آج کا کالم

پی این بی گھوٹالے کو ڈھکنے کی کوشش

سدھیر جین

کیا اس سے بینکوں کی حالت حد سے زیادہ نازک ہونے کا اعلان مانا جائے؟ پیر کو روی شنکر پرساد کی پریس کانفرنس سے لگا تو ایسا ہی. اگرچہ ان کے اپنے وزارت کا اس سے  زیادہ لینا دینا نہیں ہے لیکن ان کی سرکاری حیثیت حکومت کے ترجمان سے کم نہیں ہے. غور کرنے کی بات ہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے کچھ نہیں کہا گیا ہے سو حکومت کے پاس یہ گنجائش باقی ہے کہ وہ کل کے دن یہ بھی کہہ دے کہ ہمارا بینکاری نظام اب بھی مضبوط ہے اور ملک کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے. لیکن اتنا طے ہے کہ پرساد کی اس پریس کانفرنس میں سب سے زناٹے دار یہی بات تھی کہ بینکاری نظام تار تار ہو چکا ہے، منہدم ہو چکا ہے.

مقصد پي  این بی گھوٹالے سے بچاؤ کا تھا

دراصل بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن ہی پي  این بی گھوٹالے کو لے کر پارلیمنٹ نہیں چل پائی. بار بار ہنگامہ ہوتا رہا. ایوان کی کارروائی بار بار ٹلتي رہی. آخر میں اسے اگلے دن تک کے لئے ملتوی کرنا پڑا. جب پارلیمنٹ میں بات ہی شروع نہیں ہوئی تو اپوزیشن پي  این بی پر نہیں بول پایا اور نہ ہی حکومت کی طرف سے جواب کا موقع بنا. لیکن حکمراں پارٹی یعنی بی جے پی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر یعنی پریس کانفرنس کرکے اپنی بات کہہ لی گئی. ترجمان نے پرانی باتیں ہی دوهرائیں لیکن ایسے تیور میں دوهرائیں جیسے بڑی سنسنی خیز باتیں بتا رہے ہوں. لیکن لگتا ہے میڈیا کو ان کی باتوں کو آگے بڑھانے کے قابل کوئی خاص نکتہ ملا نہیں. پھر بھی اس پریس كانفرنس کے مقصد پر غور کرتے ہوئے ایک خاص بات دیکھی جا سکتی ہے. مثلا بینکوں کی حالت حد سے زیادہ نازک ہونے کا قبول نامہ حکومت کی طرف سے پہلی بار آیا ہے. جبکہ میڈیا کو لگتا تھا کہ اس پریس کانفرنس میں بی جے پی، پي  این بی گھوٹالے پر اپنی طرف سے کوئی بھی نہیں بات کہے گی. یعنی اس گھوٹالے پر اپنے دفاع میں کوئی نیا منطق لے کر آئے گی. لیکن ایک اچھی خاصی طویل پریس کانفرنس میں پي  این بی گھوٹالے کے بارے میں سب سے کم اور بینکوں کی پشتینی بدحالی، کانگریس کی کمزوریوں، یو پی اے حکومت کے وقت ہوئیں گڑبڑیوں، آدھار پر اپوزیشن کا موقف، كارتي چدمبرم کا گھپلا، تریپورہ میں اپنی جیت کو ملک کے عوام کی حمایت ماننے جیسی باتیں زیادہ کی گئیں.

گھوٹالے کو پشتینی ثابت کرنے کے لئے

ذرا غور کریں تو حکومت کی طرف سے غیر رسمی کوشش یہ ہے کہ کیسے بھی ہو کسی طرح پي  این بی گھوٹالے کی جڑیں پرانی یو پی اے حکومت میں دکھا دی جائیں. فی الحال پي  این بی گھوٹالے کے تار سیدھے سیدھے پانچ سات سال پہلے کھینچنے میں دقت آرہی ہے لہذا اب بات کو اس طرح سے رکھنے کی کوشش لگتی ہے کہ بینکوں کی حالت پتلی ہونے کی وجہ یو پی اے حکومت تھی. لیکن مصیبت یہ ہے کہ پي  این بی گھوٹالہ بالکل مختلف چیز ہے جو جعلسازی کا معاملہ ہے. جبکہ بینکوں کے قرض واپس نہ آنے کا مسئلہ یعنی این پی اے کا معاملہ بالکل ہی الگ بات ہے. اگرچہ ترازو پر رکھ کر تولے تو این پی اے بے شک کئی گنا وزن کا مسئلہ ثابت ہو سکتی ہے. اسی لیے ہو سکتا ہے کہ پریس کانفرنس میں پي  این بی گھوٹالے کو چھوٹا کرکے پیچھے سركانے کے لئے این پی اے کو سنسنی خیز طریقے سے آگے لگایا گیا ہو. یہ طریقہ پي  این بی سے پیچھا چھڑانے کے لئے فوری طور پر تو حکومت کے کام کا ہو سکتا ہے. لیکن جب این پی اے کی جڑوں اور تنوں کی بات ہوگی تو موجودہ حکومت کو نئے سرے سے اپنے دفاع میں لگنا پڑ سکتا ہے. کیونکہ قرض پر سود اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا جتنا بڑا سود پر سود بڑھنے سے بنتا ہے. گزشتہ چار سال میں یہ سود پر سود لگ کر قرض کی چھوٹی رقم کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہوگی؟ اور ایسا بھی نہیں ہے کہ اس کا پتہ اب چلا ہو. موجودہ حکومت کے آنے کے سال بھر بعد بینکوں کے ڈوبتے قرض کی باتیں ہونے لگی تھیں. خود حکومت کے سب سے اوپر سے حکومت کو سمجھائش دی جانے لگی تھی. یعنی این پی اے اسکینڈل سے بچاؤ کے لئے موجودہ حکومت کو اتنی ہی دقت پیش آئے گی جتنی پي  این بی  گھوٹالے میں آ رہی ہے.

این پی اے اور بھی بڑا سانحہ

پي  این بی گھوٹالہ اب بارہ پندرہ ہزار کروڑ تک پہنچ گیا ہے. اس  کے اجاگر ہونے سے دوسرے گھپلے اور گھوٹالوں کا پتہ چل رہا ہے اس سے نقصان کے اعداد و شمار پچاس ہزار کروڑ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے. یقینا یہ رقم بہت بڑی ہے. خاص طور پر دو تین سال سے نازک ہوتی جا رہی بینکو کی حالت کے مدنظر بہت بڑی ہے. اوپر سے پي  این بی اسکینڈل نے اچانک خطرے کا سائرن سا بجا دیا ہے. اسی لیے پي  این بی گھوٹالے کے علاوہ بھی بینکوں کی مردہ حالت ایک بہت بڑا خطرہ ثابت ہو رہی ہے. اب اس خطرے کی شدت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ تو نہیں ہے پھر بھی موٹا موٹی اندازہ ہے کہ بینکوں کی آٹھ سے دس لاکھ کروڑ کی رقم قرض دارو کے پاس پھنستی جا رہی ہے یا یوں کہیں کہ پھنس ہی گئی ہے. اس طرح اس وقت بھی حساب لگانا شروع کر دینا چاہئے کہ این پی اے سے نمٹنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے.

قرض وصولنا اتنا مشکل نہیں ہے

قرض دیتے وقت اس کی واپسی کے بہت سے انتظام کر کے رکھے جاتے ہیں. ضمانت امانت کے بہت سے انتظامات کئے جاتے ہیں کہ مقروض آسانی سے بھاگ نہیں سکتا. اگرچہ اس معاملے میں بھی کچھ گڑبڑیوں کی گنجائش ہوتی ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی پورا فرضی واڑا  کرکے ہی بینکوں سے قرض لے لے. کچھ رعایت الگ بات ہے. یعنی قرض کے بہت بڑے حصے کی وصولی کی گنجائش ہمیشہ برقرار رہتی ہے، جو بے شک اب بھی ہو گی. بس دقت یہ ہے کہ ملک میں پیدآوری اور تجارت بڑھانے کا بندوبست ہی ہم نے لوگوں کو بینک سے قرضے دلانے کی بنا رکھی ہے. لہذا اگر قرض وصولی پر لگتے ہیں تو کام دھندے چوپٹ ہونے کا خطرہ ہے. اور بہت ممکن ہے کہ کسی بھی طرح سے كام دنھدھے چلائے رکھنے کے اسی سرکاری لالچ کی وجہ سے قرض کی وصولی کے سخت اقدامات سے گریز کیا جاتا رہا ہو. یہ پرہیز ایک حد تک تو برداشت کیا جا سکتا ہے لیکن جب مکمل بینکاری نظام ہی بیٹھ جانے کی صورت بن رہی ہو تو سختی کے علاوہ چارہ ہی کیا بچتا ہے. ہو سکتا ہے کہ موجودہ حکومت خود کو اب این پی اے کے چکر میں بری طرح پھنسا پا رہی ہو اور سیاسی وجوہات کی بنا پر کہہ بھی نہیں پا رہی ہو. لہذا پي  این بی  گھوٹالے کے بہانے پیر کو کی گئی پرساد کی پریس کانفرنس ایک طرح سے ملک کے این پی اے میں پھنسے ہونے کا اعلان سمجھا جا سکتا ہے. اعلان میں چالاکی یہ ہے کہ پي  این بی گھوٹالے کی بحث بند کرائی جائے اور این پی اے کی جڑیں پرانی حکومت میں دکھا کر مسئلے کو تبدیل کر دیا جائے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سدھیر جین

سدھیر جین معروف سینیئر صحافی ہیں اور انڈین ایکسپریس گروپ- جن ستا کے چیف سب ایڈیٹر رہ چکے ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close