آج کا کالم

کب سدھریں گے  صحتی شعبوں کے حالات؟

رويش کمار

آپ سب کو جنم اشٹمی مبارک. اتر پردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے پولیس کے سربراہ سلكھان سنگھ کو خط لکھا ہے کہ پولیس Janmashtami کی روایتی اور خوبصورت طریقے سے منانے کا انتظام کرے. پہلے بھی پولیس مناتی تھی لیکن اب اسے پھر سے بڑے پیمانے پر منایا جائے گا. ہم سمجھ رہے تھے کہ حکومت 30 بچوں کی موت کا سوگ منا رہی ہے لیکن اسے اس بات کا خیال رہا کہ محکمہ پولیس Janmashtami کی خوبصورت طریقے سے منائے. کانہا صرف جیل میں پیدا نہیں ہوتے ہیں. ملک کی کروڑوں ماؤں کے کانہا جن سرکاری استپالو میں پیدا ہوتے ہیں وہاں کے حالات بھی جیل جیسے ہی ہیں. یہ بات وزیر اعلی بھی جانتے ہیں اور آپ شہری بھی جانتے ہیں. اچھا ہوتا کہ ہسپتالوں کو بھی خوبصورت طریقے سے جنم اشٹمی منانے کا حکم دیا جاتا تو کم سے کم کرشن کے نام پر ہی سہی آج کی رات وہاں اچھا انتظام ہو جاتا. پیدا ہونے والے بچوں کی كلكاريو سے آواز آتی کہ وہ کانہا کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں. آپ سب کو جنم اشٹمی مبارک.

ایک دن میں تیس بچوں کی موت، پانچ دن میں ساٹھ بچوں کی موت، تمام وزراء کے دورے بتاتے ہیں کہ ہماری حکومت ذمہ دار ہے. موت کے بعد وزراء کا دورہ اس بات کی ضمانت ہے کہ اب بھی سب ختم نہیں ہوا ہے. 2012 سے یہاں 3000 بچوں کی موت ہوئی ہے، اگر اس رات آکسیجن کی سپلائی کا معاملہ نہیں ہوتا تو یہ بات قبول کرنے میں کوئی برائی نہیں ہے کہ گورکھپور مقامی سماج بھی اور باقی معاشرے بھی ان اموات کو لے کر عام ہو چکا ہے. وزیر اعلی آدتیہ ناتھ نے خود اس معاملے کو لوک سبھا میں کئی بار اٹھایا ہے اور واقعہ سے دو دن پہلے وہ ہسپتال کے دورے پر ہی تھے. تب بھی یہ واقعہ ہوا. اس واقعہ کے بعد جو بڑے حادثے واقع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ اصل سوالوں سے توجہ ہٹانے کے لئے طرح طرح کی بحثیں پیدا کر دی گئیں. کچھ میڈیا کی جلد بازی سے اور کچھ منظم طریقے سے ٹرولنگ کے ذریعے. لہذا ضروری ہے کہ گورکھپور کے واقعہ کو لے کر اصل سوال پر ہی ہم ٹکے رہیں.

اصل سوال کیا ہے؟ کیا آکسیجن کی سپلائی کی وجہ سے موت ہوئی؟ کیا پیسے کی ادائیگی کی وجہ سے سپلائی بند ہوئی؟ سپلائی کرنے والی کمپنی نے جب بند کرنے کی دھمکی دی تو ہسپتال کے سی ایم او نے کیا کیا؟ کوئی ہنگامی اجلاس کیا، ضلع مجسٹریٹ کو بتایا؟ کیا ضلع مجسٹریٹ کو معلوم تھا، کیا ضلع مجسٹریٹ نے اسے وزیر صحت کو بتایا، وزیر اعلی کے نمائندے کو معلومات دی؟ پیسے ادا کرنے کی ذمہ داری سی ایم او کی تھی یا بچہ محکمہ کے سربراہ کی؟ آکسیجن کے سلنڈر کی سپلائی کا معاملہ کس کے انڈر آتا ہے، سی ایم او کے یا بچہ محکمہ کے پروفیسروں یا ڈاکٹروں کے. یہ سب انتظامات سے متعلق اصل سوال ہیں جس پر ہر حال میں ٹکے رہیں گے. کوئی چاہے تو ان سوالات کے جواب تین چار گھنٹے کی ملاقات کے بعد ہی دے سکتا ہے لیکن حکومت کے بیان اور میڈیا کی رپورٹ میں اتنے فرق ہیں کہ لگتا نہیں کہ جواب جلدی ملیں گے اس وجہ Janmashtami کی منانے میں کوئی کمی نہیں ہونا چاہئے.

10 اگست کو اسپتال میں آکسیجن پلانٹ چلانے والے ملازمین نے سی ایم او کو لکھا کہ آکسیجن کا اسٹاک خطرناک طور پر کم ہو چکا ہے اور رات تک کے لئے بھی نہیں بچا ہے. آپریٹر نے ہسپتال انتظامیہ سے فریاد کہ جلدی کریں مریضوں کی زندگی خطرے میں ہے. یہ دوسرا خط تھا. ایک ہفتہ پہلے بھی ایسا ہی خط لکھا جا چکا تھا جس کا کوئی جواب انہیں نہیں ملا. ہماری ساتھی شکھا ترویدی نے این ڈی ٹی وی ڈاٹ کام پر لکھا ہے کہ جنوری سے آٹھ اگست کے درمیان بابا راگھو غلام میڈیکل کالج میں 476 مریض داخل ہوتے ہیں. زیادہ تر بچے تھے. 117 بچوں کی موت ہو جاتی ہے. مقامی میڈیا میں بھی چھپ رہا تھا کہ آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی پشپا سیلز نے سپلائی بند کرنے کی دھمکی دی ہے. آپ ہی سوچیں اگر کوئی ایسی دھمکی دے کہ آکسیجن کی سپلائی بند ہو گی تو کیا اس پر غور کرنے میں دس دن بیس گھنٹے یا چار گھنٹے کا انتظار کیا جا سکتا ہے. کیا ہم یا آپ پانچ منٹ بھی بغیر آکسیجن کے رہ سکتے ہیں.

لہذا اصل سوال پر ٹکے رہنا ضروری ہے. یہ اس وجہ سے ضروری ہے کہ جس ہسپتال کا دورہ ریاست کے وزیر اعلی ایک ماہ میں دو بار کرتے ہوں، طبی تعلیم سیکرٹری کو ایک ماہ میں دو بار جاتی ہوں، صحت سیکرٹری بھی دورہ کرتے ہوں، وہاں یہ واقعہ کیوں ہوا؟ جبکہ آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی نے قانونی نوٹس بھی بھیجا تھا. وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ 9 جولائی کو بھی آئے تھے اور 9 اگست کو بھی. اس کے بعد بھی اس ہسپتال کی کئی مسائل دور نہیں ہوئے. کچھ وارڈ کی حالت ایسی ہے کہ جان کر لگے گا کہ یہ ہسپتال چل کس طرح رہا تھا. اور سارے اہم افراد کے دورے کے بعد بھی وہ کون سی طاقت تھی جو اس میں بہتری نہیں ہونے دے رہی تھی.

– انسیفلایٹس کے علاج کے لئے جسمانی میڈیسن اینڈ رهیب محکمہ کے تمام ملازمین کو 28 ماہ سے تنخواہ نہیں ملی ہے.

– آج کی تاریخ تک کسی کو تنخواہ نہیں ملی ہے. تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے 4 ڈاکٹر چھوڑ کر چلے گئے.

– اس بارے گورکھپور نیوز کے منوج سنگھ نے دی وائر کے لئے ایک خبر بھی شائع کی تھی.

– اس سیکشن میں اب کوئی ڈاکٹر نہیں ہے، 11 تھیریپسٹ بچے ہیں جنہیں تنخواہ کا انتظار ہے.

– ایک اور وارڈ ہے جس کے عملے کو پانچ ماہ کی تاخیر کے بعد واقعہ سے دو دن پہلے تنخواہ ملی تھی.

– اسی ہسپتال کے نو نیٹل محکمہ کے چھ ماہ سے سیلری نہیں ملی ہے.

– انہیں بھی حال میں سیلری ملی ہے.

حالت یہ ہوتی ہے کہ 100 مریض ہوتے ہیں کہ ایک بیڈ پر چار چار مریض کو رکھا جاتا ہے. گزشتہ سال 28 اگست کو مرکزی صحت کے وزیر مملکت انپريا پٹیل بھی یہاں آئی تھی اور کوتاہیوں کا جائزہ لیا تھا. میڈیكل کالج نے انہیں دو پیشکش دی کہ نو نیٹل آیی سی یو کو 100 بستروں کا کر دیا جائے، جو اس وقت 44 بستروں کی ہے. اس کے لئے 11.50 کروڑ کا بجٹ تھا. انپريا پٹیل ہی بہتر طریقے سے بتا سکتی ہیں کہ ان کے دورے کے بعد کیا کیا ہوا ہے. منوج سنگھ کا کہنا ہے کہ کچھ نہیں ہوا. ہمارے ساتھی اجے سنگھ نے گورکھپور نيوزلاین سے بات کی ہے. گورکھپور نیوز بہت کم سنسادھن سے چلتا ہے پھر بھی اس ویب سائٹ نے جولائی سے اگست کے درمیان ہسپتال کو لے کر کم از کم بیس پچیس خبریں شائع کی تھیں.

اصل سوال یہ ہے کہ جس ہسپتال میں ایک سال کے اندر اندر مرکزی وزیر سے لے کر دو دو بار وزیر اعلی کا دورہ ہوتا ہے وہاں بھی مسائل حل نہیں ہوتے ہیں. واقعہ کے اگلے دن بھی حالات جیسے کے تیسے تھے. 25 کلو میٹر دور اپنے چار دن کے بچے کو لے کر ایک باپ بی آر ڈی ہسپتال گیا تھا. اسے وینٹی لیٹر نہیں ملا. پانچ گھنٹے تک امبو بیگ سے بیٹے کو آکسیجن دیتا رہا لیکن اس کی سانس ٹوٹ گئی.

گورکھپور کے واقعہ کے بعد سوشل میڈیا پر ٹرولوں کی جماعت اور اس سے باہر کے سیاستدانوں کے ردعمل نے جگہ لے لی ہے. جن کے بچے مرے ہیں اور جو اس طرح کے نظام کے شکار ہوتے ہیں وہ اس بحث سے غائب کر دیئے گئے ہیں. ان کا چہرہ اس تنازعہ کا چہرہ نہیں ہے. ہمارے ساتھی اجے سنگھ ان کے گھروں میں گئے جن بچوں کی موت ہوئی ہے.

ہماری ایک ہی کوشش ہے کہ اس واقعہ میں جن کے بچے مارے گئے ہیں انہی کا چہرہ آپ کو بار بار نظر آئے. بڑے بڑے وزراء کے بار بار ہونے والی پریس کانفرنس سے بیان تو نکل رہے ہیں، لگتا ہے کہ بہت کچھ ہونے والا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ جب ان کے دورے سے کچھ نہیں ہوا تو ان کے بیانات پر اتنی جلدی اعتماد کیوں کیا جائے.

بی آر ڈی کالج کے پرنسپل کو لے کر کئی طرح کی خبریں آرہی ہیں. انہیں معطل کیا جا چکا ہے لیکن انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہسپتال کے پرنسپل راجیو مشرا کی معطلی غلط ہے کیونکہ یہ حادثہ ایک انتظامی ناکامی کی وجہ سے ہوا۔ جس کے لئے تمام ذمہ دار ہیں. اگر آپ انہیں معطل کرتے ہیں تو مقامی انتظامیہ کو بھی معطل کیجیے اور کمپنی پر پابندی لگائیے. ایمس کے ڈاکٹروں کے یونین نے بھی کہا کہ اصل سوالوں کو چھوڑ ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی وہ مخالفت کریں گے.

آپ جیسے ہی رہنماؤں کے بیان کو اس سانحے کا چہرہ بنائیں گے، ان کے بیانوں کو ایک حد سے زیادہ اہمیت دیں گے تو پھر آپ غلطی کریں گے. 24 جولائی کے پرائم ٹائم میں ہم نے بتایا تھا کہ دیہی علاقوں میں ڈاکٹروں کی کیا حالت ہے. سی اے جی کی رپورٹ آئی ہے. سی اے جی نے 2011 سے 2016 تک قومی دیہی صحت مشن کا حساب کتاب کیا ہے. دیہات شہر میں صحت کی حالت کے لئے یہ منصوبہ بہت اہم ہے. سی اے جی نے کہا ہے کہ 27 ریاستوں نے اس منصوبہ کی مد میں دیے گئے پیسے خرچ ہی نہیں کئے. 2011-12 میں یہ رقم 7375، کروڑ تھی. 2015-16 میں 9509 کروڑ تھی. یہ وہ رقم ہے جو خرچ نہیں ہو سکی.

اس کا مطلب ہے کہ پیسے کی کمی نہیں ہے. حکومت کے پاس پیسہ ہے. آپ دوبارہ غلطی کریں گے تو اس مسئلہ کو گورکھپور کے واقعہ تک محدود رکھیں گے. سی اے جی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ہمارے ملک میں سینکڑوں ایسے صحت مراکز ہیں جو بہت ہی گندی حالت میں کام کر رہے ہیں. 20 ریاستوں میں 1285 پراجیکٹ کاغذوں پر ہی پورے ہوئے ہیں، مگر اصلیت میں شروع بھی نہیں ہوئے ہیں. کیا آپ نے سنا ہے کہ ان 1285 پراجیکٹ سے وابستہ لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی ہے. گورکھپور میں 30 بچے مرے ہیں، نہ جانے ملک کے ہسپتالوں میں گندگی اور ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ کتنے سو بچے روز مرتے ہوں گے. گودی میڈیا کو اب پروپیگنڈہ سے فرصت نہیں ہے تو اب ٹی وی کیمرے ہسپتالوں کی طرف جاتے بھی نہیں ہیں. تبھی تو گورکھپور کے واقعہ کے بعد ایک سیاہ کمرے سے چلنے والے ویب نيوذ پورٹل گورکھپور نیوز کی بحث ہوتی ہے. حکومتوں کا پروپیگنڈہ کرنے والے بڑے بڑے اینكروں کا اس معاملے میں آنے کا نام سنا کیا. کبھی اس پر بحث دیکھی ہے کیا. 24 جولائی کے پرائم ٹائم میں ہم نے سی اے جی کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا تھا کہ 27 ریاستوں کے تقریبا ہر صحت مرکز میں 77 سے 87 فیصد ڈاکٹر نہیں ہیں. 13 ریاستوں میں 67 صحت مراکز ایسے ملے جہاں کوئی ڈاکٹر ہی نہیں تھا. 17 ریاستوں میں 30 کروڑ کی الٹرا ساؤنڈ، ایکس رے مشین، ای سی جی مشین پڑی ہوئی ہے مگر طبی عملے نہیں ہونے کی وجہ سے چلتی نہیں ہے. ان مشینوں کو رکھنے کے لئے جگہ بھی نہیں ہے.

یہ استپال اور یہ منصوبہ بندی نوزائیدہ بچوں اور بچے کی پیدائش کے دوران مرنے والی ماں کو بچانے کے لئے انتہائی اہم ہے. ان سوالات پر غور کرنے سے ہماری سیاسی نشٹھا ہل جائیں گی. کیونکہ اب ملک میں کوئی بھی ایسی پارٹی نہیں ہے جسے دہلی اور تمام ریاستوں میں دس دس سال ریاست کرنے کا موقع نہیں ملا ہے. اس کے بعد بھی سب کا ریکارڈ یہی ہے. یہاں تک کہ ماؤں اور بچوں میں آئرن کی کمی کی وجہ اینميا ہو جاتا ہے. ترسیل کے دوران پچاس فیصد مائیں اینميا سے مر جاتی ہیں. اس کے بعد بھی سی اے جی نے پایا کہ تمام ریاستوں کے بنیادی مراکز میں آئرن گولی دی ہی نہیں جا رہی تھی. این ایچ آر ایم سینٹر میں حاملہ عورت کو سو فیلك ایسڈ ٹیبلٹ دینی ہوتی ہے. آڈٹ میں پایا گیا کہ تمام 28 ریاستوں میں 3 سے 75 فیصد کی کمی ملی یعنی دیئے ہی نہیں گئی. اروناچل، جموں کشمیر، منی پور، میگھالیہ میں 50 فیصد حاملہ خواتین کو ٹی ٹی نس کا ٹیکہ بھی نہیں لگ سکا.

سی اے جی نے گجرات میں 3 جنرل ہسپتالوں کی جانچ کی. نڈياڈ جنرل ہسپتال میں آپریشن تھیٹر تو ہے لیکن آپریشن کے پہلے اور بعد میں مریض کو رکھنے کے لئے کمرے نہیں ہیں. اگر آپ کو براہ راست مریض کو آپریشن تھیٹر میں لے جائیں، وہاں سے براہ راست وارڈ میں لاییں تو اسے انفیکشن ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے. اسی ہسپتال میں جگہ کی کمی کی وجہ لیب کا کام بھی مریضوں کے ویٹنگ ایریا میں ہی چل رہا تھا. گودھرا کے جنرل ہسپتال میں 440 بستر کی ضرورت ہے لیکن 210 ہی کی وجہ مریض زمین پر ملے. جھارکھنڈ میں 17 پرائمری ہیلتھ سینٹر کی عمارت ہی نہیں ہے. 5 ضلع اسپتالوں میں 32 خصوصی ٹریٹمنٹ خصوصیات میں سے 6 سے 14 سہولیات دستیاب تھیں. یعنی جتنی بیماری کا علاج ہونا چاہئے، نہیں ہو رہا ہے. کیرالہ کی 1100 سے زیادہ سي ایس چي اور پی ایچ سی میں صرف 23 میں ترسیل کی سہولت ہے. بہار میں جننی منصوبہ کے تحت 40 فیصد قابل خواتین کو نہیں دیئے گئے.

یہ ہماری صحت کے نظام کی حالت ہے. لہذا لیڈر جب یہ کہیں کہ گورکھپور کے ہسپتال کا دکھ درد دور ہو جائے گا، اتنی جلدی یقین مت کیجئے گا. یہ سوال کریں کہ کیا باقی ہسپتالوں کا بھی دکھ درد دور ہو جائے گا. اس لئے ہم نے آج آپ کے پروگرام میں کسی لیڈر کا کوئی بیان نہیں لگایا ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close