آج کا کالم

چوتھی برسی: مہنگائی میں آٹا گیلا

افسوس کہ یہ  آسان اور سہل بات اس ملک کے رائے دہندگان کے سمجھ میں اب بھی نہیں آرہی ہے۔  

ڈاکٹر سلیم خان

خوابوں کے سہارے عالم وجود میں آنے والی مودی حکومت کے چار برسعالم خواب میں بیت گئے۔ اس خواب کی تعبیر دیکھنے کی سکت  اب کسی میں نہیں ہے اس لیےسارے بھکت آنکھیں موندے چلے جارہے ہیں کوئی  بیدار ہونا نہیں چاہتا۔ اپنے بھکتوں اور عوام  الناس کو افیون پلانے کی  حکمت عملی وضع کرنے کے لیےامیت شاہکی صدارت  میںبھارتیہ جنتا پارٹی کےاعلی رہنما مثلاًریاستی صدور، مرکزی عہدیداران اور مختلف  محاذوں کام کرنے والےذمہ داران سرجوڑ کر بیٹھےاور  اپنے اپنے شعبے کے تحت کیے جانے والے کاموں کا احتساب و جائزہ پیش کیا۔ اس  مشق میں جب کوئی ایسی بات نکل کر نہیں آئی کہ جس سے عوام کو ورغلایا جاسکے تو فیصلہ کیا گیا کہ نریندر مودی کی قیادت میں چار برس مکمل ہونے پر ۴۸ سال بمقابلہ ۴۸ ماہ کا نعرہ  لگا کر لوگوں کو گمراہ کیا جائے۔ یعنی وہی پرانا راگ الاپا جائے  کہ  گزشتہ ۴۸  سالوں میں نہرو پریوار نے ملک کو برباد کیا اور ۴۸  مہینوں  میں سنگھ پریوارنے سنوار دیا۔ سرکار کی چار سالہ کارکردگی سے رائے دہندگان کو روشناس کرانے کی مہم چلائی  جائے۔ یہ نہایت مضحکہ خیز فیصلہ ہے اس لیے کہ   اگر حکومت نے عوام کی فلاح و بہبود کا کوئی ٹھوس کام کیا ہوتا تو وہ کام  خود بولتا کسی ڈھنڈورچی  کے ڈھنڈورا پیٹنے کی ضرورت   نہیں پیش آتی ؟

 کانگریس چونکہ حزب اختلاف ہے اس لیے اس نے گزشتہ چار سال میں مختلف محاذوں پر مودی حکومت کی مبینہ ناکامیوں سے عوام کو واقف کرانے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ۲۶  مئی کو ’دغابازی کے دن ‘ کے طور پر منانے کا فیصلہ کردیا۔مودی حکومت کے چار سال کی تکمیل پر  اسے بے نقاب کرنے کے لیےملک کے ہر ضلع میں احتجاجی پروگرام منظم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔ کانگریس کا دعویٰ  ہے کہ یہ فسطائی اور بدعنوان  حکومت ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا چکی ہے۔ وہ عوام کو ۲۰۱۴ ؁ کی انتخابی مہم  کے  دوران کیے گئے وعدوں کی یاددلاتے ہوئے  اعتماد شکنی کا الزام لگا رہی ہے۔ راجیو گاندھی کے بعد  پہلی بار مودی جی کو لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل ہوئی تھی اس کے لیے عوام نے بڑی  امیدیں وابستہ کرلی تھیں لیکن  گذشتہ چار سالوں کے اندر عوام کی توقعات پر پانی پھر گیا۔ اب تو لوگ  اچھے دنوں کا خیال سے کانپنے لگے ہیں اور ’کوئی لوٹا دے میرے  بیتےہوئے دن گنگناتے نظر آتے ہیں‘۔

حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی چپقلش سے قطع نظر مرکزی حکومت کی  مایوس کنکارکردگی  پر بی جے پی کے سرکردہ رہنما وں  کا اعتراف بہت اہم ہے۔ سابق وزیر خزانہ اور دفاع یشونت سنہا یہ کہہ کر استعفیٰ دے چکے ہیں کہ موجودہ بی جے پی  واجپائی اور اڈوانی والی پارٹی نہیں رہی لیکن ایک سابق صدر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے بھی اسی طرح تنقید کرکے شاہ جی  کی پول کھول دی۔ جوشی جی بی جے پی کے’مارگ دَرشک منڈل‘ کے رکن  ہیں۔پروفیسر صاحب سے جب مودی حکومت کے چار سالہ کارگزاری پر نمبر دینے کے لیے کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ’’خالی کاپی پر کیا نمبر دوں۔ نمبر تو اس پر دیا جاتا ہے جس پر کچھ لکھا ہو‘‘۔جوشی نے مودی حکومت کو ’زیرو‘ نمبر والی حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کوئی ایسا قابل ذکر اور مثبت کام نہیں کیا جس کے لیے اسے نمبر دیا جا سکے۔ ان کے مطابق غریب آدمی کے لیے چلائے جانے والے  منصوبے کی معلومات سے وہ نابلد ہیں۔ جوشی جی کے بیان کو دیوانے کی بڑ قرار دے کر نظر انداز کردینا بی جے پی کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔

انا ہزارے کی تحریک کے پس منظر میں مودی جی کا نعرہ ’نہ کھاوں گا نہ کھانے دوں گا‘  ضرب المثل بن گیا تھا  لیکن چار سال کے بعد ایک غیر سرکاری ادارے ’سی ایم ایس ‘ نے ’سی ایم ایس انڈیا کرپشن اسٹڈی۲۰۱۸ ‘ کے نام  سے اپنی  رپورٹ  جاری کی جس کا خلاصہ یہ ہے  کہ سال ۲۰۱۸کے دوران ایسےلوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جنہیں مودی کے بدعنوانی کو ختم کرنے کے عزم پر یقین نہیں ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے، ’’ہندوستان کے ۳۸ فیصد لوگ  محسوس کرتے ہیں کہ بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے، وہیں۳۷فیصد کا خیال ہے کہ عوامی خدمات حاصل کرنے میں ہونے والی بدعنوانی کی سطح وہی ہے جو پہلے تھی ‘‘۔ ان دونوں کو جوڑ دیا جائے تو تعداد ۷۵ فیصد ہوجاتی ہے۔ اس تحقیق میں ملک کی۱۳ ریاستوں (بی جے پی کی حکومت والی۶ ریاستوں سمیت) اور ۱۱ عوامی خدمات کو شامل کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ  ۲۰۱۷  میں جہاں ۴۱ فیصد لوگ  مودی جی کی سنجیدگی سے پر امید تھے وہیں ۲۰۱۸ میں وہ ۳۱ فیصد رہ گئے ہیں یعنی ۱۰ فیصد لوگوں کی خوش فہمی دور ہوچکی ہے۔ ویسے بدعنوانی چونکہ عام ہندوستانی کے ڈی این اے میں شامل ہوگئی ہے اس لیے کوئی بعید نہیں  کہ وہ  اس  مایوسی کے باوجود وہ کمل پر نشان لگا کر انہیں  کامیاب بنائیں۔

اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ صوبے جہاں بی جے پی برسرِ اقتدار ہے عوامی مایوسی بامِ عروج پر ہے مثلاّ ۵۲ فیصد کے ساتھ مہاراشٹر، ۵۰ فیصد کے ساتھ مدھیہ پردیش اور ۴۹ فیصد کے ساتھ آدرش گجرات کا نمبر آتا ہے۔غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں سے آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے بالترتیب۶۷ فیصد اور ۵۲ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت بدعنوانی کو ختم کرنے کے تئیں بالکل بھی سنجیدہ نہیں ہے۔بہار میںبدعنوانی کو جڑ سے مٹا دینے کا وعدہ کرکے بی جے پی نے جے ڈییوکے ساتھ حکومت سازی کی تھی وہاں بھی صرف  ۵۰ فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ مودی حکومت بدعنوانی کو ختم کرنے کے معاملے میں  سنجیدہ ہے۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سروے میں شامل ۷ فیصد لوگوں کو آدھار کارڈ حاصل کرنے کے لئےاور ۳  فیصد کو ووٹر آئی ڈیبنوانے کے لئے بھی  رشوت دینی پڑی۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ  ’مجھے وزیراعظم نہیں چوکیدار  بنادو ‘ کا نعرہ لگانے والا پہرے دار فی الحال سورہا ہے۔ ’میرا کیا ہے میں جھولا اٹھاوں  گااور چل دوں گا‘  پر عملدرآمد کا وقت قریب آگیا ہے۔

بدعنوانی کے محاذ پر مودی جی کی ناکامی کو بین الاقوامی سطح پر محسوس کیا جارہا ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹر سروسز نے نیرو مودی گھوٹالے کی وجہ سے پنجاب نیشنل بینک (پی این بی) کی پونجی پر منفی اثر کا حوالہ دیتے ہوئے بینک کی ریٹنگ گھٹا دی ہے۔ اس سال فروری میں پنجاب نیشنل بینک نے اعلان کیا تھا کہ اس نے ۱۱۳۹۰ کروڑ روپے کی دھوکہ دھڑی والے اور غیر قانونی لین دین پکڑے ہیں۔ بعد میں اس گھوٹالے کی رقم بڑھ‌کر ۱۴۴۰۰ کروڑ روپے پر پہنچ گئی۔موڈیز کا خیال ہے کہ بینک اپنی غیر اہم جائیدادوں کی فروخت اور پی این بی ہاؤسنگ فائننس میں جزوی حصےداری کے  فروختکے باوجود سرمایہ کاری کی  پہلے والی سطح پر نہیں پہنچ پائے‌گی۔ یہ کوئی استثنائی صورتحال نہیں ہے کہ جس سے بہ آسانی نمٹا جاسکے۔ مودی کی قیادت میں بنک کا نظام چرمرا رہا ہے۔ جنوری تا مارچ ۲۰۱۸؁ کی تہائی میں سب سے زیادہ ۲۱۸۹ کروڈ کا خسارہ بتایا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی کے منافع میں ۵۰ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے اور فیڈرل بنک کا منافع ۴۴ فیصد گھٹا ہے۔ کسی وکیل کو وزیر خزانہ بنانے کا نتیجہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

یہ نہایت تلخ حقیقت ہے گزشتہ پانچ سالوں میں نجی بنکوں کے اندر واپس نہ آنے والے قرضہ جات کی مقدار میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۱۴ اپریل میں ایسے قرضے ۱۹۸۰۰ کروڈ تھے۔ لیکن ۲۰۱۸ اپریل کے آتے آتے یہ رقم ۱۰۹۰۷۶ پر پہنچ گئی۔ یہ ۵۵۰ فیصد کا اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سرمایہ داروں کے دل سے بنک کی رقم کھا کر دیوالیہ ہوجانے کا خوف نکل گیا ہے۔ وہ بے دریغ  عوام کا روپیہ نگلنے لگے ہیں۔ رپورٹ میںاعتراف کیا گیا ہے کہ حکومت نے ۲۱ سرکاری بینکوں میں۶۵۰۰۰ کروڑ روپے کی پونجی ڈالنے کا بجٹ رکھا ہے لیکن اس سے صرف ۶۰ فیصد خسارے کی بھرپائی ممکن ہوسکے گی باقی ۴۰ فیصد کا کیا ہواگاَ اس سوال کا جواب نداردہے۔ ان اعدادو شمار  کا  ایک مطلب یہ بھی  ہے  کہ عوام کے  ٹیکس سے جمع شدہ رقم  کا ایک بڑا حصہ ان کے فلاح بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے بڑے  سرمایہ داروں کے ذریعہ لوٹ کی بھرپائی پر کھپ جائے گا۔

مودی جی کا ایک نعرہ یہ بھی تھا کہ  ’بہت ہوئی مہنگائی کی مار، اب کی بار مودی سرکار‘۔ انہیں شکایت تھی کہ پٹرول کے دام ایک ماہ میں تین بار کیوں بڑھائے گئے لیکن اب چار سال بعد ایندھن کے دام مہینے میں ۳۰ بار بڑھائے جاتے ہیں  یعنی جو کڑوی گولی  کبھی کبھار مہینے میں تین بار کھانی پڑتی تھی وہ اب ہرروز  زہر مار کرنی پڑتی ہے۔ ایندھن  کی قیمت پانچ سالوں  میں سب سے اونچی سطح تک پہنچ گئی ہےجو پاکستان کے ۵۱ روپئےاور ہندوستان سےخرید  کر بیچنے والا بھوٹان کے ۵۷ روپئے فی لیٹر سے بھی زیادہ ہے۔ عالمی بازار میں جب خام تیل کا بھاو گھٹ گیا تھا  تو اس کا فائدہ حکومت عوام تک نہیں پہنچایا گیا بلکہ  ایندھن پر ٹیکسلگا کرتقریباً دس لاکھ کروڑ روپے سرکاری خزانے میں جمع کیے گئے۔ فی الحال عوام جس پٹرول کی قیمت ۷۵ تا ۸۵ کے درمیان ادا کرتے ہیں اس کی لاگت صرف ۳۹  تا ۴۰روپئے ہے باقی رقم  مرکزی، صوبائی حکومتوں اور بیوپاریوں کی جیب میں چلی  جاتی ہے۔ دہلی کی مثال لیں تو ۱۱ روپے  ویٹ کے طور پر دہلی حکوت کے پاس چلے جاتے ہیں۔ نیز ۲۳ روپئے  ایکسائزڈیوٹی  مرکزی حکومت کے خزانے میں چلا جاتا ہے۔ اس طرح ۴۰ روپئے کی مرغی پر ۴۴ روپئے کا مصالحہ بلکہ چونا لگا دیا جاتا ہے۔

مودی حکومت نے پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی میں۴ سالوں کے اندر۲۱۱ فیصد اور ڈیزل میں۴۴۳ فیصد کا اضافہ کیا ہے۔ مئی۲۰۱۴میں پٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی۹ روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر ۳روپے فی لیٹر تھی جو اب بالترتیب۱۹ روپے اور ۱۵ روپے فی لیٹرہو گئی ہے۔عالمی بازار میں تیل کی قیمتوں کے گرنے پر خاموشی  سے ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے والی سرکار اب قیمتوں کے بڑھنے پر ایکسائز کم کرنے سے آنا کانی کررہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ کا سارا بوجھ صارفین پر ڈال دینا زیادتی ہےلیکن چونکہ حکومت اس کا اندازہ ہی نہیں کیا تھا اس لیے اگر حکومت ایکسائز ڈیوٹی کم کرتی ہے تو اس کے سبب  قومی خزانے کے خسارے پر  قابو پانا اس کے لیے مشکل ہوجائے گا۔ اس میں شک نہیں کہ ۲۰۱۹  میں یہ لوگ خالی خزانہ چھوڑ  کر بھاگیں گے۔

مودی جی نے جب اقتدار سنبھالا  تھا تو عالمی بازار میں تیل کے دام گھٹے تھے۔ اس وقت مودی جی نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ یہ میری خوش قسمتی کے سبب ہوا ہے۔ اب یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ عین انتخاب کے سال میں تیل کی قیمتوں کے اندر اضافہ شروع ہوگیا۔ اسے کہتے ہیں مہنگائی میں آٹا گیلا۔   مودی جی  نےاگر اپنی خوش قسمتی میں عوام کو شریک کیا ہوتا تو آج لوگ ان کی بدقسمتی میں شریک ہوتے۔ مندی میں  اگر اکسائز ڈیوٹی بڑھا کر عوام کو نہیں لوٹا جاتاتو  تیزی کے دنوں میں عوام اضافی بوجھ برداشت کرنے کے لیے تیار ہوجاتے لیکن مودی سرکار کی ابن الوقتی اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی۔ سرکار نے یہ  خیال تک  نہیں کیا کہ  اگر کل کو تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں اوراضافی  اکسائز ڈیوٹی     میں کٹوتی کرنی پڑے تو اس کا کیا بنے گا؟ اب اگر عوام کو راحت دینے کے لیے ٹیکس گھٹایاجائے تو بجٹ کا خسارہ بڑھتا ہے ایندھن  کا بھاو بازار  بھروسے چھوڑ دیا جائے تو عوام انتخاب میں اس سرکار کو رام بھروسے تیاگ دے گی۔ تیل کے بازار کی یہ تیزی اگر ۲۰۱۹ انتخاب کے بعد آتی  تو ممکن ہےمودی جی کی  نیاّ کسی طرح  پار لگ  جاتی  لیکن اب بہت مشکل  ہے۔

کرناٹک انتخابات سے قبل تقریباً ۳ ہفتہ تک ایندھن  کی قیمتوں کو حکومت کی ہدایت پر مستحکم رکھا گیا۔ اس دوران عالمی بازار میں  خام تیل کی قیمتوں میںاضافہ اور ڈالر کے مقابلہ روپیہ کمزور ی کے سبب تیل کمپنوں کو تقریباً۵۰۰ کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔اب یہکمپنیاں اپنا خسارہ پورا کرنے کے لیے تیزی سے دام بڑھا رہی ہیں۔ عالمی بازار میں تیل  کی قیمت اور ڈالر کی شرح  حکومت  کے اختیار میں نہیں  ہے۔ ٹیکس  کی کمی کا خسارہ پورا کرنے کی ترکیب سجھائی نہیں دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ بیمار ہیں وزیراعظم  کو انتخابی تماشوں سے فرصت نہیں ہے اور اس معاشی معمہ  کو سلجھانا ان کے بس میں  بھی نہیں ہے۔ اب مودی جی کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ خواب دکھانے اور انہیں شرمندۂ تعبیر کرنے میں کتنا  بڑافرق ہے ؟ بیٹی بچاو بیٹی پڑھاو کا نعرہ لگانا کس قدر آسان ہے اور بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنا کتنا مشکل ہے؟ افسوس کہ یہ  آسان اور سہل بات اس ملک کے رائے دہندگان کے سمجھ میں اب بھی نہیں آرہی ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close