آج کا کالم

ڈونلڈ ٹرمپ: دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

ڈاکٹر سلیم خان

جمہوری نظام کا  فریب یہ ہے کہ وہ   اول تو عوام الناس  کو  قادرِ مطلق ہونے کی خوش فہمی کا شکار کرتا ہے۔  پھر اس کی آڑ میں حکمراں کو  ایک مدت خاص تک  سیاہ و سفید کا مالک بنادیتا ہے۔  کہنے کو   اسے قابو میں رکھنے کے لیے ایوان پارلیمان ہوتی ہے لیکن اس کی ہیکڑی کے چلتے وہ بھی بیکارو بے وزن ہوجاتی ہے۔ اس کا نظارہ دنیا کی وسیع ترین جمہوریت ہندوستان میں بھی نظر آتا ہے جہاں کابینہ اور وزارت دفاع کو بالائے طاق رکھ کر پی ایم اور وزیراعظم رافیل کا سودہ کردیتے ہیں نیز  عظیم ترین جمہوریت امریکہ میں بھی جہاں صدر مملکت ایمرجنسی لگانے سے بھی نہیں چوکتا۔   امریکہ کے لوگ اکثر حزب اختلاف  کو ایوان پارلیمان  میں اکثریت سے نواز تے ہیں تاکہ  صدر محترم پر لگام کسی رہے لیکن وہاں بھی آئین نے ایمرجنسی کا چور دروازہ مہیا کررکھا ہے۔ اس کے ذریعہ جمہوری حکمراں اپنی دلچسپی کے معاملات میں کانگریس کے حقوق  سلب کرسکتا ہے۔ امریکی آئین کی مذکورہ  گنجائش کا احساس لوگوں کو اس لیے نہیں ہوتا کہ اس کا استعمال شاذو نادر ہوتا ہے۔  ڈونلڈ ٹرمپ نے اس راز کو بھری بزم میں  فاش کر دیا۔

 امریکی دستور کے مطابق قومی بحران کی صورت میں ملک  کے اندرایمرجنسی کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔  قومی بحران کیا ہے اس کی واضح  تعریف دستور کے اندر موجود نہیں ہے اس لیے ایک طبقہ جسے بحرانی صورتحال کہتا ہے دوسرا اس کا انکار کردیتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں  میکسیکو کی سرحد سے آنے والے تارکین وطن کی وجہ سے ملک بحرانی صورتحال سے دوچار  ہے لیکن امریکی کانگریس کو وہ اپنے اس خیال خام کا قائل  کرنے میں ناکام رہے  ایسے میں ان کو چاہیے تھا کہ خود قائل ہوجاتے لیکن  اس کی راہ میں  مفاد آڑے آگیا۔ انانیت  پسندی نے  ان کے لیےسیاسی مفاہمت کو پس پشت ڈال من مانی کرناآسان کردیا۔  قومی ایمرجنسی کا اعلان کرکے  ٹرمپ نے خصوصی اختیارات حاصل کرلیے اور اب اس  کابھرپور استعمال کیا جائے گا کیونکہ  اب وہ  فوج اور ناگہانی آفات کے لیے مختص بجٹ میں سے سرمایہ نکال کر  دیوار کی تعمیر کرنے کے مختار ہوگئے ہیں۔

امریکہ کے  ایوان کے اندر اور باہر ذرائع ابلاغ میں بحث جاری ہے کہ آیا امریکہ کی جنوبی سرحد پر ایسے ہنگامی حالات ہیں یا نہیں کہ  جن کی وجہ سے ایمرجنسی لگانی پڑے۔ آئین میں چونکہ ایمرجنسی کی وضاحت نہیں ہے اس لیے حکمراں جسے چاہتے ہیں  سنگین حالات قرار دے دیتے ہیں۔  ذرائع ابلاغ طوطے کی مانند بغیر کسی تفتیش کے اسے دوہراتا رہتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق  نومبر کے دوران سرحد  سے تقریباً ہر روز دو ہزار افراد کو گرفتار یا واپس بھیجا جاتا رہا ہےجو ایمرجنسی کے مساوی  ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ  مجرموں اور اس قسم کے دوسرے گروہوں کو اپنے ملک میں آنے سے روکنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔  یہ لوگ  نہ جرائم پیشہ ہیں  اور نہ ہی دہشت گرد ہیں۔   اپنے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کرنے کے لیے آنا کوئی جرم نہیں ہے اور پھر جس تعداد کا ذکر کیا گیا ہے وہ بھی تصدیق طلب ہے۔  اس آمدورفت  کو روکنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو کے ساتھ سرحد پر دیوار تعمیر کرنا سراسر زیادتی ہےلیکن جمہوریت کے طفیل یہ ظلم جائز ہوگیا ہے اسی لیے علامہ اقبال نے کہا تھا  ؎

دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب

 تُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری

اس قضیہ میں اول  تو قصر ابیض  نے ایک بیان میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ حکومتی شٹ ڈاؤن کو ختم کرنے کے لیے بارڈر سکیورٹی کے بل پر تو دستخط کر دیں گے مگر سرحدی دیوار کے اپنے مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کانگریس کو نظر انداز  کر کے دیوار کی تعمیر کے لیے فوجی فنڈز کا استعمال کریں گے۔ جس کانگریس کی وہ ان دیکھی کررہے ہیں اس میں اکثریتی جماعت  ڈیموکریٹکپارٹی نے صدر ٹرمپ کی اس حرکت  کو  طاقت کا ’انتہائی ناجائز استعمال‘قرار دیاہے۔اس کے برعکس وائٹ ہاؤس کی  ترجمان   سارہ سینڈرز  انتخابی مہم  کے دوران دیوار کی تعمیر کا  عہد یاد دلاکرفرماتی ہیں ’ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر دیوار کی تعمیر، باردڑ سیکورٹی اور ہمارے ملک کی حفاظت کا وعدہ پورا کر رہے ہیں۔‘ یہ نصف  سچ ہے مگر اس وقت  ٹرمپ نےڈینگ مارتے ہوئے  دیوار کی تعمیر کا خرچ  میکسیکو کی حکومت سے وصول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کام کے لیے  وہ میکسیکو کی حکومت تو دور خود امریکی کانگریس کو بھی وہ راضی نہیں کرسکے اس لیے ان کو چاہیے تھا کہ یہ احمقانہ خیال اپنے دماغ سے نکال دیتے لیکن ٹرمپ یا مودی جیسے رعونت پسند رہنما سے یہ توقع کرنا خام خیالی ہے۔

معمر ڈیموکریٹس رہنما چک شومر نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کے مطابق  ’قومی ایمرجنسی کا اعلان ایک غیر قانونی عمل اور طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صدر ٹرمپ اس اقدام کے ذریعے دیوار کی تعمیر کی ادائیگی میکسیکو سے کرانے کے وعدے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔’وہ میکسیکو، امریکی عوام اور ان کے منتخب نمائندگان کو اس  بے فائدہ اور مہنگی دیوار کی تعمیر کے بارے میں قائل کر نے میں بری طرح ناکام رہے  ہیں۔ اس لیے  اب  وہ   کانگریس کو پس پشت ڈال کر ٹیکس دہندگان کو اس مصیبت میں ڈالنے کی سعی کررہے  ہیں‘۔

 ٹرمپ کو اپنا یہ ارمان پورا کرنے کے لیے ۷ء۵ ارب امریکی ڈالر درکار ہے لیکن کانگریس نے اس کام کے ۳ء۱ ارب ڈالر سے زیادہ کی منظوری نہیں دی۔  اب وہ اس خسارے کو پورا کرنے کے لیے فوجی اور آفت ناگہانی کے لیے مختص رقم کو استعمال کریں گے لیکن اس بیچ اگر کو آسمانی سلطانی آجائے تو کیا ہوگا؟ کیا دیوار کا کام روک دیا جائے گا اوراس  صورت میں نام نہاد  قومی بحران کا کیا بنے گا؟ ڈونلڈ ٹرمپ برسوں  سے  تعمیراتی کاروبار کرتے رہے ہیں۔  امریکیوں کو یہ دیکھنا چاہیے کہ اس دیوار کی تعمیر کون کرے گا ؟  بعید نہیں کہ یہ سرکاری خزانے سے اپنا ذاتی کاروبار فروغ دینے کی گھناونی چال ہو۔

ہندوستان میں  جس طرح سارے حکومتی تنازعات عدالت میں طے ہوتے ہیں امریکہ میں بھی یہی ہوتا  ہے۔ سی بی آئی اور رافیل  کے معاملات  میں جس طرح عدالت سے رجوع کرنا پڑا اسی حکمت عملی امریکہ میں بھی مجبور ہونا پڑا۔  ایوان زیریں کی صدر  نینسی پلوسی نے  صدر ٹرمپ کے ایمرجنسی والے اعلان کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکی عدالت کا فیصلہ ٹرمپ کی مدت کار کے بعد آئے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عدالت کوئی ایسا فیصلہ کرے جس سے ’باغباں بھی خوش رہے، راضی رہے صیاد بھی‘ یعنی کچھ باتیں ریپبلکن کے حق میں ہوں اورکچھ  ڈیموکریٹس کو اطمینان دینے والی ہوں۔  ہندوستانی جمہوریت  کے اندر بھی  بابری مسجد جیسے تنازعات  میں انصاف   کو بالائے طاق رکھ کر اسی طرح کا توازن قائم رکھنے کی سعی کی جاتی ہے۔

 اس قانونی گورکھ دھندے  سے ہٹ کر انسانی نقطۂ نظر دیکھا جائے تو اپنے آپ کو  کسی خطۂ زمین کے سارے وسائل کا مالک سمجھ لینا۔  ہمسایہ ممالک کے لوگوں کو ان سے مستفید ہونے سے  بزور قوت روکنا۔  اس مقصد کے لیے دیوار بناکر اس پر کروڈہا کروڈ ڈالر پھونک دینا قوم پرستانہ  سفاکی کی علامت ہے؟ میکسیکو سے آنے والے مجبور لوگ اپنی محنت و مشقت سے اپنا پیٹ پالتے ہیں۔  دنیا کی تاریخ میں کبھی بھی نقل مکانی کرنے والوں پر اس طرح کی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ یہ قوم پرستی اور جمہوریت کی دین ہے کہ اس نے اس جبر و ظلم  کو جائز و خوشنما   بنادیا۔  اس  فاسدنظام میں  عوام کو اعتراض  و تنقید  کی محدود  آزادی دی جاتی   ہے تاکہ  وہ بحث و مباحثہ کرکے اپنے اندر  کی بھڑاس نکال لیاکریں  لیکن حکمرانوں  کو چھوٹ ہوتی  ہے کہ وہ  اپنی مرضی سے جو من میں آئے کرتے پھریں۔  اس طرح گویا  ایک طرف بحث  او حتجاج ہوتاہے اور دوسری جانب عیش   و مستی  جاری و ساری  ر ہتی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ  نے پچھلے ماہ  نادانستہ طور پر   اپنے ملک کے جمہوری  نظام  کا بھیانک چہرہ   بے نقاب  کردیا۔   انہوں نے امریکی  منتخبہ ایوان پارلیمان کو بالائے طاق رکھ کر قومی  ایمرجنسی نافذ کرکےنظام جمہوریت کو  عملاًمعطل کردیا۔  اپنے مخالفین کے  بے دردی کے ساتھ پر کتر کے   ٹرمپ نے  اس نظام  کا جنازہ  اٹھا دیا۔ ہندوستان جیسے ملک میں ایمرجنسی کو کلنک مانا جاتا ہے لیکن امریکی صدر اس میں عار محسوس نہیں کرتے۔ٹرمپ اوبامہ کی طرح گھما پھرا کر وار نہیں کرتے بلکہ  سامنے سے حملہ  آور ہوتے ہیں۔  وہ ببانگ دہل اپنی مرضی چلاتے  ہیں لیکن  کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔   جمہوریت کو بے نقاب کرنے  کی جو عظیم خدمت  صدر ڈونلڈ ٹرمپ انجام  دی ہے  اس کے لیے مغرب کے دانشور انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔  صدر ٹرمپ کا حالیہ اقدام علامہ اقبال کے ان ا شعار کی عملی تفسیر ہے؎

ہے وہی سازِ کُہن مغرب کا جمہوری نظام

جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close