آج کا کالم

کالے دھن پر حکومت کے الٹیمیٹم کا کتنا فائدہ؟

رویش کمار

کالا دھن سنتے ہی جوش میں آ جانے والوں کے لئے خوش خبري ہے، جو لوگ آنے کے انتظار میں ہیں، وہ اپنا والا کالا دھن دے کر حکومت کا تعاون کر سکتے ہیں. 1 جون سے 30 ستمبر کے درمیان اپنا والا کالا دھن حکومت کو بتا دیجئے، اس پر 45 فیصد کا ٹیکس دیجئے، کوئی سزا نہیں کوئی سوال نہیں، اور اپنا کالا دھن سفید دھن کی شکل میں واپس لے جائیے. آ گیا کالا دھن!

یہ منصوبہ ہندوستان کے اندر کالا دھن کا سراغ لگانے کا ہے. ہندوستان کے باہر کالا دھن کا سراغ لگانے کا منصوبہ بہت پہلے ختم ہو چکا ہے. اس منصوبہ کے تحت این آر آئی اور ہندوستانی دونوں ہی اپنے کالے دھن کے 45 فیصد حصے کو لوٹا سکتے ہیں. تو اپنے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ دیکھنے سے پہلے اپنے دستاویزات کو ٹھیک سے دیکھ لیجئے، جن کے یہاں بوریوں میں ہے یا توشك کے بیچ میں ہے، وہ لوگ بھی ایک بار ٹھیک سے سوچ لیں. جن کے پاس مکان دکان کی شکل میں کالا دھن ہے، ان کے لئے بھی منصوبہ ہے تھوڑا انتظار کیجئے بتاتا ہوں.

محکمہء انکم ٹیکس کے اہلکار ملازم بھی سمجھانے کے لئے کافی محنت کر رہے ہیں. کس طرح سے اعلان کیا جا سکتا ہے، کتنے ٹیکس دینے ہوں گے، پین نمبر دینا لازمی ہے. جن لوگوں نے کبھی انکم ٹیکس نہیں بھرے ہیں، ان کے لئے بھی اس اسکیم میں امکان ہے مگر کچھ شرائط کے ساتھ.

سي بي ڈي ٹي نے بھی بار بار پوچھے جانے والے سوالات کے جوابات اپنی ویب سائٹ پر دیئے ہیں. بس جن لوگوں کے خلاف محکمہء انکم ٹیکس نے نوٹس جاری کیا ہے، ان کے لئے اس منصوبہ میں کوئی فائدہ نہیں ہے. فرد سے لے کر کمپنی تک کو کالا دھن کا 45 فیصد دینے کے منصوبہ  میں شامل کیا گیا ہے. سب کو اپنی جائیداد کی مارکیٹ ویلو کی رپورٹ سونپنی ہوگی.

1 جون 2016 کے دن جو قیمت ہو گی اسی کے حساب سے خفیہ مکان یا پلاٹ کی قیمت لگائی جائے گی اور اس کا 45 فیصد ٹیکس دینا ہوگا. اگر آپ کے پاس 45 فیصد دینے کی استطاعت نہیں ہے، تو آپ اس خفیہ مکان یا پلاٹ کو بیچ کر ٹیکس دے سکتے ہیں. 30 نومبر 2016 تک ٹیکس، جرمانہ اور سرچارج وغیرہ چکا دینا ہوگا، تبھی آمدنی تسلیم کی جائے گی.

وزیر اعظم نے بھی من کی بات میں کہا ہے کہ حکومت لوگوں کو ایک موقع دے رہی ہے، تاکہ وہ پاک صاف ہو سکیں. اس بجٹ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس کا اعلان کر دیا تھا تاکہ کالا دھن رکھنے والوں کو ذہنی تیاری کا موقع مل سکے. اگر آپ چہرہ نہیں دکھانا چاہتے ہیں تو آن لائن بھی بھر سکتے ہیں، بس پین نمبر دیتے ہی انکم ٹیکس افسر آپ کا چہرہ دیکھ لے گا. اس سے پہلے ہندوستانی حکومت نے غیر ملکی بینکوں میں کالا دھن رکھنے والوں کے لئے ایک سخت قانون بھی بنایا، سزا دینے سے پہلے حکومت نے لوگوں کو ایک موقع بھی دیا اور حکومت کے خزانے میں 4,147 کروڑ روپے آ گئے.

ہماری ساتھی تنما وشواس نے الگ الگ ذرائع سے پتہ لگایا کہ 1 جون سے 28 جون تک بہت کم لوگوں نے اس منصوبہ کے تحت کالے دھن کا اعلان کیا ہے. عام طور پر کہا جاتا ہے کہ آخری دنوں میں کافی بھیڑ ہوتی ہے. تو جولائی، اگست اور ستمبر تین مہینے ہیں آپ لوگوں کے پاس. تنما نے کچھ تجارتی نمائندوں سے بات کی. ان کا کہنا ہے کہ 45 فیصد ٹیکس بہت زیادہ ہے.

وزارت خزانہ نے اس فیصلے سے متاثر یا خائف تمام طبقوں کے نمائندوں کو بلا کر ان کی بات سنی. اس نشست میں آئے پیشہ ور طبقوں سے پتہ چلتا ہے کہ کالا دھن پیدا ہونے کا امکان کہاں کہاں ہو سکتا ہے، ورنہ اس میں کچھ کسان، کچھ مزدور اور کچھ نوکری پیشہ لوگ بھی شامل ہوتے.

بہرحال اس نشست میں اس بات پر یقین دہانی کے لئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی، وزیر تجارت نرملا سیتا رمن اور وزیر توانائی پیوش گوئل موجود تھے. تجارتی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر اور چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بھی تھے. کچھ نے کہا کہ 45 فیصد ٹیکس بہت ہوتا ہے اور اتنا سارا پیسہ یک مشت نہیں دے سکتے، اس لئے حکومت قسطوں میں ادا کرنے کی رعایت دے. کچھ نے کہا کہ 30 ستمبر کی ڈیڈ لائن بڑھا دی جائے. کسی نے کہا کہ غیر اعلانیہ آمدنی بتانے کے بعد دوسری تفتیشی ایجنسیاں تو پیچھے نہیں پڑ جائیں گی. حکومت نے کہا ہے کہ 45 فیصد ٹیکس تو رہے گا، لیکن دوسری تفتیشی ایجنسیوں کے ساتھ  ان معلومات کا اشتراک نہیں کیا جائے گا. کسی سے نہیں پوچھا جائے گا کہ پیسہ کہاں سے آیا. حکومت اب اسے مہم کی شکل دینا چاہتی ہے.

کتنی عجیب بات ہے. ہماری پوری سیاست کالے دھن پر چلتی ہے. کچھ سیاست دانوں کو بھی اس نشست میں جانا چاہئے تھا کہ سب کا اعلان کر دیں گے تو انتخابات میں 20-20 ہیلی کاپٹر کہاں سے اڑیں گے. الیکشن کمیشن ناکہ لگا کر ہر الیکشن میں کتنے کروڑ پکڑ لیتا ہے. 1997 میں بھی اس طرح کا ایک منصوبہ آیا تھا. تب چار لاکھ سے زیادہ لوگوں نے اپنی 30,000 کروڑ کی غیر اعلانیہ آمدنی کا اعلان کر دیا تھا اور حکومت کو ٹیکس کے طور پر 10,000 کروڑ ملے تھے. 2016 میں یہ تعداد کافی ہونی چاہئے، کیونکہ یہ کہا جاتا رہا ہے کہ 70 فیصد کالا دھن تو ہندوستان میں ہی ہے.

وزیر خزانہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہ اميونٹي اسکیم نہیں ہے، کیونکہ جب 1997 میں رضاکارانہ آمدنی کا اعلان کیا گیا تھا، اس میں سب کے لئے 30 فیصد ٹیکس دینے کا قانون تھا. اس سال کے بجٹ میں اس کا اعلان کرنے کے بعد وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ پرانی اسکیم میں جو ایمانداری سے ٹیکس دے رہا تھا وہ بھی تیس فیصد دے رہا تھا، اور جو کالا دھن کا اعلان کر رہا تھا اسے بھی 30 فیصد کا ٹیکس دینا تھا. موجودہ حکومت کی پالیسی میں کالا دھن اعلان کرنے والوں پر 45 فیصد ٹیکس لگے گا.

اب اس دلیل سے کیا کوئی منصوبہ ایمنسٹی اسکیم ہو جاتا ہے. کیا 30 کی جگہ 45 فیصد کر دینے سے ایمنسٹی اسکیم ہو جاتا ہے. حکومت کہتی ہے ہو جاتا ہے. حکومت نے کوئی ہدف تو نہیں رکھا ہے، مگر 28 دن ہو گئے کوئی خاص بڑی رقم سامنے نہیں آئی ہے. کئی بار آخری ہفتوں میں زیادہ بھیڑ دیکھی جاتی ہے. اب سوال ہے کہ ایسے منصوبوں سے واقعی کالا دھن باہر آ جائے گا؟

گزشتہ سال جولائی سے ستمبر تک 3 ماہ کے لئے كمپلائینس ونڈو کھولی گئی. اس میں سے صرف 4,147 کروڑ ملے اور 638 آفینڈرس. اس پر اگر 60 فیصد ٹیکس لگا دیں تو حکومت کو ٹیکس آمدنی کے طور پر 2,488 کروڑ روپے ہی ملے. کوئی بڑی رقم تو نہیں ہے یہ. جب کہ لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران وزیر اعظم نے کہا تھا کہ 10 لاکھ کروڑ، جو باہر کے ممالک میں جمع ہے. جب بیرون ملک سے نہیں نکلا تو لوگوں نے کہا کہ اصلی کالا دھن تو ملک میں جمع ہے. کئی اخبارات نے لکھا ہے کہ نئے منصوبہ سے 1000 کروڑ سے زیادہ نہیں ملنے والے ہیں. 1000 کروڑ کے لئے اتنی مہم چلے گی تو فائدہ کیا؟

مرکزی حکومت نے کالا دھن پکڑنے کے کچھ اور بھی اقدامات کئے ہیں. دو لاکھ روپے سے زیادہ کی خریداری پر پین نمبر دینا ہوتا ہے. ٹائمز آف انڈیا میں گزشتہ دنوں خبر آئی تھی کہ اس فیصلے کی وجہ سے 16 ہزار کروڑ کی لگزري مارکیٹ میں فروخت کم ہو گئی ہے. جویلرس ایسوسی ایشن نے بھی طویل مدت تک حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مہم چلائی مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close