آج کا کالم

پلوامہ:مجھے رہزنوں سے غرض نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

ڈاکٹر سلیم خان

پلوامہ کے دھماکے نے رافیل اور چوکیدار چورکے نعروں  کو ہوا میں تحلیل کردیا ۔ لوگ مہنگائی اور بیروزگاری بھی بھول گئے۔ اس پر ابھی بی جے پی والے چین کی سانس لے بھی نہیں پائے تھے کہ پتہ چلا یہ تو رافیل سے بھی بڑی مصیبت ہے۔ پہلا مسئلہ تو اس وقت آیا جب   حملے کے بعد سرینگر جانے کی ضرورت  پیش آئی۔ اس وقت  اچانک وزیراعظم کو یاد آیا کہ اس ملک کا ایک وزیر داخلہ بھی ہے۔ ارون شوری کے مطابق  پچھلے سال جب محبوبہ  مفتی کی ریاستی حکومت  کو برخاست کیا گیا  تھااس اہم ترین معاملے میں  تک راجناتھ سنگھ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ یہ  کام  بی جے پی کے جنرل سکریٹری  اور سنگھ سیوک رام مادھو سے کرایا گیا۔ حد تو اس وقت ہوگئی کہ جب ایوان پارلیمان میں اس فیصلے کو حق بجانب  ٹھہرانے کی  ذمہ داری  بھی ارون جیٹلی کو سونپ دی گئی۔ کیا یہ وزیرخزانہ کا کام ہے کہ وہ جموں کشمیر کے حالات بیان کرکے وہاں پر صدر راج کے نفاذ کا جواز پیش کرے؟ یہ تو وزیر داخلہ کا فرضِ منصبی ہے لیکن چونکہ وہ  وزیراعظم کا چہیتا نہیں ہے اس لیے اس کو زحمت نہیں  دی گئی۔

کشمیر کے معاملے میں راجناتھ سنگھ اور اجیت دوبھال  کے نقطۂ نظر میں واضح فرق ہے ۔ راجناتھ سنگھ نرمی کے ساتھ عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں یقین رکھتے ہیں جبکہ اجیت دوبھال طاقت کے ذریعہ مزاحمت کو کچلنے کے قائل ہیں۔ حفاظتی مشیر کو وزیراعظم کی حمایت حاصل ہے اس لیے وہی ہوتا ہے جو   وہ چاہتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ مینیجمنٹ کے ڈائرکٹر  اور قومی تحفظ کے ماہر اجئے ساہنی  نے ان دونوں طریقۂ کار کے  اثرات کافرق  اعدادو شمار کی مدد سے واضح کیا ہے۔ ان کے مطابق   جب ۲۰۱۳ ؁ میں  حکومت نرمی کی حامل تھی  تو صرف ۶ نوجوان جنگجو بنے تھے۔ ۲۰۱۷ ؁ کے اندر یہ تعداد بڑھ کر ۱۲۶ پر پہنچ گئی۔ ۲۰۱۸ ؁ سرکار نے آپریشن آل آوٹ کے ذریعہ حالات پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ۲۰۰ نوجوانوں نے اسلحہ اٹھا لیا۔ کسی محاذ کی کامیابی کو لاشوں کی تعداد کے بجائے مدمقابل کی  قوت میں اضافہ یا کمی سے ناپنا چاہیے۔ سابق  سپریم کورٹ کے سابق کشمیری   جج مارکنڈے کاٹجو کے مطابق  سیاستدانوں نے اپنی ناقص حکمت عملی سے  وادی کی عوام کو مکمل طور پر مزاحمت کاروں کا ہمنوا بنادیا ہے۔ اس لیے میں حملہ آوروں کو پکڑنا ناممکن  ہوگیاہے۔ وہ مچھلی کی مانند عوام کے سمندر میں کھو جاتے ہیں۔  اس  لیے پلوامہ جیسے سانحات کی  روک تھام نا ممکن  ہوگئی  ہے۔

اجیت دوبھال کی خود سری کا اندازہ  کشمیر کے حوالے سے مارچ ۲۰۱۸ ؁ کو منعقد ہونے والی ایک نشست کے شرکاء سے لگایا جاسکتا ہے۔ وادی کی نازک صورتحال  کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی اس میٹنگ میں  یونین ہوم سکریٹری راجیو گوبا، ڈائرکٹر انٹیلی جنس  راجیو جین، این آئی اے کے ڈائرکٹر جنرل وائی سی مودی، جموں کشمیر پولس کے سربراہ ایس پی وید اور ان کے نائب منیر خان شریک ہوئے۔ یہ سارے لوگ وزارت داخلہ کے تحت کام کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے غورو خوض کے بعد  کئی اہم فیصلے کیے جن میں این ایس جی اور دیگرنیم  فوجی دستوں کی تعیناتی  بھی شامل تھی۔ اتفاق سے یہ دستے بھی وزارت داخلہ کے تحت آتے ہیں  لیکن اس نشست کی صدارت اجیت دوبھال نے فرمائی۔ اس اہم ترین میٹنگ میں وزیر داخلہ  کی عدم شرکت اس بات ثبوت ہے کہ سارے فیصلے پی ایم او کے ایماء پر کیے جاتے ہیں ۔ اس لیے ساری ذمہ داری اسی کے سر آتی ہے لیکن اس کو قبول کرکے میدان عمل میں جانے کا وقت آتا ہے راجناتھ سنگھ کی یاد آجاتے ہیں۔

 سرینگر میں جاکر صورتحال کا جائزہ لینے اور نوجوانوں کی لاشوں کو ساتھ لانے کی جگہ  عوامی خطاب کا موقع  ہوتا تو مودی جی کی خدمات حاصل کی  جاتیں ۔ کوئی سیاسی جوڑ توڑ کا معاملہ ہوتا تو شاہ جی تشریف لے جاتے لیکن یہ تو قوم کو درپیش  خطرات سے نبردآزما ہونے  کا وقت تھا۔ ایسے میں  چھپن انچ کی زبان نہیں سینہ درکار ہوتا ہے۔ اس لیے راجناتھ سنگھ کو آگے کیا گیا۔ وہاں سے واپسی کے بعد اگلے دن مودی حکومت کی جانب سے  کل جماعتی میٹنگ طلب کیگئی۔ اس میٹنگ میں پلوامہ میں ہوئے حملے اور حکومت کے ذریعہ اٹھائے گئے اقدامات  کی جانکاریسبھیجماعتوں  کو دینی تھی۔ اس لیے وزیراعظم، وزیرخزانہ، پارٹی صدر اور حفاظتی مشیر سب غائب ہوگئے اور اس کی صدارت بھی وزیر داخلہ  کے سپرد کی گئی۔  اس  اہم نشست میں غیر حاضری کو لے کر سوشیل میڈیا میں  مودی جی  پر تنقید ہوئی لیکن ان کو بہت سارے اہم کام جو کرنے تھے۔

وزیراعظم  نے وندے بھارت نامی نئی گاڑی کو ہری جھنڈی دکھانے کا کام کیا۔ سنا ہے ایسی ۱۰۰ گاڑیاں چلائی جائیں گی لیکن وارانسی جانے والی وندے بھارت  کا بریک درمیان میں جام ہوگیا۔ اس سے بھیانک آوازیں آنے لگیں۔ دھواں نکلنے لگا  اور گاڑی  درمیان میں رک گئی۔ اس پر یہ سوال پیدا ہوا کہ ایسا معاملہ وارانسی والی ٹرین ہی کے ساتھ کیوں ہوا؟ آج کل کاشی  کی ہوا ٹھیک نہیں ہے۔ مودی جی کے جھنڈی دکھانے مہورت شبھ نہیں تھا انہیں اپنا جیوتش بدل دینا بدلنا چاہیے لیکن بھیانک آوازوں اور دھواں کا کیا جائے؟ ان کا بدلنا وزیر اعظم کے بس کی بات نہیں۔  عوام کے لیے ٹرین چلا نے  کے بعد مودی جی ہوائی جہاز سے جھانسی میں خطاب عام  کے لیے پہنچ گئے اور انکشاف کیا کہ قوم کا خون کھول رہا ہے۔ یہ بات درست ہے لیکن یہ اطلاع کس کو دی جارہی ہے؟ جس کا خون کھول رہا اس کو یہ بتانے کی ضرورت کیا ہے؟

 بہار کے اندر مودی جی کو اپنا پرانا ڈائیلاگ یاد آگیا ’جو آگ تمہارے دل میں ہے۔ وہی میرے دل میں بھی ہے‘۔  وزیراعظم جس گودھرا کی آگ  یاد دلارہے تھے وہ بھی اندر لگی تھی مگر اس کو باہر کے ہجوم سے منسوب کر دیا گیا۔ اب پھر ایک مقامی جنگجو کے ذریعہ کیے گئے  دھماکے کو پاکستان  سے جوڑ دیا گیا ہے۔ کذب گوئی اور ابن الوقتی کا یہ راگ ۱۷ سال  پرانا ہے؟ وزیراعظم  نے بتایا حفاظتی دستوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہاتھ باندھے کس نے تھے؟ اگر پہلے سے بندھے ہوئے تھے تو اس کو کھولنے کے لیے پلوامہ کا انتظار کیوں کیا گیا ؟ مودی  جی جس وقت جھانسی میں پلوامہ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینک رہے تھے جیٹلی جی پاکستان کو پسندیدہ ترممالک کے درجہ سے محروم کرنے کا اعلان کررہے تھے۔ اس کارِ خیر سے متعلق بھی پوچھا جارہا ہے آخر اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ کیا پٹھان کوٹ اور اڑی کا حملہ اس کے لیے کافی نہیں تھا۔ کیا یہ اقدام سرجیکل اسٹرائیک سے بھی زیادہ مشکل تھا؟ یا جن سرمایہ داروں کے مفادات اس سے ٹکراتے ہیں ان کو ناراض کرنے میں دقت پیش آرہی تھی  ؟

پلوامہ  کا جن اب  بوتل سے باہر آنے لگا ہے۔ کانگریس کے ترجمان نے الزام لگایا ہے  کہ جب ملک جوانوں کے  غم میں ڈوبا ہوا تھا  اس وقت وزیر اعظم اپنی تشہیری فلم کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ انتخاب کے لیے بنائی جانے والی فلم کی فلمبندی رام نگر نینی تال میں کاربیٹ نیشنل پارک کے اندر ہورہی تھی۔ یہ الزام اگر درست ہے تو یقیناً شرمناک ہے۔سرجیوال  نے کہا قومی سوگ کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ سرکاری خرچ پر ہونے والی اشتہار بازی میں رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ  خفیہ نظام کی ناکامی  کو سرکار نے قبول کیوں نہیں کیا؟ یہ فطری سوال ہے اس لیے کہ ساری دنیا کو موردِ الزامٹھہرانے سے قبل ہمیں اپنے گریبان میں جھانک  کر دیکھنا ہوگا کہ ہم سے کوتاہی  کہاں سرزد ہوئی ہے؟ آرڈی ایکس کا ذخیرا پکڑا کیوں نہیں گیا؟ہمارے ملک کے گئورکشک تو فریج کے اندر کھے گوشت کو سونگھ کر پتہ لگا لیتے ہیں کہ یہ کس  مویشی  کاہے؟ ان گئورکشکوں کے گلے میں پٹہ باندھ کر اگر کشمیر اور نکسلی علاقوں میں چھوڑ دیا جائے تو اسلحہ کی آمدورفت ازخود رک جائے۔ دھماکے کی دھمکی کو نظر انداز کرکےسی آر پی ایف کی منتقلی کے لیے ہوائی جہاز فراہم نہ کرنا اور لاشوں کو منتقل کرنے کے لیے  جہاز مہیا کرنا کس ذہنیت کا شاخسانہ ہے؟

ملک کا سوگوار ماحول ویسے تو انتخابی جلسوں سے بدلنے لگاتھا لیکن ان میں تعزیت کی  بات ہوجاتی تھی۔  سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی آمد نے  بالآخر سارا غم غلط کردیا اور  سب کچھ پہلے کر  دیا۔ محمد بن سلمان جب  ایک دن قبل  پاکستان  میں تھے تومودی جی اسے سبق سکھانے کی بات کررہے تھے اور وہ  عمران خان سے گلے مل رہے تھے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اگلے ہی  دن مودی جیاسی شہزادے سے معانقہ فرمارہے تھے۔ دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے زبردست  ظہرانہ کا اہتمام کیاگیا اوراتنے قسم کے پکوان پروسے گئے کہ وہ بھی دنگ رہ گئے ؟ اسی کے ساتھ بھجن اور فلمی نغموں کی دھنوں سے شہزادے کا دل بہلایا گیا۔ اس موقع پر جن  نغمات کا انتخاب کیا گیا ان میں سے ایک ’موہے پنگھٹ پے نندلال چھیڑ گیو رے‘ غالباً پاکستان کی جانب اشارہ کررہا  تھا اور’کیسریا بالم پدھارو مارو دیش‘ شہزادہ محمد بن سلمان   کی نذر تھا۔محمد بن سلمان نے  ہندوستان و پاکستان دونوں مقامات پردہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ممکن مدد کییقین دہانی کرائی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی آپسی بات چیت سے مسئلہ حل کرنے کی تلقین فرمادی  اور معاملہ رفع دفع کردیا۔

ٹرمپ تو ہر روز کوئی نہ کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتے ہیں اورشہزادے  بھی  آتے جاتے رہتے ہیں لیکن اب ملک کی لوگ  پلوامہ کے معاملے  میں حکومت سے بیزاری کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں۔  وزیراعظم کے قہقہوں والی تصاویر ان کی طبیعت  پر گراں گزرنے لگی ہیں  لیکن چونکہ ان کی مودی جی تک رسائی نہیں ہے اس لیے اس کا نزلہ بی جے پی کے مقامی رہنماوں پر اتارا جارہا ہے۔ اس کا مظاہرہ  میرٹھ  میں مرکزی وزیر ستیہ پال سنگھ  کے ساتھ ہوا۔ وہ اتر پردیش کے وزیر سدھارتھ سنگھ اور میرٹھ سے بی جے پی کے ایم پی راجندر اگروال کے ساتھ میں پلوامہ  میں مارے جانے والے سی آر پی ایف جوان اجے کمار کی آخری رسومات میں  شامل ہونے کے لیے پہنچے  ہی تھےکہ انہیں  عوام کاغصہ جھیلنا پڑا۔ پہلے تولوگوں نے اعتراض کرکے ان کے جوتے اتروائے۔ اس کے بعد آخری رسومات کے دوران وہ ہنستے ہوئے نظر آئےتوان کی تصاویر سوشیل میڈیا پر وائرل کردی گئی جس سے بوال مچ گیا ۔

وہاں موجود  لوگ انہیں کے جوتے ان پر برسانے لگے اور وہ  ننگے پیرفرار ہونے  پر مجبور کردیئے گئے۔ ستیہ پال ملک نے پہلے ہاتھ جوڑ کر اور پھر ٹویٹ کرکے معافی مانگی  اور اپنی صفائی پیش کی۔ اس سے قبلاجیت کمار آزاد کی انتم  یاترا میں بی جے پی  رکن پارلیمان ساکشی مہاراج ٹرک پرہنستے ہوئے سوار ہوئے اور لوگوں کوالواداع کہا۔ ان تصاویرپربھی ٹویٹ کر کے تنقید  کی گئی لیکن جولوگ اپنے سابق وزیراعظم  اٹل جی  کی تعزیتی نشست میں قہقہہ لگاتے نظر آجاتے  ہیں ان کے نزدیک ان فوجی جوانوں کی کیا اہمیت ہوسکتی ہے؟  عوام نے میرٹھ میں  جو سوالات کیے اس پر بی جے پی کے رہنماوں کوسنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ وہ کہہ رہے تھے آپ اس وقت  گاوں میں کیوں آئے ہیں  جبکہ انتخاب کو دوماہ رہ گئے ہیں؟ مرکزی وزیر نتن گڈکری  کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا  جو اسی دن کئی پروجکٹس کا افتتاح کرنے کے لیے  میرٹھ  آئے تھے  مگر اجئے کمار کی آخری رسومات کے لیے وقت نہیں نکال سکے؟

ان واقعات سے درس عبرت لینے کے بجائے بی جے پی والے پھر ڈھٹائی پر آمادہ ہیں ۔ یوپی میں تاجر شعبے کےبی جے پی  صدر ونیت شاردہ  کو اس معاملے میں سیاست نظر آگئی۔ انہوں نے کہا ’’یہ واقعہ نفرت کی سیاست کا نتیجہ ہے۔ یہ  وہاں موجودسیاسی مخالفین کی سازش تھی‘‘۔ کیا ونیت شاردہ یہ  کہنا چاہتے ہیں کہ  مخالفین نے پہلے بی جے پی رہنماوں کو جوتے اتارنے کی اجازت نہیں دی۔ پھر لطیفہ سناکر ہنسانے کی کوشش کی اور تصویر نکال کر وائرل کیا؟ یہ سب تو فلمی پردے پر بھی نہیں ہوتا اور اگر ایسا ہوا بھی تو بی جے پی والے اس کا شکار کیوں ہوئے؟ویسے  وہ اپنے مرکزی رہنماوں کی تقلید میں ایسا کرتے ہیں۔ وزیر قانون روی شنکر پرشاد نے حال میں یہی بات کہی کہ کانگریسی پاکستان کی بھاشا بول رہےہیں۔   ان لوگوں سے جب حزب اختلاف سوال کرتا ہے تووہ  اس  پر پاکستان کی زبان بولنے کا الزام لگاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں جب یہ خود اپوزیشن میں تھے تو کیا کیا کہا کرتے تھے۔ آج کل سوشیل میڈیا تو مودی جی کے پرانے دعووں سے بھرا پڑا ہے۔ہر کس و ناکس  وزیراعظم سے سوال کررہا ہے ؎

نہ ادھر ادھر کی تو بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟

مجھے رہزنوں سے غرض نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

پلوامہ کے سی آر پی ایف جوانوں میں ۱۲ کا تعلق اتر پردیش سے ہے ان میں سے ایک میرٹھ کا  اور دودو شاملی کے رہنے والے ہیں۔ میرٹھ  میں اجئے سنگھ کی والدہ   کملیش نے بی جے پی کی رکن اسمبلی سروجنی اگروال سے جب   کہا  کہ میرا لڑکا  دہشت گردوں کے اور پتھر بازوں کے  بلند حوصلہ کی وجہ  سے مارا گیا  اور اس کا سبب  سیاسی حوصلہ مندی   کا فقدان ہے تو اگروال کی زبان گنگ ہوگئی۔پرینکا گاندھی نے شاملی میں  جو کہا  وہ کملیش سے سروجنی  نہیں کہہ سکیں۔ پرینکا نے  پردیپ کمار یادو اور اجیت کمار کے اہل خانہ سے کہا تھا ’’ ہم  اس موقع پر آپ کا غم  محسوس کرتے ہیں کیونکہ اسی طرح کے حالات میں ہم نے اپنے والد کو گنوایا ہے۔ ہم اس غم و اندوہ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔ دنیا کی کوئی طاقت ہمارے ملک کو منتشر یا خوفزدہ نہیں کرسکتی۔ یہ ہندوستان کا پیغام ہے‘‘۔ یہ بات سنگھ پریوار کا کوئی رہنما نہیں کہہ سکتا اس لیے ان کے آباو اجداد نے ملک کے لیے کبھی جان کی  قربانی دی ہی نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close