آج کا کالم

کرنی سینا اور سنگھ: پدماوت سے رام جنم بھومی تک

عدلیہ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں

ڈاکٹر سلیم خان

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے دو دن قبل  دہلی میں رام لیلا میدان میں دھرم سبھا کا انعقاد کیا گیا۔ وشوہندو پریشد نے رام مندرکی تعمیرکی مہم کاآغاز اس جھوٹ سے کیاکہ  ریلی میں  ۶ تا ۸ لاکھ لوگ شریک ہوں گے جبکہ  میدان میں ۸۰ ہزار سے زیادہ  لوگوں کی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ابتداء میں تو یہ صرف دہلی کا احتجاج تھا لیکن جب پتہ چلا کہ دہلی والے سرد مہری دکھا رہے ہیں تو اس کا دائرۂ کار ۲۵۰ کلومیٹر تک  پھیلا دیا گیا اور روہتک سے لیکرمیرٹھ، فریدآباداورگریٹرنوئیڈا تک سے کثیرتعداد میں لوگوں کو لایا گیا۔ اس دھرم سبھا میں دھرم آرایس ایس کے سکریٹری جنرل بھیا جی جوشی نے  نادانستہ  اندر کی یہ بات کہہ دی  کہ’’رام مندرتعمیرسے ہی مستقبل کا رام راجیہ طے ہوگا‘‘۔ یعنی مسئلہ  یہ ہے ہی  نہیں  کہ رام مندر کو منہدم کرکے بابر نے مسجد بنائی تھی  بلکہ بابری مسجد کو شہید کرکے سنگھ پریوار  رام راجیہ قائم کرنا چاہتا ہے۔

 بی جے پی میں اگر ہمت ہے تو  رام راجیہ کے موضوع پر آئندہ  انتخاب لڑ کر دیکھے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ بھیا جی جوشی کے اس دعویٰ کی بھی قلعی کھلا جائے گی کہ’ ملک رام راجیہ چاہتا ہے اس کا حترام کیا جائے‘‘۔ بھیا جی جوشی نے آگے کہا’’ ہم بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، لوگوں کے جذبات کا سوال ہے۔ عدالت کا احترام کرتے ہوئے انتظارکیا، عدالت کا وقاربنارہنا چاہئے۔ عدالت کو بھی ملک کے جذبات کو سمجھنا چاہئے‘‘۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ کمنڈل  رام مندر کے لیے  نہیں بلکہ اقتدار کے لیے بجایا جارہا ہے۔ رام مندر کی حیثیت تو محض غلاف کی ہے۔ دہلی کی آبادی ڈیڑھ کروڈ ہوگی۔ اس میں سے ۱۵ ہزار بھی اس دھرم سبھا میں نہیں آئے  ہوں گے۔ اس لیے آس پاس سے لوگوں کو لانا پڑا۔ یہ کیسے درست ہوگیا کہ ڈیڑھ کروڈ میں سے پندرہ ہزار کے جذبات کا تو حترام کیا  جائے اور باقیماندہ لوگوں کو نظر انداز کردیا جائے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو۷۰ میں سے  ۳  مقامات پر کامیابی ملی تھی لیکن اگر انتخاب رام مندر کے لیے لڑا جائے تو وہ  نشستیں بھی نہیں ملیں گی۔

وی ایچ پی کے جوائنٹ سکریٹری سریندر جین نے رام لیلا میدان میں کہا کہ یہاں دھرم سبھا کا مقصد رام مندر کی تعمیر کے لئے تمام سیاسی جماعتوں پر دباؤڈالنا ہے تاکہ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں رام مندر کی تعمیر کے لئے بل منظور کروایا جا سکے۔ سوال یہ ہے کہ مرکزکی مودی سرکار رام بھکت ہے یا روان بھکت جو اس پر دباو بنانے کی ضرورت پیش آگئی؟ایسا اکثر ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے اور سمجھدارلوگوں سے حماقت سرزد ہوجاتی ہے مثلاً کانگریس کے منی شنکر ائیر اور ششی تھرور کے بیانات کا بی جے پی خوب فائدہ اٹھا لیتی ہے لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ احمق نظر آنے والے لوگ بھی سمجھداری باتیں کرنے لگتے ہیں جیسے رام جنم بھومی  کے موضوع پر کرنی سینا کا موقف سنگھ پریوار کے دانشوری سے بہت بہتر ہے۔

راجپوتوں کی  تنظیم کرنی سینا کو فلم پدماوت کے سبب اور پدماوت کو کرنی سیناکی وجہ سے زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ اپنی اشتعال انگیزی کے باعث  وہ خاصی بدنام بھی ہوئی لیکن رام مندر سے متعلق سنگھ پریوار کی نوٹنکی کی بالمقابل  کرنی سینا کی بات  نہایت معقول لگتی  ہے۔ بدقسمتی سے جب وہ پدماوت کے تعلق سے   اوٹ پٹانگ باتیں کہہ رہی تھی تو ذرائع ابلاغ  اس کی جانب پوری طرح متوجہ تھالیکن رام مندر کے موضوع پر اسکےحقیقت پسندانہ بیان کو پوری طرح نظر انداز کردیا گیا۔ کرنی سینا  کے بانی و  منتظم لوکیندر سنگھ کلوی  نے ۹ اکتوبر ۲۰۱۸ ؁ کو لکھنو میں ایک  پریس کانفرنس کرکے رام مندر کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی ایکٹ، ریزویشن کی سیاست اور ماحولیات سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا مگر افسوس کہ سنسنی خیز خبروں کے پیچھے بھاگنے والے میڈیا کو وہ اپنی سنجیدہ باتوں سے متاثر نہیں کرسکے۔

کلوی نے کرنی سینا  کوایک غیر سیاسی تنظیم بتاتے ہوئے کہا  تھا کہ وہ کبھی  اس نام سے انتخاب نہیں لڑے گی اور نہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرے گی  لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی واضح کیا  کہ  اس کے عہدیدار انفرادی حیثیت سے  الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی چننے کے لیے آزاد ہیں۔ آج کل کے سیاسی ماحول میں اس طرح تنظیم کی تشخص کو بھی باقی رکھتے ہوئے آرزو مند افراد  کو گنوائے بغیر ساتھ رکھا جاسکتا ہے۔ ایودھیا کے اندر رام مندر کے بجائے راج بھون بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کلوی نے کہا تھا کہ بھگوان رام مندر میں نہیں بلکہ محل (راج بھون) میں پیدا ہوئے تھے۔ کلوی کے مطابقفی الحال اس بابت عدالت عظمیٰ  میں درخواست  زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ رام چندرجی  چونکہ شتری تھے  اس لیے راجپوت سماج کی یہ ذمہ داری ہے کہ  وہ اپنے آباو اجداد  کی عقیدت کے پیش نظر  مداخلت کرے  اور مندر مسجد کے مسئلہ پرسماج کو نفرت پھیلانے والی  فرقہ پرست طاقتوں سے بچائے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ  اس قدرسلگتے ہوئے مسئلہ کرنی سینا جیسی جذباتی تحریک امن و امان   کی باتیں کررہی ہے اور اپنے آپ  کو سنسکاری کہنے والاسنگھ پریوارے نفرت وعناد پھیلا رہا ہے۔

اس معاملہ میں جہاں  بی جے پی کے کئی رہنما   عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی سرتابی کاا علان کررہے ہیں  وہیں کرنی سینا نے اس سے گریز کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کی خاطر اس نےقانون شکنی  یا عوامی تحریک کے بجائے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ   انڈین آرکیولوجیکل سروے کو راجہ  دشرتھ کا محل کھوجنے کی ذمہ داری دے تاکہ ان آثار قدیمہ  کی بنیاد پر راج محل کے نقشہ کو آخری شکل دی جائے گی۔ لوکیندر سنگھ کلوی کی یہ تجویزتو معقول  ہے  بشرطیکہ وہ سیاسی دخل اندازی سے پاک ہو۔ ۲۰۰۳ ؁ کے اندر اٹل جی نےبابری مسجد کے خطۂ اراضی پر  اس مقصد سے کھدائی کرائ تھی کہ نیچے کسی مندر کے آثار کا پتہ لگایا جائے۔ ویسے یہ  کمزور دلیل ہے کہ اگر کل کو ایوان پارلیمان کے نیچے کسی جین مندر کے آثار مل جائیں تو کیا یہ مان لیا جائے گا کہ یہعمارت مندر کو توڑ کر تعمیر کی گئی ہے۔ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کسی کھنڈر کی خالی زمین پر حکومت ہند یہ ایوان بنایا ہو۔ ایسے میں کیا محض آثار کے نکل آنے پر ایوان پارلیمان  کو منہدم کرکے  جین سماج کے حوالے کردیا جائے گا؟

اٹل جی کے زیر اقتدار بابری مسجد کی زمین کے نیچے مندر کے آثار کا جو نام نہاد انکشاف کیا گیا تھا اس بابت آثار قدیمہ کی دو ماہرین سپریہ ورما اور جیا مینن نے الزام لگایا کہ پہلے سے طے شدہ مفروضات کی روشنی میں اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ  حاصل شدہ شواہد سے غلط نتائج نکالے گئے۔ یہ بات ان پروفیسر خواتین نے ۲۰۱۰ کے اندر شائع کرکےعدالت کو بھی بتادی تھی۔ اس تفتیشی ٹیم کے سربراہ بی آر منی کو ان کی کوتاہیوں کے سبب الہ باد عدالت نے تبدیل کروا دیا تھا۔ مودی سرکار نے انہیں قومی میوزم کی سربراہی سے نواز دیا ہے۔ ہفنگٹن پوسٹ کو دیئے جانے والے تازہ انٹرویو میں ورما نے کہا مسجد کے نیچے سے نکلنے والی دیوار وہاں  کسی قدیم  ایک مسجد کا ثبوت ہے۔ جن دیگر آثار کی بات کی جاتی ہے وہ کھدائی میں نہیں بلکہ  بابری مسجد کے ملبہ میں ملے تھے۔ ان میں سے ایک جوڑے کی مورتی لگتی ہے لیکن اس سے یہ نہیں ثابت ہوتا کہ نیچے کوئی مندر تھا۔ کھدائی کے دوران جو مسلم تہذیب کے شواہد یا ہڈیاں نکلیں انہیں نظرا نداز کردیا گیا۔ جو دھاندلی عدالتی پیروی میں  کی گئی  وہی جگہ جگہ دھرم سبھا میں کی  جارہی ہے۔ عدلیہ کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اس کے برعکس کلوی نے کہا تھا کہ ہم نے فیض آباد میں  رام نومی کے موقع پر کانفرنس کرنے اجازت طلب کی ہے۔ اگر اجازت ملی تو سمیلن ہوگا ورنہ آگے کی کوئی تاریخ طے کی جائے گی۔ اس معلوم ہوتا کہ رام لیلا کے سنگھ پریوار سے بہترپدماوت کی کرنی سینا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close