آج کا کالم

ڈھونگی دیش بھکتی اور پاکھنڈی سوریہ نمسکار

ڈاکٹر سلیم خان

وارانسی ایک تاریخی  شہر  ہے۔ فی الحال وہ  وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب کی حیثیت سے معروف ہے لیکن صدیوں سے اپنے  گھاٹ اور مرگھٹ کیلئے مشہور ہے۔ یہاں موجود منی کارکنکا نامی شمسان   گھاٹ پر 24 گھنٹے ارتھی جلتی  ہے۔ رکشا بندھن کے دن جب  گنگا میں طغیانی آئی تو وارانسی کی سطح آب میں   ہر ایک گھنٹے میں تین سے چار سینٹی میٹر کا اضافہ ہونے لگا۔ رات 12 بجے تک  گنگا میاّ خطرے کے نشان یعنی 26ء71 کو پھلانگ کر 48ء71 پر پہنچ گئی۔ سیلاب نے سارے گھاٹ  غرقاب کردئیے۔ لاشوں کوگلیوں  پر نذرِ آتش کیا جانے لگااور گنگا آرتی چھتوں پر ہونے لگی۔ سیلاب زدگان کو نکالنے کیلئے کشتیوں کا استعمال ہو رہا تھا۔ 10 ہزار لوگ متاثر ہوئےتھے لیکن ان میں سے کسی کو اپنے رکن پارلیمان وزیراعظم کا خیال نہیں آیا۔ ان میں سے کسی نے راکھی بھیج کر رکشا کی گہار نہیں لگائی۔ اس لئے کہ اپنے رائے دہندگان کے دکھ درد سے غافل  وزیراعظم نے کوئی بیان تو کجا ٹویٹ  تک کرنے کی زحمت نہیں کی۔

کرناٹک میں رکشا بندھن ہی کے دن  ہندو جاگرن ویدیکا کے ہاتھوں  بیل کی اسمگلنگ کے شک میں مارے جانے والے  بی جے پی کے کارکن  پروین پجاری  کے پسماندگان کو ہندو ہردیہ سمراٹ کے آگےدامن  پھیلانے کا خیال بھی  نہیں آیا۔ پروین کے ساتھ شدید زخمی ہونے والے  اس کے نائب اکشے دیودیگا یا اس کی بہن نے بھی  رکشا بندھن کے  دن اپنے بھائی کی سورکشا کی بھیک نہیں مانگی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اپنی ہی  پارٹی کے  وزیراعظم سے گئورکشکوں سے سورکشا طلب کرتی  لیکن یہ نہیں ہوا۔ کرناٹک تو دور وزیراعظم کی اپنی ریاست گجرات میں رکشا بندھن سے تین دن قبل یوم آزادی کا جشن مناکر واپس جاتے ہوئے زدوکوب ہونے والے  اونا کے  دلتوں نے بھی  وزیراعظم  کو راکھی بھیج کر سورکشا کی دہائی نہیں دی۔ یہ سب  اس لئےہوا کہ  لال قلعہ کی تقریر میں وزیراعظم نےبلوچستان، پاک مقبوضہ کشمیر اور گلگت کےغیروں کو تو یادرکھا مگر اپنوں کو  بھول گئے۔ اس موقع پر ساحر لدھیانوی کا نغمہ بے ساختہ یاد آتا ہے ؎

غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم، اے جانِ وفا یہ ظلم نہ کر

رہنے دے ابھی تھوڑا سا بھرم، اے جانِ وفا یہ ظلم نہ کر
ہم چاہنے والے ہیں تیرے، یوں ہمکو جلانا ٹھیک نہیں

محفل میں تماشا  بن  جائیں، اس  درجہ ستانا   ٹھیک   نہیں

 مر جائیں گے مٹ جائیں گے ہم، اے جانِ وفا یہ

وزیراعظم اکیلے پاکستانیوں کے ہمدرد و بہی خواہ  نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پر پاکستان فوبیا سوار ہو گیاہے۔ جب بھی وہ کسی مشکل میں مبتلاہوتے ہیں نہ جانے کیوں انہیں پاکستان یاد آنے لگتا ہے۔ قومی انتخاب سے قبل جب نتیش کمار نے نریندر مودی کی امیدواری کے خلاف علم بلند کیا  تو بہار کے سابق وزیر گری راج سنگھ نے کہا تھا جو لوگ مودی کے مخالف ہیں وہ پاکستان چلے جائیں۔ انہوں نے ایک جلسہ عام میں یہ اعلان کیا تھا بہت جلد یہ سارے مخالفین  بھارت میں نہیں پاکستان میں ہوں گے۔ اس بیان کے  عوض وہ  وزیر بنا دئیے گئے لیکن ان کی  حلف برداری کی تقریب میں پاکستانی وزیراعظم بذاتِ خود موجود تھے۔ گویا دوسروں کو پاکستان بھیجنے والوں نے اقتدار ملتے ہی پاکستان کو اپنے گھر میں بلا کر گلے لگا لیا تھا۔

گری راج سنگھ  کی پچھلے دنوں ایک اور متنازع ویڈیو سوشل میڈیا میں آئی  تھی جس میں انہوں مسلمانوں  کے بجائےہندووں پر اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ کوبرا ڈاٹ کام کے ذریعہ جاری کردہ ویڈیو میں گری راج برملا کہتے ہیں کہ ہندو جیسا ہیجڑا کوئی  قوم نہیں ہے۔ اگر ہندو ہوتا تو کیا پٹنہ میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگتا۔ سب ایک ایک ڈھیلا پھینک دیتے ۔ اس کے معنیٰ ہوئے گری راج نے اپنے ہمنواوں کو سنگسار کرنے ترغیب دی۔ وہ آگے بولے ہندووں کے جذبات ختم ہورہے ہیں۔ ویسے اگر مخنس والا بیان گری راج کے بجائے اعظم خان کا ہوتا تو انہیں کب کا بنا پاسپورٹ اور ویزا پاکستان روانہ کردیا جاتا۔ گری راج تو کجا بہارکے صوبائی انتخاب میں بی جے پی کے قومی صدر کوجب  یقین ہوگیا کہ اب یہاں دال نہیں گلے گی تو انہوں نے اعلان کردیا کہ اگر انتخاب میں بی جے پی ہار گئی تو پاکستان میں پٹا خے  پھوٹیں  گے۔ بہار کے لوگوں نے سوچا پاکستان میں پٹاخے چھوٹیں یا بم پھوٹیں اپنی بلا سے۔ ہمیں  اس سے کیا مطلب؟  ہم تو اپنی ریاست  کے اندرلالٹین کی روشنی میں تیر چلا کرکمل کی پنکھڑیاں بکھیر دیں  گے۔ اس طرح  دہلی کی مانند گاندھی سوچھ ابھیان کا  جھاڑو کمل  پر چل گیا ۔

 بی جے پی نےبہار کی عبرتناک شکست  سے سبق نہیں سیکھا۔ اتر پردیش کے گری راج سنگھ یعنی   سنگیت سوم نے  اب اتر پردیش کے صوبائی  انتخاب کو ہند پاک جنگ قرار دے دیا۔ سنگیت سوم ایک زمانے تک  سماجوادی پارٹی میں تھے اور اس وقت انہوں نے ایک بیف برآمد کمپنی میں شراکت داری بھی کی تھی لیکن اب وہ بہت بڑے گئو بھکت بنے ہوئے۔ ایکطرف تو وہ  بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں لیکن اسی کے ساتھ مظفر نگرفساد کے نامزدملزم بھی ہیں۔ انہوں نے میرٹھ کے اندر اپنی ایک تقریر میں  صوبائی انتخاب کے حوالے سے کہا ’’یہاں لڑائی ہندوستان اور پاکستان کی ہے۔ یہ دھیان میں رکھنا کہ ایک طرف ہندوستان ہے اور دوسری طرف پاکستان ہے۔ تمہیں کیا کرنا ہے سوچ لو! کرنا کیا ہے یکطرفہ کرلو معاملے کو۔ ‘‘ اترپردیش بی جے پی کے صدر کیشو پرشاد موریہ نے  اس بیان کو  مسترد کرکےکہا ’’یہ نہ بی جے پی کابیان ہے اور نہ ہم اس کی حمایت کرتے ہیں  لیکن ہم اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کریں گے‘‘۔ اس طرح کے بیانات بی جے پی  شدیدجھنجھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔ قومی انتخاب سے قبل بی جے پی کو اس طرح کا ہیجان پیدا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ لیکن بہار میں  اپنی ڈوبتی نیاّ کو پار لگانے کیلئے پاکستان کو یادکیا گیااور اب  اتر پردیش میں یہ ہورہا ہے۔

 دہلی کے اندرحلف برداری کی تقریب شریک ہونے کیلئے توخیر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف مودی جی کی دعوت پرآئے تھے لیکن ہمارے وزیراعظم تو بن بلائے لاہور پہنچ گئے نیز امن و آشتی کے ایک نئے دور کا آغاز کرکے لوٹے لیکن اب وہ موسم بدل گیا ہے۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے  ناکام پاکستانی دورے کے بعد  وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے پاکستان جانے سے توبہ کرلی ہے۔ وزیردفاع منوہر پریکر نے تو پاکستان جانے کو جہنم میں جانے جیسا قرار دے دیا ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر وزیردفاع کو یہ بیان دینے کی ضرورت  کیوں پیش آئی اس لئے انہیں تو نہ  کسی نے بلایا ہے اور نہ وہ بن بلائے جانے والوں میں سے ہیں ۔ وزیردفاع کو چاہئے کہ وہ   اپنا وقت فضول کی بیان بازی میں صرف کرنے کے بجائےآرمی چیف دلبیر سنگھ سہاگ  اور ساتھی وزیروی کے سنگھ کے درمیان چھڑی ہوئی مہابھارت  کی صلح صفائی  میں لگائیں۔ سچ تو یہ ہے اگر  بحریہ کی آبدوز سے متعلق خفیہ  کاغذات کے منظر عام پر آنے کا جو شرمناک واقعہ رونما ہوا ہے اس پر وزیردفاع منوہر پریکر کو مستعفیٰ ہوجانا چاہئے۔

وزیر دفاع یوں تو پڑھے لکھے آدمی ہیں لیکن سنگھ پریوار کی تربیت نے انہیں خاصہ بدزبان بنا دیا ہے۔ اس سے قبل انہوں نے چینیوں پر چوٹ کرتے ہوئے کہا تھا آج کل میں دیکھ رہا ہوں کی گنیش کے مجسمہ کی آنکھ چھوٹی ہوتی جارہی ہے۔ اس کی وجہ ان کا چین سے بن کر آناہے۔ اس کے بعد کہہ دیا تھا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ دہشت گردوں کے ذریعہ کیا جائیگا۔ جب پاکستان نے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کی مذمت  کی تو آندھرا کی مرچی لگنے والا سڑک چھاپ بیان دے دیا اوراب  پاکستان کے جہنم زار ہونے کا اعلان فرمادیا۔ وزیردفاع نے تو خیر کبھی پاکستان کی شکل ہی نہیں دیکھی لیکن حال میں پاکستان سے لوٹ کرآنے والی کانگریس کی سابق رکن پارلیمان  رمیا نے کہہ دیا  پاکستان جہنم  نہیں ہے۔ رمیا کی تائید  پاکستان کا دورہ کرنے والےایک وفدکے سربراہ کیلاش نارائن سنگھ دیو نے کردی  اور بولےپاکستانی سیاستداں نرم خو ہیں اور انہوں نےضابطے سے ہٹ کر  ہمارے عیش آرام کا خیال رکھا بلکہ ایک نشست میں جب کشمیر اور بلوچستان پر سوالات کئے گئے تو کنونیر نے متنازع موضوعات کو چھیڑنے سے منع کردیا ا۔ س وفد میں بی جے پی کے رکن پارلیمان دیو جی پٹیل بھی موجود تھے اور انہوں نے اس  بیان کی تردید نہیں کی۔

کرناٹک میں بی جے پی کے نقطۂ نظر سے اس کے اپنے کارکن پروین پجاری کی گئو رکشکوں کے ہاتھوں ہلاکت اور اکشے دیودیگا  کاشدید زخمی ہونا بڑی رسوائی کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس کی جانب سے توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی والوں نے ایمنسٹی کے دفتر پر ہلہّ بول دیا اور تو اور ایمنسٹی پر بغاوت  کا الزاجڑ دیا۔ ایک معروف بین الاقوامی ادارے  کا غالباً پہلی مرتبہ ایسے مہان دیش بھکتوں سے سابقہ پڑا ہوگا۔ اس حرکت میں نیک نامی کم اور بدنامی زیادہ تھی اس لئے پردہ پوشی کی خاطر رمیا کے خلاف ایک وکیل  وٹھل گوڑا نے نجی  پٹیشن داخل کرکے پولس  سے رمیا کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کی گزارش کی۔ رمیا کا قصور تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا پاکستان جہنم نہیں ہے وہاں بھی ہمارے جیسے لوگ رہتے ہیں لیکن وزیراعظم تو اپنے دورے کے بعد پاکستان اور نواز شریف کی دل کھول کے تعریف کرچکے ہیں۔ اڈوانی جی نے یہاں تک کہہ دیا تھا  ہر پاکستانی میں چھوٹا سا ہندوستان اور ہندوستانی میں ننھا سا پاکستان رہتا ہے۔ کوئی بعید نہیں گوڑا جیسا کوئی سر پھرا گاندھی جی کے خلاف بھی مقدمہ دائر کردے جنہوں نے 13 ستمبر ؁1947 کو کہا تھا نہ  ہندوستان جہنم ہے اور نہ پاکستان۔ ویسے سپریم کے مطابق جب تک کہ کوئی عملاً تشدد میں ملوث نہ ہو اس پر بغاوت کا الزام درست نہیں ہے۔

بی جے پی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ گئو رکشک دن بہ دن بے قابو ہوتےجارہے ہیں ۔ یہ لوگ نہ ان کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں اور نہ حمایت۔ اس لئے نت نئے طریقوں سے عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرر ہے ہیں۔ گئو بھکتوں کا یہ عالم ہے کہ   پہلے تو گوشت دیکھتے ہی انہیں  پتہ چل جاتا تھا کہ یہ کس مویشی کا گوشت ہے اور وہ لیباریٹری کی رپورٹ آنے سے قبل ہی ملزم کو دستور ہند کے بجائے منو سمرتی کے مطابق قرار واقعی سزا دے دیتے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ گائے کی کھال اتارنے والوں کو دیکھ کر پتہ لگانے لگے کہ یہ گائے فطری موت مری ہے یا اس کو ذبح کیا گیا ہے  اور وہ اپنی خودساختہ شناخت کی بنیاد پر سزا نافذ کرنےلگے۔ ان کی مہارت مزیداضافہ ہوا تو ان  ٹرک میں موجود بیل یہ بتانے لگے کہ انہیں بیچنے کیلئے لے جایا جارہا ہے یا ذبح کرنے کیلئے ۔ معاملہ یہاں بھی نہیں رکا اور اب  تو یہ حال ہے کہ چرمی بیگ کو سونگھ کرمعلوم کرلیاجاتا ہے  کہ   وہ گائے کے چمڑے سے بنا  ہوا ہے یا کسی اور جانور کی کھال سے۔ ایسے ماہرین  مویشیات تو شاید افریقہ کے جنگلوں میں بھی نہیں پائے جاتے۔

مؤخرالذکر واقعہ کسی دیہات کا نہیں ممبئی شہر کا ہے جہاں  دن کے گیارہ بجے ایک    آٹو رکشا ڈرائیور نے اپنے پیچھے بیٹھے مسافر سے سوال کیا تمہارے جھولے سے بو آرہی ہے۔ مسافر نے بتایا یہ چمڑے کا بیگ ہے۔ بس کیا تھا وہ ڈرائیور آگ بگولا ہوگیا تم گائے کا چمڑہ استعمال کرتے ہو اور پھر ایک مندر سے قریب اپنے دو دوستوں کے پاس لے گیا۔ ان لوگوں کی غیر قانونی تفتیش   پر مسافر نے بتایا کہ وہ آسام کا رہنے والا ورون کشیپ بھیان ہے۔ یہ سن کر سوال کیا گیا وہی آسام جو بنگلادیش کے پاس ہے؟  اس بیچ وہ بیگ کو ٹٹول کر اس  کی قدروقیمت کا اندازہ لگا چکے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جانے دو براہمن ہے۔ اس دوران  مسافر رکشا کا نمبر لکھ چکا تھا اب اس نے ڈرائیور اس کا فون نمبر پوچھا تو ڈرائیور نے ڈانٹ کر کہا آج بچ کر جارہے ہو اس کو غنیمت جانو۔ کشیپ نے پولس میں شکایت لکھوانے کی کوشش کی تو این سی لکھ کر ٹرخا دیا گیا۔

یہ عجیب تماشہ ہے وزیراعظم توگئو رکشکوں کا ڈوسئیر تیار کرنے کا حکم دیتے ہیں اور انتظامیہ ایف آئی آر تک درج نہیں کرتا۔ ڈرائیور اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے تفتیش کی جائے تو وزیراعظم کے اس بیان کی تصدیق ہوجائیگی جس میں انہوں نے کہا تھا  ان گئو رکشکوں میں سے 80 فیصد جرائم پیشہ لوگ ہیں۔ وزیراعظم  کی  بات ممبئی پولس نے تو نہیں سنی لیکن  پنجاب کی پولس نے اس پر عملدارآمد کرتے ہوئے  گئورکشا دل کے سربراہ   ستیش کمارکو گرفتارکرلیا ۔ وہ گرفتاری کے خوف سے ورنداون میں روپوش تھا۔ کمار پر نقصان پہونچانے کی نیت سےاغواء اور غیر قانونی تحویل میں رکھنے کے الزامات ہیں۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 377 کے تحت اس پر لوطیت  یا بدفعلی کا بھی الزام ہے۔ یہ سنگین  شکایت ایک اغواء شدہ فرد نے ستیش کمار کے ساتھیوں پر لگایا تھا۔ اگرستیش کمار گئو ماتا کے بجائے  مدر انڈیا کی رادھا کا بیٹا ہوتا تووہ اسے زندہ نہ چھوڑتی۔

مہاراشٹرکی بی جے پی سرکار نے گزشتہ سال دعویٰ کیا تھا کہ عثمان آباد میں ایک بھی کسان کو خودکشی پر مجبور نہیں ہونے دیں گے لیکن ایک سال بعد پتہ چلتا ہے کہ خودکشی کرنے والے کسانوں کی تعداد میں 25 فیصد کا اضافہ ہوگیا اور یہ تعداد 136 سے بڑھ کر 172 تک پہنچ گئی۔ مراٹھواڑہ میں پر بھی 574 کے مقابلے 683 کسانوں نے خودکشی  لیکن سرکارکو اس پر کوئی ندامت نہیں  ہے وہ تو سوریہ نمسکار کے چکر میں پڑی ہوئی ہے۔ ممبئی  بلدیہ کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر بی جے پی والوں نے سوریہ نمسکار کے نام پر ایک نیا پاکھنڈ رچا۔ گزشتہ ایک سال سے میونسپل کارپوریشن میں شیوسینا اور بی جے پی کے درمیان نورا کشتی چل رہی ہے۔ بی جے پی والوں کی ہر قرارداد کو شیوسینا ناکام کردیتی ہے اس لئے اب کی بار بی جے پی کی کاونسلر سمیتا کامبلے نے سرکاری اسکولوں میں سوریہ نمسکار کو لازمی قراردینے کی تجویزکردی۔

بی جے پی کو یقین تھا کہ مسلمان سڑکوں پر اتر آئیں گے اور شیوسینا حسب روایت اس کی مخالفت کردے گی اس طرح  ہندو رائے دہندگان کو ورغلانے کا نادر موقع ہاتھ آجائیگا۔ شیوسینا بحث کے دوران خاموش رہی مگر آخر میں تائید کردی۔ مسلمانوں نے سڑک  پر آنے کے بجائےمہمورنڈم اور عدالت پر اکتفا کیا جس سے بی جے پی  کا  داوں ناکام ہوگیا۔ اصلی  سوریہ نمسکار تو سورج کے طلوع ہوتے وقت کیا جاتا اس وقت اسکول میں کوئی طالب علم ہی نہیں ہوتا۔ ویسے جن  اسکولوں لازمی درسی کتابیں تک ٹھیک سے پڑھائی نہیں جاتیں ان میں نقلی سوریہ نمسکار کون کرائے گا یہ جاننا بہت مشکل نہیں ہے۔

بی جے پی اور شیوسینا کے درمیان ریاست بھر میں جاری  نورا کشتی  ریو اولمپک میں طلائی تمغہ جیتنے والی  جاپانی خاتون پہلوان ریساکو کوائی کی یاد دلاتی ہے۔ ریسا  نے کامیابی  حاصل کرنےکے بعد مبارکباد دینے کیلئے آنے والے اپنے کوچ  کاجو ہیتوساکائی کو دو مرتبہ سب کے سامنے پٹخنی دی اور پھر اسے کندھے پر اٹھا کر دوڑ لگائی۔ بی جے پی  اور شیوسینا کا بھی یہی حال ہے۔ وہ ہر جیت کے بعد بھرے بازار میں ایک دوسرے کو دھوبی پچھاڑ دیتے ہیں۔ اپنی حرکت کو حق بجانب ٹھہراتے ہوئے ریسا کوکوئی نے اخبارنویسوں کو بتایا کہ میں نے پہلے ہی اپنےمربی  کو مطلع کردیا تھا کہ اگر وہ  کامیابی کے بعد مبارکباددینے  کیلئےرنگ میں آئیں گے تو وہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہوگا۔ ممکن ہے شیوسینا کی مانند  کوچ  کاجو ہیتو نے اسے کو مذاق سمجھا ہو؟ لیکن چرخ نیلی فام  نے یہ منظر دیکھ چکا ہے کہ جب  بی جے پی  نے این سی پی کی بلاواسطہ مدد سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرلیا تو شیوسینا والے کہہ رہے تھے ؎

ہم بھی تھے تیرے منظورِ نظر، جی چاہے تو اب اقرار نہ کر

 سو تیر چلا سینے پہ مگر، بیگانوں سے مِل کر وار نا کر
بے موت کہیں مر جائیں نا ہم، اے جانِ وفا یہ ظلم نہ کر

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close