آج کا کالم

پرانی سسرال میں نئی دلھن کی آزمائش!

حفیظ نعمانی

کسی بھی ملک یا صوبہ کے لئے ناتجربہ کاری سب سے بڑی مصیبت ہے۔ اُترپردیش کی حکومت میں وزیر اعلیٰ سے لے کر اسٹیٹ منسٹروں تک جو ٹیم ہے ان میں شاید ہی کوئی ہو جو 15  سال پہلے بی جے پی کی حکومتوں میں وزیر رہا ہو؟ اور اگر ایسے دو چار ہوں گے بھی تو اس خانہ میں پہونچ چکے ہوں گے کہ نیا خون انہیں آثارِ قدیمہ سمجھتا ہوگا اور سوچتا ہوگا کہ پرانے زمانہ اور آج کے زمانہ کے فرق کو وہ نہیں سمجھ سکتے۔

جو پارٹی یا پارٹیاں حزب مخالف کی کرسیوں پر یا باہر ہوتی ہیں وہ ہر دن حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ہم ہوتے تو اس مسئلہ کو اس طرح حل کردیتے اور کام ہوجاتا۔ اور اگر ہماری حکومت آئی تو ہم دکھائیں گے کہ بغیر رشوت اور بغیر کمیشن کے کام کیسے ہوتا ہے؟ یوگی سرکار اس وقت اپنے خوابوں کی تعبیر کے جال میں اُلجھی ہوئی ہے۔ اُترپردیش جو ریاست نہیں ایک ملک ہے۔ سہارن پور سے مرزا پور تک جانے میں جس کو ٹرین سے 48  گھنٹے لگتے ہیں اور جس میں بچھی ہوئی سڑکوں کی لمبائی کروڑوں میٹر ہے ان کے گڈھوں کی مرمت کے لئے 15  جون تک کا وقت مقرر کرکے ایک جائزہ ٹیم سے یہ معلوم کرانا کہ وعدہ پورا ہوگیا؟ پی ڈبلیو ڈی کے لئے سانپ اور سیڑھی کا کھیل ہوگیا ہے۔

ہم نے کبھی پی ڈبلیو ڈی کا کام نہیں کیا نہ ہم اس کے وزیر رہے نہ انجینئر اور نہ ٹھیکیدار۔ لیکن نہ جانے کتنے دوست تھے اور ہیں جو اس محکمہ سے وابستہ ہیں ان سے معلوم ہوتا رہتا ہے کہ حکومت کو بیوقوف بناکر کس طرح کمایا جاتا ہے؟ پی ڈبلیو ڈی اور ایری گیشن یہ دو محکمے ایسے ہیں جن کے متعلق انجینئر اور ٹھیکیدار کہتے ہیں کہ رشوت اور کمیشن اس کے ٹائر ہیں یہ نہ ہو تو چل ہی نہیں سکتے۔ دہلی میں کامن ویلتھ کھیلوں کے زمانہ میں سڑکوں کو نیا بنانا تو دہلی میں ممکن نہیں تھا مشورہ یہ ہوا کہ گڈھوں کو بھرکر ان پر تارکول کا پاش کردیا جائے۔ وزیر تو انجینئر کا اور انجینئر ٹھیکیدار کا کھلونا ہوتے ہیں ۔ ٹھیکیداروں کو ان کے کام کا معاوضہ اور سامان کی قیمت مل گئی اور انجینئر صاحب کو کمیشن اور سڑک شیلا دکشت کی ساڑی سے زیادہ چمکنے لگی۔ ٹی وی چینلوں کو حکم ہوا کہ اب اپنے ملک اور دنیا کو دکھائو انہوں نے تعمیل کی اور ہر طرف سے واہ وا کے نعرے آئے۔ دوسرے ہی دن اُن ہی چینلوں نے دکھایا کہ ایک ٹرک اپنے اگلے دو پہیوں کے ساتھ سڑک کے اندر ہے اور صرف کرین سے نکلے گا۔ اور پھر ہر سڑک کا یہی حال ہوا اور شیلاجی منھ دکھانے کے قابل نہیں رہیں ۔

اُترپردیش کے پرجوش وزیراعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے حکم دے دیا کہ 15  جون آخری تاریخ ہے اُترپردیش کی ہر سڑک کا ہر گڈھا بھر دیا جائے اور انجینئروں نے یہ سوچ کر ہاں کردی کہ 14  جون کو کہہ دیں گے کہ لیجئے سڑک تیار ہے۔ اور منتری جی فوراً پریس کانفرنس بلائیں گے اور اعلان کردیں گے کہ اکھلیش سرکار جو کام 15  برس میں نہیں کرپائی وہ ہم نے تین مہینے میں کردیا۔ لیکن اس خبر نے بھانڈا پھوڑ دیا کہ پریس کانفرنس سے پہلے ایک ٹیم دیکھے گی کہ کیا واقعی ہر سڑک برطانیہ اور فرانس جیسی ہوگئی؟ جبکہ انجینئروں نے سوچا تھا کہ جولائی کے آتے آتے بارش ہوجائے گی اور سڑک کا میک اپ دُھل جائے گا تو ہم بھگوان کی لیلا کہہ کر اپنی جان چھڑا لیں گے۔

تجربہ کاروں کا کہنا ہے کہ سڑک کے گڈھے اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب سڑک کی عمر پوری ہوجاتی ہے عمر کے بعد اس کی موت کی ابتدا گڈھوں سے ہوتی ہے۔ جیسے پرانا کرُتہ یا کوٹ کہ جب اس کی عمر پوری ہوجائے تو لاکھ پیوند لگائو چند دن کے بعد دوسری جگہ سے پھٹ جائے گا۔ یہی سڑک کا مسئلہ ہے۔ اس میں جب گڈھے ہوجائیں تو صرف ان کو بھرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر ایک سال کے لئے انہیں کام کے لائق بنانا ہے تو جتنا بڑا گڈھا ہے اس کے چاروں طرف کم از کم ایک ایک فٹ سڑک جو کمزور ہوچکی ہے اسے کھودا جائے اس کے بعد اسے بنایا جائے۔ منتری جی صرف اس گڈھے کو بھروانا چاہتے ہیں جو انہیں نظر آرہا ہے اسے بنانے کے بعد ایک ہی بارش میں وہ جزیرہ کی طرح رہ جائے گا اور چاروں طرف کی سڑک پھٹ جائے گی۔

یوگی سرکار کے منتری کمیشن اور رشوت کے بغیر حکومت چلانا چاہتے ہیں ۔ جو لوگ ان کاموں کے ماہر ہیں وہی اس کام کو کرسکتے ہیں اگر نئے لوگوں سے کرایا گیا تو خرچ وہ دوگنا کریں گے اور کام ان سے بھی خراب ہوگا۔ ہمیں یقین ہے کہ موجودہ کابینہ میں ایسے وزیر ہوں گے جنہیں وہ خبر یاد ہوگی کہ مایاوتی کے زمانہ میں ایک پل بنا تھا جس کا افتتاح ان کو کرنا تھا مگر عدیم الفرصتی کی وجہ سے تاریخ بڑھتی رہی علاقہ کے لوگوں کا اصرار کہ پل بن گیا تو اسے کھولا جائے۔ آخرکار اعلان ہوا کہ فلاں تاریخ کو نسیم الدین صدیقی پل کا افتتاح کریں گے۔ مجمع بھی آگیا اور پریس کے نمائندے بھی کیمرے لے کر پہونچ گئے اور افتتاح کے بعد جب نسیم صاحب کارکنوں کے ساتھ پل پر آئے تو بالکل بیچوبیچ ایک میٹر لمبا چوڑا کنواں نظر آیا یہ اتنا بڑا تھا کہ منتری جی کی گاڑی بھی پل پار نہیں کرسکتی تھی۔

اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ٹھیکیدار کو ملنے سے پہلے جونیئر انجینئر اس کے بعد اسسٹنٹ انجینئر پھر ایگزیکٹیو انجینئر پھر چیف انجینئر سے منتری جی تک سب کا حصہ ہوتا ہے اور اس کا طریقہ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی کس سے مانگے بلکہ کام کی پیمائش کے بعد جو بل بنتا ہے اس میں ہی اُن سب کا حصہ ہوتا ہے اور ہر کسی کو بغیر مانگے مل جاتا ہے۔ آپ اسے ایک ایسی سیڑھی کہہ سکتے ہیں کہ جس کا ایک ڈنڈا نہ ہو تو چڑھنا ناممکن ہے۔ اب اس سیڑھی کا ہر ڈنڈا سیڑھی میں ٹکا ہوا ہے صرف اوپر منتری جی کا ڈنڈا نیا ہے۔ وہ اگر اپنا حصہ چپ چاپ قبول کرلیں گے تو گاڑی چل پڑے گی اور اگر وہ اپنی سرکار کو مودی جی کے سپنوں کی سرکار بنانے کے چکر میں لگے رہیں گے تو وہی ہوگا جو بہار میں ہوا کہ نتیش کمار نے پرانے ٹھیکیداروں کو بلیک لسٹ کردیا اور جب سڑکوں کے ٹنڈر چھاپے تو کسی نے ٹنڈر نہیں بھرا ایک نہیں کئی بار چھاپے لیکن جواب ندارد کیونکہ پرانے ٹھیکیدار صرف ٹھیکیدار نہیں گروہ بند بھی تھے اور نئے ٹھیکیدار تھوڑے سے نفع کے لئے جان نہیں دینا چاہتے تھے آخرکار ان ہی ٹھیکیداروں کو نئے نام سے دیئے تب سڑکیں بنیں ۔ یہی یوگی سرکار کو کرنا پڑے گا ورنہ گڈھے بڑھ کر سڑک نہیں راستہ رہ جائے گا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close