آج کا کالم

کانگریس کا وہ کارکن …

رویش کمار

کارکن وہ ہوتا ہے جسے اپنے لیڈر سے لگاؤ ہوتا ہے- وہ ایسا ہی کارکن تھا، خاموشی سے ہمارا، اوما شنکر اور نیرج کا سخت جائزہ سن  رہا تھا- ایک بار بھی مشتعل نہیں ہوا، ایك بار بھی غصہ نہیں ہوا بلکہ تیز رفتار چلتی گاڑی میں ہم گر نہ جائیں، ہمیں سنبھالے ركھا- جب ہماری بات چیت کی ریکارڈنگ ختم ہو گئی تب  اس نے آہستہ جذباتیت سے کہا کہ آپ  راہل جی کو ایک نظر سے دیکھ رہے ہیں-  وہ اپنے لیڈر کی خوبیاں بتانے لگا کہ کس طرح تیس دن سے لوگوں کے درمیان ہیں، سڑک پر ہیں- ہم بات کر رہے تھے کہ راہل بہت کم بولتے هیں، انہیں بولنا چاہئے- بات کرنی چاہئے- تب وہ کارکن کہنے لگا کہ راہل جی کم بولتے ہیں پر دل کے اچھے ہیں- ان کے خاندان میں دو دو کا قتل ہوا ہے، وہ ایس پی جی سیکورٹی گھیرے کو توڑ کر بہت آگے نہیں جا سکتے هیں پھر بھی وہ مسلسل محنت کر رہے هیں- كهتے ہیں میں کم بولتا ہوں کیونکہ زیادہ بولنے کے نام پر جھوٹ نہیں بولتا- دیر رات پتہ چلا کہ دہلی میں کچھ ایسا بول دیا جسے لے کر طوفان کھڑا ہو گیا ہے-

 اپنےرہنما سے متعلق سخت تنقید سننے کے بعد بھی وہ کارکن غصہ نہیں ہوا- انٹرويو کے درمیان میں راہل راہل نہیں چللايا، ذ ندہ باد کے نعرے نہیں لگائے- يهي ہم دوسری پارٹی کی گاڑی پر سوار ہو کر ان کے رہنما کی تنقید کر رہے ہوتے تو دھکا مکی ہو گئی هوتي نعرےے لگ گئے هوتے، ٹويٹر پر دلال بتا کر ٹرینڈ کرا دیا گیا هوتا- کیمرا تک چھین لیا گیا هوتا- لیكن راہل گاندھی کی بس کے آگے چل رہے ان دو کارکنان اور نیتاؤں نے ایسا کچھ نہیں كيا، بس دھیمے سے کہا کہ ہمارے لیڈر اچھے هیں آپ كي بات مکمل طور پر درست نہیں هےهم نے دونوں کو بائٹ کے لئے مدعو کیا کہ آپ اپنا موقف رکھ سکتے ہیں لیکن کوئی آگے نہیں آيا- انہوں نےكها کہ پارٹی ترجمان بولیں گے- دوسرے پارٹی کا کارکن تو مائیک چھین کر بولنے لگتا- بعد میں ان میں سے ایک نے بہت مشکل سے اپنی بات كهي- ہم تینوں نے ان کارکنوں کی شرافت اور برداشت کو نوٹ کیا اور تعریف بھی کی-

 اس کارکن کویہ امید رہی ہوگی کہ اس کے رہنما کی محنت کی تعریف هوگي وہ ہم سے ناراض نہیں ہوا بلکہ سنبھال کر منی ٹرک سے اتار ديا- تب تو نہیں کہہ پایا کہ ہم نے کسی بری نیت یا نفرت سے ایسا نہیں کیا- ہم جو دیکھ رہے تھے وہی بول رہے تھے- یہ کہتے ہوئے بول رہے تھے کہ قابل ستائش ہے کہ کوئی لیڈر تیس دن تک باہر رہتا ہے لیکن یہی آخری بات نہیں ہو سكتي- ہم یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ہم صرف آخری دن کے سفر کے آخری چند گھنٹوں کی بنیاد پر کہہ رہے هےپھر بھی اسے ہاتھ ہلا کر رخصت کرتے وقت اس کے چہرے کی مایوسی بری لگی وہ یاد آ رہا ہے-

 بس اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ برے وقت میں حوصلہ رکھنا چاهیئے- اپوزیشن میں ہونا برا وقت نہیں هوتا- اپنے رہمنا کی کوتاہیوں کو خود بھی دیکھنا اور كهنايهي چیز تمہارے رہنما کو بہتر بنائے گی- ہم جو بھی کہیں، آخر میں فیصلہ عوام کو کرنا هے- اس عدالت میں اگر آپ کے رہنما کی گواہی اور جرح صحیح ہوگی تو فیصلہ آئے گا ورنہ ہم خوش کرنے والی لاکھوں باتیں کہیں، کچھ ہونے والا نہیں هے- ایسا ہی ایک کارکن بہار انتخابات کے دوران ملا تھا بي جےپي کا وہ کارکن یاد ہے- بہت دیر سے مٹھائی لے کر کھڑا تھاكهنے لگا کہ پتہ ہے میرے ساتھی لوگ آپ کو گالی دیتے ہیں لیکن کوئی نهيں آپ ہمارے رہنماؤوں کو ٹائیٹ کئے رکھنا- لوگ دہلی جاکر ہمیں بھول جاتے ہیں .ہم آپ کی ہمت کی داد دیتے ہیں، اس لئے یہ مٹھائی کھائیے-

 یہی سوچ رہا ہوں کہ ہر پارٹی میں کچھ کارکن ہوتے ہوں گے جو اپنے لیڈر کے لئے سوچتے ہوں گے- دن رات گھر خاندان سے لڑ کر اس لیڈر کے لئے محنت کرتے ہوں گے. کیا لیڈر لوگ بھی اپنے کارکنوں کو اتنا ہی چاہتے ہوں گے؟ لوک سبھا انتخابات کے دوران پنجاب سے کئی پارٹیوں کے پرانے کارکنوں پر ایک پرائم ٹائم کیا تھا- سیاست میں کارکن ہونا واقعی مشکل کام ہے .میں اس کی رکنیت کا احترام کرتا هوں اس نے اس بات کا جرح نہیں کیا کہ مودی جی کی تعریف میں پریس بچھ جاتا ہے لیکن راہل جی کو دیکھتے ہی مذاق اڑانے لگتا هےہم نے اس ارادے سے تو کچھ نہیں کیا اور نہ ہی اپنی بولی ہوئی باتوں پر افسوس ہے- جوکہا سوچ سمجھ کر ہی کہا اور ٹھیک کہا- اسكے بعد بھی میں اس کارکن سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ آپ نے جس طرح سے میری اختلاف رائے کا احترام کیا ہے میں بھی آپ کی اختلاف رائے کا احترام کرتا ہوں- سخت اختلاف کے لمحات میں بھی آپ نے ہمارے کندھوں کو تھامے رکھا اس کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں. سیاست میں اب کارکنوں کی جگہ حامیوں کی فوج آ گئی ہے- سوشل میڈیا پر غنڈہ گردی کا کام کرتے ہیں-  ہار جیت ہوتی رہتی ہے، آپ ایسے ہی کارکن بنے رہنا- اختلاف رائے کا احترام کرنے والا ایک اچھا کارکن-

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close