آج کا کالم

ڈونالڈ ٹرمپ: پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

سیاست کی عالمی بساط پر ڈونالڈ ٹرمپ کی آمد آمد ہے۔ عالم انسانیت صبح کاذب سے صبح صادق کے درمیان دو ماہ  سانس لیتی رہی ہے اور  پھر حسب توقع تاریکی کا علمبردار نیا سورج نمودار ہوگیا۔ دنیا بھرمیں  مقبول عام جمہوریت کے سبب آج کل  سربراہانِ مملکت  کا آنا جانا لگا رہتا ہے مگر ان کی آمدورفت سے کوئی خاص تشویش نہیں  ہوتی۔ بیشتر حکمرانوں   کے دائرۂ کار کی طرح ان کی ایذا رسانی بھی محدود ہوتی ہے۔ عام طور پربڑے ارمانوں  سے انہیں  منتخب کرنے والےعوام ہی ان کی کرم فرمائی کی بھینٹ چڑھتے ہیں  لیکن امریکہ کی بات  مختلف ہے۔ وہ چونکہ دنیا بھرکا خودساختہ  کوتوال بنا ہوا ہے اس لئے اس کی تباہی و بربادی کا دائرہ عمل خاصہ وسیع ہے۔ وہ  ویتنام سے لے کر عراق تک کہیں  بھی  فوج کشی کرسکتا ہے۔ ہیرو شیما سے افغانستان تک کسی بھی ملک میں  بمباری اس کے دائرۂ اختیار ہے۔  میر کا یہ مشہور شعر  کسی اور معنیٰ میں  امریکی صدور پر صادق آجاتا ہے ؎

وہ آئے بزم میں  اتنا تو میر نے دیکھا                     پھر اس کے بعد چراغوں  میں  روشنی نہ رہی

غزل کے معنیٰ  محبوب سے گفتگو کے ہوتے تھے اس لئے شاعرانہ توجیہ تو یہ  ہے کہ محبوب کے چہرۂ پر نور کے آگے سارے چراغ بے نور ہوگئے لیکن ڈونالڈ ٹرمپ  چونکہ ایک مبغوض  صدر ہے اس لئے اس شعر کی تاجرانہ تصریح یہ ہوگی کہ انہوں  نے آتے ہی اپنے کالے کرتوت چھپانے کیلئے  سارے چراغ بجھا دیئے اس لئے روشنی اپنے آپ غائب ہوگئی۔ اقتدار سنبھالنے سے قبل  نریندر مودی کی طرح  ڈونالڈ ٹرمپ کو فتنہ پروری کا موقع نہیں  ملا مگر انہوں   نے اپنی بدزبانی اور دروغ گوئی سے اپنا تعارف کرادیا۔ مودی جی کی حلف برداری سے قبل جس طرح کے اندیشے ہندوستان کی عوام کے اندر تھے فی الحال  وہی حالت دنیا بھر کے لوگوں  کی ہے۔ اس لئے کہ اقتدار سنبھالنے سے قبل  ہی  ٹرمپ  کےفیصلوں  سے ان کارنگ ڈھنگ ظاہر کردیا ہے۔ ویسےکون جانے وقت کے ساتھ ٹرمپ کا بھی حال شیر کی کھال  میں  گیدڑ کا سا ہوجائے؟

ڈونالڈ ٹرمپ کی تاجپوشی کے موقع پرمنعقد ہونے والی تقریب میں  8 لاکھ سے زائد افراد کے شرکت کی توقع تھی۔ اس تقریب میں  شرکاء کی تعداد اگرچہ صدر براک اوباما کے مقابلہ  نصف سے بھی کم تھی  لیکن اس کے باوجود سکیورٹی کے اخراجات 10 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگئے۔ کوئی سربراہ مملکت  اگر اپنے ہی رائے دہندگان کے درمیان اس قدر غیر محفوظ ہو تو اسے اس  طرح کے تماشے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اس سے تو بہتر ہے کہ وہ  خاموشی سے قصر ابیض میں  حلف لے اور یہ خطیر رقم عوام کے فلاح وبہبود پر خرچ کردے۔ لیکن جو صدر اقتدار سنبھالتے ہی عوام کو صحت کی یقین دہانی کرنے والے تحفظ  سے محروم کردینے پر دن رات ایک کررہا ہے۔ اس سے ایسے خیرکی توقع دیوانے کا خواب ہے۔ ہندوستانیوں  کو مودی جی کے سحر سے نکلنے میں   ڈھائی سال کا عرصہ لگا لیکن ٹرمپ نے حلف برداری سے قبل ہی انہوں  نے اپنی عوام کی نیند اڑا دی ہے۔ امریکی عوام  اور ڈونالڈ ٹرمپ پر کی حالت پر جون ایلیا کا یہ شعر صادق  آتا ہے کہ ؎

تمام نقشِ تمنا  فریب تھے، سو تھے                       میں  سارے نقشِ تمنا بگاڑ دالوں  گا

دولہے کی شکل و شباہت جیسی بھی ہو لیکن کم ازکم شادی کے دن وہ نہایت خوبرو نظر آتا ہے۔ جمہوری سیاست میں  آگے چل کر کوئی رہنما چاہے جتنا غیر مقبول ہوجائے لیکن حلف برداری  کے وقت تو اس کی مقبولیت آسمان سے باتیں  کرتی ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے اقتدار پر فائز ہونے سے قبل ہی اپنی قبر کھودنی شروع کردی  ہے۔ واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز کے  جائزے کے مطابق پچھلےسات امریکی صدرو کے مقابلے میں  سب سے زیادہ غیر مقبول ہیں۔ سی این این کی رائے ہے کہ اس کی وجہ  نومبر میں  صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد اقتدار کی منتقلی کے امور میں  ان کاطرزِ عمل    مقبولیت میں  کمی کی  بنیادی وجہ  ہے۔ سی این این اور اے بی سی دونوں  کے بعد از انتخاب سروے میں  انکشاف کیا  گیا ہے کہ ٹرمپ کی مقبولیت  2009 میں   براک اوباما کے مقابلے نصف ہے یعنی 40 فیصد پر ہے اس کے برعکس اوبامہ اب بھی 41فی صد عوام میں  مقبول ہیں ۔1979 سے  اب تک حلف لینے والے صدور  کی مقبولیت 54 تا 79 فی صد کے درمیان تھی جبکہ ٹرمپ کی غیر مقبولیت ۵۴ فی صد ہے۔

انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے ٹیلیویژن کے پردے پر خواتین کی تذلیل کی اس کے باوجود امریکی عوام کو  خاتون امیدوار ہیلری کلنٹن  سے ہمدردی نہیں  ہوئی۔  وہ میکسیکو کے تارکین وطن کے خلاف زہر اگلتے رہے اور انہیں  روکنے کیلئے  دیوار  تعمیر کرکے اس کی قیمت انہیں  سے وصول کرنے دعویٰ کیا  اس کے باوجودلاطینی لوگوں  نے انہیں   ووٹ دیا۔ مودی جی کی مانند  ٹرمپ نے ابھی سے اپنا موقف بدل دیا ہے۔ مودی بھی کالے دھن کے اپنے وعدے پر قائم تو ہیں   مگر سوئزرلینڈ کے بجائے  سودیشی تجوریوں  پر ڈاکا ڈال رہے ہیں   اسی طرح ٹرمپ بھی دیوار بنانے پر مُصر  ہے مگر امریکیوں  کے ٹیکس کی کمائی سے  جمع ہونے والی رقم  اس پر خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔ کوئی بعید نہیں  کہ کل  ٹرمپ  کا کوئی چمچۂ خاص اس وعدے کوایک انتخابی جملہ   بازی قرار دے کر مسترد کردے اس لئے کہ  تمام تر اختلاف کے باوجود سارے جمہوری رہنماوں   کے ہتھکنڈوں  اور گورکھ دھندوں  میں  کمال کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ ان سب کے اندروہی  ابلیسی بدروح سمائی ہوتی ہے جس کا دعویٰ وہ  اپنی مجلس شوریٰ میں  کرتا ہے ؎

ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس             جب ذرا آدم ہواہے خود شناس و خود نگر

ٹرمپ  اور مودی کی انتخابی مہم میں  ایک فرق یہ تھا کہ مودی جی نے ہندوتوا یا فرقہ پرستی کے بجائے  ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘   کا پر فریب  نعرہ بلند کیا اور کامیابی کے بعد اسے  ’’دھنوانوں  کا ساتھ اور انہیں  کا وکاس ‘‘ میں  بدل دیا  یہی وجہ ہے   ملک کے غریب کا وناش ہونے لگا اور وہ ان سے دور ہونے لگے۔ اس کے برعکس ٹرمپ نے بدیسی کے خلاف سودیشی  کا نعرہ لگایا اور دہشت گردی کی آڑ میں  اسلام دشمنی کامحاذ کھول دیا۔ مساجد پر قفل لگانے کا نعرہ سن کر امریکہ میں  رہنے والے رام بھکت  جی جان  سے فدا ہوگئے۔ نفرت کی آگ میں  جلنے والے  اندھے  بھکت  بھول گئے کہ گرین کارڈ  کے باوجود وہ  ٹرمپ کی نظر میں  وہ بدیسی ہی ہیں       اور اگر امریکی سودیشی سونامی  انہیں  کے پرزے بمعنیٰ ویزے سب سے زیادہ اڑائےگی ۔ اس لئے ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد یرقانی پریوار نے جو بلند بانگ دعویٰ کئے تھے اور پٹاخے چھوڑے تھے   ان پر اچانک اوس پڑ گئی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ  نےایک طرف قومی سیاست  کو سرمایہ داروں  کے چنگل سے نکالنے دعویٰ کیا اور دوسری جانب کابینہ کو سرمایہ داروں  سے بھردیا۔ اقرباء پروری کی نئی مثال  قائم کرتے ہوئے اپنے داماد کو صدارتی  مشیر نامزد کردیا۔ ٹرمپ نے ناٹو کے خلاف اپنی بھڑاس اتارتے ہوئے اسے بے مصرف یعنی فالتو قرار دے دیا۔ انہیں  افسوس ہے کہ ناٹو میں  شامل ۲۸ میں  سے صرف ۵ ممالک کے دفاعی اخراجات  اپنی مجموعی پیداوار کا ۲ فیصد ہے۔ یعنی ایک طرف عوام کی فلاح بہبود پر زور اور دوسری جانب دفاعی اخراجات میں  اضافہ یہ دونوں  باتیں  ایک ساتھ نہیں  چل سکتیں   لیکن اسے سمجھنے کیلئے جو معمولی عقل درکار ہے اس سے ٹرمپ محروم ہیں ۔ یہی  تضاد بیانی ان کے راہ کا روڑا بنی ہوئی ہے۔

IMAGESانتخابی مہم کے دوران اپریل میں  ٹرمپ نے کہاتھا   امریکی اتحادیناٹو اخراجات کے نام پر امریکی جیب خالی کر رہے ہیں  انہوں  نے ناٹو کے سارے ارکان سے مطالبہ کیا  تھا  کہ وہ یا تو امریکاکوخرچ اداکریں ۔ ٹرمپ کے مطابق  ناٹو کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نہیں  بلکہ سوویت یونین کے خلاف بنایا گیا تھا جس کا اب وجود ہی باقی نہیں۔ اسلئے ناٹوممالک یا توامریکہ کواخراجات اداکریں  ورنہ بھاڑمیں  جائیں ۔ روس کے ساتھ ٹرمپ کی ساز باز کا انکشاف ماہِ اگست میں  اس وقت ہوا جب  ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ وہ  کریمیا پر روس کے قبضے کی حمایت کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد ویکی لیکس نے روس کی مدد سےای میلس جاری کرکے ہیلری کی   لٹیا ڈبو دی۔  ایک خبر یہ ہے کہ پوتن کے پاس ٹرمپ کی عیاشی کی ایسی تصاویر ہیں  جن کی مدد سے وہ بلیک میل بھی ہوسکتے ہیں۔ دنیا بھر کے اشتراکی دانشوروں  کو ٹرمپ اور پوتن دوستی نے دھرم سنکٹ میں  ڈال دیا ہے۔ پہلے وہ کھل کر ریپبلکن کے سرمایہ دارانہ نظریات کی مخالفت  کرتے تھے اور گوکہ روس نے  اشتراکیت سےپلہ جھاڑ لیا ہےپھر بھی  بغض معاویہ میں  اس کی حمایت کرتے تھے لیکن اب ٹرمپ کی مخالفت روس کی مخالفت ہوجاتی ہے اور روس کی حمایت  ریپبلکن ٹرمپ کے کھاتے میں  جمع ہوجاتی ہے۔

عالمی سطح پرٹرمپ نے امریکہ کے سب سے بڑے حلیف یوروپی برادری کوبدظن کرنا شروع کردیا ہے۔ حلف برداری سے قبل دیئے گئے  انٹرویو میں  انہوں    نےگاڑی بنانے والی معروف جرمن   کمپنیوں  مثلاً بی ایم ڈبلیو، فوکس ویگن اور ڈائلمر  کے خلاف فتویٰ جاری کردیا کہ اگر انہوں  نے میکسیکو سے گاڑیاں   درآمد کیں  تو ۳۵ فیصد ٹیکس لگے گا جس کی جرمنی نے جم کر مخالفت کی۔ جرمنی کی تارکین وطن کو پناہ دینے کی پالیسی کو ٹرمپ  نے تباہ کن  غلطی قرار دیا۔ اس کے سبب برطانیہ کے یوروپی یونین سے نکل جانے کو جائز  ٹھہراتے ہوئے برطانیہ کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کا وعدہ کیا۔ ویسے یوروپی یونین نے برطانیہ کو ۲۰۱۹؁ سے قبل انفرادی طور پر سے امریکہ کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ کرنے سے روک دیا ہے۔

جرمن چانسلر مرکل نےیورپی اتحاد کو ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا بہترین جواب قراردیا ہے۔ مرکل نے  کہا ’’ ہم یورپیوں  کی تقدیر خود ہمارے ہاتھوں  میں  ہے ‘‘۔جرمنی کےنائب چانسکر سگمار گیبرل  نے تارکین وطن کے مسئلہ کیلئے  مشرق وسطیٰ  میں  امریکہ کی ناقص پالیسی کو ذمہ دار ٹھہرایا اور یوروپی ممالک کو تلقین کی کہ وہ ٹرمپ کے ساتھ  خود اعتمادی کے ساتھ معاملہ کریں   اور ان پر واضح کریں  کہ ہم کم تر یا کمزور نہیں  ہیں۔  فرانس کے صدر فرانسوااولاند نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یورپ بین البراعظمی تعاون چاہتاہےمگر ایسا کرتے ہوئے ہمارے اقدار اور مفادات  قابل ترجیح ہوں  گے۔ انہوں  نے سخت لہجے سی این این سے کہا یورپی یونین کو اپنے معاملات چلانے کیلئےکسی غیر رکن ملک کے مشورے کی ضرورت نہیں  ہے۔ اولاندنے ٹرمپ  کو دوسرے ملکوں  کی سیاست میں  اس طرح کھلم کھلا دخل اندازی سے گریز کرنے کا مشورہ دیا۔

امریکی اقتدار میں  تبدیلی سب سے زیادہ  فلسطین پر اثر انداز ہوسکتی ہے جس کی کئی وجوہات ہیں ۔ ٹرمپ  2012میں  نتین یاہو کی کھلی حمایت  کرچکے ہیں  اوروہ اسرائیلی سفارت خانے کو یروشلم میں  منتقل کرنے کے حامی ہیں  ۔ اقوام متحدہ میں  اسرائیل کےخلاف  ا وبامہ کے  ویٹو نہ کرنے پر تنقید کرچکے ہیں۔ قدامت پسند یہودی ڈیوڈ فریڈمین  کو اسرائیل کا سفیر بنانے کے بعد خارجہ امور کے ایک  اہم عہدے  پرجیسن ڈوف جیسے کٹریہودی  کو فائز کردیا ہے۔ ٹرمپ  کی  مشرق وسطیٰ میں  مداخلت سے گریز کرنے کی حکمت عملی  خوش آئند  ہے لیکن اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ مل جائیگی۔ دوسرے معنیٰ میں   امریکہ کی جانب سے ہونے والی  منافقانہ تنقیدکا خاتمہ  ہوجائیگا۔

ٹرمپ  انتظامیہ کی لفاظی  کا فلسطینی تو دور یوروپ بھی قائل نہیں  اسی لئے  یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے چیف فیڈریکا موگرینی نے واضح کیا کہ امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی صورت میں  یورپی یونین تل ابیب سے اپنے سفارتی عملے کو منتقل نہیں  کرے گا۔ انھوں  نے نومنتخب امریکی صدر سے کہا کہ وہ ایسے یکطرفہ فیصلوں  سے گریزکریں  جن سے دنیا کے بڑے حصے پرسنگین اثرات ہوں۔ ان فیصلوں  کے نتیجے میں  اب اسرائیل اور فلسطین کے مسئلہ میں  فرانس اور روس کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ فرانس نے جون میں  اس حوالے سے ایک اجلاس   منعقدکیا تھا۔اس سال ۱۵ جنوری کو ایک اور بین الاقوامی کانفرنس کرکے۲۶ ممالک کے وزرائے خارجہ نے دو نوں  فریقوں  کو دو ریاستی فارمولے پر عملدرآمد کی تلقین کی۔  پیرس اعلامیہ کا محمود عباس نے خیر مقدم کیا ، حماس نے خاموشی بنائے رکھی اور اسرائیل نے تنقید کی۔

دشمن کے میدان میں  آجانے سے آپسی رقابت میں  کمی آجاتی ہے جس کا مظاہرہ ہندوستان میں  شریعت پر منڈلانے والےخطرات  کے دوران ہوتا ہے۔ امت باہمی  اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد ہوجاتی ہے۔ ٹرمپ کے  اقتدار میں  آجانے  سے فلسطین کے اندر فتح اور حماس بھی اتحاد کی جانب راغب ہوئے ہیں ۔ ان دونوں  نے اپریل 2015 میں  مشترکہ حکومت بنانے کا عہد کیا تھا لیکن کوئی خاص پیش رفت نہیں   ہوئی۔ اب  حماس اور فتح کے نمائندوں  نے  ماسکو میں  مشترکہ حکومت قائم کرنے اور ازسرنوانتخابات  کے اہتمام کا فیصلہ  کیا  ہے۔ ٹرمپ کی ’’امریکہ پہلے‘‘ والی خارجہ    پالیسی سے امریکہ کے عالمی اثرات میں  خاصی کمی واقع ہوگی اور اس خلاء کو روس پورا کرے گا۔ شام کے معاملے میں  ابھی حال میں  فزاخستان میں  جو اجلاس ہورہا ہے اس میں  ایران نے یہ کہہ دیا کہ ہمیں  امریکہ  کی ضرورت نہیں  ہے بعد میں  اسے محض ناظر کی حیثیت سے حاضررہنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے امریکی اثرات کیسے سمٹ رہے ہیں ؟ ٹرمپ خود امریکہ کا حلیہ بگاڑ رہا ہے؎

ترے غرور کا حلیہ بگاڑ ڈالوں  گا                میں  آج تیرا گریبان پھاڑ ڈالوں  گا

اس طرح کی صورتحال میں  یہ توقع  کی جاتی ہے کہ اسرائیلی بربریت میں  اضافہ ہو لیکن مشیت  اس کے خلاف مناظر  دکھارہی ہے۔ فلسطین اسلامی تحریک کےقائد الشیخ راید صلاح کو اسرائیلی  حکومت  نے نو ماہ قبل گرفتار کرلیا تھا  مگر اس ہفتہ ان کی  رہائی عمل میں  آگئی۔ اس پر ’حماس‘ نے اپنے  بیان میں  الشیخ راید صلاح کی رہائی کوصہیونی ریاست کی مسجد اقصیٰ کے خلاف سازشوں  اور جارحانہ عزائم کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا اور کہاان کی آزادی  قبلہ اول بیت المقدس کا دفاع کرنے والوں  کی فتح ہے۔اس سے دفاع قبلہ اول کے لیے بلند ہونے والی آوازوں  کو مزید تقویت ملے گی۔

ڈونالڈٹرمپ کی اولین میں  تقریر میں  امریکی معاشرے  کی ابتری کا واضح اعتراف ہے۔ انہوں  نے عظمت رفتہ  کا ذکر کرتے ہوئے عہد کیا کہ ’’امریکہ کو پھر سے عظیم تر بناناہے‘‘۔ اس کے معنیٰ  یہ ہیں  کہ امریکہ کسی زمانے میں  عظیم ضرور تھا لیکن اب نہیں  ہے۔ اس انحطاط کی  دو بنیادی وجوہات بھی ان کی افتتاحی تقریر میں  موجود ہیں   فرمایا  ’’ہم دوسرے ملکوں  کی سرحدوں  کا دفاع کرتے رہے ہیں، جب کہ اپنا دفاع کرنے میں  ناکام رہے ہیں ‘‘۔ ٹرمپ سے قبل شاید ہی کسی صدر نے  ایسا برملااعتراف کیا ہو اس لئے وہ قابلِ مبارکباد ہیں۔ نیز یہ بھی کہاکہ  ’’واشنگٹن خوشحال ہوا، لیکن عوام محروم رہے؛ سیاست دان خوش حال ہوئے، لیکن روزگار کے مواقع معدوم ہوئے اور کارخانے بند ہوتے چلے گئے؛ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو تحفظ فراہم کیا، لیکن ملک کے شہری اس سے محروم رہے‘‘۔ یہ المیہ تو  امریکہ  سمیت  دنیا بھر کے سارے   جمہوری ممالک  کا  ہے۔

آئیے ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریر میں  اس مسئلہ کا حل تلاش کریں   وہ کہتے ہیں  ’’ضرورت اِس بات کی ہے کہ امریکی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے‘‘ یعنی دنیا بھر کی  ٹھیکیداری  کا خودساختہ چولہ اتار پھینکا جائے۔ ’’ تاکہ ہم (یعنی امریکی) پھر سے خوشحال اور طاقت ور بن جائیں  گے‘‘۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر راہِ عمل بھی دیکھ لیں   ٹرمپ کے مطابق ’’آج کے دِن کے بعد ہم اپنے ملک کا نظام ایک نئے نصب العین کے تحت چلائیں  گے، اور وہ یہ ہے کہ۔۔۔ امریکہ سب سے پہلے۔ہم متحد ہوکر امریکہ کو پھر مضبوط، دولت مند، قابلِ فخر، اور محفوظ بنائیں  گے‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیامحض اتحاد کا چورن  اس   موذی مرض  کیلئے کافی و شافی علاج   ہے اورآزادی کی نیلم پری  کے پیچھے چھپا  جمہوری دیواستبداد انہیں  یا کسی بھی امریکی صدر کو اس کی اجازت دے گا؟  نصب العین تو بدل گیا  مگر اس فرسودہ طریقۂ کار میں  کوئی تبدیلی واقع نہیں  ہوئی  جس نے امریکہ جیسی عظیم سپر پاورکوانحطاط اور زوال  کا شکار کردیا۔ سوال یہ  بھی ہے کہ کسی متبادل نظام  سیاست کے بغیر پرانے راستے پر چل کر کیا نئی منزل  تک رسائی ممکن ہوسکےگی ؟

جمہوری  دیو استبداد  ہرانتخاب سے قبل امریکی حکمرانوں  کو  استحصال کرنے والے سرمایہ داروں  کے ہاتھ کی کٹھ پتلی  بنادیتا ہے۔ وہ اپنی ناکامی کی پردہ داری کرکے مقبولیت بڑھانے کی خاطر بین الاقوامی  دہشت گردی پر  مجبور ہو جاتے ہیں ۔ امریکی عوام کا مفاد پیچھے چھوٹ جاتا ہے اور سیاستدانوں  کے فائدے کو اولیت حاصل ہوجاتی ہے۔ ٹرمپ نے قدامت پسند اسلامی دہشت گردی کو  اکھاڑ پھینکنے کا اعلان کیا۔ اس سے ان کی مراداگر داعش ہے تو انہیں  یاد کرنا چاہئے کہ داعش کی تشکیل  اور پرورش کیلئے وہ ہیلری کلنٹن  کو یعنی امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرا چکےہیں ۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ صہیونیت کی بیخ کنی  کے بغیرکیادہشت گردی کا قلع قمع ممکن ہے؟ اگر نہیں  تو اسرائیل کی بھرپور حمایت کے بعد دہشت گردی کا ماتم کیا  محض ڈرامہ بازی نہیں  ہے؟ امریکہ کی یہی  منافقت اس  کے انحطاط  اور زوال کی وجہ ہے جس کا اعتراف ان کی تقریر میں  موجود ہے۔ ویسے  ٹرمپ واقعی اپنے آپ کو بین الاقوامی سیاست سے الگ کرسکیں  تو  یہ امن عالم کیلئے فالِ نیک ہوگا مگر اس کے امکانات مفقود ہیں  ایسے میں  صدر ڈونالڈ کی  ’’ اچھے دن ‘‘ والی اس پرجوش تقریر کو سن کر  بے ساختہ جاں  نثار اختر کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎

ہم نے انسان کے دکھ درد کا حل ڈھونڈ لیا                کیا برا  ہے جو یہ  افواہ اڑا دی جائے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close