آج کا کالم

پاکستان کے خلاف ٹرمپ زندہ باد تو بھارت کے خلاف؟

رويش کمار

جب ٹرمپ نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی مدد روکی تو ہمارا میڈیا ناچنے لگا اور ٹرمپ ٹرمپ کرنے لگا. بھارت کا میڈیا گیت گانے لگا کہ مودی کی جیت ہے. 1 اور 2 جنوری کو لگا کہ ٹرمپ اور مودی پارٹنر بن گئے ہیں. ایسے فیصلوں کی باريکی کو میڈیا نے ٹرمپ مودی کے تعلقات میں سمیٹ دیا. دو دن گزرے نہیں کہ اب خبر ایسی آ رہی ہے جو بھارت کے لئے اچھی نہیں ہے. امید ہے بھارت کے چینل اب ٹرمپ اور مودی کو ساتھ ساتھ یعنی اگل بگل میں نہیں دکھائیں گے. دونوں کو آمنے سامنے دکھائیں گے. یہ سب کریں گے مگر کوئی آپ کو شرائط لاگو والے پراودھان نہیں بتائے گا.

ٹرمپ انتظامیہ کی تجویز ہے کہ جو لوگ مستقل رہائش (permanent residnecy) کے لئے H-B1 ویزا میں توسیع حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کو توسیع نہ ملے. اگر یہ پیشکش قابل عمل ہو گئی تو تقریبا پانچ لاکھ ہندوستانیوں کو واپس آنا پڑے گا. چین کے شہری بھی متاثر ہوں گے، مگر سب سے زیادہ اثر ہندوستانیوں پر پڑے گا. ٹرمپ کی جیت کے لئے ہون کرنے والے پلیز ہون ری سٹارٹ کریں، تاکہ ٹرمپ کے بھیجے میں حکمت کی آمد ہو اور ایسا نہ ہو. چینلز کو فوری طور پر ٹرمپ کے خلاف محاذ کھول لینا چاہئے اور وزیر اعظم مودی سے کہنا چاہئے کہ ایک بار اور جیت کر دکھائیں. پاکستان کی فوجی مدد ركوا دی، اب یہ ویزا والی پیشکش بھی ركوا دیں.

Permanent Residency مل جانے سے آپ امریکہ میں رہ کر کسی بھی کمپنی میں کام کر سکتے ہیں. بار بار ویزا لگانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے. کسی اسپانسر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے. شہریت کے لیے آپ امریکہ میں امتحان دینا پڑتا ہے. كتركيوں اور بیوقوف قوم پرستوں کی طرح کہا جا سکتا ہے کہ بھارت میں پیدا ہوکر کوئی دوسرے ملک کی شہریت کس طرح لے سکتا ہے. شہریت اور مستقل رہائش گاہ مختلف ہے. اب میں ان کی بات کر رہا ہوں جو دوسرے ملک کی شہریت لے لیتے ہیں. ایسے لوگوں کو بھارت آ ہی جانا چاہئے. میں نے اس طرح کی رائے کو صحیح نہیں مانتا. لیکن بھارت کی شہریت کو چھوڑ چکے لوگوں کو ووٹ دینے کا حق دینے کی بات کو بھی صحیح نہیں مانتا. کیوں بھائی جب شہریت چھوڑ دی تو ووٹ دینے کا حق کیوں لوگے؟

این آر آئی کوٹے سے میڈیکل اور انجینئرنگ کالجوں میں داخلہ کیوں لوگے؟ یہ کوٹہ میرٹ سے ملتا ہے یا پیسہ دے کر؟ جو بھی بات ہو، اندھی مخالفت نہ ہو. سوچ سمجھ کر، سب کا حق سنتے ہوئے ہونا چاہئے.

نقل مکانی دنیا کی ایک حقیقت ہے. دنیا اسی طرح سے بسی ہے. آگے بھی ایسے ہی بسے گي. ہم اور آپ اپنے ہی ملک میں ایک جغرافیائی علاقے سے دوسرے جغرافیائی علاقے میں نقل مکانی کرتے رہتے ہیں. صدیوں سے دوسرے ممالک میں نقل مکانی کرتے ہیں. باندھ کر بھی لے جائے گئے ہیں.

پلاین کرنا مواقع کا فائدہ اٹھانا ہے. ہم سب کو نقل مکانی کرنے یا بھاگنے کے حقوق کا حق لینا چاہئے اور زندگی میں پلاین کرنا چاہئے. دنیا بھر میں نقل مکانی کو لے کر كتركوں کا جال بچھا ہوا ہے. اسے سمجھنے کے لئے آپ کو زیادہ سے زیادہ پڑھنا چاہیے. تصورات کی بنیاد پر دلیل نہ گڑھیں. نوکری مل جانے اور شادی ہو جانے کے بعد بھی پڑھتے رہیں.

عیسائی مذہبی رہنما پوپ فرانسس نے اپنے نئے سال کے پیغام میں دنیا سے اپیل کی ہے کہ لوگ اپنے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو گلے لگا لیں. ان کے دلوں میں امید کی کرنوں کو بجھنے نہ دیں. پوپ فرانسس مسلسل اس بات پر بولتے رہتے ہیں. ٹرمپ لگتا ہے پوپ کی بھی بات نہیں سنتے. بہت سے ملک نہیں سنتے ہیں. ہمارے مذہبی رہنما جو بھارت کو عالمی رہنما بنانے نکلے ہیں، ان کا نقل مکانی اور پناہ گزینوں پر کیا نظریہ ہے، کبھی مناسب طریقے سے جاننے کا موقع نہیں ملا. اگر کچھ ہے تو ضرور آگاہ کرائیں. میں اپنی لا علمی دور کرنا چاہتا ہوں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close