آج کا کالم

چچا چھپن کی پریس کانفرنس

ڈاکٹر سلیم خان

اردو کے مایہ ناز ادیب امتیاز علی تاج کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انہوں عالمی ادب کو  دو لافانی کرداروں سے  نوازہ ہے۔ اول تو انارکلی کا خیالی کردار کہ جس نے نورجہاں کی حقیقی شخصیت کو معدوم کردیا  جیسے آج کل جعلی چوکیدار نے اصلی چوکیدار کو بھلا دیا۔ چچا چھکن تاج کا  دوسراعظیم کردار ہے۔ جس کسی  نے اسےپڑھا ہے اس کے لیے مشکل ہے کہ وہ  اسے دماغی  اختراع سمجھے۔ معاشرے میں یہ کردار بارہا  چلتا پھرتا نظر آجاتا ہے۔ نہایت کامیاب ڈرامہ نگاری  اور انشاء پرداز ی  کے علاوہ انہوں نے   تراجم کیے، گاندھی جی سوانح حیات  تحریر کی جس کا دیباچہ پنڈت نہرو نے لکھا، ساتھ ہی بڑے  موثر انداز میں  صحافتی ذمہ داری  بھی ادا کی۔ تاج صاحب کا ۱۹۷۰ میں انتقال ہوگیا  لیکن اگر وہ حیات ہوتے تو بہت ممکن ہے کہ  ان کی تازہ   مزاحیہ  تحریر کا عنوان ’ بھتیجے مکھن  کی پریس کانفرنس  میں چچا چھپن ‘ ہوتا۔ اس عنوان کو پڑھنے کے بعد ہر خاص و عام سمجھ سکتا کہ یہاں  کس پریس کانفرنس کا ذکر ہورہا ہے۔

 منموہن سنگھ کے ساتھ اگر یہ سانحہ وقوع  پذیر   ہواہوتا اور وہ پریس کانفرنس میں سوالات  کا جواب دینے کے بجائے کہہ دیتے کہ ’میں پارٹی کا منظم خادم ہوں۔ ہمارے لیے پارٹی  کےصدر ہی سب کچھ ہیں‘ تو بی جے پی کے لوگ آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ ساری دنیا میں قوم  کی بدنامی کا شور مچاتے۔ منموہن سنگھ کو کٹھ پتلی وزیراعظم اور سونیا گاندھی کو ریموٹ کنٹرول قرار دیتے  لیکن ہائے شومئی قسمت کہ  یہ کارنامہ ۵۶ انچ کی چھاتی والے سمراٹ مودی نے انجام دیا۔ معروف صحافی اور  جدید   بھکت شیکھر گپتا پر   اس پریس  کانفرنس کے بعد انکشاف ہوا    کہ کامراج کے بعد امیت شاہ سب سے زیادہ طاقتور پارٹی صدر ہیں۔ انہیں  اگریہ بھی معلوم ہوجاتا کہ گلزاری لال نندہ سے بھی کمزور وزیراعظم نریندر مودی ہیں تو بہتر ہوتا۔

مثل مشہور ہے ’جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے‘ اب اس میں ترمیم ہو چکی  ہے ’جب مودی کی شامت آتی ہے تو پریس کانفرنس کی جانب  دوڑتے ہیں ‘۔ سار ی دنیا اس  سوال کا جواب ڈھونڈ رہی ہے کہ پانچ سال  کے  صبروضبط  کے بعد آخر وزیر اعظم  کا پیمانہ صبر  اچانک کیوں کر چھلک گیا؟  وزیراعظم  نے اس سوال کا جواب اگر   اپنی  ابتدائی تقریر میں  دے دیاہوتا تو کم ازکم قیاس آرائیوں کا   باب نہ کھلتا اور ایک سوال کے کئی جوابات عالم وجود میں نہیں آتے     لیکن انہوں نے خود اس بات کا موقع فراہم کردیا۔  ایک جواب تو یہ ہے کہ جو شیکھر گپتا نے دیا کہ  وہ ان کی نہیں بلکہ   امیت شاہ کی پریس کانفرنس تھی۔ اگر ایسا تھا تو وہ وہاں گئے ہی کیوں ؟  اس سوال کاپہلا جواب تو یہ ہے کہ مودی جی اگر بن بلائے پاکستان جاکر نواز شریف کے ساتھ بریانی کھاسکتے ہیں تو اپنی ہی پارٹی کے دفتر میں اپنے ہی صدر کی پریس کانفرنس میں کیوں نہیں جاسکتے ؟ دوسرا جواب ہے،  ان کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔

  روزآنہ ۲۰ گھنٹے کام کرنے والا سپر مین وزیراعظم بیکار بیٹھا ہو اور  وقت گزاری کے لیے امیت شاہ کے ساتھ ہولے  یہ بات بہ آسانی  گلے سے نہیں اترتی  لیکن اگر اس کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو حیرت واسرعجاب جاتا رہتا ہے۔ مودی جی پچھلے ۶ سال سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ ۲۰۱۴ ؁  میں حلف برداری سے قبل وہ اس کام میں جٹ گئے  تھےاور بعد میں بھی اسی میں مشغول  رہے۔ اس لیے کہ وہ پردھان سیوک کے ساتھ پرچار سیوک بھی ہیں۔ اب انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے۔ ان کو  یہ خوش فہمی ہے کہ  اس بار بی جے پی اپنے بل پر ۳۰۰ پار کرجائے گی ۔ ایسا ہندوستان کی تاریخ میں تو نہیں اس صدی میں پہلی بار ہوگا۔ اس لیے آئندہ پانچ سالوں تک دوبارہ اس کام میں لگنے سے پہلے درمیان میں  کیوں نہ چھوٹا سا  انٹرویل لے لیا جائے۔

ایک سوال یہ ہے کہ اس درمیانی وقفہ میں اور بھی تو بہت کچھ کیا جاسکتا ہے؟ پریس کانفرنس ہی کیوں؟ بھکتوں کے پاس اس کا جواب   یہ ہے کہ  پریس کانفرنس کیوں نہیں؟ کیا ایک آزاد ملک کے وزیر اعظم کو پریس کانفرنس کرنے کے لیے بھی الیکشن کمیشن سے اجازت لینی پڑے گی؟ جی ہاں مودی جی یہ منطق مودی جی اپنی ہے کہ کیا کوئی فوجی کسی  دہشت گرد کو مارگرانے کے لیے الیکش کمیشن سے اجازت لے گا؟ اسے کہتے ہیں ماروگھٹنا پھوٹے آنکھ۔ لیکن اگر مودی جی پریس کانفرنس میں  دو چار صحافیوں کو اپنے جوابات کے نشتر سے  مار گراتے    تو ان کی بات درست ہوجاتی۔تقریباًہر چینل پر   انٹرویو دینے والے ہند کیسری پردھان منتری اگر صحافیوں کے   دوچار سوالات کا جواب بھی   دے دیتے  تو لاج رہ جاتی۔ جو لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مودی سے یہ کیوں  نہیں ہوسکا انہیں معلوم ہونا چاہیے وزیراعظم  بغیر  سوالات     کی تیاری اور جوابات کی  مشق کے ایسا خطرہ مول نہیں لیتے۔ پریس کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ چونکہ اچانک ہوا اس  لیے وقت نہیں تھا۔

ویسے پریس کانفرنس میں مودی جی سے جملہ دو سوالات کیے گئے اور وہ  مشکل بھی نہیں تھے۔ پہلا تو پرگیہ کے متعلق تھا جس کا جواب  صبح کے وقت  وہ اپنے ٹویٹ میں دے چکے تھے لیکن وہ جواب تو کسی اور نے لکھ کر  ان کے نام سے بھیج دیا ہوگا  ۔ وزیراعظم کے پاس ان فضول کے کاموں کے لیے وقت تھوڑی نہ ہے لیکن مودی جی اسے دوہرا تو سکتے تھے  ایسا تھا ؟ اس عمر میں کہاں یاد رہتا ہے کہ کیا ٹویٹ کیا تھا اگر  شام کا جواب صبح سے مختلف ہوجاتا تو بڑی  جگ ہنسائی ہوتی؟ لیکن وہ تو پھر بھی ہوگئی۔ دوسرا سوال بھی وہ  تھا کہ جس کا ذکر مودی جی اپنی انتخابی  تقاریر میں کئی بار کر چکے تھے۔ اس کوتو یاد کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ان کے بھاشن کو لوگ غور سے سنتے ہی کب ہیں جو یاد رکھیں۔ حزب اختلاف کے اتحاد پر یہ تبصرہ تو بہت آسان تھا کہ نہ یہ دال گلے گی اور نہ  کھچڑی   پکے گی۔ یہ پک کر تیار بھی ہوجائے  تو اسے کوئی نہیں کھائے گا یہ پھینکنے میں جائے گی۔ مودی جی یسب نہیں  کہہ  سکے کیونکہ  تقاریر لکھی ہوئی ہوتی ہیں  جواب لکھا ہوا نہیں تھا۔

  اب پھر یہ   سوال  پیدا  ہوجاتا ہے  کہ اگر مودی جی نے   جوابات نہیں دیئے  تو  پریس کانفرنس میں  جاکر کیا کیا؟ اس سوال کا جواب بہت سہل ہے وہی جو ہمیشہ کرتے ہیں۔ ایک بھاشن دے مارا۔ ایوان پارلیمان میں وزیراعظم کو بحث کا جواب دینا ہوتا ہے وہاں بھی وہ انتخابی تقریر کرتے رہے اور پریس کانفرنس میں آکر بھی وہی کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے انتخاب کے وقت آئی پی ایل کو دیش نکالا دیا جاتا تھا۔ اب آئی پی ایل بھی ہورہا ہے۔ رام نومی،  ایسٹر اور رمضان کے ساتھ بچوں کے امتحانات بھی چل رہے ہیں۔ اپنی خودستائی میں غرق  مودی جی بھول گئے کہ انتخاب سے پہلے پلوامہ کا سانحہ ہوا۔ نکسلیوں نے مہاراشٹر اور ۳۶ گڑھ میں زبردست حملے کیے۔ کشمیر میں کوئی دن  خون خرابے کے بغیر نہیں گزرا۔ کشمیر سے چھتیس کڑھ تک  خواتین پر مظالم کا لامتناہی سلسلہ جاری رہا۔   کسانوں کے علاوہ نوجوان اور طلباء خودکشی کرتے رہے لیکن وزیراعظم کو اس کی پرواہ نہیں ہے۔

ایک سوال یہ ہے کہ کیا مودی جی کو تقریر کرنے کے سوا  کچھ اور  نہیں آتا؟ ارے بھائی کوئی اور کام سیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ محض بول بچن سے اگر کوئی سیاستداں ۱۲ سال وزیراعلیٰ بنا رہ سکتا ہے اور پانچ سال کے لیے وزیر اعظم بھی بن جاتا ہے تو اسے کیا چاہ؟ بھاشن دو اور عیش کرولیکن  پھر بھی خطرہ تو ہے۔کون جانے ای وی ایم سے کون سا جن برآمد ہو جائے ؟ اگر کہیں انتخاب ہار گئے تو کم ازکم پیشانی پر یہ کلنک تو نہیں رہے کہ انہوں  نے اپنی مدت کار میں کوئی پریس کانفرنس ہی نہیں کی۔ اب کم از کم یہ تاریخ  رقم ہوچکی ہے کہ وزیراعظم  نے پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ آگے کام زعفرانی تاریخ دانوں کا ہے وہ جو چاہیں سمراٹ نریندر دامودر مودی سے منسوب کردیں۔ اسے نصابی کتب میں شامل کردیا جائے گا۔ مدارس میں  طلباء وہی پڑھیں گے اور مودی نام جپیں گے۔

  مودی بھکت فخر جتاتے ہیں کہ راہل گاندھی  کو بغیر دیکھے تقریر کرنا نہیں آتا تھا لیکن بی جے پی نے سکھا دیا۔ اس کے عوض مودی جی بھی اگر راہل گاندھی سے   پریس کانفرنس کرنے کا فن سیکھ لیتے تو ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی۔ دکشنا اچھے اچھوں کو بھکت بنادیتی ہے۔  راجدیپ سردیسائی نے مودی جی کے پرانے دنوں کو یاد کرکے ان کی خوب تعریف و توصیف بیان کی یہ امید ظاہر کی کہ جلد ہی وزیراعظم  وگیان بھون میں زبردست  پریس  کانفرنس کرکے صحافیوں کو سارے سوالات کے بھرپور جواب دیں گے۔ اس  خوش گمانی پر بے ساختہ غالب کا شعر یاد آگیا  کیونکہ اول تو مودی کا دوبارہ وزیراعظم بن جانا ہی مشکوک ہے اور اس کے بعد پریس کانفرنس ! مودی ہے تو ناممکن ہے ناممکن ؎

آہ کو چاہیے اک عمر  اثر ہونے تک

 کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close