاری پریس ريليج میں کہا گیا ہے.

بی جے پی نے اس کے لئے 200 سے زائد مقامات پر زمینیں بھی خرید لی ہیں. ایک ساتھ دہلی سے لے کر ضلعی سطح تک اتنی بڑی تعداد میں دفتروں کی تعمیر مجھے حیران کرتی ہے. ظاہر ہے کئی جگہوں پر بی جے پی کا دفتر پہلے بھی ہوگا اور وہ بھی بالکل ٹھیک ٹھاک ہی ہوگا. گزشتہ دو تین دہائیوں سے بی جے پی ایک ریسورس فل پارٹی مانی جاتی رہی ہے. سیاسی جماعتوں کو کارکنوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کو فنڈ کرنے والے دان ویروں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے بھلے ہی ماڈرن ہونے کے بعد وہ اس معاملے میں کبھی شفاف نہیں ہو پائیں گے. بہت سے لوگوں نے اپنی زمین اور مکان بی جے پی کے دفتر کے لئے عطیہ میں دیئے ہوں گے. لیکن اب پارٹی وہاں سے نکل کر اپنی خریدی ہوئی زمین پر دفتر بنانا چاہتی ہے.

تاریخی تصور سے نکلنے کی ایسی سنگ دلی انہی میں ہوتی ہے جن کے پاس ہدف صاف ہوتا ہے کہ کرنا کیا ہے. کسی بھی پارٹی کے لئے نفسیاتی طور پر یہ ایک بڑی تبدیلی ہے. دو سال کے اندر بی جے پی کے لاکھوں کارکنان نئے اور آراستہ وپیراستہ دفتروں میں جانے لگیں گے. ایک بڑی سیاسی پارٹی کا ایک جھٹکے میں كارپوریٹائزیشن کوئی عام واقعہ نہیں ہے. یہ کام بی جے پی اس وقت کر رہی ہے جب اس کا بہترین دور چل رہا ہے. اس دور میں بھی وہ اپنی بھوک تیز کرنا چاہتی ہے کہ ہمیں اس سے بھی بہترین دور کی طرف جانا ہے.

ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں ہوا کے آنے اور جانے کے بھروسے سیاست کرتی ہیں. لیکن بی جے پی اس تاثر کو ختم کرنا چاہتی ہے. صدر امت شاہ اور وزیر اعظم مودی کی جوڑی عام کارکنوں کو فعال رکھنا چاہتی ہے تاکہ کسی کو نہ لگے کہ اقتدار آرام کی چیز ہوتی ہے. امت شاہ خود بھی آرام کرنے والے صدر نہیں لگتے ہیں. کسی پارٹی میں ورکنگ صدر تو سنا ہے لیکن ورکروں کا صدر کم دیکھا ہے جن کی اسٹائل سے چڑنے والا چھوٹا لیڈر بھی کہہ دیتا ہے کہ کبھی بھی فون کر دیتے ہیں. امت شاہ اپنی اس اہم ترین ہیڈکوارٹر- دفتر منصوبہ بندی کے ذریعے دو سال بعد کارکنوں کو 2014 کے موہ سے بھی آزاد کر دیں گے کہ کبھی پارٹی اس طرح سے جیتی تھی. نئے دفتر میں ان کے پاس ہدف نیا ہوگا. پیچھے دیکھنے کے لئے کم، سامنے اور آگے دیکھنے کے لئے بہت کچھ ہو جائے گا.

سال 2013 سے پہلے کبھی کسی سیاسی پارٹی کے اندرونی طریقہ کار کو سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا. بہوجن سماج پارٹی کا کور کرتا تھا تو آج سے پہلے اس طرح کی تصویر بی ایس پی کے کارکنوں کے بارے میں بنی تھی. سیاسی رپورٹنگ کے ابتدائی دنوں میں سنا تھا کہ سب سے زیادہ دفتر یا دفتر کے نام پر جائیداد سی پی آئی کے پاس ہے. سنا تھا، حقیقت کی بنیاد پر نہیں کہہ رہا ہوں. کانگریس نے بھی راجیو گاندھی کے زمانے میں پریس کلب کے پاس جواہر محل بنایا تھا. جواہر محل آج بھی جدید لگتا ہے، تب تو لگتا ہی ہوگا مگر پارٹی کا ہیڈ کوارٹر یہاں شفٹ نہیں ہو سکا. تب راجیو گاندھی کو ٹیكنالوجی اور نئے زمانے کی سیاست کا چسکا لگایا جا رہا تھا کہ کانگریس اب بدل رہی ہے. کانگریس نے آغاز کرکے اپنے قدم کھینچ لئے. کئی سال سے اکبر روڈ پر واقع کانگریس ہیڈکوارٹر نہیں گیا ہوں تو اب پوزیشن نہیں بتا سکتا.

ہیڈکوارٹر یا دفتر کی سرگرمی کسی بھی سیاسی پارٹی کے کام کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہے. عام طور پر حکومت بننے پر پارٹی وزیراعظم یا وزیر اعلی کی رہائش گاہ سے چلنے لگتی ہے. اس مضمون کے لئے جب گوگل سرچ کر رہا تھا تو معلوم پڑا کہ امت شاہ پارٹی آفس میں ہی میٹنگ کرنا پسند کرتے ہیں. وزیر اعظم اور صدر جس طرح ممبران پارلیمنٹ اور وزراء کو طرح طرح کے دوروں کے بہانے علاقے میں دوڑا رہے ہیں ویسا اگر کانگریس کے وقت ہوتا تو یہی خبر آتی رہتی کہ فلاں وزیر نے جانے سے انکار کر دیا. یہاں تو وزیر داخلہ سے لے کر وزیر خزانہ تک دور دراز کے علاقوں میں دورہ کر رہے ہیں. اب کوئی ان دوروں کی گنتی کرکے یہ بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ جب وزیر تشہیری دورے پر ہی ہیں تو کام کون کر رہا ہے … افسر یا پی ایم او!

ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد بھی بی جے پی کے کارکن، لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ اپنے صدر سے چڑتے ہوں. پر کیرتی آزاد، جشونت سنہا اور نوجوت سنگھ سدھو کی طرح باقی میں ابھی تک ہمت نہیں آئی ہے. یہ بھی کوئی دیکھ سکتا ہے کہ اپنے بہترین وقت میں امت شاہ نے وزیر اعظم کے دو معتمدین کو جھٹکا دے دیا. آنندی بین کو وزیر اعلی کے عہدے سے ہٹا دیا تو اسمرتی ایرانی کی وزارت تبدیل کر دی. فیصلے لینے میں اتنی سنگدلی یا پیشہ ورانہ اسٹائل آج کل کے بہت کم صدور میں ملے گا. ایسا نہیں ہے کہ اس کے باوجود سب مثالی طور پر ہی ہو رہا ہے. ممبران پارلیمنٹ کے لئے آدرش گرام یوجنا فیل ہو گئی. لیکن پارٹی نے ارکان پارلیمنٹ کو ٹویٹ سے لے کر علاقے میں جا کر تشہیر کرنے کی ہدایت دینا بند نہیں کی. 11 کروڑ رکن ہونے کا دعوی بھی متنازع ہی ہے. کسی بیرونی ادارے نے آڈٹ تو کیا نہیں ہے. ویسے آڈٹ کسی بھی سیاسی ادارے میں نہیں ہوتا ہے.

حکمراں پارٹی ہونے کے بعد بھی بی جے پی کی تمام تنظیمیں باقی جماعتوں سے زیادہ فعال نظر آتی ہیں. لگتا ہے کہ ایک پارٹی ہے جو چل رہی ہے اور جسے کوئی چلا رہا ہے. میں نے امت شاہ کو انکاؤنٹر کی رپورٹنگ سے جانا ہے. ان کے دہلی آنے سے پہلے دہلی کی میڈیا میں ان کی کھلنائیکی موجودگی ہوا کرتی تھی. اب اس دور پر خاموشی رہتی ہے. امت شاہ نے دہلی میں اپنی جگہ بنا لی ہے. رانا ایوب کی کتاب ‘گجرات فائلز’ پڑھتے ہوئے امت شاہ کچھ اور نظر آتے ہیں اور قومی صدر کے طور پر کچھ اور. وہ منڈل سطح کے کارکنوں کا ڈاكيومینٹیشن کرانا چاہتے ہیں. پارٹی سے منسلک واقعات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی معلومات جٹائی جا رہی ہیں. یہ کوئی عام تبدیلی نہیں ہے. بی جے پی اپنے کارکنوں کے درمیان 24 گھنٹے چلنے والے جنرل اسٹور یا سپر مال کی طرح موجود نظر آرہی ہے. ہر وقت دکان کھلی ہوئی ہے اور اس کی دکان کا سیٹھ کاؤنٹر پر بیٹھا ہوا ہے.

دوسری طرف بی جے پی کے مقابلے زیادہ تر جماعتیں ایڈہاک کے طور پر، یعنی عارضی تنظیم کے طور پر چلتی نظر آتی ہیں. میرے اس مضمون کی بنیاد ہار یا جیت نہیں ہے بلکہ پارٹی کے طور پر ایک تنظیم کی مسلسل سرگرمی ہے. اس کی فارمیلٹی ہے. اس لحاظ سے اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس گزشتہ دو سال میں بھی طے نہیں کر پائی کہ اس کا لیڈر کون ہوگا. اس کی تنظیموں کا کردار کیا ہوگا. کانگریس کو بھی بی جے پی کے جتنا ہی دور سے دیکھا ہے. پھر بھی ان دس سالوں میں جب کانگریس اقتدار میں تھی اور اب جب وہ اپوزیشن میں ہے، دونوں ہی صورتوں میں کانگریسی ثقافت کی ایک علامت مجھے بہت اپنی طرف متوجہ کرتی ہے. وہ ہے اس پارٹی کی کاہلی. ایک بار راہل گاندھی نے جانے انجانے میں ٹھیک کہا تھا کہ یہ پارٹی کس طرح چلتی ہے، کئی بار انہیں بھی سمجھ نہیں آتا.

امت شاہ کے منصوبوں پر غور کریں گے تو وہ یہی کر رہے ہیں تاکہ کوئی کارکن یہ نہ کہے کہ یہ پارٹی چلتی کس طرح ہے، سمجھ نہیں آتا ہے. راہل گاندھی بھلے ہی سونیا گاندھی کی بیماری سے جوجھ رہے ہیں، ہو سکتا ہے انہوں نے بھی کافی کچھ بدلا ہو، اگر ایسا ہوا ہے تو لگتا کیوں نہیں ہے. کانگریس میں کوئی نیا لیڈر نہیں لگتا ہے. بی جے پی میں پرانے لیڈروں کی جگہ نئے رہنما، نئے ترجمان اور کارکنوں نے لے لی ہے. کیا پتہ اسی راستے بی جے پی چلی تو اگلے انتخابات میں رمن سنگھ اور شیو راج سنگھ چوہان وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار ہی نہ رہیں. اپنے کارکنوں اور رہنماؤں میں عدم تحفظ کا یہ احساس ایک پارٹی کے طور پر بی جے پی کی دھڑکنوں کو بڑھائے رکھتا ہوگا.

عام طور پر کوئی بھی پارٹی اپوزیشن میں ہوتے ہی جارحانہ اور دھار دار لگتی ہے. خاص طور پر بی جے پی جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو لگتا ہے کہ حکومت بھلے ہو نہ ہو مگر اپوزیشن ہے. کانگریس جب اپوزیشن میں ہوتی ہے تو لگتا ہے کہ چاروں طرف حکومت ہی حکومت ہے. اپوزیشن حکومت بننے کا انتظار کر رہی ہے. یہی وجہ ہے کہ نظریاتی اور تنظیمی طور سے کانگریس سست پارٹی لگتی ہے. کاہلی کے علاوہ اللہ بھروسے  چلنے والی پارٹی بھی لگتی ہے. عوام اپنے آپ جب بی جے پی کو ہرائے گی تو ہمیں جتا دے گی. بی جے پی کی سوچ اس کے ٹھیک الٹ ہے. امت شاہ کی بی جے پی جیت کے دور میں بھی بار بار جیتنے کی بات کرتی ہے. بی جے پی 21 ویں صدی میں بھلے ہی کئی بار کسی نامعلوم صدی کی پرانی باتیں کرتی ہو لیکن اپنے وقت کے حساب سے وہ سب سے تیار پارٹی ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close