آج کا کالم

پرچم کے مختلف رنگ- لے کر چلنے والے ایک جیسے

رویش کمار

جس ایوان کو سیاست میں اعلی قدروں والا مانا گیا اور اس کی تشکیل کی منشا یہی تھی کہ یہ منتخب ہو کرآئے لوگوں کے ایوان سے الگ عوامی دباو سے اوپر اٹھ کر پالیسیوں پر غور کرے گی، اس ایوان کا الیکشن عام انتخابات کی طرح ہی غیر اخلاقی اور لوٹ پاٹ کے قصوں سے بھرا ہوا ہے. آج سے نہیں بلکہ زمانے سے ایوان بالا کے انتخابات میں یہی ہوتا آ رہا ہے. چونکہ پہلے ہوتا رہا ہے اور سب یہی کرتے ہیں، اس دلیل نے ہر دور میں ہر غلط کو جائز ٹھہرایا ہے.

غیر اخلاقی طرز عمل ہی سیاست کی اخلاقیات ہے. جو لوگ اخلاقیات کے پلیٹ فارم سے سیاست کو دیکھتے ہیں، وہ ہر دور میں اور ہر پارٹی سے ٹھگے جانے کے لئے مجبور ہیں. ایوان بالا کا الیکشن دوبارہ یاد دلا گیا کہ نظریاتی اور آئینی اخلاقیات کچھ نہیں ہوتی. ہر بار یاد دلاتا ہے اور ہر بار عوام بھول جاتی ہے. عوام کو سب معلوم ہوتا ہے اس لئے وہ بھول جاتی ہے کیونکہ عوام ہمیشہ اخلاقیات کو عملی نظر سے دیکھتی ہے. اس کے پاس قابل تقلید نمونہ نہیں ہے. وہ رہنما سے پیسے لیتی ہے، شراب لیتی ہے اور نظریاتی افیم لیتی ہے تاکہ وہ کسی نہ کسی سے نفرت کا نشہ پال سکے. بدلے میں وہ بھی اس نظام سے لوٹتي ہے جسے لیڈر لوٹتا ہے. نوکرشاہی کا طریقہ کار مردوں سے نہیں بنا ہوتا.

ہندوستان   کی عوام بھولی نہیں ہے، سیانی ہے. اسے سب معلوم ہے اس لیے وہ بھی اس بدعنوان سیاست کی فیض یافتہ بن جاتی ہے. وہ روز دیکھتی ہے کہ اس کا ایک حصہ بن پانی کے مر رہا ہے، ایک حصے کے پاس اچھا اسکول نہیں ہے، بازار کی سڑکوں پر چلنے کی جگہ نہیں ہے، اسپتال علاج کرنے کے قابل نہیں ہیں، پھر بھی وہ سیاسی جماعتوں سے ملنے والی رشوتوں کو چھوڑ نہیں پاتی. اس کے پاس نفرت کی سیاست میں گھس کر بحث کرنے کی بڑی ہمت ہے مگر غیر اخلاقیت کی تہوں کو ہٹا کر دیکھنے کی بےقراري نہیں ہے.

راجیہ سبھا کا الیکشن بتاتا ہے کہ ہماری جمہوریت سیاسی جماعتوں کے گروہ میں پھنس گئی ہے. فرقہ واریت کی جنگ صرف غریب ہندو مسلمان کے لئے ہے. وہی اس کے خلاف لڑتا ہے اور وہی مارا جاتا ہے. سیاستدان لڑنے کے نام پر سودا کرتے ہیں اور ملائی کھا لیتے ہے. سیاست ایک دھندہ ہے اور اس دھندے میں سب تاجر ہیں، منافع جس کا مذہب ہے.

کانگریس کے ممبران اسمبلی نے ثابت کر دیا کہ وہ نظریہ سے زیادہ بكنا پسند کرتے ہیں. ہریانہ کانگریس کے لیڈروں نے قلم کا جو عذر پیش کیا ہے، اس پر توجہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں. انہیں نٹراج پنسل تحفے میں بھجوا دینی چاہئے. پنسل سے تو لکھنا آتا ہو گا! اجیت جوگی کو ہنسی آ رہی ہوگی کہ وہ بغاوت کرکے کانگریس سے باہر ہیں اور یہ بغاوت کرکے کانگریس کے اندر ہیں. بغاوت کا ‘ٹوان ون ریڈیو’ کانگریس کی دریافت ہے. ذات برادری کے نام پر لیڈر بنے لوگوں کو معلوم ہے کہ نظریہ دو کوڑی کی چیز ہے. ہڈا کے خلاف تحقیقات چل رہی ہیں، پھر بھی ان سے ووٹ لیتے وقت مخالف امیدواروں کو تأمل نہ ہوا. ہڈا نے اس ووٹ کے بدلے کیا سودا کیا ہوگا. کانگریس نے حمایت کسے دیا؟ آر کے آنند کو. آنند انیلو کی حمایت کرنے کا دعوی کر رہے تھے جس کے لیڈر کو ہڈا نے ہی جیل بھجوایا. وہ آدمی کانگریس دفتر میں سیکولرازم کی دہائی دے رہا تھا. ہڈا نے اپنے ازم کا مذہب ثابت کر دیا!

کانگریس نے کرناٹک میں کیا کیا؟ جےڈی ایس کے ممبران اسمبلی کے اپنی پارٹی چھوڑکر کانگریس کے تئیں انوراگ کی کیا اخلاقی وجوہات رہی ہوں گی؟ پیسہ نہیں تو اور کیا؟ بی جے پی نے آزاد امیدواروں کو اتار کر کون سا کھیل کھیلا سب کو معلوم ہے. آزاد امیدوار پیسے والے ہی کیوں اتارے گئے؟ جھارکھنڈ میں اراکین اسمبلی کے خلاف وارنٹ نکلوا کر ووٹ ڈالنے سے روکا گیا. کانگریس اور بی جے پی کی طرح باقی جماعتوں میں ان کے کارکنان پسینہ بہاتے رہے، لیکن ان کے رہنماؤں کو بچانے کے نام پر دہلی کے وکلاء کی جماعت نے ایوان بالا کی نشست لے لی.

ہندوستانی سیاست میں نیا نہیں ہو رہا ہے. نئے کے نام پر ایک آدھ جگہ نئے رہنما آ جاتے ہیں، مگر اب یہ پارٹیاں زنگ کھا چکی ہیں. نئی نئی جماعتوں کی پیدائش ہماری جمہوریت کے لئے بہت ضروری ہے. اخبار اٹھا کر دیکھیں. قیادت کے وہی چہرے گزشتہ چالیس پچاس سال سے ہندوستانی  سیاست پر قابض ہیں. وہ اتنی بار سے آ جا رہے ہیں، سب ایک دوسرے کے ملاقاتی ہیں. سب ایک جیسے ہو گئے ہیں. راجیہ سبھا کے انتخابات نے تھوڑی دیر کے لئے یاد دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستانی  سیاست میں پرچم کے رنگ مختلف ہیں، مگر ان کو لے کر چلنے والے سب ایک جیسے ہیں.

یہ ساری دشواری ان کے لئے بوجھ ہے جو مثالیت اور اخلاقیات کے پیمانے سے تمام جماعتوں کو دیکھتے ہیں. حمایت کرتے ہیں. کسی بھی پارٹی کو ان کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ یہ لوگ تمام جماعتوں کے لئے اخلاقی دشواری ہیں. اس لئے ان کے خلاف سب ہو جاتے ہیں. عوام بغیر اخلاقی دشواری کے جیتی ہے. کب سے لوک پال قانون پاس ہے. کیا لوک پال لانے کے لئے کوئی محنت ہے؟ بدعنوانی مٹ گئی ہے یہ سرٹیفیکیٹ تقسیم کر دینے کے بعد راجیہ سبھا کا الیکشن کیا بدعنوانی سے آزاد تھا؟

مجھےمعلوم ہے رکن اسمبلی پڑھ کر ہنسیں گے کہ یہ اب بھی عوام کے سہارے اخلاقیات کا اعلان کر رہا ہے. ہا ہا، بالکل نہیں. مجھے معلوم ہے جس جماعت کے سربراہ یہ کھیل رچتے ہیں، وہ جماعت پہلے عوام سے ہی بنتی ہے. جنہیں اخلاقیات کا درد ہو رہا ہے انہیں ایک تجویز ہے. کسی نہ کسی کے اندھے حامی ہو جائیں. اس سے انہیں نہ اخلاقی دشواری ہو گی، نہ نظریاتی. راجیہ سبھا کے انتخابات کو بھول جانا بہتر ہے. یہی سیاسی جماعتوں کا سب کو پیغام ہے. ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے. اس منتر کا دن رات جاپ کرنے سے دل کا جلن ختم ہو گا اور نیند اچھی آئے گی. جو اخلاقی نہیں ہیں، وہ جمہوریت میں منتر کا جاپ نہ کریں، نوٹ گنیں نوٹ!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close