آج کا کالم

پردھان منتری مودی کی ہندی اور مسٹر پرائم منسٹر مودی کی انگریزی

رویش کمار

بھارت کے دو وزیر اعظم ہیں. ایک ہندی بولنے والے پردھان منتری شری نریندر مودی اور دوسرے انگریزی بولنے والے مسٹر پرائم منسٹر نریندر مودی. ایک جو گاؤں گاؤں میں ہندی بولتے ہیں اور دوسرے جو عالمی اجلاس میں انگریزی بولتے ہیں. ہمارے ملک میں زبان کی ترقی اور فروغ میں ادیبوں، فلمكاروں اور صحافیوں کی بحث تو ہوتی ہے لیکن رہنماؤں کے کردار کا کم تذکرہ ہوتا ہے. وزیر اعظم زبان کی بھی نمائندگی کرتے ہیں. وقتا فوقتا اس بنیاد پر بھی قدر ہونی چاہئے.

بھارتیہ جنتا پارٹی کے دونوں وزیر اعظم زبان کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہوئے بھی مکمل طور پر قابل لیڈر رہے ہیں. اٹل بہاری واجپئی کی ہندی نریندر مودی کی ہندی سے کہیں زیادہ آسودہ ہے لیکن واجپئی جی کی ہندی شرافت اور ادبیت سے بندھی ہے. واجپئی کی ہندی اپوزیشن کے رہنما کے طور پر بھی احترام اور جوابدہی سے بندھی ہوتی تھی اور وزیر اعظم بننے کے بعد بھی ویسی ہی رہی. وہ ہندی بولتے وقت لیڈر بھی ہوتے تھے اور شاعر بھی. ان کے پاس کئی طرح کی ہندی تھی.

گاندھی نگر کے ایم پی لال کرشن اڈوانی کی ہندی اچھی تھی لیکن واجپئی کی ہندی کے سامنے ان کی ہندی کا کم تذکرہ ہو سکا. اڈوانی کی ہندی میں اعتمادیت اور اثرانگیزی کا فقدان ہے. وہ اچھی ہندی بولتے تو ہے لیکن لب ولہجے کے درمیان تال میل نہیں بٹھا سکے. ان کی ہندی سنگھ کے سیوم سیوک کی طرح ہے جو ایک خاص قسم کے مصنوعی تربیت سے بنتی ہے. سنگھ کے کئی لیڈروں کی ہندی اڈوانی سے ملتی جلتی ہے. اڈوانی نے زبان سے کم اپنے قد سے زیادہ شناخت بنائی. وہ انگریزی بولتے وقت بھی ذاتی حیثیت کے وہم سے آگے نہیں نکل پاتے ہیں. واجپئی بھی سیوم سیوک تھے لیکن ان کی ہندی آر ایس ایس کی نہیں ہے.

پردھان منتری نریندر مودی کی ہندی اپنے ان دونوں اعلی افسران سے کافی مختلف ہے. گجرات کے  اندر وہ گجراتی میں جلسے کرتے تھے. بارہ سال تک انہوں نے خود کو گجراتی بولنے والے رہنما کی طرح پیش کیا. چھ کروڑ گجراتی سالمیت کی دعویداری ہندی سے نہیں مل سکتی تھی. 2013 کے سال میں جب دہلی کی دعویداری کرنے لگے تب ان کو ہندی بہت کام آئی لیکن اسٹائل وہی رہا جو گجراتی میں تھا. دو مختلف زبانوں میں آواز سے لے کر ہاو بھاو تک غضب کا تسلسل نظر آیا. لوک سبھا انتخابات میں کہیں کہیں وہ اٹل بہاری واجپئی کا ہاو بھاو بھی لیتے نظر آئے. مودی کی تقریر میں حقائق پر مبنی غلطیوں، لاف گزاف، سیاسی چالوں اور کمیونٹیوں کی ضم بندی کے مسئلے پر علیحدہ سے لکھا جانا چاہئے، وہ غلط بولنے سے نہیں چوکتے. عوام ان کے طرز خطابت پر مسحور رہتی ہے اس لئے مخالفین کی طرح حقائق کی کم جانچ کرتی ہے! ویسے مخالف بھی ٹھیک سے نہیں کرتے.

واجپئی کے پس منظر میں چلے جانے سے قومی سطح پر ہندی کمزور پڑ گئی تھی. پی وی نرسمہا راؤ اور منموہن سنگھ کئی زبانوں کے ماہر رہے لیکن دونوں نے نہ تو ترجمان کے طور پر شناخت بنائی نہ ہی کسی ایک زبان کو پہچان دی. اس معاملے میں سونیا گاندھی کی ہندی قابل ستائش رہی. ان کی ہندی میں ایک چاہ تھی، لوگوں نے ان کی کوشش کو سراہا اور دو بار اقتدار دیا. وہ لکھ کر پڑھتی تھیں لیکن اندازسخن میں وہ اپنی پارٹی کے تمام لیڈروں پر بھاری پڑ جاتی ہیں. ان میں پنچ لائن پیدا کرنے کا احساس نفیس ہندی اور اردو بولنے والے سلمان خورشید جیسے لیڈروں سے کہیں بہتر ہے. ویسے سلمان خورشید خطاب کرتے ہوئے انتہائی سادہ اور بے اثر رہنما لگتے ہے. کانگریس لیڈروں کی زبان پر الگ سے لکھوں گا.

واجپئی کے بعد ہندی بولنے والے کئی لیڈر علاقائی جماعتوں میں تھے لیکن ان کی ہندی کے بھی اپنے حدود رہے ہیں. حالانکہ ان میں سے بہت ہندی کی خود داری یا انگریزی کی مخالفت سے پیدا ہوئے نیتا رہے. ابھی ان پر بھی تفصیل سے بحث نہیں کرنا چاہتا. بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ ان میں برجستگی، اثرانگیزی، تخیل اور آمادگی نہیں تھی. وہ اپنی زبان سے کم اپنے سماجی بنیاد کے بل بوتے لیڈر رہے. ماہرین زبان کو اس بات کا مطالعہ کرنا چاہئے کہ کیا 2011-2012 کے سال میں اروند کیجریوال کی ہندی کی جارحیت نے نریندر مودی کو متاثر کیا یا دونوں کے درمیان کسی قسم کا لسانی مقابلہ ہوا کہ ایک ہی طرح سے چیخ کر بولنا، للكارنا اور ہنکار بھرنا ہے. کیجریوال کی ہندی اقتدار کو للکار رہی تھی تو مودی کی ہندی نے اقتدار کی علامتوں کو ڈھانا شروع کر دیا. انہوں نے خود کو قومی سطح پر مستحکم کرنے کے لئے ہندی کا سہارا لیا اور ہندی بولنے والے کو بھروسہ دیا کہ لبرلائزیشن کے اس دور میں جب انگریزی بولنا فطری مان لیا گیا ہے وہ اب بھی ہندی سے چیلنج دے سکتے ہیں. ہندی بولنے والا انگریزی پر تسلط قائم کرنے کی مایوسی سے بھرا رہتا ہے جسے کبھی خود داری تو کبھی قوم پرستی کے طور پر سمجھتا ہے.

سال 2014 میں پردھان منتری کی ہندی نے لٹین دہلی کے لسانی اشراف کو ڈرا دیا. جو اس ڈر کو قبول نہیں کرنا چاہتے تھے، وہ مودی کو بیرونی کہنے لگے جبکہ یہ بات پوری طرح سچ نہیں ہے. مودی دہلی سے ہی گجرات گئے تھے لیکن لوٹے تو بیرونی ہو گئے! انتخابی ریلیوں میں ان کی تقریر طویل ہونے لگی. لوگ دیر تک ان کی ہندی کو محسوس کرنے لگے. تمثیل سے پیدا ہوا ہندی کا اشراف ان کی ہندی کے ذریعہ خود اعتمادی حاصل کرنے لگا جو یو پی اے کی انگريزيت سے دب گیا تھا. وزیر اعظم بنتے ہی سب کو لگا کہ دہلی اب ہندی بولے گی. بہت حد تک ایسا ہے بھی لیکن دہلی اب بھی انگریزی میں ہی بات کرتی ہے. دہلی کا اقتدار پرانا ہوتا ہے تو انگریزی ہو جاتا ہے. نیا ہوتا ہے تو ہندی لگتا ہے.

دہلی اور بہار کے انتخابات پردھان منتری کی ہندی کے لحاظ سے اہم ہیں. دونوں جگہوں پر ان کی ہندی ان کے خلاف کام کر گئی. دہلی میں لوگوں نے دیکھا کہ عاجزی نہیں ہے اور بہار میں لوگ کہنے لگے کہ وزیر اعظم کا وقار نہیں ہے. ان دونوں انتخابات میں، میں نے اسی عوام کو ان کی زبان کی کاپی چیک کرتے دیکھا جو بغیر دیکھے نمبر دیے جا رہی تھی. لوگ ان کی ہندی میں شرافت تلاش کرنے لگے. تاہم انتخابی ریلیوں میں ان کی ہندی اب بھی ویسی ہی ہے جیسی لوک سبھا انتخابات میں تھی. بس ہجوم اچھا ہونا چاہئے. سرکاری پروگراموں میں وہ ہندی بولتے وقت خیال رکھتے ہیں کہ پردھان منتری ہیں لیکن بیچ بیچ میں رہنما کی طرح بول جاتے ہیں جیسے مٹھائی کھانا بند کر دیا ہے! پارلیمنٹ میں ان کی ہندی پر پھر کبھی الگ سے لکھوں گا.

ایسا نہیں ہے کہ بیرونی دورے پر پردھان منتری ہندی نہیں بولتے لیکن وہاں دو طرح کی ہندی بولتے ہیں. ایک جب وہ بھارتی نژاد کمیونٹی سے خطاب کرتے ہیں اور دوسرا جب وہ کسی قومی سربراہ کے سرکاری رہائش گاہ یا دفتر سے میڈیا کے سوالات کا جواب ہندی میں دیتے ہیں. اس وقت ان کی ہندی اس نریندر مودی کے جیسی نہیں ہوتی جو ریلیوں میں دھاڑتے ہیں لیکن جیسے ہی کوئی اسٹیڈیم ملتا ہے وہ میڈیسن اور مکاما کے فرق کو بھول جاتے ہیں. اقتدار کی ہندی سے آزاد ہو جاتے ہیں. اقتدار کی انگریزيت تو ہم جانتے ہیں لیکن اقتدار کی ہنديت پر کم بات کرتے ہیں.

اب آتا ہوں مسٹر پرائم منسٹر نریندر مودی پر جو بیرون ملک میں انگریزی بولتے ہیں. پردھان منتری کو انگریزی آتی ہے پھر بھی وہ انگریزی میں لکھی تقریر پڑھتے ہیں. مسٹر مودی نے خود کو انگریزی بولنے والے رہنما کے طور پر ثابت کرنے کے لئے  ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے. ان کے سامنے ایک شفاف تختی لگی ہوتی ہے جس پر لکھا دیکھ کر وہ بولتے ہیں. ایک جملہ دائیں مڑ کر بولتے ہیں تو اگلے جملے کے لئے بائیں مڑ جاتے ہیں. وہ انگریزی بولتے ہوئے ہندی والے مودی سے کافی مختلف ہو جاتے ہیں.

مسٹر پرائم منسٹر نریندر مودی کے  اندر انگریزی بولنے کی شدید خواہش ہے. وہ ملٹی لنگول رہنما ہیں. گجراتی، ہندی اور انگریزی میں تقریریں کرتے ہیں. ان دنوں غالب اور صوفی سنتوں کے کلام پر بھی محنت کرنے لگے ہیں! لیکن جب وہ انگریزی بولتے ہیں تو ٹیکنالوجی انہیں باندھ دیتی ہے. ایسا لگتا ہے ہاتھ میں نیا نیا آئی فون آیا ہو. انگریزی بولتے وقت ان کی باڈی لینگویز سکڑ جاتی ہے. جیسے کسی دھوتی کے کرتے والے کو پہلی بار ٹائٹ پرنس سوٹ پہنا دیا گیا ہو. جہاں کھڑے ہوتے ہیں وہاں سے ہلتے ڈولتے نہیں. بڑے اسٹیج کی چھوٹی سی جگہ کا استعمال کرتے ہیں اور تقریر کے ذریعہ خود کو بڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں.

وہ اقوام متحدہ میں ہندی میں بولے اور امریکی کانگریس کے سامنے انگریزی میں. مسٹر پرائم منسٹر نریندر مودی ہر وقت ہندی کی خود داری کو نہیں ڈھونا چاہتے. ان کے لئے ہندی بھی ایک موقع ہے اور انگریزی بھی. وہ ہندی کے ان قدامت پسند علامات کو نہیں ڈھونا چاہتے کہ وزیر گئے تو ہندی بول کر آ گئے. امریکی کانگریس میں داخل ہوتے ہی وہ اراکین پارلیمنٹ سے ہاتھ ملانے لگے. ایک پل میں ان کے طور طریقے پر انگریزيت حاوی ہو گئی. ‘کول’ لیڈر بننے کی باڈی لینگویز ہندی میں بھی ہے یا ہو سکتی ہے لیکن مسٹر مودی کی زبان اور باڈی لینگویز دوسری زبانوں کے ‘کول پنے’ (کول انگریزی لفظ ہے) کو اپنا لیتی ہے. مسٹر مودی لامحدود امنگوں سے بھرے لیڈر ہیں. پورے طور سے ذاتی ہونے کے بعد بھی وہ اپنے امنگوں کی فرینچائزي اپنے حامیوں میں تقسیم کردیتے ہیں!

وہ بھلے ہی نہرو مخالف ہوں لیکن انگریزی بولتے ہوئے وہ نہرو کی تقاریر کی بلندی کو چھو لینا چاہتے ہیں. ان کے جس جیکٹ کو مودی جیکٹ کہا جاتا ہے وہ جدید ہندوستانی سیاست کے ابتدائی عرصے میں نہرو جیکٹ ہی کہلاتا تھا. مودی چاہتے ہیں کہ ملک اور دنیا انہیں سیاستدان کے طور پر دیکھے. افغانستان اور امریکی کانگریس میں دی گئی ان کی تقریر اگرچہ ان کی نہ لکھی ہو لیکن کسی بھی پیمانے سے معیاری تھی. اس مقام کو چھو لینے والی تھی جو وہ چاہتے ہیں.

مسٹر پرائم منسٹر مودی انگریزی کو انگریزی کی طرح نہیں بولتے. انگریزی بولتے وقت وہ ان محاوروں کو حاصل کرنے کی بے چینی سے آزاد ہیں جن سے آج کل ہر کوئی پریشان ہے. وہ اپنی انگریزی سے سننے والے کو ‘ایلينٹ’ یعنی الگ تھلگ نہیں کرتے. لیکن تھوڑا سا لگا کہ وہ انگریزی میں ‘ایكوموڈیٹ’ (سموئے ہوئے) ہونا چاہتے ہیں! قدرتی بھی ہے. ویسے ہندی میں ہوتا تو اس تقریر کی گاؤں گاؤں میں بحث ہوتی لیکن امریکہ اور دنیا میں اثر نہیں ہوتا. امریکی کانگریس میں وہ پردھان منتری یا پرائم منسٹر سے آگے جانا چاہتے تھے. چلے بھی گئے.

ہندی بولنے والے گھروں میں انگریزی سے دوری نہیں ہے لیکن اسٹائل والی انگریزی سے لگتا ہے کہ لڑکا گیا کام سے. بھلے ہی وہ کتنا ہی کام والا ہو. مسٹر مودی انگریزی کو ہندی کی طرح بولتے ہیں. تھوڑے سكڑے سكڑے سے سرکار نظر آتے ہیں لیکن سنبھل سنبھل کر اپنی بات کہہ جاتے ہیں. بھلے ہی نرمی نہ ہو لیکن سنجیدگی رہتی ہے. وہ انگریزی پر اپنی چھاپ چھوڑ رہے ہیں. لگتا ہے کہ ان کی ٹیم میں انگریزی لکھنے والے اچھے لوگ ہیں. تھوڑا سا تاریخ کی بہتر سمجھ والے لوگ بھی ہونے چاہئیں جو کونارک مندر کے زمانے کو غلط نہ لکھیں اور اپنے رہنما کی جگ ہنسائی نہ کرائیں. پرائم منسٹر مودی کو ان تاریخ دانوں کی ٹیم بنا لینی چاہئے جنہیں لیفٹ کہا جاتا ہے!

امریکی کانگریس میں ان کی تقریر سفارتی لحاظ سے بھارت کی خارجہ پالیسی کو امریکہ کے سامنے احسان مندی کی پالیسی کے طور پر ظاہر کرتا ہے تو ہندوستان کے لئے آزاد لائنیں بھی کھینچتا ہے. وہ اپنی قدرتی آزادی کو بچا کر رکھنے کا فن جانتے ہیں. اس لیے انگریزی بول رہے تھے لیکن اس بات سے بے فکر رہے کہ میسا چوسٹس جیسے مشکل تلفظ کو کیسے برتا جائے. بس بول کر آگے بڑھ گئے. ہر لفظ اور جملے کو گہرائی دینے کی کوشش کی. امریکی کانگریس میں منموہن سنگھ کی تقریر اچھی تھی لیکن مسٹر پرائم منسٹر مودی نے ان کی نفیس انگریزی کی تقریر سے زیادہ اپنی عام انگریزيت سے اپنی تقریر کو یادگار بنا دیا. انگریزيت بھی دیسی اور عام ہو سکتی ہے. ٹھسک نہ ہو تو سننے والوں میں کسک رہ جاتی ہے!

بھارت امریکی تعلقات کی پینچ تقاریر سے ڈھیلی نہیں ہوں گی. امریکہ بنیادی طور پر ایک تاجر ملک ہے. بھارت کوشاں ہے ایک تاجر ملک میں تبدیل ہونے کے لئے. بات قدروں اور ثقافت کی کرے گا لیکن اس کی تجارتی پالیسیاں جارحانہ ہوتی جا رہی ہیں. فطرت کی عبادت کی بات ہوگی لیکن اس کی پامالی کی بے دردی بھی دکھ جائے گی، اگر کوئی دیکھنا چاہے تو. بھارت اب امریکہ کا پارٹنر ملک ہے. امریکہ بھارت کے متوسط طبقے کے شہریوں کا امنگ ہے اور اب قومی امنگ میں بدل رہا ہے. ہم اس کا استعمال کر رہے ہیں یا وہ ہمارا یہ ماہرین پڑھتے رہیں گے. میرا مقصد صرف اتنا تھا کہ وزیر اعظم کی زبان اور منہج کو اجاگر کیا جائے. زبان کی خارجی شکل کی بنیاد پر ان کے فکری رجحان کو سمجھا جائے. کیا آپ کو بھی پردھان منتری شری نریندر مودی اور مسٹر پرائم منسٹر نریندر مودی میں کوئی فرق لگتا ہے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close