آج کا کالم

پرینکا گاندھی: آتے آتے آگیا ان کو خیال

قومی سیاست کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں ہر سیاسی جماعت میں  مختلف خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے

ڈاکٹر سلیم خان

ست یگ کی مہابھارت کا کروکشیتر ہریانہ میں تھالیکن کل یگ کی مہابھارت تو اتر پردیش کے رن بھومی میں کھیلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے   کہ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو علاقائی شبیہ بدل   کر قومی سطح پر اپنا مقام بنانے کے لیے دہلی آنے سے قبل  اتر پردیش جانا پڑتا ہے۔ ان  کے تعاقب میں اروند کیجریوال بھی دہلی سے بڑودہ نہیں  آت بلکہ  وارانسی پہنچ جاتے ہیں۔ پرینکا کے سیاست    میں فعال  ہوتے ہی  اس  امکان  کا اظہار ہونے لگا کہ  مبادہ وہ  وارانسی سے قسمت آزمائیں گی۔  راہل گاندھی نے صدارت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد انتخابی میدان اور ایوان میں تو بہت ہاتھ پیر مارے لیکن پارٹی کے اندر بہت کچھ نہیں کرسکے۔ انہوں نے سچن پائلٹ کو راجستھان  کی کمان سونپی لیکن وزیراعلیٰ نہیں بناسکے۔ مدھیہ پردیش میں بھی انہیں  جیوتردتیہ  سندھیا پر کمل ناتھ کو ترجیح دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ دہلی میں تو کال چکر الٹا گھوم گیا جب اجئے ماکن کی جگہ شیلا دکشت کو پارٹی کا صدر بنایا گیا لیکن اتر پردیش  کے حالیہ  فیصلوں نے ایک سیاسی زلزلہ برپا کردیا۔

اس  ملک کے عوام کی نفسیات میں شخصیت پرستی اس قدر  رچی بسی ہے کہ  گاندھی  پریوار   کے سب سے زیادہ غیر سیاسی فرد راجیو گاندھی  کی غیر ملکی بیوی بھی  بلاواسطہ اقتدار  اپنے ہاتھ میں لے لیتی ہے۔  کانگریس  کے اندر و باہربڑے بڑے گھاگ سیاستداں بحالتِ مجبوری  کفِ افسوس  ملتے  رہ جاتے ہیں۔  سنجے گاندھی کی بیوہ مینکا گاندھی  اگرسنگھ پریوار میں چلی جائے تب بھی بی جے پی کو اسے مجبوراً  وزیر بنانا ہی پڑتا ہے اور ان کے بیٹے ورون گاندھی کو سارے  باغیانہ تیور کے باوجود ایوان پارلیمان کا ٹکٹ دینا پڑتا ہے۔  ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شیلا دکشت کے دہلی کانگریس کے باگ ڈور سنبھالنے پر مخالفین تمسخر اڑاتے  اور کانگریس کے قحط الرجال کو نشانہ بناتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برخلاف پرینکا کو نصف اتر پردیش کا نگراں بنادیئے جانے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا حالانکہ دوسرے نصف کا نگراں جیوترادتیہ  سندھیا کو بنایا گیا ہے۔   یہ فیصلے ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جبکہ اترپردیش جیسی اہم ریاست  میں کانگریس سیاسی  ورنا شرم کے چوتھے پائیدان  پر شودروں سے بھی نیچے ہے۔

راہل گاندھی نے ان تقررات کے بعد کہا ’مجھے خوشی ہے کہ میری بہن جو بہت نڈر اور محنتی ہے، اب میرے ساتھ کام کریں گی۔ یوپی کے  نوجوانوں سے نے بی جے پی کے پیچھے اپنا وقت برباد کیااور اس نے انہیں  برباد کر دیا۔ کانگریس ان کو نئی سمت دے گی  اور یو پی کو اول نمبرپر لائے گی۔   اس فیصلے سے بی جے پی گھبرائی ہوئی ہے‘‘۔ اس دعویٰ کے آخری حصے  کی تصدیق  بی جے پی کےرہنماوں نے اپنے بیانات سے   کردی ہے۔  وزیراعظم  بننے کے بعد نریندر مودی کی  دو صفات ابھر کر  سامنے آئی تھیں اول تو غیر ملکی دورے اور دوسرے بڑ بولا پن۔ پچھلے ایک سال میں انہیں اتنے جھٹکے لگے کہ  وہ اپنے غیر ملکی میزبانوں کو پوری طرح بھول گئے اور بیرونی ممالک کے سربراہوں نے بھی ان سے طوطا چشمی نظریں پھیر لیں    ۔  وہ شاید سمجھ گئے  کہ  دانشمندی کا تقاضہ مودی جی  سے دوری بنائے رکھنے میں ہے ورنہ وہ  بعید نہیں کہ وہ  رافیل جیسا  کوئی  احمقانہ سودا کربیٹھیں اور اپنی ساکھ بنا ئے  رکھنا مشکل ہوجائے۔

وزیراعظم  نے آج کل ملک کے  داخلی معاملات میں  بھی چپیّ سادھ  رکھی ہے۔ اس طرح  وہ سابق وزیراعظم  منموہن سنگھ کو شرمندہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں حالانکہ وہ ان سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرکے بھی آگے بڑھ سکتے تھے لیکن شاید یہ مودی جی کے بس کی بات نہیں ہے۔ وزیراعظم آج کل   رافیل تو دور سی بی آئی جیسے تنازع پر بھی زبان نہیں کھولتے۔ ایوان میں جب  اس  مسئلہ پر بحث ہوتی ہے تو اجلاس  سے دور رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ اب تو ان کی قوت فیصلہ بھی متاثر ہونے لگی ہے۔ ناگیشور راو  والے فیصلے سے اس قدر گھبرائے   ہوئے ہیں کہ نئے سی بی آئی سربراہ کے تقرر کا فیصلہ بھی ان سے پہلی نشست میں نہیں  ہوسکا۔ اس کیفیت کے باوجود پرینکا گاندھی پر تبصرہ کرنے سے پردھان سیوک  اپنے آپ کو روک نہیں پائے۔ پرینکا کی تقرری کےدن اپنی جماعت کے کارکنان سے ویڈیو کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا’’   بیشترجماعتوں  میں خاندان ہی پارٹی ہے جبکہ بی جےپی میں ہی  جماعت ہے‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ہماری پارٹی میں کوئی بھی فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کیا جاتا کہ کوئی شخص یا کوئی خاندان کیا چاہتاہے؟‘‘

بی جے پی کے بارے میں یہ درست  بات ہے کہ آج کل اس کے سارے فیصلے کوئی خاندان بلکہ سنگھ پریوار کا سربراہ آر ایس ایس تک نہیں کرتا۔  سارے فیصلوں کی  بنیاد  یہ ہوتی ہے کہ پردھان سیوک نریندر مودی کیا چاہتے ہیں۔ پارٹی کے اندر برسوں سے وہی ہورہا ہے جو مودی جی چاہتے ہیں اب یہ عمل  سرکار میں بھی ہونے لگا ہے۔ مودی جی جب  گجرات کے وزیراعلیٰ اور نتن گڈکری پارٹی کے صدر تھے تو  سنگھ کے منظور نظر  سنجے جوشی کو ممبئی  میں منعقد ہونے والی بی جے پی کی مجلس عاملہ میں شرکت سے روکنے کے  لیے بڑودہ میں  روک لیا گیا۔ جوشی  آج بھی تنہائی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ہرین پنڈیا کے ساتھ جو کچھ ہوا جگ ظاہر ہے۔ مارگ درشک منڈل کی قابلِ رحم حالت کو کون نہیں جانتا۔ پارٹی تو دور حکومت میں بھی  آلوک ورما کی برخواستگی پر حزب اختلاف سے لے کر عدلیہ تک نے اپنے  بیانات اور  اقدام  سے مودی جی کے اڑیل رویہ  کی تصدیق کی  ہے۔

وزیراعظم کی اتباع میں  اترپردیش بی جے پی انچارج اور مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے بھی اظہار خیال کو ضروری سمجھتے ہوئے کہا کہ  ’’آخر کار پرینکا گاندھی کو کانگریس کا جنرل سکریٹری بنادیاگیا لیکن ہر کسی کو معلوم ہے کہ وہ  ایک خاندانی وراثت والی پارٹی ہے۔ پرینکا کا باضابطہ طور پر اعلان راہل گاندھی کی ناکامی کو بھی اجاگر کرتا ہے‘‘۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے  بھی نڈا جی مکھی پر مکھی مارتے ہوئے کہہ دیا کہ ’’ کانگریس پارٹی نے عوامی طور پر اپنے صدر راہل گاندھی کی ناکامی کا اعلان کردیا ہے اور یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ ناکام ہوگئے ہیں۔ انہیں پرینکا کی بیساکھی کی ضرورت ہے‘‘۔ یہ عجیب منطق ہے جس کے معنیٰ   یہ ہیں  کہ  ہر پارٹی میں ایک مودی ہو اور اپنے کاموں میں کسی کو شریک نہ کرے۔ کوئی رہنما اپنے کسی ساتھی کوکوئی  ذمہ داری تفویض کرے تو وہ  اس کی ناکامی یا بیساکھی کا اعلان ہے۔ راہل کے مقابلے  امیٹھی سے  انتخاب ہارنے کے باوجود وزیر بننے والی سمرتی ایرانی کو  بھی یہ کہنے کا موقع ملا کہ یہ راہل گاندھی کی ناکامی کا اعتراف ہے۔ اترپردیش کے وزیر سدھارتھ ناتھ سنگھ نے پرینکا کے عروج کو راہل کا زوال قرار دے دیا۔

 بی جے پی  کے کئی رہنماوں نے پرینکا کی سیاست میں فعال  ہوجانے کو اپنے لیے نیک شگون بتایا اور کہا اس سے مخالفین کے ووٹ تقسیم ہوں گے مسلمان کانگریس اور گٹھ بندھن میں بنٹ جائیں گے جس سے ان کا فائدہ ہوگا۔ یہ پوچھے جانے پر  کہ اگر یوپی کا براہمن بھی کانگریس کے ساتھ چلاگیا یا نوجوان نسل پرینکا کی جانب متوجہ ہوگئی  تو کیا ہوگا ؟ ان کے پاس کوئی  جواب نہیں تھا۔ مسلمان بارہا یہ ثابت کرچکے ہیں کہ مسلمانوں کو جس قدر بے وقوف سمجھتے ہیں ملت ویسی نہیں ہے اور پرینکا کی آمد سے بی جے پی کے نئے ووٹرس کوگنوا بیٹھنے کا امکان زیادہ ہے۔ خیر انتخاب میں  جو بھی ہو  لیکن پرینکا کی آمد نے یہ ثابت کردیا کہ شاہ جی اپنے کانگریس مکت ابھیان میں ناکام ہوچکے ہیں۔ ملک بھرسے تو دور کانگریس  ابھی یو پی میں بھی  پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ پرینکا کے تقرر کو۔  بی جے پی  کی بوکھلاہٹ نے اتنی بڑی خبر بنا دیا وہ اگر نظر انداز کردیتی تو یہ  بات نہیں ہوتی۔ اس بابت  وزیرقانون اور  بی جے پی کے ترجمان روی شنکر پرشاد نے سلجھا ہوا بیان دیا۔ انہوں نے کہا یہ غیر متوقع نہیں ہے لیکن وہ  اس سے بڑی ذمہ داری کی مستحق ہیں۔ ہم  انہیں اس نئے تقرر پرمبارکباد دیتے ہیں۔  یوپی سے بی جے پی کے پرانے رکن پارلیمان  ونود کمار سونکر نے بھی یہی کہا کہ انہیں پورا یوپی سنبھالنا چاہیے۔ ہم ان کا استقبال کرتے ہیں۔ یہ اعلیٰ ظرفی  سنگھ پریوار میں خال خال نظر آتی ہے۔

 سیاست میں سرگرم ہونے کا مطلب اسٹیج پر نظر آنا سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ حقیقت نہیں ہےبہت سے لوگ پردے کے پیچھے بھی  اہم کام کرتے ہیں۔  پرینکا تو اسٹیج پر بھی آتی رہی ہیں۔ ویسے بھی  نہرو خاندان کے لوگ سیاست سے دور کب رہتے ہیں؟ پرینکا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کی تگ  دو پہلے رائے بریلی اور امیٹھی تک  محدود تھی اب مشرقی یوپی کی حدتک وسیع ہوئی ہے۔ پرینکا کا  امیٹھی آنا جانا   اس وقت شروع ہوا جب وہ ۹ سال کی تھیں۔ راجیوگاندھی نے جب پہلی بار وہاں سے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تو وہ اپنے ساتھ ننھی پرینکا کو بھی لے گئے۔ اس کے ۱۸ سال بعد جب سونیا گاندھی نے ۱۹۹۹ ؁ میں وہاں سے پہلا انتخاب لڑا تو پرینکا اپنی والدہ کے شانہ بشانہ موجود تھیں۔ اس وقت سونیا گاندھی نے بھی نریندرمودی کی طرح دو حلقہ ہائے انتخاب سے قسمت آزمائی کی تھی۔ بیلاری میں ان کے سامنے تیز طرار سشما سوراج تھیں۔ پرینکا وہاں بھی اپنی ماں کا ہاتھ بنٹانے پہنچیں۔  یہ اتفاق ہے کہ اپنے والد، والدہ اور بھائی کی مہم میں شریک ہونے والی پرینکا کو ہمیشہ کامیابی ملی۔

پرینکا کو دیکھ کر۱۹۹۹ ؁ سے  لوگوں کو اندرا گاندھی کی یاد کیوں آتی ہے؟ اس سوال کا جواب رائے بریلی میں   اس وقت مل گیا جب کانگریس کے ٹکٹ پر  ستیش شرماامیدوار تھے  اور ان کے مقابلے بی جے پی نےراجیو عم زاد بھائی ارون نہرو کو میدان میں اتارا تھا۔ شرما کی حمایت میں ایک جلسہ کے اندر پرینکا نے رائے دہندگان سے سوال کردیا تھا ’’ میرے والد کے ساتھ جس نے غداری کی،  ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، ایسے آدمی کو آپ نے یہاں کیسے گھسنے دیا؟ ان کی یہاں آنے کی ہمت کیسے ہوئی؟ میری ماں نے مجھ سے کہا تھا کسی کی برائی مت کرنا، لیکن میں اگر آپ سے بھی دل کی بات نہ کہوں تو کس سے کہوں؟  اس تقریر کا زور اور اس کے بعد جذباتی استحصال کا اثر زائل کرنے  کے لیے  ارون نہرو  کو بچانے کے لیے اٹل جی  آنا پڑا لیکن وہ بھی  اس ڈوبتی نیاّ کو پار نہیں لگا سکے۔ اس انتخاب  کے تالاب میں  ارون نہرو کا ستارہ ہمیشہ کے لیے  ڈوب گیا۔

۲۰۱۴ ؁ میں جبکہ مودی لہر چل رہی تھی کانگریس پارٹی نے براہمن ووٹ کے چکر میں شیلا دکشت کو پارٹی کی کمان     تھما دی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان تو یہ ہوا کہ    ہیم و تی نندن بہوگنا کی بیٹی ریتا بہوگنا کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں چلی گئیں اور فی الحال صوبائی  وزیر بنی ہوئی ہیں۔ شیلادکشت وزیراعلیٰ کی حیثیت سے دہلی جیسی ننھے سے صوبے کو نہیں سنبھال سکیں تو یوپی کیا سنبھالتیں ؟ اس پر مودی جی  نے کہہ دیا کانگریس اب بوڑھی ہوچلی ہے۔ اس کے جواب میں پرینکا نے ایک خطاب عام میں عوام سے سوال کیا ’’کیا میں بوڑھی دکھائی دیتی  ہوں ‘‘۔ اس پر عوام نے جم کر تالیاں بجائیں اور وہ مسکراتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ  پرینکا کی سیاست میں فعالیت کے بعد وارانسی میں  پوسٹر لگ گئے ’اب کی بار پرینکا ہمار‘۔ پرینکا سے بی جے پی والے اس لیے خائف ہیں کہ  ۲۰۱۴ ؁ کے اندران کے ایک ایک بیان  کے جواب میں حزب اختلاف کو کئی تقاریر کرنی پڑتی تھیں۔ مہم کے دوران جب  ان سے سمرتی ایرانی کے بارے میں پوچھا گیا تو ہنس کر بولیں ’  کون؟ ‘ اور آگے بڑھ گئیں۔ سمرتی کے لیے یہ تبصرہ ہار سے زیادہ اذیت ناک  رہا ہوگا۔

اس میں شک نہیں کہ یہ راہل اندھی کا  یہ ماسٹر اسٹروک ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ  اس قدم  کواٹھانے میں ان سے مجرمانہ تاخیر ہوئی۔ اتر پردیش میں اگر ایس پی اور بی ایس پی اتحاد سے قبل یہ فیصلہ ہوجاتا تو بعید نہیں کہ باوقار طریقہ پر کانگریس کو گٹھ بندھن  میں شامل کیا جاتا۔ گزشتہ انتخاب میں کانگریس کو صرف ۶ فیصد ووٹ ملے تھے اس کے چلتے ایس پی،  بی ایس پی نے  اول تو اسے اپنے اتحاد میں شامل کرنا ضروری نہیں سمجھا  اوپر سے دو نشستوں پر اپنے امیدوار نہیں کھڑا کرنے کا احسان جتا دیا۔ وہ ایسی نشستیں ہیں کہ جہاں مودی لہر بھی گاندھی پریوار کا بال بیکا نہیں کرسکی اب تو خیروطن عزیز میں  مودی قہر کا دور دورہ  ہے۔ اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ سنگھ بھکت تو کمل پر ہی ٹھپہ لگائیں گے لیکن  سوال یہ ہے کہ جو نوجوا ن نسل  پچھلی باراچھے دنوں کی آس میں مودی جی پر فریفتہ ہوگئی تھی  وہ کہاں جائے گی ؟  ان سب کا بی ایس پی کی حمایت کرنا مشکل ہے  اور ایس پی میں جانا آسان نہیں ہے۔ ایسے میں راہل اور پرینکا ان کو اپنی جانب متوجہ کرسکتے ہیں۔ بی جے پی کو کمزور کرنے کے لیے انہیں  دور کرنا اہم ہے۔   پرینکا کا فیصلہ اگر پہلے آتا تو مایا اور اکھلیش اس حقیقت کا ادراک کرپاتے اور کانگریس کو ۸۰ امیدوار میدان میں اتارنے کا اعلان نہیں کرنا پڑتا۔

راہل گاندھی اپنے اس  فیصلے کے بعد بھی کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں  نے کہا’ ہم اترپردیش کی سیاست کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ میں مایاوتی جی اور اکھلیش جی کا احترام کرتا ہوں۔ ہم تینوں کا مقصد بی جے پی کو شکست دینا ہے۔ ہماری ان دونوں سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ہم کانگریس کے نظریات کی لڑائی لڑ رہے ہیں‘‘۔ راہل کے جواب میں دو اشارے ہیں اول تو یہ کہ ’’ یوپی کو جوچاہیے، یہاں کے نوجوانوں کو  جوچاہیے وہ کانگریس دے گی‘‘ دوسرے  یہ کہ ’’ ہم بیک فٹ پر نہیں کھیلیں گے۔ کانگریس پارٹی کی جگہ بنانا ہمارا کام  ہے۔ اس فیصلے سے یو پی میں نیا جوش دیکھا جائے گا۔ ہم مایاوتی جی اور اکھلیش جی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں ‘‘۔ یہ پختہ کار سیاسی حقیقت پسندی ہے۔ موجودہ خود غرضانہ  سیاست ہرکوئی دوسرے کی طاقت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے مگر کوئی کسی کمزور کی مدد نہیں کرتا بلکہ اس سے جان چھڑاتا ہے۔ بہار کے اوپندر خشواہا اس کا جیتا جاگتا نمونہ ہیں اگر وہ بھی پاسوان کی مانند مضبوط ہوتے تو ان کا یہ حشر نہیں ہوتا۔ حالیہ سیاست میں  اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے خود  کومضبوط کرنا ناگزیر ہے بصورت ِ دیگرسیاست کی بساط سے کمزور مہروں کوہٹا کر کوڑہ دان کی نذر کر  دیا جاتا ہے۔

پرینکا کے حوالے سے وراثت اور سرخاب  والی دونوں باتیں غلط ہیں۔  مختلف  مشاغل کی طرح  سیاست میں بھی بہت سے لوگوں کو  دلچسپی ہوتی ہے۔ اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے  ماحول،  تربیت،  تجربہ اور مشق  درکار ہوتا ہے۔   یہ چیزیں کچھ افراد  کو گھر کواندر میسر آجاتی ہیں اور کچھ لوگوں کو  اس کے حصول کی خاطر باہر جانا پڑتا ہےمثلاً ایسے لوگ بھی ہیں جن کو شعر و ادب کا ماحول اپنے خانوادے میں مل جاتا ہے اور کچھ باہر جاکر اساتذہ سے اکتساب کرتے ہیں۔ سنگھ پریوار کی شاکھاوں میں جو لوگ شرکت کرتے ہیں انہیں  ماحول اور تربیت میسر آ جاتی ہے۔ ان میں  سے جن کو  سیاست میں دلچسپی ہوتی انہیں مواقع ملتے ہیں۔ میدانِ عمل کے تجربات و مشق سے گزر کر  وہ آگے بڑھ جاتے ہیں۔ سنگھ پریوا ر ہو  یاجنتا پریوار، نہرو خاندان ہو یا دو خاندان ہر جگہ اقرباء پروری کا بول بالا ہے۔ قومی سیاست کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہاں ہر سیاسی جماعت میں  مختلف خاندانوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی ہے جو دوسروں کو آگے بڑھانے کے بجائے اپنے  پیچھے چلانے کی  قائل ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جورہنما اپنے ہمنواوں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں وہ  خود تو آگے جائیں گے لیکن قوم کیسے آگے  جائے گی  ؟  موجودہ سیاسی نطام  اس تلخ سوال کا جواب دینے  سے قاصر ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close