آج کا کالم

پی ایم مودی اور شیو پال سنگھ کا ‘جرأت مندانہ’ بیان  

کیا ہوگی پارٹی میں غنڈے بدمعاشوں کی صفائی ..؟

رويش کمار

سنیچر کو بھارتی سیاست میں دو بڑے حادثے واقع پذیر ہوئے ہے. ایک حادثہ اتر پردیش کے اٹاوہ میں ہوا ہے اور دوسری دہلی میں ہوا. اسے حادثہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ دو جگہوں سے دو بڑے لیڈروں نے بیان جاری کرکے اپنی پارٹی اور حامیوں کے بڑے ہجوم کو مجرم قرار دے دیا ہے. اپنے حامیوں یا انتخابی جیت میں مدد کرنے والوں کو مجرم بتانے کا ایسا عوامی حادثہ بہت کم ہوا ہے. قد سے تو سماج وادی پارٹی کے لیڈر اور کابینہ وزیر شیو پال سنگھ یادو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی سے چھوٹے ہیں لیکن انہوں نے جو کہا ہے وہ وزیر اعظم کے بیان سے بھی زیادہ جرات مندانہ ہے. ان دونوں بیانات کی بنیاد پر آپ ہندوستانی سیاست میں غنڈوں، مافیا اور بربر لوگوں کی شناخت ایک جھٹکے میں کر سکتے ہیں. یہ دونوں ہی بیان اپنی پارٹی یا نظریے کے خیمے سے غنڈے بدمعاشوں کو گھاس پھوس کی طرح صفائی کی صفائی مہم میں شامل کئے جا سکتے ہیں. مرکزی وزیر وینکیا نائیڈو ان دونوں کے بیانات کی بنیاد پر سروے کروا سکتے ہیں کہ کتنے غنڈے سیاست سے صاف کئے گئے ہیں.

اٹاوہ میں شیو پال سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کے کارکنوں کو سدھر جانے کے لئے 15 دن کا وقت دیا ہے. شیو پال سنگھ یادو نے کہا کہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کی پارٹی کے کون کون لوگ غیر قانونی قبضے کر رہے ہیں. جو کارکن اور ٹھیکیدار دو دو لگژری گاڑی میں گھوم رہے ہیں وہ ایمانداری اور محنت سے نہیں خرید کر رکھتے ہیں. کیا واقعی شیو پال سنگھ یادو کو معلوم ہے کہ ان کی پارٹی کے کس کس کارکن نے زمین قبضہ کیا ہے اور کس طرح لگژری کار خریدی ہے. یا وہ اعظم خان کے ساتھ مل کر اکھلیش کے خلاف کوئی بڑا پلاٹ رچ رہے ہیں. ایسا کیسے ہو گیا کہ دس دن پہلے کسی نے اس کا اشارہ دیا تھا اور وہ ہوبہو ثابت ہو رہا ہے. لیکن ہم عام عوام کو اندرونی سیاست سے کیا.

ہمیں پر امید ہوکر ان 15 دنوں کے ختم ہونے کا انتظار کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ شیو پال سنگھ یادو کیا کرتے ہیں. اگر صحیح میں یوپی میں سماجوادی پارٹی کے کارکنوں کے قبضے سے زمینیں آزاد ہونے لگیں تو کمال ہو جائے گا. اس کا مطلب کابینہ وزیر کو پتہ رہتا ہے کہ ان کی پارٹی کے کس کس کارکن نے زمین قبضہ کی ہے. اگر کارکنوں نے شیو پال سنگھ یادو کی پول کھول دی تو کیا ہوگا. یہ سوچ کر میں بہت خوش ہو جاتا ہوں. اگر کوئی کارکن یہ پوچھ دے کہ نیتا جی آپ کے قافلے میں جو لگژری گاڑیاں چلتی ہیں کیا وہ محنت کی کمائی کی ہوتی ہیں؟

ایک جھٹکے میں شیو پال سنگھ یادو نے سماجوادی پارٹی کارکنان کے جرائم کی تصدیق کر دی ہے. اس کے لیے انہیں مبارک ہو. اسی طرح دہلی میں ایک جھٹکے میں وزیر اعظم نریندر مودی نے گئو رکشکوں کو سماج دشمن عناصر قرار دیا ہے. "مجھے اس بات پر غصہ آتا ہے کہ لوگ گائے تحفظ کے نام پر دکان چلا رہے ہیں. ان میں سے زیادہ تر سماج دشمن عناصر ہیں جو گائے تحفظ کے نام پر چہرہ چھپاتے ہیں. میں ریاستی حکومتوں سے کہوں گا کہ ایسے لوگوں پر دستاویز تیار کریں کیونکہ ان میں سے 80 فیصد سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث پائے جائیں گے جسے کوئی بھی سماج تسلیم نہیں کرے گا. "انہوں نے یہ بھی کہا کہ زیادہ تر گائیں قتل نہیں کی جاتیں بلکہ پاليتھن کھانے سے مرتی ہیں. اگر ایسے سماج سیوك پلاسٹک پھینکنا بند کرا دیں تو گایوں کی بڑی حفاظت ہوگی.

غنیمت ہے کہ وزیر اعظم نے انہیں گئو غنڈہ نہیں کہا لیکن یہ کیا کم ہے کہ انہوں نے گئو رکشا کے نام پر فساد مچا رہے لوگوں کو سرے سے مجرم قرار دیا ہے. ابھی تک یہ لوگ گئو رکشا کی آڑ میں دھرم رکشا اور دھرم رکشا کی آڑ میں راشٹریہ رکشا کی جعل سازی کر رہے تھے. لیکن جب راجستھان کی گئو شالا میں دو ہفتے میں خراب روشنی کے سبب 500 گایوں کی موت کی خبر آئی تو اس کے نام پر ہو رہی جرم کی پول اپنے آپ کھل گئی. ایک گائے کے نام پر اخلاق کا قتل اور اس کے بعد جو سیاست ہوئی وہ کتنی بھیانک ہے. اس سیاست کی بنیاد یہی تھی کہ گائے کے نام پر کوئی دلیل نہیں ہے. کوئی ثبوت نہیں ہے. گائے کے نام جو ہم کہیں گے وہی درست ہے. تب وزیر اعظم بھی چپ تھے. ان کے وزیر کھلے عام ہوا بنا رہے تھے. كتركوں کا جنجال رچ کر مقتول ہی پر ایف آئی آر لکھوا رہے تھے.

اب کم از کم کوئی گئو رکشک سامنے آئے گا تو یہ تو پوچھنے کو ملے گا کہ کہیں یہ اسی فیصد والا گئو رکشک تو نہیں ہے. ایک دن آئے گا جب وزیر اعظم انٹرنیٹ پر گالی دینے والوں کی جماعت کی بھی مذمت کریں گے. انہیں جمہوریت کا کریمنل کہیں گے. آج بھلے ہی وہ وزیر دفاع کے بیان پر خاموش ہیں، مگر ایک دن وہ آن لائن غندہ گردی کو بھی خارج کرنے پر مجبور ہوں گے. وہ دن سب کے لئے اچھا ہو جائے گا. سب سے اچھا انہیں کے لئے ہوگا۔ كسی نے غور نہیں کیا. جو چینل ایسے کباڑ مسائل پر ٹی آر پی کے لئے پروپیگنڈا پھیلا کر حکومت کے تئیں اخلاص ظاہر کر رہے تھے، ان کا بھی مذاق وزیر اعظم اڑانے لگے ہیں. کچھ چینل بھی گئو رکشک کے کردار میں آ ہی گئے تھے.

دراصل گائے کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ تھا جس کے دم پر سبھی کو لگ رہا تھا کہ گائے کا نام لیتے ہی کوئی کچھ نہیں بولے گا. یہ کوئی کل ہند متفقہ عقیدہ ہے. شکریہ گجرات کے عام دلتوں کا جنہوں نے مری ہوئی گائے پھینک کر بتا دیا کہ جن کی ماں ہے وہی کفن دفن کریں. اس ایک قدم نے تمام بحثوں اور مثالوں کو پیچھے چھوڑ دیا. جس طرح گائے کے نام پر چار نوجوانوں کو مارا گیا وہ اس سیاسی خاموشی کی بلندی تھی جسے ایک نظریہ کے لوگ شہ دے رہے تھے. وزیر اعظم کے مطابق اگر ان کا دستاویز بنے تو پتہ چلے گا کہ کون سنگھ پریوار سے ہے اور کون دوسرے خاندان سے ہے. پتہ چل ہی جانا چاہئے. طرح طرح کی جاگرن اور منچ نام سے بنے ان تنظیموں کی دکان کا لائسنس نمبر اب واقعی ملک کے سامنے رکھ دینے کا وقت آ گیا ہے.

وزیر اعظم کا بیان خوش آئند ہے. انہوں نے جس طرح سے 80 فیصد گئو رکشک کو سماج دشمن عناصر قرار دے کر ان کی مذہبی اور غیر اعلانیہ سرکاری منظوری ختم کی ہے وہ خوش آئند ہی ہے. ہم سب انتظار کر سکتے ہیں کہ ان کے اس بیان کو سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت یا دوسری بڑی تنظیمیں کس طرح سے قبول کرتے ہیں جن کے نام جاگرن یا منچ سے ختم ہوتے ہیں. دو سال سے یہ سماج دشمن عناصر نظریے کے نام پر رعایت پاتے رہے ہیں. چند ماہ پہلے پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ نے بھی سخت تبصرہ کیا تھا کہ گئو رکشا کے نام پر غنڈوں کو شہ مل رہی ہے. ایسے لوگوں کی رسائی اور دخل اندازی حکومت اور پولیس تک میں ہو گئی ہے. تمام لوگ تنقید کر رہے تھے مگر حکومتی سربراہان کی جانب سے چپی سادھ لی گئی. یہ چپی نہیں ٹوٹتی اگر گجرات کے دلتوں نے رد عمل کا بے مثال راستہ نہ اختیار کیا ہوتا.

سیاسی طور پر بھی بی جے پی اور سنگھ پریوار گئو رکشا کے نام پر تشدد کو شہ دے رہے تھے. انہیں لگا کہ یہ ناقابل تسخیر ہتھیار ہے يہاں تک وہ اپنے اندر سے آ رہی آواز کو بھی ان سنا کر رہے تھے. مہاراشٹر بی جے پی کے رکن اسمبلی نے سب سے پہلے گئو رکشا کے نام پر بنے قانون کے اثر کے خلاف آواز اٹھائی. انتخابات کے دوران کیرالہ بی جے پی کے صدر وی مرلی دھرن نے کہا کہ کیرالہ میں گائے کے گوشت کے خلاف مہم چلانے کا کوئی پلان نہیں ہے. وہ گائے کا گوشت کھانے کی مخالفت نہیں کریں گے.

ظاہر ہے جہاں لگا کہ گائے کے نام پر ووٹ نہیں ملے گا وہاں گائے کے گوشت کا مسئلہ ندارد، جہاں لگا کہ ووٹ مل سکتا ہے تو وہاں خوب اٹھا لیکن وہاں بھی ووٹ نہیں ملا. بہار اسمبلی کا الیکشن تو لگ رہا تھا کہ گائے کے نام پر ہی ہو رہا تھا. یہاں تک کہ بی جے پی نے اپنے سیاسی اشتہارات میں گائے کی تصویر چھپوائی. حالیہ دہائیوں میں بہار کا الیکشن پہلا انتخاب تھا کہ جو بنیادی طور پر گائے پر ہوا اور وہاں گائے ہار گئی. وہیں سے گائے کی سیاسی اہمیت کمزور پڑتی چلی گئی. الیکشن جیتنے کے لیے بی جے پی نے اس آسام کے سیاسی اشتہارات میں گائے کی تصویر نہیں شائع کی، جہاں لوگ زیادہ گائے کا گوشت کھاتے ہیں. بی جے پی نے مدعی چھوڑ دیا مگر اس کی حکومتوں کے نام پر گئو رکشکوں کا فساد کم نہیں ہوا. جہاں بھی گئو رکشا کے نام پر لوگوں کو پکڑ کر مارا گیا، انہیں گوبر تک کھلایا گیا، کسی وزیر اعلی نے نہیں کہا کہ یہ غیر انسانی ہے، اب سے ایسا ہوگا تو سیدھا جیل بھیجیں گے. یہاں تک کہ آندھرا پردیش کے بی جے پی ممبر اسمبلی نے گئو رکشا کے نام پر گجرات کے دلت نوجوانوں کی پٹائی کو جائز ٹھہرایا.

gaye1

وزیر اعظم کو ان سب باتوں سے غصہ آ رہا تھا تو انہیں بتانا چاہئے کہ آندھرا پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی کے بارے میں انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے. کیا انہیں اس وقت بھی غصہ آیا تھا جب بہار انتخابات میں بی جے پی کی طرف سے اشتہارات چھاپے گئے، جس میں لکھا تھا کہ وزیر اعلی جی آپ کے ساتھی ہر ہندوستانی کی معبود گائے کی توہین بار بار کرتے رہے اور آپ خاموش رہے۔ كيا گائے کا گوشت کھانے اور گئو رکشا کو سیاسی مسئلہ بنانے کی کوششوں پر بھی غصہ آیا؟ کیا انہیں راجستھان میں 500 گایوں کے بھوک سے مر جانے پر بھی غصہ آیا؟ کیا انہیں گجرات کے چار دلتوں کی پٹائی پر بھی غصہ آیا؟

ہم نہیں جانتے کس بات پر غصہ آیا، کس بات پر نہیں، لیکن یہ بہت بڑی بات ہے کہ وزیر اعظم مودی نے اس کے نام پر پھیل رہی دہشت گردی سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے. یہ اسی طرح کا جرات مندانہ بیان ہے جیسا شیو پال سنگھ یادو کا ہے، جنہیں معلوم ہے کہ کس کس کارکن نے زمین قبضہ کیا ہے. وزیر اعظم نے ٹھیک ہی کہا کہ گایوں کی موت پلاسٹک کھانے سے ہو رہی ہے. ان کی اس بات سے گئو رکشا تنازع کی توجہ منتقل ہو جانی چاہئے. تمام میونسپل بورڈوں اور ترقی اتھارٹیوں کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے کہ گایوں کو پلاسٹک کھانے کی نوبت نہ آئے، انہیں سبز گھاس ملے اس لئے چراگاہ کا انتظام کرایا جائے اور یہ صفائی صرف بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں نہ ہو بلکہ ہر ریاست میں ہو. گائے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے. ورنہ راجستھان میگزین کی یہ خبر گائے کے نام پر ہونے والی دوسرے درجے کی ٹھگ سیاست کا چہرہ سامنے لا دیتی ہے .27 ہزار گایوں کی موت! اے گئو رکشک، آپ ہائی وے پر وصولی میں ہی لگے رہے اور یہاں یہ سب ہو گیا!

gaaye

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close