آج کا کالم

پاکستان کا تاریخی اور سیاسی منظر نامہ

عبدالعزیز

 پاکستان اس وقت دوراہے پر ہے۔ کئی سالوں سے وہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ اگر چہ پاکستان بیرونی ممالک خاص طور سے امریکہ کے تسلط، مداخلت اور سازش کا شروع سے شکار رہا ہے مگر پاکستانیوں کے اپنی غلط کارکردگیوں اور سرگرمیوں کا کچھ زیادہ ہی عمل دخل معلوم ہوتا ہے۔ سیاستداں ، بیوروکریٹس (دفتر شاہی) اور فوجی جنرلس نے مل جل کر پاکستان کو لوٹا، تباہ و برباد کیا اور دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا۔ اب جو ٹکڑا بچا ہے وہ بھی محفوظ، مستحکم اور مضبوط کسی طرح نظر نہیں آتا۔ مغربی پاکستان اور سابق مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) دوری کے باوجود دونوں حصوں کیلئے جو چند مشترک تھی وہ تھا اسلام جسے دونوں حصوں کے افراد نے قابل اعتنا نہیں سمجھا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوٹ کھسوٹ، چوری اور بے ایمانی، جھوٹ اور دغا بازی، سیاست دانوں ، ضابطہ پرستوں (بیوروکریٹس) اور فوجی جنرلوں کا وطیرہ بن چکا تھا۔ ان کی صداقت، دیانت داری، سچائی اور انصاف جس کا اسلام علمبردار ہے سب سے بڑا خطرہ تھا۔ جنرل ایوب خاں ، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق کے بعد جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت پاکستان میں ہوئی۔ جنرل یحییٰ خاں نے اپنے زمانۂ اقتدار میں الیکشن کرایا۔ اس وقت تین بڑی جماعتوں میں مقابلہ تھا۔ بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی، مجیب الرحمن کی عوامی لیگ اور جماعت اسلامی پاکستان، جماعت اسلامی کی دونوں حصوں میں کراری ہار ہوئی کیونکہ اس کا موقف اسلام اور ملک کی بقا کیلئے تھا جسے پاکستانی عوام نے رد کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار صرف اقتدار چاہئے تھا، مجیب الرحمن کوملک کا بٹوارہ چاہئے تھا۔ انھیں بنگلہ دیش کا قیام عزیز تھا۔ اس کے انتخابی منشور میں صاف لکھا تھا کہ اگر ان کو کامیابی ملی تو وہ بنگلہ دیش کا قیام عمل میں لائیں گے۔

 جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے فوجی جنرل محمد یحییٰ خان کو الیکشن سے پہلے ایک خط میں لکھا کہ دنیا میں کوئی ملک ایسی جماعت کو انتخاب میں حصہ نہیں لینے دیتی جو ملک کا بٹوارہ چاہتی ہے۔ جنرل یحییٰ خان نے مولانا مودودی کی باتوں کا کوئی خیال نہیں کیا۔ مغربی بنگال میں ذوالفقار علی بھٹو کو کامیابی حاصل ہوئی جبکہ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن کی جیت ہوئی۔ مجموعی اعتبار سے مجیب الرحمن کو سیٹیں زیادہ ملیں ۔ مولانا مودودی نے محمد یحییٰ خان کو پھر خط لکھا کہ مجیب الرحمن کو آپ نے الیکشن میں حصہ لینے دیا اور ان کونیشنل اسمبلی میں سیٹیں زیادہ ملی ہیں ۔ لہٰذا ملک کی باگ ڈور ان کے سپرد کی جائے۔ جنرل محمد یحییٰ خان ایسا چاہتے ہوئے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی ضد اور اصرار کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوئے۔ بھٹو کا اس وقت نعرہ تھا کہ اگر مجیب الرحمن کو حکومت سونپی گئی تو وہ کراچی سے درۂ خیبر تک خون کی ندی بہا دیں گے یعنی مغربی پاکستان کو تشدد اور ہنگامہ سے بھر دیں گے۔ بآلاخرجنرل یحییٰ خان نے بھٹو کو اقتدار سونپ دیا۔ مجیب الرحمن نے جنرل ضیاء الرحمن کی مدد سے بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کر دیا۔ مجیب الرحمن کو فوجی جنرل ٹکہ خان نے گرفتار کرلیا۔ عوامی لیگ کے بہت سے بڑے لیڈران ہندستان چلے آئے اور کلکتہ کے ایک ہوٹل میں بنگلہ دیش کی حکومت کا اعلان کردیا۔ ہندستان اور پاکستان کی فوجیں ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوگئیں ۔ پاکستان کی فوج کی زبردست شکست ہوئی۔ 90 ہزار پاکستانی فوج ہندستان فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 8جنوری 1972ء کو مجیب الرحمن کو رہا کردیا۔ ایک طرف مجیب الرحمن کی حکومت ہوگئی اور دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو حکمراں ہوگئے۔ بھٹو، نواز شریف اور بے نظیر کی حکومتیں جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کی فوجی بغاوت کے باوجود باری باری حکومتیں ہوتی رہیں ۔ پہلے آصف علی زرداری نے بے نظیر کی حکومت کے زمانے میں ملک کو لوٹ کر تباہ کردیا پھر نواز شریف نے لوٹا۔

  اس وقت نواز شزیف اور ان کا خاندان مجرم کے کٹہرے میں ہے۔ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف کی پارلیمانی رکنیت ختم کردی ہے۔ انھیں وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ ان کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ ایشو ہوچکا ہے۔ اس وقت وہ سعودی عرب میں ہیں ۔ عمرہ کیلئے گئے ہیں ۔ وہ ملک واپس آئیں گے یا نہیں ؟ یہ ملک میں قیاس آرائیاں ہورہی ہیں ۔

 ’تحریک انصاف پارٹی‘ کے سربراہ عمران خان پر بھی مقدمہ زیر سماعت ہے۔ ان کی پارلیمانی رکنیت بھی خطرہ میں ہے۔ آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں کا بھی احتساب کی بات پاکستان میں گردش کر رہی ہے۔

   پاکستان کے ٹی وی نیوز چینلو سماء کے اینکر لقمان بشیر نے 26 اکتوبر 2017ء کو ارباب غلام رحیم سابق وزیر اعلیٰ سندھ، سردار ذوالفقار خاں کھوسہ، سابق گورنر پنجاب ممتاز بھٹو اور جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق سے 26 اکتوبر 2017ء کو انٹرویو لیا ہے۔ چار بڑے سیاستدانوں کے انٹرویو اس وقت سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا ہے۔ ان حضرات کی باتوں سے آسانی سے پاکستان کے ماضی اور حال کی سیاست آسانی سے سمجھی جاسکتی ہے۔

  ارباب غلام رحیم مسلم لیگ (نون) میں تھے لیکن مسلم لیگ (نون) اب تنازع اور تقسیم کے مرحلہ میں ہے، لہٰذا انھوں نے سندھ میں اپنے پیر جمانے کا موقع دیا تھا مگر اب اس کی حالت دگرگوں ہے، لہٰذا وہ عمران خان کی تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ہیں ۔

 سردار ذوالفقار خان کھوسہ بھی مسلم لیگ (ن) میں تھے، وہ بھی مسلم لیگ(ن) کی غلط سیاست میں اقربا پروری اور دھاندلی کی وجہ سے دل برداشتہ پہلے ہی سے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے خلاف وہ اور ان کے رفقاء بڑی دلیری سے لڑے، انھیں جیل بھی جانا پڑا ان کے رفقاء کے ساتھ، مگر نواز شریف کو جب حکومت ملی تو وہ لوگ ان کے دائیں بائیں ہوگئے جو پرویز مشرف کے زمانے میں اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھے تھے اور جبر و اور ظلم کرتے تھے اور ایک فوجی جنرل کا ہاتھ مضبوط کرتے تھے۔ کھوسہ صاحب نے بتایا کہ مسلم لیگ (نون) کے ایک پرانے لیڈرخواجہ سید رفیق ان کے پاس آتے تھے اور اپنی پارٹی کا رونا رو رہے تھے اور معافی تلافی کی بات کر رہے تھے مگر اب وہ مسلم لیگ (ن) کا حصہ ہرگز نہیں بنیں گے۔ آصف علی زرداری خود ان کے پاس آئے تھے اور ان کے رفقاء تیار ہوگئے تو وہ آصف علی زرداری کی پارٹی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوجائیں گے۔

ممتاز بھٹو پیپلز پارٹی سے بہت پہلے دل برداشت ہوگئے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کا اثر ختم ہو کیونکہ پیپلز پارٹی نے سندھیوں میں پیپلز پارٹی نے سندھیوں کو ہمیشہ دھوکہ دیا ہے۔ جب بھی الیکشن ہوتا ہے بھٹو صاحب زندہ ہوجاتے ہیں ۔ ان سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ملک کو لوٹنے والے سیاستداں فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ سندھ کا کوئی بھلا نہیں چاہتے ہیں ۔ اب انھوں نے طے کیا ہے کہ تحریک انصاف پارٹی میں شامل ہوں گے، بشرطیکہ ان کی شرائط مان لی جائے۔ ان کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ تمام ریاستوں کو خود مختاری دی جائے۔ پاکستان میں مرکزیت (Unitary System) کو ختم کر دیا جائے۔ اس طرح اور بھی کچھ شرطیں ہیں ۔ تحریک انصاف پارٹی میں کچھ لوگ ہیں جو میری شرطوں کی مخالفت کر رہے ہیں ۔

 جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے ملک کی سیاست پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک کو کرپٹ (بدعنوان) سیاستداں ، بیروکریٹس اور فوجی جنزل نے مل کر لوٹا ہے اور عوام کو ان لوگوں نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ ان کیلئے صرف مگر مچھ کے آنسو بہائے۔ انھوں نے شیخ سعدیؒ کی حکایت بیان کی کہ ایک بلی کی حالت بھوک سے دگرگوں تھی۔ ایک شخص اس پر آنسو بہا رہا تھا۔ اس ے ہاتھ میں روٹی تھی۔ایک دیکھنے والے فردنے کہاکہ بھئی تم آنسو بہا رہے ہو، موت کے منہ میں جانے والی بلی کو روٹی کیوں نہیں دیتے؟ اس شخص نے کہاکہ آنسو بہانے پر پیسے نہیں خرچ ہوتے مگر روٹی اس نے دو درم میں خریدی ہے۔ سراج الحق نے کہا پورے ملک میں تیس چالیس افرا دہیں جو مافیا بیوروکریٹس اور فوجیوں سے مل کر سیاست کرتے ہیں ۔ کبھی اس پارٹی میں جاتے ہیں اور کبھی اُس پارٹی کو جوائن کرتے ہیں ۔ عوام کی آنکھیں انھیں دیکھتی ہیں ۔ ان کو پہچانتی ہیں مگر وہ عوام کی آنکھوں میں دھول ڈال کر پھر حکمراں ہوجاتے ہیں ۔ ان سب پارٹیوں میں خاندانی سیاست کا چلن ہے۔ اقربا پروری ہے۔ تقسیم ہونے والی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز شریف کے زیادہ تر سیاستداں جن کو اصول سے کوئی دلچسپی نہیں ہے وہ تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں ۔ پاکستان میں سیاست کا پہلے بھی یہی حال رہا ہے جو اس وقت دیکھنے میں آیا ہے۔ پاکستان میں موقع پرست اور بدعنوان سیاستداں ہندستان سے بھی زیادہ ہیں ۔ مشرف نے جب الیکشن کرایا تھا اور نتائج ٹی وی پر دکھائیے جارہے تھے تو ایک سیاستداں نے ایک سوال کے جواب میں کہاتھا کہ ’’میں ایک مسجد میں بیٹھ کر قسم کھا سکتا ہوں کہ میں نے کبھی پارٹی نہیں بدلی۔ ہمیشہ رولنگ پارٹی (حکمراں جماعت) میں رہا‘‘۔

  پاکستان میں جاگیردارانہ ، قبائلی اور بگڈیروں کو نظام اب تک قائم ہے۔ بہت سے علاقے ایسے ہیں کہ آزادانہ انتخاب لاکھ کوشش کے باوجود مقامی طاقتیں شرپسندوں کی اس قدر زیادہ ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا نظام قائم ہے۔ پاکستان کا قانونی نظام بھی کمزور ہے۔ گاندھی جی کو ناتھو رام گوڈسے نے قتل کیا اور اسے گرفتار کرلیا گیا اور اس پر مقدمہ چلا اور اس کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا مگر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت خان کو اکبر نامی شخص نے قتل کیا اور اسی وقت اسے بھی قتل کر دیا گیا مگر آج تک سازش کا پتہ چلا نہیں کہ لیاقت خان کے قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ لیاقت خان ایران کی حکومت سے کہیں کہ وہ تیل کی قیمت کم کرے۔ لیاقت خان نے ایران کے اندرونی معاملہ میں مداخلت کرنے سے انکار کردیا۔ جنرل ضیاء الحق نے فوجی ڈکٹیٹر ہونے کے باوجود امریکہ کے راستہ پر گامزن ہونا پسند نہیں کیا جس کی وجہ سے انھیں بھی امریکہ نے اپنے راستہ سے ہٹا دیا۔

  پاکستان کے بارے میں 2009ء میں ڈاکٹر اسرار احمد نے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں ایسا لگتا ہے کہ اسلام سے بے وفائی کی وجہ سے جو پورے ملک میں شریعت شکنی، بے حیائی، بے پردگی اور بدعنوانی کا راج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عذاب الٰہی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی سیاستداں ، عوام و خواص سب ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں جو عذاب الٰہی کی ایک علامت ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ اللہ تعالیٰ نے یونس علیہ السلام کی امت پر عذاب کا فیصلہ کرلیا تھا مگر عذاب کو ٹال دیا۔ پاکستان میں اگر اللہ کے عذاب کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اسے اللہ اپنی رحمت بے پایاں سے ٹال بھی سکتا ہے۔ پاکستان کلمہ حق پر حاصل کیا تھا مگر کلمہ باطل کا مظہر ہے۔ جو بے حیائی، بے شرمی، درندگی اور بدعنوانی ہے۔ اس سے تو ڈاکٹر صاحب کی باتوں میں صداقت معلوم ہوتی ہے۔ پاکستان کی عدلیہ گزشتہ کئی سال سے مشرف کے وقت سے جس طرح Active اور عدل و انصاف کا مظاہرہ کر رہی ہے اس سے پاکستانی کچھ پر امید ہوئے ہیں ۔ دیکھنا ہے کہ پاکستانیوں کی امید بر آتی ہے یا نہیں؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close