آج کا کالم

پنجاب نیشنل بینک میں500 11، کروڑ کا گھوٹالہ

رویش کمار

پنجاب نیشنل بینک نے مئی 2016 میں370 5، کروڑ کا نقصان رپورٹ کیا تھا. بھارتی بینکاری کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا خسارہ ہے. اب اسی پنجاب نیشنل بینک سے500 11،  کروڑ کے گھوٹالے کی خبر آئی ہے. گھوٹالہ بینک نے ہی پکڑا ہے. معاملہ 2011 کا ہے اور ممبئی کی بریچ کینڈی برانچ میں گھوٹالہ ہوا ہے. ڈائمنڈ تاجر نِیرَو مودی اور ان کے خاندان کے لوگوں کا نام آیا ہے. خدشہ ہے کہ دوسرے بینکوں کو بھی چپت لگائی گئی ہو گی. نِیرَو مودی کون ہے، اس کے پیسے سے کس کس نے ہیلی كاپٹر میں عیش کیا ہے، بینک کے افسر کون ہیں، ان کے کس کس سے تار جڑے ہیں، اور کس کس کو فائدہ پہنچا گئے ہیں، یہ سب ڈٹیل آنا باقی ہے. ویسے جب سی بی آئی 2 جی میں کسی کو پکڑ نہیں سکی تو ان سب میں کیا کرے گی.

19 جنوری 2018 کو بھوپال سے نئی دنیا میں خبر چھپی تھی کہ کوئلہ تاجر نے پنجاب نیشنل بینک کے حکام سے مل کر 80 کروڑ کا گھوٹالہ کیا ہے. معاملہ 2011 سے 2016 کا ہے. سی بی آئی نے 47 مقامات پر چھاپے مارے تھے.

30 مارچ 2016 کے نئی دنیا میں ہی خبر شائع ہوئی کہ پنجاب نیشنل بینک نے اندور کے 27 تاجروں کو ولفل ڈفالٹر قرار دیا ہے جن پر 217 کروڑ کا لون تھا.

ایسوچیم نے ایک اسٹڈی پیش کی ہے. مارچ 2018 میں بینکوں کا این پی اے 9.5 لاکھ کروڑ کا ہو جائے گا. 2017 میں یہ 8 لاکھ کروڑ کا تھا. یعنی ایک سال میں بینکوں کا ڈیڑھ لاکھ کروڑ لون ڈوب گیا. یہ خبر سارے اخباروں میں شائع ہوئی ہے.

وائر میں 13 فروری کو ہمیندر ہزاری کی رپورٹ پڑھ سکتے ہیں. بھارتی اسٹیٹ بینک نے ریزرو بینک کو بتایا ہے کہ بینک نے 31 مارچ 2017 کو ختم اپنے مالی سال کے لئے منافع اور این پی اے کی رقم کے بارے میں غلط اطلاع دی ہے.

بینک نے نان پروفٹ ایسیٹ کے بارے میں 21 فیصد رقم کم بتائی ہے. یعنی لون ڈوبا 50 روپے کا تو بتایا کہ 39 روپیہ ہی ڈوبا ہے. یہی نہیں منافع کو 36 فیصد بڑھا چڑھا کر بتایا ہے.

بھارت کا سب سے بڑا بینک ہے ایس بی آئی. اس کی سالانہ رپورٹ میں خسارے اور منافع کی رقم میں اتنا فرق آ سکتا ہے؟ نیوز اینكروں نے رپورٹ بنائی یا بینكروں نے. اس سی ای او کو چلتا کر دینا چاہئے مگر وہ حکومت کا جيگان کر کے جيوندان پا لے گا.جبکہ 2017 کی رپورٹ جمع کرنے کے وقت اروندھتی بھٹاچاریہ سی ای او تھیں جنہیں میڈیا میں بینکنگ سیکٹر کا بڑا بھاری جانکار سمجھا جاتا تھا. جب تب کوئی نہ کوئی ایوارڈ ملتا رہتا تھا. نوٹ بندي کے وقت اتنا کچھ برباد ہوا، مگر انہوں نے کچھ نہیں بولا، خاموشی اپنا ٹائم کاٹ کر چلی گئیں.

اتنی غلطی کرنے کی چھوٹ ہوتی تو میں خود اسٹیٹ بینک آف انڈیا چلا کر دکھا دیتا. جب میں ریاضی میں صفر ہوں۔ ان بڑے بینکروں کا ایک ہی کام ہے. میڈیا میں تصویر كھيچوانا اور حکومت کی حوصلہ افزائی کر اس کی غلطیوں پر پردہ ڈال. اس کا نتیجہ بھگتتے ہیں بینکوں کے لاکھوں ملازم. جن کا کام بڑھ جاتا ہے، کشیدگی بڑھ جاتی ہے مگر سیلری نہیں بڑھتی ہے.

حال ہی میں نے پوسٹ ڈالا تھا کہ بینکنگ سیکٹر کے لوگ اپنے مسئلے بتائیں اور حلف نامہ لکھ کر بھیجیں کہ ہندو مسلم نہیں کریں گے، تشدد کی سیاست سے الگ رہیں گے. مجھے لگا تھا کہ میرے دفتر دس بیس ہزار لفافے پہنچ جائیں گے، جن میں حلف نامہ ہوں گے اور ایک سے ایک معلومات ہوں گی. مگر ایسا کچھ نہیں ہوا. سو دو سو خطوط کو دیکھنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ یہ مسئلہ کوئی بڑا نہیں ہے. ورنہ لوگ سارا کام چھوڑ کر حلف لے رہے ہوتے. مگر ایسا نہیں ہوا. لہذا اس مسئلے سے ٹاٹا.

اگر بینکنگ سیکٹر میں لاکھوں ملازم ہیں تو میرے پاس کم سے کم تیس چالیس ہزار پوسٹ کارڈ پہنچنے چاہئے. اس میں تین چار باتیں لکھی ہوں. میں ہندو مسلم سیاست نہیں کروں گا. ٹی وی پر اس کا ڈبیٹ آئے گا تو نہیں دیکھوں گا. میں نے پہلے ہندو مسلم سیاست کرتا تھا مگر اب نہیں کروں گا. یہ ان کے لئے ہے جو کرتے رہے ہیں. سچ بولئے تبھی آپ کے ساتھ کوئی ایمانداری سے کھڑا رہے گا. اگر آپ اس سیاست سے اتفاق رکھتے ہیں تو پھر آپ کو مفت میں کام کرنا چاہئے. سیلری میں اضافہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے. اس ہندو مسلم کو جب تک ختم نہیں کریں گے تب تک کوئی آپ کا مسئلہ پر توجہ نہیں دے گا. آپ آزما کر دیکھ لیجئے.

بے شک، کچھ سو افراد نے ہی تفصیل سے معلومات بھیجی ہے. کافی کچھ سیکھنے کو ملا ہے. اس میں بھی ایک بے ایمانی ہے. کوئی روی دھاکڑ کے نام پر میسیج بنا ہے جسے سارے بھیجے جا رہے ہیں اور میں ڈلیٹ کئے جا رہا ہوں. میرا کہنا ہے کہ آپ اپنے ذاتی تجربات لکھیں. بتائیں. تب سمجھ آئے گا کہ کیا ہے، کیا ہونا چاہئے. ہمارے پاس نہ وقت ہے نہ وسائل کہ کسی بھی نئے موضوع میں راتوں رات ایکسپرٹ ہو جائیں گے. جب آپ ہی اپنی کہانی ٹھیک سے نہیں بتائیں گے تو دنیا کس طرح جانے گي.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close