آج کا کالم

‘پاپا’ کو پی ایم پسند ہیں

ملائم سنگھ یادو نے وہ کہہ دیا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

 اکھلیش شرما

(اکھلیش شرما NDTV انڈیا کے سیاسی ایڈیٹر ہیں)

ملائم سنگھ یادو نے وہ کہہ دیا جو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے کہہ دیا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نریندر مودی دوبارہ وزیر اعظم بنیں۔ ملائم نے یہ بات سولہویں لوک سبھا کے الوداعی تقریر میں کہی۔ ایک ایسی بات جو بی جے پی لیڈروں کے کانوں میں مدھر سر کی طرح گونجی تو، وہیں اپوزیشن کے کانوں میں کرکش راگ کی طرح۔ یہ ایسی بات ہے جو ایس پی- بی ایس پی اتحاد سے تگڑا چیلنج جھیل رہی بی جے پی اتر پردیش میں ایک ہتھیار کی طرح استعمال کر سکتی ہے۔ خاص طور سے ان یادو ووٹروں کو الجھانے کے لیے جن پر شیو پال سنگھ یادو پہلے ہی ڈورے ڈالنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ملائم کے بیان کے سیاسی مضمرات کے بارے میں آگے بات کریں گے، لیکن پہلے آئیے سن لیتے ہیں انہوں نے کیا کیا کہا۔

ملائم نے جب یہ بات کہی تو سونیا گاندھی ان کے ساتھ ہی بیٹھی ہوئی تھیں۔ ادھر بی جے پی لیڈروں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی تقریر میں کئی بار ملائم سنگھ یادو کے آشیرواد کا ذکر کیا۔ شاید اس لیے کہ جن تک ملائم کی بات نہیں پہنچی ہو ان تک پہنچ جائے۔ ملائم کا مودی کو یہ آشیرواد ایسے وقت آیا ہے، جب اکھلیش یادو یوپی میں انتہائی جارحانہ ہیں۔ کل ہی انہیں الہ آباد جانے سے روکا گیا اور اس مخالفت میں ریاست بھر میں ایس پی کارکنوں نے احتجاج کیے۔ ملائم کا یہ بیان ایسے وقت بھی آیا ہے جب دہلی کے جنتر منتر پر اپوزیشن لیڈر جمع ہوئے۔ بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے ساتھ سپا کا سیٹوں کی تقسیم ہو چکی ہے۔ سیٹوں کی شناخت بھی کر لی گئی ہے۔ ٹھیک ایسے وقت ملائم کا یہ بیان ان کے لیے مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔

والد کے بیٹے کے درمیان بنتے بگڑتے رشتوں کی باتیں پہلے بھی ہوتی آئی ہیں۔ اسمبلی انتخابات کے وقت بھی اکھلیش یادو کا صدر بننا ان کے اور اکھلیش کے درمیان کھٹ پٹ کی وجہ بنا تھا۔ چچا شیو پال کی ناراضگی اور اب ان کا مختلف راستہ لینا بھی اسی کھٹ پٹ کا نتیجہ ہے۔ شیو پال الگ پارٹی بنا چکے ہیں۔ وہ ان سیٹوں پر زور لگائیں گے جو سماج وادی پارٹی کے حصے میں آئی ہیں۔ ان میں سے کئی سیٹوں پر یادو ووٹ فیصلہ کن ہیں۔ شیو پال اور اکھلیش کے درمیان ان یادو ووٹوں کے بٹنے کا براہ راست فائدہ بی جے پی کو ہو سکتا ہے۔

باپ بیٹے میں تنازعہ کی ایک وجہ ایس پی- بی ایس پی معاہدہ بھی ہو سکتا ہے۔ جس طرح سے مایاوتی کو وزیر اعظم بنانے کے سوال پر اکھلیش یادو نے کہا تھا کہ آپ میری پسند جانتے ہیں اور وزیر اعظم اتر پردیش سے ہو گا، وہ بھی ملائم کے قریبی لوگوں کو راس نہیں آیا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر ملائم سنگھ یادو کا بیان انتہائی دلچسپ ہو جاتا ہے۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

محمد اسعد فلاحی

معاون تصنیفی اکیڈمی، مرکز جماعت اسلامی ہند

متعلقہ

Close