آج کا کالم

پرائم ٹائم اداریہ

ہم جولکھ رہے ہیں وہ بریکنگ نیوز نہیں ہے، ہم جو کہہ رہے ہیں وہ خاص خبر نہیں ہے۔ ہم جو بتانا چاہ رہے ہیں وہ سیدھی بات نہیں ہے، ہماری سوچ پرائم ٹائم نہیں ہے کیونکہ ہم جس کی بات کرنے جارہے ہیں وہ مسلمان ہیں۔ ان کا تعلق صرف اسلام سے ہے،پولیس اور جانچ ایجنسیوں کی نظر میں وہ گنہگار ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ وہ عدالت کی نگاہ میں بے گناہ ہیں یہی وجہ ہے کہ عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیا اور وہ نوجوان باعزت بری ہوئے۔ لیکن ان بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کسی بھی ٹی وی چینل کے لئے پرائم ٹائم نہیں ہے نہ ہی بریکنگ نیوز ہے۔ ہم بات کررہے ہیں مالیگاؤں بم دھماکوں کے الزامات سے باعزت بری ہونے والے ان9نوجوانوں کی جنہیں عدالت نے بے قصور پایا۔نہ عدالت کے پاس ان نوجوانوں کے تعلق سے کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی یہ نوجوان قصوروار تھے۔مالیگاؤں بم دھماکوں میں ملوث قرار دئیے جانے والے ان نوجوانوں کی رہائی تو ہوئی ہے لیکن ہندوستانی جانچ ایجنسیوں اور پولیس پر پھر ایک دفعہ سوالیہ نشان لگ رہاہے کہ کیا یہ یہاں صرف مسلمانوں کے خلاف راج نیتی کھیلی جارہی ہے ؟۔کیا صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا اور مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا ہی ان جانچ ایجنسیوں کا مقصد ہے ۔ اس طرح کے کئی سوالات پیدا ہورہے ہیں ۔ دوسری جانب فرقہ پرستی اور مسلم دشمنی کے خلاف نہ تو کہیں برہمی دیکھی جارہی ہے ، نہ کسی مقام پر احتجاج ہواہے اور نہ ہی ان نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کیے جانے پر کسی حکومت کی جانب سے معاوضہ جاری کرنے کا اعلان ہواہے ، حکومت کی بات تو دور عدلیہ نے بھی انہیں باعزت بری کرنے کو ہی اپنی حد بنالی ہے ۔مالیگاؤں میں جو بم دھماکے ہوئے تو اس میں سنگھ پریوار کا ہاتھ تھا اس بات کااعتراف خود سوامی اسیمانند کرچکے ہیں جو کہ ان دھماکوں کے ملزمان میں سے ایک ہیں ، سنگھ پریوار کی جانب سے کئے جانے والے ان حملوں کی ذمہ داری مرکزی اور مہاراشٹراحکومت نے مسلم نوجوانوں پر تھوپ کر انکی زندگی کو تباہ کردیاہے ۔ برسوں تک انہیں جیلوں میں بند کرتے ہوئے نہ صرف انکی زندگی ان سے چھینی ہے بلکہ انکی عزت کے ساتھ بھی کھلواڑ کیا گیا ہے ۔ انکی عزت کو پامال کرنے کے لئے باقاعدہ میڈیامیں جو باوال مچایا گیا تھا آج وہی چینل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ، جن مسلم نوجوانوں کو عدالت نے رہا کیا ہے اب انکے مستقبل کے تعلق سے سوال اٹھ رہاہے کہ آگے انکی زندگی کیسے گزریگی؟، جس وقت مالیگاؤں کے بم دھماکے ہوئے تھے اس موقع پر مہاراشٹرا میں کانگریس حکومت تھی اگر وہ چاہتی تو ان دھماکوں کی جانچ پوری شفافیت کے ساتھ کرواتی اور حقیقی مجرمان کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلتی لیکن کانگریس پارٹی نے ایسا نہ کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح ووٹ بینک کی سیاست کو انجام دیا اور اند ر ونی طورپر سنگھیوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے مسلمانوں کو مورد الزام ٹہرایا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی میں مسلمان کھلونا ہیں جنہیں جب چاہے استعمال کیا جائے اور جب چاہے انہیں پھینک دیا جائے ۔ اگر ایسا ہے تو آخر اس ملک کامسلمان کیوں کانگریس کو ہی ووٹ دے ۔ اصل میں ہم مسلمانوں کو پہلے رلایا جاتاہے اور پھر ہنسانے کے لئے جوکروں کی طرح کرتب دکھائے جاتے ہیں لیکن دل میں کچھ زبان پر کچھ ہوتاہے ۔ کانگریسیوں نے مسلمانوں کو اسکاملک کا حصہ دار ضرور بتایا ہے لیکن ان حصّہ داروں کے ساتھ جو سوتیلا رویہ اختیار کیا جارہاہے اس کا جواب نہیں ہے ۔ بظاہر بی جے پی مسلمانوں کے تائید میں نہیں ہے وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنے اختلافات کو کھل کر بیان کرتی ہے اور پیٹھ میں چھرا گھوپنے کے بجائے سیدھے سینے پر چھرا گھونپتی رہی ہے لیکن کانگریس میٹھا زہر ہے اور اس میٹھے زہر کو ہم لمحہ لمحہ کھا کر مررہے ہیں ۔ موجودہ حالات میں مسلمان اپنی سیاسی پارٹی نہیں بناسکتے ہیں تو الگ بات ہے لیکن جس کانگریس کو مسلمانوں نے مسلم کانگریس بنالیا ہے وہاں پر موجود لیڈروں کے دماغ میں تویہ بات ڈال سکتے ہیں کہ بس کر و اب اور ہم پر ظلم نہ کرو ، یا اتنا تو کرسکتے ہیں کہ کچھ وقت کے لئے ان سے دور رہ کر انہیں انکی اوقات یاد دلادیں ۔ اگر ملک کے سارے مسلمان اس سوچ کو لے کر آگے بڑھیں تویقیناًمسلمانوں پر جو ظلم ہورہاہے وہ کچھ حد تک قابو میں لایا جاسکتاہے ۔ ملک میں جب بھی مسلمانوں نے اپنی سیاسی جماعت قائم کر نے کا بیڑا اٹھایا اسے خود کانگریس نے ہی اسے ختم کر نے کا بیڑا اٹھا کیونکہ کانگریس پارٹی نہیں چاہتی کہ ملک کے مسلمان انکے دامن کو چھوڑ کر اپنی سیاسی جماعت بنالیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس نے پہلے مسلم لیگ کو ختم کیا تھا اب وہ آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین ، سوشیل ڈیماکریٹک پارٹی آف انڈیا ، ویلفئر پارٹی کو نشانہ بنارہی ہے کہ یہ پارٹیاں بی جے پی کے اشاروں پر کام کررہی ہیں ، اگر ان کی مانیں تو یہ بی جے پی کے اشاروں پر ہی کام کررہی ہیں لیکن کانگریس میں تو کئی ایسے سنگھی لیڈران ہیں جو سیدھے بی جے پی کو چھوڑ کر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں جو اشاروں پر کام کرنے والوں سے زیادہ خطرناک ہے ۔ آج ملک میں نہ مسلمانوں کے حق میں پرائم ٹائم پر بات کرنے والا میڈیا ہے نہ ہی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانے والی سیاسی پارٹیاں ہیں ۔ ہم اس بات کا افسوس ہی کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے اپنے دوغلے پن کا شکار ہیں اور ہم امید نئی نسل سے ہی کرسکتے ہیں جو قوم کے لئے کچھ کرنے کی چاہ رکھتی ہے ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

مدثر احمد

ایڈیٹر، روزنامہ آج کا انقلاب

متعلقہ

Back to top button
Close