آج کا کالم

پرگیہ سنگھ ٹھاکر اور ہتیا موہنتا

ڈاکٹر سلیم خان

پانچ سال کے طویل عرصے میں جب ۵۶ انچ والی چھاتی کی ہوا نکل گئی تو بی جے پی کو بادل ِناخواستہ رام مندر کے ’شرن‘ میں جانا پڑا۔ اس بار اس کو وہاں  نہ تو اڈوانی ملے اور نہ  اوما بھارتی بلکہ وہ  سادھوی پرگیہ ٹھاکر سے ٹکرا گئے۔ رام للاّ کے بجائےاس نے نام نہا دسادھوی  کو کانگریس کے مظالم کا شکار ابلہ ناری بناکر  اب عوام کی ہمدردیاں بٹوری جارہی ہیں۔ ایسے میں پرگیہ کی کہانی  جاننا دلچسپی  سے خالی نہیں  ہے۔ اس کے بارے میں مشہور تو یہ ہے کہ وہ  ہیمنت کرکرے کے مظالم کا شکارہوئی  لیکن   درحقیقت اسے پہلی بار    ستمبر ۲۰۰۸  ؁  میں  بی جے پی کے ہی  کے وزیراعلیٰ شیوراج چوہان نے قتل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ یہ قتل کسی پاکستانی مسلمان کا نہیں بلکہ سنگھی دہشت گرد سنیل جوشی کا تھا۔ یہ گرفتاری مالیگاوں کے معاملے سے بہت پہلے ہوئی تھی۔ مکہ مسجد، سمجھوتہ ایکسپریس  اور مالیگاوں کے دھماکوں میں ملوث سنگھ سیوک جوشی پر پرگیہ نے بدسلوکی کا الزام لگایا تھا۔ پرگیہ کو  حراست میں لینے کے بعد اپنے ہی لوگوں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے شیوراج سنگھ نے ؁۲۰۰۹ میں یہ کیس بند کروادیا۔

پرگیہ  ٹھاکر کو جب  ہیمنت کرکرے نے  مالیگاوں معاملے میں گرفتار کرلیا تو  ؁۲۰۱۰ میں مذکورہ بالا  قتل  کیس کو  پھر سے کھولا گیا ۔ ؁۲۰۱۱ میں شیوراج کی پولس نے  پرگیہ کی گرفتاری کا وارنٹ بھی  جاری کیا لیکن  حراست میں ہونے کے سبب اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا۔ مو  دی جی کے اقتدار میں آتے شیوراج شیر بن گئے اور ؁۲۰۱۴ میں انہوں نے  یہ مقدمہ دیواس  ضلع عدالت میں منتقل کروادیا۔ ؁۲۰۱۵ میں عدالت نےجن ۸  سنگھیوں کے خلاف  فرد جرم عائد کی  ان میں  پرگیہ شامل تھی اور ؁۲۰۱۷ ثبوتوں کی کمی کا بہانہ بناکر  سب کو بری کردیا گیا۔ اس طرح سنیل جوشی کے اہل خانہ انصاف سے محروم رہ گئے۔ جس پریوار کے لوگ خود اپنے ہی کنبہ قبیلے کے ساتھ دست درازی کرتے ہوں۔ ایک دوسرے کا قتل کرکے قاتلوں کو نہ صرف  سزا سے بچاتے ہوں بلکہ ان کو انتخابی ٹکٹ سے نوازتے ہوں  ان سے عام لوگ کیا توقع کرسکتے ہیں؟

بھوپال میں جب سے  بی جے پی  نےسادھوی  پرگیہ ٹھاکر کو امیدواربنایا اس نے ذرائع ابلاغ  میں شاہ جی تو دور مودی جی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔  اپنے ایک تازہ بیان میں سادھوی نے یہ کہہ کر ہنگامہ کھڑا کردیا کہ ‘رام مندریقینی طورپربنایا جائے گا۔ وہ ایک شاندارمندرہوگا’۔ یہ تو ایک عمومی جواب تھا جو کوئی بھی دے سکتا ہے لیکن جب پوچھا گیا  کہ  کیا وہ رام مندربنانے کے لئے کوئی  ڈیڈ لائن بتا سکتی ہیں، تو  ان کی سٹی  گم ہوگئی  اس لیے کہ  ان سے پہلے رام مندر کی تاریخ بنانے والے اڈوانی اور اوما بھارتی کی سیاسی موت ہوچکی ہے۔ اس پر  پرگیہ ٹھاکرنے آئیں بائیں شائیں بکنا شروع  کردیا اور کہا ‘ہم مندرکی تعمیرکریں گے۔ آخرکارہم ڈھانچہ (بابری مسجد) کومسمارکرنے کے لئے بھی توگئے تھے’۔یہ بات عمومی ہوتی تو چل جاتی لیکن  ووٹ کی ہوس میں اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آگے بولیں ‘میں نے بابری مسجد پرچڑھ کرتوڑا تھا۔ مجھے فخرہے کہ ایشور(خدا) نے مجھے موقع دیا اورطاقت دی اورمیں نے یہ کام کام کردیا۔ اب وہیں رام مندربنائیں گے’۔

نام نہاد سادھوی کے بارے میں جو تفصیلات گوگل پر موجود ہیں اس کے مطابق اس کا یوم پیدائش ۲ اپریل ؁۱۹۸۸ درج   ہے۔   اس کو درست کرنے کی کوئی کوشش اس نے کبھی نہیں کی لیکن اب چونکہ ۱۹۹۲ ؁ میں بابری مسجد کی شہادت کے وقت اس کی عمر صرف ۴ سال بنتی ہے تو اس جھوٹ کو نبھانے کے لیے اچانک پیدائش کی تاریخ میں تبدیلی کردی گئی  اور اس کو ۲ فروری؁۱۹۷۰ کردیا گیا یعنی پورے ۱۸ سال کا اضافہ ہوگیا۔ کذب بیانی   تو خیر سنگھ کے سنسکار میں شامل  ہے۔ سمرتی ایرانی ایک زمانے میں اپنے حلف نامہ کے مطابق  گریجویٹ ہوا کرتی تھیں  اب اچانک انڈر گریجویٹ ہوگئی ہیں۔ عام طور پر کم پڑھے لکھے  لوگ آگے چل کرزیادہ تعلیم یافتہ ہوجاتے ہیں لیکن سنگھ پریوار کی گنگا  الٹی بہتی ہے۔  یہاں اچھا بھلا پڑھا لکھا انسان جاہلانہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال  ڈاکٹرسبرامنیم  سوامی کی ہے جو ایک زمانے تک سمجھداری کی باتیں کرتے تھے لیکن سنگھ پرویش کے بعد  ان کی ’بدھی ‘ پوری طرح ’برھشٹ‘  ہوچکی ہے اور وہ ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں کہ  جن پر بی جے پی والے بھی کان نہیں دھرتے۔

سادھوی نے جوش میں بلند بانگ دعویٰ تو کردیا لیکن جب  الیکشن کمیشن نے اس پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تو وہ  گھبرا گئیں اور کرکرے کے بعد  دوسرا گھوم جاو کردیا۔ اس نے کہہ دیا  کہ یہ انٹرویو میں نے بی جے پی میں شامل ہونے سے قبل دیا تھا اور یہ میرے دل کی آواز ہے۔ اگر ایسا ہے تو بی جے پی میں آنے کے بعد یہ دل کی آواز کیوں گھٹ کر مرجاتی ہے؟ مشیت  ایزدی کا یہ  دلچسپ مذاق ہے کہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر جس دن   رام مندر کی تعمیر کا دعویٰ کررہی تھی اسی دن ایک اور خبر نے ساری دنیا کو چونکا دیا۔ اوڈیشہ  کے اندر ہندووں کا ایک عالمی شہرت یافتہ جگن ناتھ مندر جس کی رتھ یاترا بہت مشہور ہے اور دنیا بھر کےسیاح اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔  اس مندر کی ایک روایت یہ ہے کہ اس کےمخصوص خدمتگار( سیوک)  ہر روز  قانون کے مطابق ‘بانا’  یعنی پرچم باندھتے ہیں۔

مندر کا یہ کلش ۲۱۴ فٹ کی بلندی پر ہے۔ پچھلے ہفتہ وہاں موجود  لوگ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ  ایک نوجوان مندرکی چوٹی پرپہنچ گیا اوراس نے وہاں لگا ‘بانا’ (پاک جھنڈا) ہٹا دیا۔ سادھوی پرگیہ کے ہم عمر اس تیس سالہ کے نوجوان کا نام  ہتیا موہنتا ہے۔ موہنتا  نے جب دیوانہ وار مندر کے کلش پر چڑھنا شروع کیا تو نیچے کھڑے ہوئے  لوگ اس سے واپس آنے کےلئےکہنے لگے  لیکن اس نے کسی کی طرف دھیان نہیں دیا بلکہ چڑھتا چلا گیا۔ مندرکےایک سینئرسیوک (خدمت گار) شاردا موہانتی کے مطابق  ہتیا موہنتا نے بانا کو اکھاڑ کر  اسے گمچھے کی طرح باندھا اور نیچےآگیا۔ اس کا یہ عمل  ایک ناپاک حرکت تھی  اور  جلد ہی  رسوم و رواج  کے مطابق پاکیزگی بحال کی جائے گی۔ پولیس نے یہ کہہ کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش کی کہ  ہتیا موہنتا کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے۔وہ  ساحلی ضلع بھدرک کا رہنے والے ہے۔ پولیس نے کچھ گھنٹے پوچھ تاچھ کرنے کے بعد اسے رہا کردیا۔

ہتیا  موہنتا کا مو ازنہ اگر بابری مسجد شہید کرنے والے کارسیوک بدمعاشوں سے کیا جائے  جن میں پرگیہ اپنے آپ کو زبردستی شامل کرنا چاہتی ہے  توان دونوں کے اندر زبردست مشابہت دکھائی دیتی ہے۔ وہ کارسیوک بھی جنونی تھے۔ ملک کی عدالتِ عظمیٰ  ان کو روک رہی تھی لیکن وہ کسی کی نہیں سن رہے تھے۔ جس طرح  ہتیا موہنتا  نے اس بانا  یعنی پرچم  کوگمچھے سے باندھ لیا اسی طرح  پرگیہ ٹھاکر بابری مسجد کی مسماری کے کلنک کو  فخر کے ساتھ پیشانی  پر سجا  کر ووٹ مانگ رہی ہے۔ پولس نے جس طرح موہنتا کو رہا کردیا قوی امید ہے کہ پرگیہ ٹھاکر کے ساتھ  الیکشن کمیشن بھی ویسا ہی ہمدردانہ معاملہ کرے  گا لیکن دیکھنا یہ ہے بھوپال کے رائے دہندگان اس کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟  انہوں نے اگر پرگیہ ٹھاکر کو کامیاب کردیا تو یہ ثابت ہو جائے گا کہ  ان  کی  اور ہتیا موہنتا کی دماغی حالت  میں کوئی فرق نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close