آج کا کالم

پرائم ٹائم کو رامجس کالج میں تبدیل کرنا کھیل نہیں تھا!

رويش کمار

جمعرات کی صبح نو بجے جب ہم مول چند فلائی اوور سے ایڈريوج گنج مرکزی اسکول کی طرف اتر رہے تھے، تبھی گاڑی کی کھڑکی سے دیکھا کہ تھوڑی دور ایک بزرگ اپنا کنٹرول کھوتے ہیں اور اسکوٹر سے گر جاتے ہیں. ٹکر کس طرح لگی، یہ تو نہیں دیکھا، مگر کافی تیز تھی. وہ سر کے بل گرتے ہیں اور تبھی ٹھیک پاس سے ایک گاڑی گزرتی ہے. دیکھنے سے لگا کہ کار نے سر کچل دیا. مگر ایسا نہیں ہوا. ان کی مدد کے لئے وہی کار سب سے پہلے ركتي ہے. پل بھر میں وہاں بھیڑ بن جاتی ہے اور میری گاڑی کو رکنے کے لئے جگہ نہیں بنتی ہے. کافی آگے جا کر ہم روكتے ہیں اور دوڑ کر جائے حادثہ کی جانب آتے ہیں.

میں ٹی وی والا ہوں. ہر وقت ٹائم فریم میں رہتا ہوں. رامجس کالج پر شو ریکارڈنگ کرنی تھی، ایک دماغ اس میں الجھا تھا کہ ان سب میں الجھا تو شو کے لئے ٹائم نہیں ملے گا. واپس چلتے ہیں، یہاں لوگ ہیں وہ ہسپتال لے جائیں گے. تب تک محسوس ہوا کہ لوگ تاخیر کر رہے ہیں. سب نے بزرگ کو گھیر تو لیا تھا مگر پولیس کو کسی نے فون نہیں کیا. ایمبولینسوں کو فون کسی نے نہیں کیا. زخمی کے ارد گرد بھیڑ بڑی ہوتی جا رہی تھی.

مجھے اپنا ٹائم چھوڑ گولڈن ٹائم کا خیال آیا. اگر آدھے گھنٹے سے کم وقت کے اندر اندر ہسپتال پہنچا دیا جائے تو جان بچ سکتی ہے. بس اب میں اپنے ڈرائیور کو پکارنے لگا. بھیڑ کی وجہ سے گاڑی کافی دور تھی. وہ گاڑی کو بیک بھی نہیں کر سکتا تھا. ہم انہیں ہسپتال لے کر چلتے ہیں. دیر نہ کیجئے. اٹھايے اور کار تک لے چلئے. میں میڈیکل کی وجہ سے اٹھا نہیں سکتا تھا. دماغ راستہ تلاش کر رہا تھا کہ اتنا بھاری جسم گاڑی تک کیسے لے جائیں گے. تبھی ایک ٹرو کار جگہ بناتی ہوئی وہاں روكتي ہے. خاتون ڈرائیور اترتی ہیں. کسی طرح ان کی گاڑی میں لادا گیا اور میں نے انہیں زور سے کہا کہ مول چند ہسپتال ہی لے جانا ہے. یہی پاس میں ہے.

تب تک گاڑی اور موٹر سائیکل کی بھیڑ اتنی بڑھ گئی کہ راستہ بند. اگر لوگ بھیڑ نہ بناتے تو میڈم آپ کی گاڑی غلط سائیڈ سے چلا کر دو منٹ کے اندر اندر ہسپتال پہنچا سکتی تھیں. انہیں یو ٹرن لے کر واپس جانا پڑا. اب اس بھاگ دوڑ میں ان سے ایک غلطی ہونے سے رہ گئی. وہ واپس مول چند فلائی اوور پر چڑھنے والی تھیں مگر میرے ڈرائیور نے منع کیا کہ ابھی میں خود کسی کو لے کر اس راستے سے ہسپتال گیا تھا. میڈم نے اس کی بات مان لی ورنہ ہسپتال لے جانے میں بیس منٹ لگ جاتے کیونکہ بہت آگے جاکر یو ٹررن لے کر آنا پڑتا. سبق ہے کہ اس طرح کے معاملات میں راستے کو لے کر بیدار رہیں.

مگر میں نے وہی غلطی کی جو میرے ڈرائیور نے میڈم کو نہیں کرنے دیا. میں نے پیچھے سے آپ کی گاڑی چلا کر پہلے اپنی بیوی کو چھوڑا اور پھر ہسپتال آیا. اس میں دس منٹ کا وقت لگا مگر ایک اچھی بات ہوئی. گولڈن وقت میں ہسپتال پہنچانے کی وجہ سے زخمی کی جان بچ گئی. ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں ڈاکٹروں نے امن سے انہیں بھرتی کر لیا. مسکراتے ہوئے ایک سردار جی ڈاکٹر ملے. بتایا کہ کافی چوٹ ہیں مگر ٹھیک ہیں. تمام مستعدی سے لگے تھے مجھے تو لگا تھا کہ وہ نہیں بچیں گے مگر بستر پر لیٹے تھے. درد سے کراه رہے تھے لیکن جان بچ گئی تھی. ان ہی کے فون سے بیٹے امت بھاٹیہ کو بتا دیا کہ آپ کے والد ٹھیک ہیں مگر ان کا حادثہ ہوا ہے. وہ نوئیڈا سے روانہ ہوئے تو کہا کہ احتیاط سے آيےگا. جلد بازی میں آپ کے ساتھ نہ کچھ ہو جائے.

اس واقعہ کے بارے میں اس لئے لکھا کیونکہ ہم  بہت غلطیاں کرتے ہیں. کسی کے حادثے ہو تو تماشا دیکھنے کے لئے کبھی نہ روكے. ارادہ کرکے روكے کہ پل بھر میں ہسپتال پہنچا دینا ہے. باقی لوگ رک کر آگے پیچھے بھیڑ نہ بنائیں. اس سے زخمی کو کافی نقصان ہو سکتا ہے. موٹر سائیکل چلاتے ہیں تو ذرا تمیز سے چلاییں. یاد رکھیں کہ آپ سب سے کم محفوظ ہیں. کئی بار دل کرتا ہے کہ بایكرس کی ویڈیو بنا کر ان کے گھر بھیج دوں. ہیلمٹ اچھا پہن لو. میں نے صاف صاف دیکھا کہ وہ سر کے بل گرے تھے. جب کسی نے ان کا ہیلمٹ لا کر دیا تو اس میں کچھ نہیں ہوا تھا. ان کی جان بچنے میں ہیلمٹ کا بہت بڑا تعاون رہا ہو گے.

پولیس اور ایمبولینس کو فون کریں. میں نے دیکھا کہ کسی نے نہیں کیا. سو نمبر پر فون کیا. فون اٹھانے والے نے کافی اچھے سے بات کی اور لمحے بھر میں پولیس کے پھولو اپ فون آنے لگے. کسی نے مجھے پولس انداز میں نہیں پوچھا. دوست کی طرح اچھے سے بات کر رہے تھے.

ان سب ایمبولینسوں والے کا فون تب آیا جب میں بیوی کو چھوڑ ہسپتال کے لئے واپس آ رہا تھا. تب تک گولڈن ٹائم کا اچھا خاصا حصہ نکل چکا تھا. دہلی کے جام میں ایمبولینسوں کتنی جلدی آئے گا، اس کا حساب کرنا چاہئے. یہ فیصلہ آپ کو جائے حادثہ پر کرنا ہوگا. عدالت کہتی ہے کہ آپ زخمی کو اسپتال پہنچايے. آپ سے پولیس کچھ نہیں پوچھے گی. ہم میں سے کسی سے نہیں پوچھا. آپ کو اس پہلو سے بے خوف کسی کی بھی مدد کیجئے. ہسپتال تک لے جانے والی عورت بھی ڈاکٹر تھیں. جلدی میں ہم نام پوچھنا بھول گئے مگر یہ کیا کم ہے کہ دہلی میں لوگ مدد کے لئے روكتے ہیں.

ان سب باتوں کو لکھنے کا ایک مقصد ہے. تاکہ پڑھ کر ان تمام غلطیوں کو جان سکیں جو اکثر تمام حادثے کے ارد گرد کرتے ہیں. وہاں رکنے والے تمام لوگ بری نیت سے نہیں روكتے ہوں گے. مگر سب اچھی نیت کے ساتھ جرم سے بھی روكتے ہیں کہ مدد کے لئے نہیں روكے. چار پانچ لوگ رک گئے تو باقی کو آگے بڑھ جانا چاہیے مگر چار پانچ وہیں انتظار کریں جس کی مدد کرنا چاہتے ہوں. دہلی کی سڑک گاڑیوں سے بھر گئی ہے. اس میں نہ پولیس وقت سے آ سکتی ہے نہ ایمبولینس.

خیر بھاٹیہ جی بچ گئے. اپنے وقت کا عظیم نقصان ہوا. اسی دن کورٹ فلم کے اداکار ویرا ساتھيدار جی ملنے آئے تھے. ہائی کورٹ ایک شاندار فلم ہے. ان سے کافی کچھ بات کرنی تھی مگر دو چار لائن کی ملاقات کے بعد میں نے ہاتھ کھڑے کر دیے کہ آپ جائیں گے. میں نے ان سے سن رہا تھا اور آپ کے سکرپٹ لکھ مٹا رہا تھا. پھر لگا کہ نہیں ہو گا تو ساتھيدار جی سے معافی مانگ لی کہ سر نہیں بات کر سکتا. مجھے شو کے لئے لکھنا ہے. ریسرچ کرنا ہے. ایک گھنٹے میں ریکارڈنگ ہے.

میں نے اتنے عظیم آرٹسٹ اور لوگوں کے لئے لڑنے والے کو اتنی نرمی اور عاجزی سے جاتے نہیں دیکھا. وہ کسی قبائلی عورت کے انصاف کے لئے آئے تھے جسے پہلے پولیس اغوا کرکے لے گئی پھر جو لوگ عورت کو بچانے کے لئے آگے گئے انہیں ہی پولیس نے خواتین کے اغوا کے الزام میں بند کر دیا. کہانی بھی سنائی اور لکھ کر دیا بھی. دو منٹ اس پر بھی بات ہو گئی کہ آپ قبائلی عورت کے لئے دہلی آ گئے مگر کوئی صحافی دہلی سے وہاں نہیں جائے گا. کیونکہ سب کو حکومت کے سربراہ کی خدمت کرنی هے۔ فرضی خصوصی انٹرویو کرنے ہوتے ہیں. خوفناک کہانی تھی وہ. قبائلی خواتین شاید بھارت ماتا کی کیٹیگری میں نہیں ہیں ورنہ اس کہانی کو لے کر تحریک ہو رہی هوتی۔ سب تو رويش کمار نہیں کرے گا نہ. تمام کرنے ہی لگے گا تو ننگوں کے درمیان بدنام کون ہوگا. میڈیا کا اختیار بنے فیس بک کے کارکن کیا کریں گے. میری ذات تلاش کرنے کے علاوہ بھی تو کچھ کر سکتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close