آج کا کالم

ڈِرگ مافیا کے آگے امریندر حکومت بے بس؟

کوئی حکومت یہ کہے کہ وہ تین لاکھ ملازمین کا ڈوپ ٹیسٹ کرے گی، یہ عام واقعہ نہیں ہے، یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ پنجاب میں نشے کی حالت خطرے کے نشان سے بہت اوپر ہے۔

رويش کمار

جو پولیس پنجاب میں نشے کے اسمگلروں پر لگام لگاتی، اب حکومت اسی پولیس کی جانچ کرے گی کہ اس میں سے کتنے نشے کے غلام ہو چکے ہیں۔ پولیس ہی نہیں پنجاب کے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال ضروری ہے کہ وہ نشہ کرتے ہیں یا نہیں۔ حکومت کو بھی حکومت سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ فلموں سے لے کر میڈیا میں شائع خبروں کو یاد کیجیے۔ سسٹم کی مدد سے اسمگلروں نے پہلے معاشرے کو تباہ و  برباد کیا، اب وہی اسمگلر نظام کو اپنی زد میں لے چکے ہیں۔ کیا یہ کسی بھی حکومت کے لیے معمولی فیصلہ رہا ہو گا کہ آپ پانچ لاکھ ملازمین کی انکوائری کریں گے۔ پنجاب حکومت مسلسل ایک کے بعد ایک فیصلے لیتی جا رہی ہے، مگر اس فیصلے پر رک کر دیکھیے کہ جب حکومت کو حکومت پر شک ہے تو پھر نشے نے سماج میں کیا کہرام مچایا ہوگا۔ گزشتہ چند دنوں سے پولیس سے متعلق جو خبریں آرہی ہیں وہ اچھی نہیں ہیں۔

یکم جولائی کو رام پورا فُل میں کانگریسی نیتا کے بیٹے کو نشہ فروخت کرتے وقت لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ ایس ایچ او اور منشی نے پچاس ہزار روپے لے کر ملزم کو چھوڑ دیا۔ لیکن جب لوگوں نے اسے محلے میں گھومتے دیکھا تو غصہ ہو گئے اور پردرشن کرنے لگے۔ حکومت نے فوری طور پر جانچ کی اور ایس ایچ او اور منشی کو گرفتار کر لیا۔ فیروز پور میں ڈی ایس پی دلجیت سنگھ کو معطل کیا گیا، الزام تھا کہ انہوں نے ایک خاتون کو نشے کی لت لگا دی۔ جالندھر میں تعینات انسپکٹر اجيت سنگھ کو گرفتار کر لیا گیا۔ الزام تھا کہ یہ ڈرگ مافیا کے ہاتھوں کٹھ پتلی تھے۔ گروداس پور میں ایس ایچ او راجیندر کمار اور سپاہی جتندر سنگھ برطرف کر دیے گئے۔

کوئی حکومت یہ کہے کہ وہ تین لاکھ ملازمین کا ڈوپ ٹیسٹ کرے گی، یہ عام واقعہ نہیں ہے، یہ خطرے کی گھنٹی ہے کہ پنجاب میں نشے کی حالت خطرے کے نشان سے بہت اوپر ہے۔ کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ان کے ڈوپ ٹیسٹ کے تین درجن ہی سینٹر ہیں مگر یہاں پانچ لاکھ لوگوں کے ڈوپ ٹیسٹ کی بات ہو رہی ہے۔ سرکاری ملازمین جب مقرر کیے جائیں گے تب ڈوپ ٹیسٹ ہوگا اور جب پروموٹ ہوں گے تب ڈوپ ٹیسٹ ہوگا۔ 2016 میں اکالی بھاجپا حکومت نے بھی بحالی کے وقت 7200 سپاہیوں کا ڈوپ ٹیسٹ کرایا تھا۔ پنجاب کے اخبار پلٹیے، وہاں نشے سے متعلق خبریں خوب ملیں گی۔ جانے ان خاندانوں پر کیا گزرتی ہو گی جن کا کوئی قریبی نشے کی زد میں آگیا  اور مارا جا رہا گیا۔ 5 جولائی کے اخبارات کا کچھ سیمپل آپ کے لیے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

پنجاب کیسری کی خبر کہتی ہے کہ لدھیانہ اور ممدوٹ میں چٹے نے دو نوجوانوں کی جان لی ہے۔ ایک نوجوان کی موت اوورڈوذ کی وجہ سے ہوئی ہے۔ امرتسر سے خبر شائع ہوئی کہ پنجاب کے خفیہ محکمہ نے 15 کروڑ کی ہیروئن کے ساتھ 3 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ یہ ہیروئن پاکستان سے لایا جا رہا تھا۔ امر اجالا نے اپنا پنجاب صفحے پر خبر شائع کی ہے کہ لدھیانہ میں نشے سے چھوٹے بھائی کی موت، بڑے کی حالت نازک۔ ایک کی عمر 25 سال اور دوسرے کی 32 سال ہے۔ پنجاب کیسری کی خبر ہے کہ موہالی میں کانگریسی نیتا کا بیٹا ہیروئن کی اسمگلنگ کر رہا تھا۔ دینک بھاسکر میں خبر شائع ہوئی کہ نشے کی وجہ سے ترنتارن میں 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 33 دنوں میں 46 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ ان خبروں کی وجہ سے پنجاب حکومت حرکت میں ہے، مگر  راستہ نہیں مل رہا کہ پنجاب کو نشے سے کیسے بچایا جائے۔ ابھی تک نشے کے نیٹ ورک کی کمر نہیں توڑی جا سکی ہے۔

وزیر صحت نہیں مانتے کی تمام اموات ڈِرگ کی وجہ سے ہوئی ہیں مگر حکومت جانچ بھی کر رہی ہے۔ نشے پر خبر رکھنے والے صحافی بتاتے ہیں کہ ڈِرگ نہ ملنے اور ملنے کی وجہ سے اموات ہو رہی ہیں۔ نہیں ملنے پر نئی نئی طبی ادویات کا كنبنیشن ٹرائی کرتے ہیں جس کے اوورڈوذ سے موت ہو جا رہی ہے۔ زیادہ تر اموات پنجاب کے ماجھا علاقے میں ہوئی ہیں۔

ہمارے ایک اور ساتھی ایس بی شرما نے بتایا کہ بھٹنڈا میں 25 سال کا ببّو کھیتوں میں مرا پڑا ملا۔ اس کے پاس سے انجکشن اور سيرنج ملی ہے۔ گھوڑوں کے فارم میں کام کرنے والا ببّو نشے کی زد میں آ گیا۔ ایک بیٹی ہے اور بیوی بھی ہے۔ والد کہتے ہیں کہ اوورڈوذ کی وجہ اس کی موت ہوئی ہے۔ تلونڈی ساب میں کے راما منڈی میں 11 جون کو کانگریس کے پارشد پنيش مہیشوری کے 26 سال کے بھائی کمل چٹے کے شکار ہو گئے۔ اوورڈوذ سے موت ہو گئی۔

ہمارے ساتھی سورج بھان نے فریدکوٹ کے كوٹ كپورا سے ایک رپورٹ بھیجی تھی۔ اس ویڈیو کو دیکھ لیجیے آپ کو پنجاب کی حالت کا اندازہ ہو جائے گا۔ 22 سال کے نوجوان کی لاش کہیں پڑی ملی۔ اس کے ہاتھ میں نشے کا انجکشن تھا۔ آپ اسے دیکھ کر مشتعل ہو سکتے ہیں مگر سوچیے جن خاندانوں کو نشے نے کھا لیا ہے ان پر کیا گزر رہی ہوگی۔ دکھانے کا یہی مقصد ہے کہ جتنا کیا جا رہا ہے وہ خانہ پوری نہ ہو اور جو ہو رہا ہے اس سے بھی زیادہ ہو۔ ماں کہتی ہے کہ وہ نشے کی زد میں تھا، پولیس کہتی ہے نشے سے نہیں کالا پیلیا سے مرا ہے۔

نشے کے مسئلے کو پنجاب کی شان سے جوڑ دینا تو کبھی ووٹ کے لیے استعمال کرنا اور پھر جس کا تس چھوڑ دینا، اس سے کام نہیں چلے گا۔ حکومت نے مناسب طور پر وہ کام نہیں کیا جس سے نشے کے نیٹ ورک کی کمر ٹوٹ جائے۔ حکومت بننے کے چار ہفتے میں نشے کو ختم کرنے کا دعوی کیا تھا کیپٹن صاحب نے۔ اب ایک سال بعد وزیر داخلہ کو لکھ رہے ہیں کہ نشے کے خلاف جو قانون ہے جسے ہم این ڈیپی ایس ایکٹ کہتے ہیں، اس میں پھانسی کو بھی جوڑا جائے۔

یہ حالات ہیں پنجاب کے۔ دہلی کے ودھی سینٹر فار لیگل پالیسی نے پنجاب میں ڈِرگز کے 13 ہزار سے زائد مقدمات پر ریسرچ کیا ہے۔ اس پر ریسرچ اس لیے کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ پنجاب میں ناركوٹك ڈِرگز اینڈ سائكوٹروپك سبسٹینس ایکٹ 1985 اثر دار ہے یا نہیں۔ اسی ایکٹ کو این ڈيپی ایس ایکٹ کہا جاتا ہے۔ وِدھی لاء سینٹر کا کہنا ہے کہ اس پر مکمل ریسرچ ہونا چاہیے تھی تاکہ سمجھا جا سکتا کہ حکومت کے پاس جو قانونی دائرے ہیں وہ نشے کے نیٹ ورک کو روکنے میں کتنے کارگر ہیں۔ ہم اس پر علیحدہ سے تفصیل سے بات کریں گے لیکن اس ریسرچ سے منسلک نیہا سنگھل سے ہم نے پوچھاکہ پھانسی کی سزا دے دینے سے کیا نشہ کا نیٹ ورک ٹوٹ جائے گا، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہر چیز کا علاج آج کل پھانسی ہو گیا ہے تاکہ عوام کو لگے کہ بڑا بھاری قدم اٹھا لیا گیا ہے۔

نیہا کا کہنا ہے کہ کہیں پھانسی کی سزا جوڑ کر بہار جیسے حالات نہ ہو جائیں جہاں شراب بندی کے بعد لاکھ سے زیادہ غریب لوگ بند ہیں۔ نیہا کی ایک بات غور کرنے کے قابل ہے کہ پنجاب میں جتنے بھی قیدی ہیں ان میں سے 41 فیصد سے زائد این ڈيپی ایس ایکٹ کے تحت سزا يافتہ ہیں۔ کیا یہ بہت زیادہ نہیں ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ ان میں سے نشے کے نیٹ ورک سے منسلک کتنے لوگ ہیں اور اس کے شکار کتنے لوگ ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ پکڑنے کے نام پر نشیڑی اندر ہیں اور اسمگلر کسی اور کو نشیڑی بنا رہے ہیں۔

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close