آج کا کالم

کالے دھن کا سب سے بڑا ڈون:  چندے کا دھندہ کرنے والا الیكٹورل بونڈ

رويش کمار

حکومت کے لئے شفافیت نیا پردہ ہے. اس پردے کا رنگ تو نظر آئے گا مگر پیچھے کا کھیل نہیں. انتخابی چندے کے لئے حکومت نے بونڈ خریدنے کا نیا قانون پیش کیا ہے. یہ جانتے ہوئے کہ مدہوش عوام کبھی خیال ہی نہیں کرے گی کہ کوئی پردے کو شفاف کس طرح بتا رہا ہے.

پہلے کسی سیاسی پارٹی کو000 20، یا اس سے زیادہ چندہ دینے پر ڈونر کا نام ظاہر کرنا ہوتا تھا. سیاسی جماعتوں نے ایک کھیل کھیلا. سارے چندے کو000 20، سے کم بتا دیا. الیکشن کمیشن ان کے جھوٹے دستاویزات کے ردی کو شفافیت اور جواب دہی کے نام پر ڈھوتا رہا. ہم سب تو آج تک ڈھو ہی رہے ہیں.

20000،چندہ دینے والے قانون سے کسی سیاسی پارٹی کو کوئی دقت نہیں تھی. سیاسی پارٹیاں پہلے بھی کرپشن کا پیسہ پارک کرنے یا جمع کرنے کا اڈہ تھیں، ایک نئے قانون کے پاس اگر آپ کے پاس کالا دھن ہے تو خاموشی سے کسی پارٹی کے خزانے میں جمع کر دو. بوجھ ہلکا ہو جائے گا.

اس کے لئے آپ کو صرف اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی 52 شاخوں سے 1000، 10000، 100000، 1000000، کا بونڈ خریدنا ہوگا. آپ کے خریدتے ہی کالا دھن غائب ہو جائے گا. اب کوئی نہیں جان سکے گا. بینک آپ سے نہیں پوچھے گا کہ آپ کس پیسے سے بونڈ خرید رہے ہیں اور اتنے بونڈ کیوں خرید رہے ہیں. آپ اس بونڈ کے ذریعہ کسی پارٹی کو چندہ دیں گے اور پارٹی اس بونڈ کو بینک سے بھنجا لے گی.

آپ قارئین میں سے کچھ تو دسویں پاس ہوں گے ہی، اتنا تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ یہ شفافیت نہیں اس کے نام پر کالا دھن پر پردہ داری ہے. پارٹی کے نام پر بھیڑ بنا کر گالی دینے، مار پیٹ کرنے پر تو روک نہیں ہے پھر کسی کو چندہ دینے کے نام پر اتنی پردہ داري کیوں ہے. آپ میٹرک کا سرٹیفکیٹ ضرور چیک کریں.

وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے اس منصوبہ کا اعلان کیا ہے. بتایا ہے کہ شخصیت، افراد کے گروپ، این جی او، مذہبی اور دیگر ٹرسٹ ہندو غیر منقسم خاندان اور قانون کی طرف سے درست تمام فیکٹریاں بغیر اپنی شناخت ظاہر کئے چندہ دے سکتی ہیں.

اس قانون کے بعد000 20، سے اوپر چندہ دینے پر نام بتانے کے قانون کا کیا ہوگا؟ اس کے رہتے حکومت کوئی اصول کس طرح بنا سکتی ہے کہ آپ بونڈ خرید لیں گے تو 1 لاکھ یا 1 کروڑ تک کے چندہ دینے پر کسی کو نہ نام نہ سورس بتانے کی ضرورت ہو گی. کھیل سمجھ آیا؟ ہنسی آ رہی ہے، بھارت کی قسمت یہی ہے. جو سب سے بدعنوان ہے وہ بدعنوانی کے خلاف لڑنے کا یقین دلاتا ہے اور ہم اس بات پر یقین کر لیتے ہیں. اس پر الیکشن کمیشن نے کچھ  کیا ہے؟

کیا آپ کو پتہ ہے کہ این جی او، مذہبی ٹرسٹ یا کسی شخص کو اپنا سالانہ ریٹرن پبلک میں ظاہر نہیں کرنا پڑتا ہے. حکومت کے پاس جمع ہوتا ہے اور وہ آپ بھی نہیں جان سکتے. تو یہ این جی او کس کو چندہ دیں گے پتہ نہیں. ایک وقت تک ایک سیاسی پارٹی مسلسل الزام لگاتی تھی کہ عیسائی مشنری یا باہر کی تنظیمیں بیرون ملک سے پیسہ لا رہے ہیں اور این جی او میں ڈال رہے ہیں. بھارت کی جمہوریت کو متاثر کرنے کے لئے چندہ دے رہے ہیں. پھر وہی سیاسی جماعتیں این جی او کو پیسہ دے رہے ہیں، اس بات کو خفیہ رکھنے کا قانون کس طرح لایا جا سکتا ہے.

کمپنیوں کو اپنا حساب کتاب عوامی کرنا ہوتا ہے مگر اسکرول ڈاٹ ان پر نتن سیٹھی نے لکھا ہے کہ انہیں یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ سال میں کتنا بانڈ خریدا. ابھی کھیل سمجھئے. فرضی پارٹی بنائيے. کسی سے چندہ لیجیے، اس کا کالا دھن بینک سے بھنجا لیجیے اور پھر ایش کیجیے. میلے میں جا کر ناچئے کہ شفافیت آگئی، کالا دھن مٹ گیا. راگ مالكوس بجا لیجیے گا.

حکومت آپ کی ہر معلومات جان سکے لہذا آدھار آدھار کر رہی ہے، وہی حکومت سیاسی جماعتوں کے لئے ایسا قانون لاتی ہے کہ چندہ دینے والے کا نام کسی کو پتہ ہی نہ چلے. کیا آپ اب بھی اسے شفافیت کہیں گے؟

وینکٹیش نایک کا کہنا ہے کہ اس بانڈ کے ذریعہ حکومت ایک نئی قسم کی کرنسی پیدا کر رہی ہے جس کے ذریعہ صرف کسی شخص اور سیاسی جماعت کے درمیان لین دین ہو سکے گا. وینکٹیش نایک Access to Information at Commonwealth Human Rights Initiative کے پروگرام كوآرڈی نیٹر ہیں. سیاسی جماعتوں کو بھی اس کام سے نجات دے دیی گئی ہے کہ وہ اس بات کو ریکارڈ کریں کہ انہیں چندہ دینے والا کون ہے. اس کا مطلب ہے کہ کوئی مافیا، مجرم جو چاہے کسی بھی پارٹی کو مال آنکھ بند کر دے سکتا ہے. اسے صرف بانڈ خریدنا گے.

کانگریس سمیت کچھ سیاسی جماعتوں نے اس الیكٹورل بانڈ کی مخالفت کی ہے. کانگریس کے راجیو گوڑا کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ سفید پیسہ، شفافیت اور غیر جانبداری تینوں پیمانے پر فیل ہے.

آپ کو اس الیكٹورل بونڈ کے بارے میں خود سے بھی پڑھیں. صرف ایک سوال کریں کہ کیا نام، شناخت خفیہ رکھ کر کروڑوں کا بانڈ خرید کر کوئی سیاسی پارٹی کو چندہ دیتا ہے اور سیاسی پارٹیاں اس چندے کے بارے میں کسی کو بتانے کے لئے پابند نہیں ہیں تو یہ کس حساب سے شفافیت ہوئی. اس بارے میں عظیم الیکشن کمیشن کے عظیم انتخابات کمشنروں نے کیا کہا ہے، اس کے بارے میں بھی گوگل سرچ کر لیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اسے بھی ملاحظہ فرمائیں

Close
Close