آج کا کالم

پلوامہ : امن کی شاہِ کلید اورسیاسی عوامل

بی جے پی کے رہنماوں نے تسلیم کیا کہ اب سرجیکل اسٹرائیک کا موقع نہیں بلکہ عالمی برادری  (بشمول چین )کو ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سلیم خان

پلوامہ کاسانحہ  قوم کے اعصاب پر کچھ اس طرح سے چھا گیا کہ اس نے عوام و خواص کا دماغ  شل کردیا ۔ ذرائع ابلاغ کے اندر کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیا کرے ؟ کوئی مذمتی  بیان دے رہا ہے۔ کوئی نشست کو برخاست کررہا ہے۔ کوئی فوج کو اقدام کرنے مکمل اختیار دے رہا ہے۔ کوئی پاکستان  کوترجیحی  ملک کے رتبے سے محروم کررہا ہے۔ کوئی سفیر کو بلا کر ڈانٹ رہا ہے۔ کوئی موم بتی جلا رہا ہے تو  کوئی ماتمی مظاہرہ کررہا ہے۔  کسی نے دعوتنامہ ٹھکرا دیا ہے اور جموں میں تو فساد ہی ہوگیا۔ اس موقع پر کوئی ٹھنڈے دماغ  سے یہ نہیں سوچ رہا کہ آخر اس طرح کے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں؟ سی آر پی ایف پر اس سے قبل اور بھی بڑا حملہ ہوچکا ہے۔ ۲۰۱۰؁ کے اندر نکسلی حملے میں ۷۱ سی آر پی ایف کے جوان ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت بھی بہت شور غوغا ہوا تھا لیکن کیا نکسلی حملے بند ہوگئے؟  نہیں اس لیے کہ بنیادی  اسباب پر غور کرکے انہیں حل کرنے کے بجائے جزوی مسائل پر شور شرابا پہلے بھی ہوتا تھا اب بھی ہورہا ہے۔ اس بار تو خیر پاکستان اور اظہر مسعود کی مدد سے پردہ پوشی یوں بھی  سہل  ہے۔

کشمیر ایک شورش زدہ علاقہ ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ کشمیر ہی میں  اس طرح کی بدامنی  پہلی بار پھیلی ہے۔ ایک زمانے میں سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلا دیش  میں ایسے ہی حالات تھے۔ سری لنکا بھی اس طرح کی صورتحال کا مقابلہ کرچکا ہے اور خود پنجاب میں بھی اس قسم کے حالات  پیدا ہوچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں وزیر مملکت برائے امور داخلہ ہنس راج   اہیر کے  توسط سے ایوان پارلیمان میں پیش کردہ  اعدادو شمار کے مطابق ۲۰۱۴ ؁ تا ۲۰۱۸ ؁ کے درمیان  کشمیر میں کل  ۳۳۹ جوانوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ یہ کیوں ہوا؟ اور اس کی روک تھام کے لیے کیا کیا جائے؟ اگر ان سوالات پر ایوان میں سنجیدگی سے بحث ہوتی اور ٹھوس اقدامات کیے جاتے تو ممکن ہے پلوامہ کا سانحہ رونما نہیں ہوتا۔ ان اعدادو شمار کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان چار سالوں میں فوجیوں کی ہلاکت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

۲۰۱۴ ؁  کا ۲۰۱۵ ؁ سے موازنہ کیا جائے حالات بہتری کی جانب مائل نظر آتے ہیں۔ حملوں کی تعداد ۲۲۲ سے گھٹ کر ۲۰۸ پر آگئی۔ جنگجو ۱۱۰ کے بجائے ۱۰۸ مارے گئے۔ شہریوں کی ہلاکتیں ۲۸ سے کم ہوکر ۱۷ پر آگئیں اور حفاظتی دستے بھی ۴۷ کے بجائے ۳۹ ہلاک ہوئے۔ اس فرق کی وجہ دریافت کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ۲۰۱۵ ؁ میں بی جے پی نے علٰحیدگی پسندوں  سے ہمدردی رکھنے والی جماعت پی ڈی پی کے ساتھ مفاہمت کرکےحکومت قائم کرلی تھی  اور مودی جی کشمیریت  و انسانیت کی بات کررہے تھے  لیکن بدقسمتی سے   جنوری ۲۰۱۶ ؁ میں جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ  مفتی محمد سعید کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد بی جے پی نے اپنا وزیراعلیٰ تھوپنے کی خاطر نئی حکومت کے قیام میں غیر معمولی تاخیر  کی ۔ تین ماہ کے تعطل کے بعدمحبوبہ مفتی  کا عہدہ بحال ہوا مگر اس دوران عدم اعتماد کا بیج پڑ گیا اور  حالات کی خرابی کا آغاز ہوگیا۔

۲۰۱۶؁ کی بگڑتی صورتحال پر قابو پانے کے لیے  سخت موقف اختیار کیا  گیا۔ چھرے والی بندوق کے استعمال  کا جواز پیش کیا گیا۔ طلبہ کے مظاہروں اور بچوں  پر بھی  اس کا استعمال ہوا۔ اسی سال برہان وانی کا معاملہ سامنے آیا۔ اس کی ہلاکت کو خوب اچھالا گیا  لیکن حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔ ۲۰۱۶ ؁ کے اندر  حملوں کی تعداد میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہوگیا اور وہ ۳۲۲ پر پہنچ گئے۔ حفاظتی دستوں کی اموات دوگنا سے زیادہ یعنی ۸۲ پر اور جنگجو بھی تقریباً  ڈیڑھ گنا زیادہ یعنی ۱۵۰ ہلاک ہوئے۔ شہری اموات میں معمولی کمی یعنی (۱۷ سے ۱۵ )ہوئی۔ اڑی  حملے کے بعد سرجیکل اسٹرائک بھی اسی سال ہوا۔ اس کے باوجود  سیاسی  عدم استحکام  نےحالات پر  جو منفی اثرات  ڈالے ان کا ازالہ نہ ہوسکا۔ ۲۰۱۷ ؁ کے اندر حفاظتی دستوں کی ہلاکتوں میں معمولی کمی آئی۔ یہ ۸۲ سے ۸۰ ہوگئے  اور حملوں میں  بھی  معمولی اضافہ ہوا یعنی وہ ۳۲۲  سے بڑھ کر ۳۴۲  ہوگئے  مگر جنگجو ۱۵۰ کے مقابلے ۲۱۳ مارے گئے اور شہری ہلاکتیں بھی ۱۵ سے بڑھ کر ۴۰ ہوگئیں۔  یہ تشویشناک صورتحال توجہ کی مستحق تھی مگر نظر انداز کی گئی۔ وزیراعظم لال قلعہ سے کشمیر مسئلہ حل کرنے کے لیے گولی یا گالی کے بجائے بات چیت کا درس دیتے رہے اور بڈگام میں فاروق ڈار نامی نوجوان کو فوجی گاڑی کے سامنے باندھ کر گھمایا جاتارہا۔

 اس طرح کی بے حسی یا  سختی کا نتیجہ ۲۰۱۸ ؁ کے اندر دیکھنے کو ملا  جبکہ حملوں کی تقریباً  دوگنا یعنی ۶۱۴ پر پہنچ گئی۔   شہری ہلاکتوں میں قدرے کمی یعنی ۴۰ سے گھٹ کر ۳۸ پر آگئیں لیکن جنگجو اور فوجی ہلاکتیں  پہلے سال کی بہ نسبت زیادہ یعنی ۸۰ سے ۹۱ اور ۲۱۳ سے ۲۵۷ پر پہنچ گئیں۔ ایسے میں جبکہ وادی میں  امن و سلامتی کی صورتحال بگڑ رہی تھی بی جے پی کشمیر میں اپنا وزیراعلیٰ مسلط کرنے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ پی ڈی پی میں پھوٹ ڈال  کر انہیں خریدنے کی ریشہ دوانیاں کی جاری تھیں۔ وہ تو خیر نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی کی حمایت کردی ورنہ جموں کشمیر کا بی جے پی وزیراعلیٰ یوگی جی کی مانند پورے ہندوستان  میں گھوم گھوم کر پرچار کررہا ہوتا۔ پلوامہ کے حملے کو اس دگرگوں صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔  وادی ٔ کشمیر میں جاری سیاسی عدم استحکام کی بڑی قیمت کشمیریوں نے ادا کی ہے۔ انڈیا اسپینڈ نامی ادارے کے مطابق ۲۰۱۷ ؁ تک ۲۸ سالوں میں تقریباً ۲۲ ہزار جنگجو، ۱۴ ہزار شہری اور پانچ ہزار سے زیادہ  جوان ہلاک ہوئے ہیں۔

جموں کشمیر کی  موجودہ صورتحال کے لیے پاکستان کو بجا طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے لیکن کیا محض الزام تراشی سے یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔ ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے انٹلی جینس (خفیہ معلومات کی فراہمی) کےحوالے اپنی غلطی کا اعتراف  کر کے سب کو چانکا دیا۔  ’دی انڈین ایکسپریس‘ سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’ہم شاہراہ پر گھوم رہی دھماکہ خیزاشیاء  سے بھری گاڑی کو پہچاننے میں ناکام رہے اور ہمیں یہ بات قبول کرنی ہوگی کہ ہم سے بھی غلطی سرزد ہوئی ہے‘‘۔ گورنر ستیہ پال ملک نے تسلیم کیا کہ  ’’ ایسی کوئی خفیہ جانکاری ہمارے پاس نہیں تھی جس سے معلوم ہوتا کہ دہشت گردوں کو خودکش حملے کی ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ یہ آدمی (حملہ آور عادل) ہمارے مشتبہ افراد کی فہرست میں اہم تھا۔ ہم اس کے بارے میں جانتے تھے لیکن اس کوتلاش  نہیں کر پائے‘‘۔

گورنر صاحب کو اس سوال پر بھی غور کرنا ہوگا  کہ وہ کون سے سماجی و سیاسی عوامل ہیں جو   عادل ڈارجیسے کشمیری نوجوان کو  اپنی جان پر کھیل کرحفاظتی   پر حملہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں  ؟ اس سال کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں وادی کے اندر عادل جیسے  ۳۱ جنگجو ہلاک ہوئے جو ایک بڑی تعداد ہے۔ پلوامہ حملے کو اس پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔ سال ۲۰۰۰ ؁ کے بعد ۲۰۱۸ ؁ میں پہلی بار غیرملکیوں سے بڑی تعداد میں مقامی جنگجو  ہلاک ہوئے ہیں۔  گزشتہ سال مارے جانے والے جملہ ۲۴۶  میں صرف ۹۰ غیر ملکی اور ۱۵۰ کشمیری نوجوان تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس فرق کے  واقع ہونے کی وجوہات کیا  ہیں ؟ اس کے چلتے کشمیر کی شورش کو غیرملکی قرار دے کر مسترد کردینا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔      کشمیر کے اندر امن و امان کی شاہِ کلید اس سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے اور جب یہ گتھی سلجھ جائے گی تو کشمیر میں  فوجیوں اور شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ اپنے آپ رک جائے گا۔

گورنر ستیہ پال ملک کی صاف گوئی بی جے پی پر شاق گزری۔ اڑی  کا سرجیکل اسٹرائیک  اترپردیش انتخاب سے   قبل اور پلوامہ کا حملہ قومی انتخاب سے پہلے رونما ہوا۔ اس کے سبب سوشیل میڈیا میں یہ باہمی مماثلت زیر بحث آگئی۔ مرکزی  حکومت نے جب سی آر پی ایف جوانوں کےتابوت  ان کے گھروں پر بھیجنے سے قبل    دہلی منگوانے کا ارادہ کیا تو گودھرا سے رام بھکتوں کی لاشوں کا   احمد آباد آنا یاد آگیا لیکن وقت کے ساتھ  سارے خدشات کافور ہوگئے۔ بی جے پی کو سب سے زیادہ خطرہ اپنے ترجمانوں سے تھا۔ انہیں ہر شام  ٹیلی ویژن کے پردے پر اگنی پریکشا  سے گزرنا  ہوتا ہے۔ اس لیے اپنے مرکزی دفتر میں تحفظ کی  کابینی کمیٹی کے اجلاس بعد ارون جیٹلی اور نرملا سیتا رمن نے ترجمانوں سے خطاب کیا۔  جیٹلی نے انہیں صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے سیاسی بیان بازی  یا جنگ کی للکار سے پرہیز کرنے    کی تلقین کی۔ انہوں صوبائی ذمہ داروں کو پاکستان سے جنگ کا اعلان کرنے سے منع کیا لیکن عوام کی جانب سے جذبات کے اظہار میں  شرکت کی اجازت دی۔ جیٹلی نے پسماندگان کے گھروں پر جاکر تعزیت کرنے پر زور دیا اور کہا کہ سب لوگوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ اس مصیبت کی گھڑی میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔غم و غصہ  کا رخ پاکستان کے اوپرمرکوز رکھنے  کا مشورہ  بھی دیا گیا۔

بی جے پی کے رہنماوں نے تسلیم کیا کہ اب سرجیکل اسٹرائیک کا موقع نہیں بلکہ عالمی برادری  (بشمول چین )کو ساتھ لینے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی جنرل سکریٹری رام مادھو نے بتایا کہ  ہماری ترجیحات پاکستان کا محاسبہ ہے اور  اس مقصد کے حصول کی خاطر سارے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ اس موقع پرخلاف توقع شرد پوار نے مودی جی کو ان کے وہ  بیانات  یاد دلائے جوانہوں نے  گجرات کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے منموہن سنگھ کے زمانے میں  دیئے تھے۔پوار  نے کہا کہ مودی جی کہتے تھے صرف بیانات سے کیا ہوگا ؟دہشت گردوں کو سبق سکھایا جائے۔ یہ حکومت نااہل ہے اس لیے ہمت نہیں کرتی یہ کام تو  صرف ۵۶ انچ کا سینہ رکھنے والے ہی کر سکتے ہیں۔ عوام نے دیکھ لیا کہ اب کیا ہوا؟  اس  طرح کی اشتعال انگیزی کے باوجود  بی جے پی کی قیادت نے خود کو قابو میں رکھتے ہوئے اس  معاملے کو انتخابی مدعا   بنانے سے گریز کرکے  جس سیاسی سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا  ہےاس کے لیے وہ مبارکباد کی مستحق  ہے۔ راہل اور پرینکا نے بھی اس موقع پر حکومت پر تنقید کرنے کے بجائے پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر سیاسی پختگی کا ثبوت دیا  ورنہ پھر انتخاب  بنیادی مسائل کے بجائے جذباتیت کی بھینٹ چڑھ جاتا اور اس کی قیمت عوام کو چکانی پڑتی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close