آج کا کالم

کانگریس کا مشن راہل

اکھلیش شرما

کانگریس کا مشن راہل شروع ہونے سے پہلے ہی لٹک گیا۔ راہل کو وزیر اعظم امیدوار بنانے کے کانگریس ورکنگ کمیٹی کے فیصلے کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ ان کے قریبی نیتاؤں نے فیصلے کی عبارت ہی پلٹ دی۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس پی ایم کے لیے کسی کی بھی حمایت کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کا نہ ہو۔ پی ایم بننے کی دوڑ میں راہل کے پیچھے ہی ممتا بنرجی اور مایاوتی کی دعویداری کے چرچے شروع ہوگئے۔

دراصل، اتوار کو سی ڈبلیو سی کے اجلاس کے بعد رنديپ سنگھ سرجےوالا کے اس بیان کے بعد راہل کی امیدواری پر مہر لگی جس میں انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری تو راہل گاندھی ہی پی ایم کا چہرہ ہوں گے۔

اس کے بعد لوگوں کے جوابات آنے لگیں۔ جنتا دل سیکولر کے نیتا ایچ ڈی دیوے گوڑا اکیلے نیتا تھے جنہوں نے راہل کی دعویداری کی حمایت کی۔ جبکہ این سی پی، ترنمول کانگریس اور یہاں تک کہ آر جے ڈی نے بھی کہا کہ نتائج آنے کے بعد پی ایم طے ہو۔

یہ راہل کے لیے جھٹکا تھا۔ یہ بھی پیغام گیا کہ کانگریس 2019 کو راہل بمقابلہ مودی بنانا چاہتی ہے جبکہ اس جنگ میں راہل مودی کے آگے ٹک نہیں پائیں گے۔ خود کانگریس نے اپنی کارکردگی 2004 کی 145 سیٹوں سے بہتر کرنے کی بات کہہ کر اپنے پست حوصلے کا ثبوت دیا۔ جس طرح چدمبرم نے کہا کہ کانگریس کی 150 اور ساتھیوں کی 150 نشستیں لا کر مشن 300 پورا ہوگا، اس سے بھی کانگریس کی کمزور حالت کا پتہ چلا۔ اسی لیے اب کانگریس کہہ رہی ہے کہ اس کی لڑائی کسی شخص سے نہیں بلکہ نظریہ سے ہے اور بی جے پی کو ہٹانے کے لیے وہ کچھ بھی کرے گی۔ یعنی جو اس نے کرناٹک میں کیا۔ جہاں بی جے پی کو ہٹانے کے لیے تیسرے نمبر کی پارٹی کے لیڈر کو وزیر اعلی بنا دیا۔

اسی لیے اب ممتا بنرجی اور مایاوتی کا نام لیا جا رہا ہے۔ دونوں تجربہ کار لیڈر ہیں۔ مایاوتی دلت اور عورت نیتا ہیں۔ آج تک کوئی دلت وزیر اعظم نہیں بنا۔ ایسے میں کانگریس ان کا نام آگے کر بڑا دلت کارڈ چل سکتی ہے۔ لیکن مایاوتی کہہ چکی ہیں کہ وہ کانگریس سے تبھی معاہدہ کریں گی جب قابل اطمینان سیٹیں ملیں۔

ادھر، ترنمول کانگریس سے معاہدے کی مخالفت میں کانگریس کے اندر ہی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close