کانگریس کا ایک ہی مقصد: مودی ہٹاؤ

اکھلیش شرما

(اکھلیش شرما این ڈی ٹی وی انڈیا کے سیاسی ایڈیٹر ہیں)

گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو سخت ٹکر دینے اور راجستھان میں دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی ضمنی انتخابات بڑے مارجن سے جیتنے کے بعد کانگریس کے حوصلے بلند ہیں. اسی کے ساتھ کانگریس نے 2019 لوک سبھا انتخابات کے لئے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دینا بھی شروع کر دیا ہے. کانگریس کے سینئر رہنماؤں کو امید ہے کہ اگلے لوک سبھا انتخابات کے بعد کچھ ایسی تصویر بنے گی جس میں چاہے این ڈی اے کی حکومت بنے، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی جگہ کوئی اور بی جے پی رہنما بن سکتا ہے.

کانگریس کا خیال ہے کہ 2014 میں بی جے پی نے 282 سیٹیں جیت کر اپنی اب تک جو سب سے بہترین کارکردگی کی، وہ اس سے بہتر ابھی نہیں کر سکتی ہے. یعنی بی جے پی کی لوک سبھا میں نشستیں کم ہونا طے ہے. کانگریسی لیڈروں کو لگتا ہے کہ کچھ ایسی ریاستیں ہیں جہاں بی جے پی کو زیادہ سے زیادہ کامیابی ملی اور اسے دہرایا نہیں جا سکے گا. وہ کہتے ہیں کہ گجرات جو بی جے پی کے لئے سب سے مضبوط گڑھ ہے، جب پارٹی کو وہاں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے تو پھر ان ریاستوں میں اسے کڑی ٹکر کیوں نہیں دی جا سکتی جہاں کانگریس روایتی طور پر مضبوط رہی ہے یا جہاں بی جے پی اور کانگریس کی سیدھی ٹکر ہے.

کانگریس کے نیتا مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، پنجاب، ہریانہ اور جھارکھنڈ کا خاص طور سے ذکر کرتے ہیں. انہیں لگتا ہے کہ ان ریاستوں میں کانگریس 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں کم از کم 60 سیٹیں جیت سکتی ہے. اگر ایسا ہوتا ہے تو بی جے پی کو لوک سبھا میں 220 کے آنکڑے پر روکا جا سکتا ہے. کانگریس کے لیڈر یوپی اور بہار کی فی الحال بات نہیں کر رہے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان دو ریاستوں میں اپوزیشن اتحاد کا بکھراؤ بی جے پی کے لئے راستہ آسان کرے گا.

220 کلب

کانگریس کی امیدیں اسی جادوئی آنکڑے پر ٹکی ہیں. کانگریس کو لگتا ہے کہ اگر بی جے پی کو 220 کے آنکڑے پر روکا تو پھر چاہے اتحادیوں کے ساتھ بی جے پی کی حکومت بن جائے، لیکن نریندر مودی وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے کیونکہ حلیف پارٹیاں ان کے نام پر تیار نہیں ہوں گے. ایسے میں آر ایس ایس بھی کسی دوسرے بی جے پی لیڈر کو وزیر اعظم بنانے کے لئے حامی بھر سکتا ہے. لیکن وہیں اگر بی جے پی 245 کے آنکڑے کے قریب پہنچتی ہے تو پھر نریندر مودی آسانی سے دوبارہ وزیر اعظم بن سکتے ہیں کیونکہ اس کے بعد ان کی حمایت کے لئے بمشکل ایک یا دو اتحادیوں کی ہی ضرورت ہو گی. کانگریس کے لیڈروں کے مطابق شیو سینا اور ٹی ڈی پی کی ناراضگی یہ اشارہ دے رہی ہے کہ پی ایم مودی اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنے والوں میں سے نہیں ہیں. وہ خاص طور سے اٹل بہاری واجپئی اور منموہن سنگھ کی مخلوط حکومتوں کی یاد دلاتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں اتحادی پارٹی ہونے کے باوجود حکومتیں چلتی رہیں.

سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کانگریس کی یہ حکمت عملی بی جے پی کے غیر مطمئن لیڈروں کو ہوا دینے کی کوشش بھی ہے. 2014 کے انتخابات کے وقت بی جے پی کے کئی لیڈر یہ امید باندھ کر بیٹھے تھے کہ بی جے پی کو مکمل اکثریت نہیں ملے گا اور کم تعداد ہونے پر اتحادی پارٹی نریندر مودی کی کٹر تصویر کی وجہ سے ان کے بجائے کسی اور کو وزیر اعظم بنانے پر زور دیں گے. ان لیڈروں کو 160 کلب کا نام دیا گیا تھا جو مانتے تھے کہ بی جے پی 160 سیٹوں سے زیادہ نہیں لا پائے گی. اب کانگریس 220 کلب کی بات کر رہا ہے. تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ یہ کانگریس کی مایوسی کو بھی بتاتی ہے کیونکہ یہ حکمت عملی اپنا کر وہ خود یہ مانتی نظر آرہی ہے کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں بھی وہ خود اقتدار سے دور رہے گی. ویسے یہ ضرور ہے کہ اگر کانگریس 150 کا ہندسہ پار کر لے تواس کے  اقتدار میں آنے کے امکان بڑھ جائیں گے، لیکن اس کے باوجود فی الحال تو دور دور تک اس کے آثار نہیں دکھائی دے رہے ہیں.

فی الحال 220 کلب کی حکمت عملی دور کی کوڑی ہی لگتی ہے کیونکہ لوک سبھا انتخابات میں کافی وقت ہے اور اس وقت تک کافی کچھ چیزیں ہونی ہیں. لیکن کانگریس لیڈر یہ ضرور کہتے ہیں کہ راہل گاندھی کے پارٹی کے صدر بننے کے بعد سے ایک بات دیکھی گئی ہے، وہ یہ کہ کانگریس کے لیڈر اور کارکن ابھی آپس میں لڑنے کے بجائے مل جل کر بی جے پی سے لڑ رہے ہیں. فی الحال سب کی نظریں کرناٹک انتخابات پر ہیں کیونکہ اس کے نتیجے سے پتہ چلے گا کہ بی جے پی سے براہ راست ٹکر میں کانگریس جنوبی بھارت میں اپنی واحد حکومت بچا پائے گی یا نہیں. یہ صاف ہے کہ 2019 کی جنگ میں ابھی کئی اتار چڑھاؤ آنے باقی ہیں.

مترجم: محمد اسعد فلاحی



⋆ اکھلیش شرما

مدیر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

بزمِ رہبر کے زیر اہتمام آل بہار مشاعرہ کا انعقاد

صوبہ بہار کے دربھنگہ ضلع کے نوجوان شاعر وصحافی ڈاکٹر منصور خوشتر کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں بزمِ رہبر نے ’’مولانا ظہور رحمانی ایوارڈ‘‘ سے نوازا۔ اس موقع پر بزمِ رہبر نے آل بہار مشاعرہ کا انعقاد کیا جس کی صدارت عالمی شہریت یافتہ شاعر ڈاکٹر عبدالمنان طرزی اور نیاز احمد (سابق اے ڈی ایم) نے مشترکہ طورپر کی اور نظامت کے فرائض مشہور ومعروف شاعر جمیل اختر شفیق نے بحسن وخوبی انجام دئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے