چین کی پھلجھڑيوں کے علاوہ اس کی مخالفت کرنا چاہیں گے؟

رويش کمار

چین سے جب بھی تنازعہ ہوتا ہے وهاٹس اپ یونیورسٹی کے  سربراہ کی طرف سے ایک میسیج گھمایا جانے لگتا ہے کہ چین کی چیزوں کا بائیکاٹ کریں. اس بہانے قوم پرستی کا اعلان کیا جاتا ہے. اب ایک اور میسیج گھمایا جا رہا ہے کہ چینی سامان کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے والوں، تھیلے لے کر ہم گئے تھے کیا خریدنے. سوچا کہ چین کو لے کر تھوڑا ریسرچ کرتا ہوں تاکہ مخالفت کرنے والے تھوڑا بڑا سوچ سکیں. کب تک ہر دیوالی میں لڑياں-پھلجھڑياں نہ خرید کر چین کی مخالفت کریں گے. ہدف بڑا ہونا چاہئے کہ چین کو بھارت سے ہی بھگا دینا ہے.

2011 میں بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کرنے والے ملکوں میں چین کا مقام 35 واں تھا. 2014 میں 28 واں ہو گیا. 2016 میں چین بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا 17 واں بڑا ملک ہے. خارجہ سرمایہ کاری کی رینکنگ میںں چین آتا جا رہا ہے. بہت جلد چین بھارت میں بیرون ملک سرمایہ کاری کرنے والے چوٹی کے 10 ممالک میں شامل ہو جائے گا. بھارت کے لئے رقم بڑی ہے مگر چین آپ خارجہ سرمایہ کاری کا صرف 0.5 فیصد ہی بھارت میں سرمایہ کاری کرتا ہے. (10 اپریل، 2017، ہندوستان ٹائمز نے ریشما پاٹل انڈیا سپینڈ کی رپورٹ شائع کی ہے)

2011 میں چین نے کل سرمایہ کاری 102 ملین ڈالر کا کیے تھے، 2016 میں ایک بلین کی سرمایہ کاری کی، جو کہ ایک ریکارڈ ہے. جبکہ انڈسٹری کے لوگ مانتے ہیں کہ 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہوگی چین نے. ایک اور اعداد و شمار کے مطابق چین اور چین کی کمپنیوں کی سرمایہ کاری 4 بلین ڈالر ہے. (10 اپریل، 2017، ہندوستان ٹائمز)

کئی چینی کمپنیون کے ریجنل آفس احمد آباد میں ہیں. اب مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور ہریانہ کی طرف جانے لگے ہیں. فروری 2017 کے چینی میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کی سات بڑی فون ڈولپر کمپنیاں بھارت میں فیکٹری لگانے جا رہی ہیں. كككك

چین کی ایک کمپنی ہے چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک، اسے ناگپور میٹرو کے لئے 851 کروڑ کا ٹھیکہ ملا ہے. چینی میٹرو کے بائیکاٹ کو کامیاب بنانے کے لئے ناگپور سے اچھی جگہ کیا ہو سکتی ہے! (15 اکتوبر 2016 کے بزنس سٹینڈرڈ سمیت کئی اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی ہے)

چین رولنگ اسٹاک کمپنی کو گاندھی نگر-احمد آباد لنک میٹرو میں ٹھیکہ نہیں ملا تو اس کمپنی نے مقدمہ کر دیا. سپریم کورٹ کے حکم سے اب اس کمپنی کو 10737، کروڑ کا ٹھیکہ مل گیا ہے. یہ ٹھیکہ تو منسوخ کیا گیا تھا کہ چین رولنگ اسٹاک چین کی دو سرکاری کمپنیوں کے ولی سے بنی ہے. ماہرین نے کہا ہے کہ جب ہم اتنی آسانی سے چین کو برآمد نہیں کر سکتے تو ان کمپنیوں کو کیوں اتنا کھل کر بلا رہے ہیں. (4 جولائی 2017 کے بزنس سٹینڈرڈ میں یہ خبر شائع ہوئی ہے)

22 اکتوبر 2016 کے انڈین ایکسپریس کی خبر ہے کہ گجرات حکومت نے چینی کمپنیوں سے سرمایہ کاری کے لئے 5 بلین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے.

احمد آباد میں کیا اس کا کوئی مخالفت ہوئی، کیا ہوگا؟ کبھی نہیں.

15 دسمبر 2008 کے ڈی این اے میں بنگلور سے جوسی جوذف کی رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ چین بھارت کی بڑی آئی ٹی کمپنیوں کی جاسوسی کر رہا ہے. بھارت کی ایک بڑی کمپنی کو 8 ملین ڈالر کی چپت لگ گئی کیونکہ جس کمپنی کے بزنس ڈیلگیشن کو بھارت آنا تھا، وہ چین چلی گئی. جب ہندوستانی کمپنی نے اس کا پتہ کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ چین کی جاسوسی کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے یہ ٹھیکہ چلا گیا. چینی هیكروں نے ہندوستانی کمپنی کے سارے ڈٹیل نکال لئے تھے. اس وقت اخبار نے لکھا تھا کہ خفیہ محکمہ معاملے کی پڑتال کر رہا ہے. کیا ہوا پتہ نہیں.

ہاں یہ ہوا ہے. 8 جولائی 2015 کے ہندو میں خبر شائع ہویی کہ کرناٹک حکومت چینی کمپنیوں کے لئے 100 ایکڑ زمین دینے پر اتفاق ہو گیا ہے.

5 جنوری 2016 کے انڈین ایکسپریس کی خبر کہتی ہے کہ مہاراشٹرا انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے چین کی دو مینيوفكچرگ کمپنی کو 75 ایکڑ زمین دینے کا فیصلہ کیا ہے. یہ کمپنیاں 450 کروڑ کی سرمایہ کاری لے کر آئیں گی.

22 جنوری 2016 کی ٹربیون کی خبر ہے کہ ہریانہ حکومت نے چینی کمپنیون کے ساتھ 8 رضامندی خط پر دستخط کئے ہیں. یہ کمپنیاں 10 ارب کا انڈسٹریل پارک بنائیں گی، اسمارٹ سٹی بنائیں گی.

مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر پھڑن ویس کی طرح ہریانہ کے وزیر اعلی ایم ایل کھٹر بھی چین کا دورہ کر چکے ہیں. 24 جنوری 2016 کی ڈی این اے کے خبر ہے کہ چین کا سب سے امیر آدمی ہریانہ میں ساٹھ ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری کرے گا.

سمجھ نہیں آتا ہے. ایک وقت انہی کاروباری رشتوں کو حکومت اور معیشت کی کامیابی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے اور جب تنازعہ ہوتا ہے کہ ان حقائق کی جگہ لڑياں-پھلجھڑياں کی مخالفت شروع ہو جاتی ہے. کیا چینی لوازمات کی مخالفت کرنے والے بھارت میں چین کی سرمایہ کاری کی مخالفت کرکے دکھائے گا؟

پیغام یہ ہے کہ ٹھیک ہے سرحد پر تنازعہ ہے. اسے سمجھنا بھی چاہئے، لیکن اس سے جذباتی ہوکر گھر کے گملے توڑنے سے کوئی فائدہ نہیں ہے. تنازعہ سلجھتے رہتے ہیں، دھندہ ہوتا رہتا ہے. میں نے جو ڈیٹیل دی ہے وہ کل نہیں ہے. میڈیا میں بھارت چین کے کاروباری رشتے کی کئی کہانیاں ہیں. آپ خود بھی کچھ محنت کیجیے. باقی چین کی مخالفت بھی کیجیے، اس میں کچھ غلط نہیں ہے لیکن جو آپ کے گھر میں گھس گیا ہے اس سے شروع کر سکتے ہیں. چین کی لڑياں تو ویسے بھی دیوالی کے بعد بیکار ہو جاتی ہیں. مخالفت کیجیے مگر اس کا مقصد بڑا کر لیجئے. میں نے یہ اس لئے لکھا کہ ہو سکتا ہے چینی لوازمات کی مخالفت کرنے والے پڑھتے نہیں ہوں یا حکومت سے پتہ نہ چلا ہو لیکن اب وہ اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کر اس میسج کو وهاٹس اپ یونیورسٹی کے مایوسی کاکا کو دے سکتے ہیں تاکہ وہاں سے سرٹیفاي ہوکر یہ جلد ہی ملک بھر میں گھومنے لگے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ رویش کمار

رویش کمار
مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے