آج کا کالم

کرکٹ اور  سیاست  کی مماثلت

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں نہ تو کھیل کو کھیل اور نہ سیاست کو سیاست سمجھا جاتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں  جب  عوام و خواص کے  اعصاب پر  کسی آسیب کی مانند سوار ہوجاتی ہے توانہیں   کچھ اچھا یا   برا نہیں  لگتا۔ کبھی  کسی ایک  پارٹی  کی کامیابی کو پوری قوم اپنی فتح سمجھ کر جشن منانے لگتی ہے   یا کسی ایک  ٹیم کی شکست کو اپنی ناکامی  مان کرتمام  لوگ ماتم کرنے لگتے ہیں  حالانکہ  ان دونوں  کا  روزمرہ کے حقیقی  مسائل سے  کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سیمی فائنل سے ایک دن قبل ملک کے معروف ٹی وی چینل  نے پرائم ٹائم پر سوال کیا کہ کیا وزیراعظم ٹیم انڈیا کو جیت دلا پائیں گے ؟ ایسا اوٹ پٹانگ سوال کرکٹ کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہوگا  لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایسی کئی حماقتیں ہیں جن کا نریندر مودی کے  وزیراعظم بننے سے قبل کوئی وجود نہیں تھا  مثلاً کسے پتہ تھا کہ گوبر گیس سے بجلی بنتی ہے اور اگر گوبر گئوماتا کا ہوتو اس سے اڑنے والا جہاز بادلوں میں راڈرسے بھی دکھائی نہیں  دیتا۔  کل یگ کی کہاوت ‘ مودی ہے تو ممکن ہے’ کون نہیں جانتا؟

اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی کارکردگی تمام ٹیموں سے اچھی تھی۔ وہ  سب سے زیادہ پندرہ پوائنٹ حاصل کرکے سرِ فہرست  تھا۔ اس کا ایک میچ بارش کے سبب منسوخ کردیا  گیا تھا اور صرف ایک میچ میں میزبان انگلینڈ نے اسے ہرایا تھا اس لیے قوی امکان تھا کہ وہ فائنل کھیلے گا۔ ٹی وی پر بحث اسی لیے چھیڑی گئی  تاکہ  متوقع کامیابی  کا کریڈٹ مودی جی کو دے کر ان سے دکشنا اور بھکتوں سے آشیرواد پراپت کیا جائے لیکن افسوس کے یہ دونوں خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے۔ بھارت کی ٹیم اگر سیمی فائنل جیت جاتی تو اس چینل کے ساتھ اور بھی کئی لوگ شامل ہوجاتے اور مودی جی کے سر ٹیم کے فائنل میں جانے کا سہرا باندھ  دیتے۔ مودی جی کےٹوئیٹر پر پیغام سے ساری دنیا کو معلوم  ہوجاتا فائنل میں کامیابی کس کے آشیرواد سے ملنے والی ہے۔ 2019 کی طرح اس بار پھر ہندوستان طلائی تمغہ جیت کر لوٹتا تب تو ایسا جشن منایا جاتا کہ گویا اس سے پہلے یہ چمتکار کبھی ہوا ہی نہیں ہے اور یہ صرف صرف مودی جی بدولت ممکن ہوا ہے لیکن افسوس کہ قسمت نے دھونی کا ساتھ نہیں دیا اور وہ راہل گاندھی کی مانند رن آوٹ ہوگئے۔

اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی پریشانی بجا ہے۔ اس کے دور میں 2014 ٹی-20 عالمی کپ کے فائنل میں بھارت کو شکست، 2015 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ہار، 2016 ٹی-20 عالمی کپ کے سیمی فائنل میں ناکامی ، 2017 چمپئنز ٹرافی کے فائنل میں شکست اور 2019 عالمی کپ کے سیمی فائنل میںناکامی ہاتھ لگی جبکہ  کانگریس کے دور میں 1983 عالمی کپ، 2007 ٹی-20 عالمی کپ، 2011 عالمی کپ اور 2013 میں چمپئنز ٹرافی  میں فتح ہندوستان نے فتح کا پرچم لہرایا۔سیمی فائنل میچ اور حالیہ انتخابی نتائج میں بلا کی مماثلت ہے۔ ہندوستانی ٹیم کی کارکردگی اگر نیوزی لینڈ  کی مانند ہوتی جو مرتے پڑتے رن ریٹ کی بنیاد پر سیمی فائنل میں داخل ہوسکی تو اس قدررنج  نہیں ہوتا۔ اس طرح کوئی  ٹیم اگر فائنل میں پہنچ  بھی جائے تب بھی اس کی فتح کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ راہل  گاندھی نے اگر اپنی محنت ومشقت سے امیت شاہ کو گجرات میں ۱۵۰ کے بجائے ۱۰۰ کے اندر  نہ رو کا ہوتا اورکرناٹک میں بی جے پی کی حکومت سازی کو ناکام نہیں بنایا ہوتا تو اس قدر مایوسی نہیں ہوتی۔ وسطی ہندوستان کے ۳ صوبوں میں  کانگریس کی کامیابی اور چوکیدار چور والی کامیاب انتخابی مہم کے بعد  عوام کی توقعات ان سے اسی طرح بڑھ گئی تھیں جیسے وراٹ کوہلی کی یکے بعد دیگرے فتح سے وابستہ تھیں۔

اس وقت  مودی  جی کی حالت بالکل نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز  جیسی پتلی  ہوگئی تھی۔ کانگریس کی بالنگ کے آگے ان  کو ایک ایک رن جوڑنا مشکل ہوگیا تھا۔ سارے مبصرین یہ کہنے پر مجبور ہوگئے تھے کہ اس بار مودی کے ۲۴۰ سیٹیں جیتنا  بھی ممکن نہیں ہے۔ نیوزی لینڈ کے معمولی ہدف کو حاصل کرلینا   ہندوستان جیسی طاقتور ٹیم کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل تھااور ایسا لگنے لگا تھا کہ راہل گاندھی اپنے حلیفوں کی مدد سے بہ آسانی اس کو حاصل کرلیں  گے۔  لیکن میچ والے دن نیوزی لینڈ  نے پہلے تین اوور میں ہی ہندوستان کے تین بہترین کھلاڑیوں کو  ۵ رنوں کے عوض پویلین میں بھیج کر اپنی برتری قائم کردی۔ ان لوگوں نے روہت شرما ، وراٹ کوہلی اور لوکیش راہل کو ایک سے دو رن بنانے نہیں دیا۔ یہی کارنامہ مودی جی نے  پلوامہ اور اس کے بعد ائیر اسٹرائیک کے ذریعہ کردکھایا۔ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم جس طرح ابتدائی  جھٹکے سے نہیں ابھر سکی  اسی طرح ائیر اسٹرائیک کے حملے سے بھارت  کا حزب اختلاف  ایسا گرا  کہ  پھر سنبھل   نہیں سکا۔

انتخاب کے اس مرحلے میں  اترپردیش کے اندر اکھلیش یادو اور مایا وتی نے پنت اور پنڈیا کی مانند مزاحمت توکی لیکن  دباو کو پوری طرح ختم نہیں کرسکے۔امیت شاہ نے جس طرح  ان  دونوں کی  گھیرا بندی کر نے کے لیے شیوپال یادو کو میدان میں اتارا اسی طرح  نیوزی لینڈ نے مشعل سنتھر کو گیند تھماکرپنت اور پنڈیا  دونوں کو  فی کس ۳۲  پرآوٹ کرکے میدان سے باہر بھیج دیا۔ اس طرح ۳۰ اوور میں ہندوستانی ٹیم کے ۹۲ رن پر ۶ وکٹ گرگئے۔میچ کے آخری ۲۰ اوور میں ہندوستان کے سامنے ۱۳۰ کا ہدف ناممکن  تونہیں  لیکن  مشکل ضرور تھا۔ ان نازک گھڑیوں میں ممتا بنرجی اور اسٹالن کی طرح  مہندر سنگھ دھونی اور رویندر جڈیجہ   نے مقابلہ کرنے کی اپنی سی  کوشش  کی اور ایک وقت میں ایسا لگنے لگا کہ بازی ہاتھ لگ جائے گی لیکن پھر میچ نے پلٹا کھایا  اور کھیل میں ایک نیا ٹویسٹ آیا ۔ جڈیجہ کے کیچ اور دھونی کے رن آوٹ نے کھیل کا  نقشہ اس طرح  بدلا کہ قائم چاندپوری کا یہ شعر یاد  آگیا ؎

قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جا کر کہاں کمند

کچھ دُور اپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا

کرکٹ میچ کا یہ  اتار چڑھاو زندگی کے نشیب و فراز سے مشابہ ہے۔ سیاست کی مانند یہاں ہر چیز بالکل غیر متوقع ہے۔ کب کیا ہوجائے یقین کے ساتھ کوئی نہیں سکتا؟ کون جانتا تھا کہ مودی جی کی دوسری سرکار میں ارون جیٹلی وزیر خزانہ نہیں رہیں گے اور نرملا سیتا رامن کو وہ عہدہ مل جائے گا؟ راجناتھ سنگھ سے وزارت داخلہ کا قلمدان  چھین کر امیت شاہ کو تھما دیا جائے گا لیکن کرکٹ کی طرح  سیاست میں بھی سب  کچھ ممکن ہے۔ زندگی  کی طرح کرکٹ کا میچ بھی کبھی کبھار ایک ایسے موڑ پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں انسان اپنے دشمن کے لیے کبھی ہار کی تو کبھی جیت کی  دعا کرتا ہے۔ مثلاً بی جے پی والے چاہتے تھے کہ  راہل گاندھی امیٹھی سے ہار جائیں مگر وائناڈ سے جیت جائیں۔ وہ اپنے بھکتوں کو  یہ باور کرانا چاہتےہیں کہ راہل کو ہندووں نے مسترد کردیا ہے اس لیے انہیں مسلمانوں کی پناہ میں جانا پڑا۔ اس ٹورنامنٹ میں  کرکٹ کے روایتی دشمن ہندوستان و پاکستا ن کے ساتھ یہی ہوا۔

ہندو پاک کےدرمیان  مانچسٹر کے اندر ہونے والے میچ میں پاکستان چاہتا تھا کہ وہ ہندوستان کو شکست سے دوچار کرے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکا اوراسے ۸۹ رن سے کراری ہار کا سامنا کرنا پڑااور امیت شاہ کو یہ ٹویٹ کرنے کا موقع مل گیا کہ ’’ٹیم انڈیا کا پاکستان پر ایک اور اسٹرائیک اور پھر وہی نتیجہ۔‘‘ آگے چل کر ویسٹ انڈیز جیسی کمزور ٹیم سے ہارنے والے پاکستان نے میزبان انگلینڈ کو شکست دے کر ٹورنامنٹ میں واپسی کرلی  لیکن جب  انگلینڈ کے مقابلے ہندوستان میدان میں اترا  تو یہ حالت تھی اگر انگلینڈ ہار جاتا تو سیمی فائنل میں  پاکستان کی جگہ پکی ہو جاتی۔ اس لیے پاکستان کے حامی اس میچ میں ہندوستان کو فتح کے لیے دعاگو تھے تاکہ  ان کی ٹیم کا راستہ صاف ہوجائے لیکن قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ  آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو ہرانے والی ٹیم انڈیا  ٹورنامنٹ میں پہلی بار انگلینڈ کے ہاتھوں شکست سے دوچارہوگئی۔ ہندوستان کے پرستاروں اس وقت   میچ میں  ہار کا غم  نہیں تھا بلکہ  پاکستان کےٹورنامنٹ سے  باہر ہونے کی خوشی تھی۔ اپنی شکست پر خوش ہونے کا یہ دلچسپ موقع تھا۔ اس کے بعد جب بنگلا دیش کو ہرانے کے باوجود پاکستان کی ٹیم واپس ہوئی  بھارتی مداحوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ٹوئیٹر پر لکھا کہ وہ چائے کا کپ لے کر لوٹےہیں۔ اس میں یہ پیغام بھی پوشیدہ  تھا کہ ہم تو طلائی تمغہ  لے کرجائیں گے۔  یہ عجیب اتفاق ہے کہ ہندوستان نے بشمول پاکستان ساری ٹیموں کو ہرایا مگر جن دو ممالک سے شکست کھائی  ان دونوں کو  پاکستان ہرچکا تھا   اور اب وہی دو ٹیمیں فائنل کھیلیں گی ۔

اس ٹورنامنٹ میں دو مواقع ایسے بھی آئے جب بھارت کی ٹیم پر ہندوتوا کا الزام لگا۔  ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں ہر ٹیم کے لباس کا اپنا منفرد رنگ ہوتا ہے۔ ہندوستان نیلے اور پاکستان سبز رنگ سے پہچانا جاتا ہے۔ انگلینڈ کے میچ تک چونکہ بھارت کی ٹیم نے ہر کھیل میں فتح درج کرائی تھی اس لیے  کامیابی  کا امکان روشن تھا۔ ایسے میں اچانک دوران تورنامنٹ  لباس کا رنگ بدل دیا گیا اور قمیض  کے اندر نارنگی رنگ شامل کردیا گیاجو اس قدر زیادہ تھا کہ اس میں نیلا رنگ اسی طرح دب گیا جیسا بی جے پی کے آگے بی ایس پی دب گئی۔ بدقسمتی سے یہ  نارنگی رنگ ہندوستانی ٹیم کو راس نہیں آیا  اور اس کو ۳۱ رنوں کی اولین شکست کا مزہ چکھنا پڑگیا۔ وہ میچ اگر بھارت جیت جاتا تواسے  زعفرانی پرچم کے  ساری دنیا میں لہرا نے کا مترادف ٹھہرایا جاتا۔ اس  کے باوجود اس پر چینی کمپنی ‘اوپو’ کا نام جلی حرفوں میں نام لکھا ہوتا کیونکہ یہ روپیوں کا  تماشا ہے۔ اس میں  شرٹ کا رنگ تو بدل سکتاہےمگر اس پر لکھا  مشتہر کا نام نہیں بدلا جاسکتا چاہے وہ آپ کے دشمن کا کیوں نہ ہو؟  افسوس کہ زعفرانی شر ٹ فتح کے بجائے شکست کی  بد شگونی لے کرآئی۔

  زعفرانی نحوست  کا خاتمہ انگلینڈ  کے میچ تک   تک محدود نہیں تھا۔ افغانستان جیسی کمزور ٹیم کے مقابلے بھی  ٹیم انڈیا ۲۲۴ کے حقیر اسکور پر ڈھیر ہوگئی اور دہرادون میں مشق کرنے والے  افغانیوں  نے ہندوستان کو ناکوں چنے چبوادیئے۔  وہ تو خیر میچ  کے آخری اوور میں  محمد سمیع نے  ہیٹ ٹرک کرکے ان کے تین وکٹ جھٹک لیے ورنہ ہندوستان کی شکست یقینی ہوگئی  تھی۔ افغانستان کو اپنے آخری اوور میں فتح کے لیے صرف ۱۵ رن  درکار تھے اور ان کے تین وکٹ باقی تھے ۔ محمد سمیع کی پہلی  ہی  گیند پرچوکا لگا کر  محمدنبی  نے اپنے ارادے ظاہر کردیئے اور جیت کا فاصلہ کم کردیا۔ اس کے بعد ایک بال  خالی گیا جس پر کوئی رن نہیں بن سکا لیکن پھر سمیع نے لگاتا ر تین کھلاڑیوں کو آوٹ کردیا۔ محمد سمیع کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کیونکہ ورلڈ کپ میں   چیتن شرما کے  ۳۲ سال بعد کسی  ہندوستانی کھلاڑی کے حصے میں  ہیٹ ٹرک آئی تھی۔ عالمی کرکٹ  ٹورنامنٹ کی تاریخ میں  یہ ہندوستان کی سب کم رنوں  کے فرق سے حاصل ہونے والی فتح تھی۔ ۳۲ سال پہلے نیوزی لینڈ کو بھارت نے ۱۶ رن سے شکست دی تھی۔

  افغانستان کو ہرانے کے بعد جب سری لنکا سے مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان کی ٹیم میدان میں اتری تو ٹی شرٹ کا زعفرانی رنگ اور محمد سمیع دونوں  غائب تھے ۔ اس کھیل میں چونکہ انڈیا نے ۴۳ اوور میں صرف ۳ وکٹ کے نقصان پر سری لنکا کو ہرادیا اس لیے محمد سمیع کی کمی محسوس نہیں کی گئی۔ سیمی فائنل کھیلنے کے لیے جب ہندوستانی ٹیم کو میدان میں اتارا گیا تو کرکٹ کے شیدائیوں کو امید تھی  کہ اس مشکل میچ میں کم ازکم محمد سمیع کو یاد کیا جائے گا اس لیے کہ وہ انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے ۵ وکٹ لے چکے تھے۔ اس ٹورنامنٹ میں سب بہترین  کارکردگی  انہیں کی تھی۔ ویسے تو جسپریت بھومرا نے ہندوستان کی ٹیم میں   سب سے زیادہ   یعنی18 وکٹ لیے لیکن اس کے لیے انہیں  9 میچ کھیلنا پڑااور اوسط تقریباً 20 رن فی وکٹ تھا۔ اس کے برعکس  محمد سمیع نے صرف 4 کھیلوں میں 14 وکٹ اوسط صرف ۱۴ رنوں کے عوض لے لیے۔ محمد سمیع کے بجائے جس بھونیشورکمار کو لیا گیا اس نے 32 کے اوسط سے 6 میچوں میں 7  وکٹ لیے تھے۔ اس میچ کے اندر کلدیپ یادو کی غیر موجودگی کو لوگوں نے مسلم  اور یادو کے اتحاد کو نظر انداز کرنے کا سیاسی رنگ دے دیا اور طرح طرح کی سازشی کہانیاں گردش کرنے  لگیں۔

سیاست میں شکست کے بعد جس طرح مبصرین کرام  ہارنے والے رہنما کے اندر کیڑے نکالنے لگتے ہیں اسی طرح کا معاملہ سمراٹ وراٹ کوہلی کے ساتھ بھی ہوا۔ ان لوگوں کو اچانک یاد آگیا کہ اس سے قبل دو مرتبہ وراٹ  سیمی فائنل میں ناکام رہے ہیں۔  ان سے ہمدردی رکھنے والوں نے موسم اور میدان کو موردِ الزام ٹھہرایا۔سچن ٹنڈولکر نے کوہلی کا بچاو کرتے ہوئےکہا کہ انھیں مایوسی ہوئی کیونکہ ٹیم کو 240 رنز بڑا ہدف نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ نے تین وکٹیں لے کر اچھا آغاز کیا۔ لیکن یہ سوچ درست  نہیں ہے کہ ہر بار روہت شرما اچھا آغاز دیں گے یا وراٹ کوہلی آکر مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ دوسرے کھلاڑیوں کو بھی ذمہ داری لینی چاہیے۔ سورو گنگولی  نے وراٹ کوہلی کے ساتھ ساتھ دھونی اور پنت کوبھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوے کہا کہ مہندرا سنگھ دھونی کو ٹھنڈے دماغ سے نہ صرف خود کھیلنا چاہیے تھا بلکہ نوجوان بلے بازوں  کی رہنمائی بھی کرنا چاہیے تھی۔ ان کے ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرنے کی بھی کوئی تُک نہیں تھی۔ تجربہ کار بلہ باز کو پہلے وکٹ پر آ جانا چاہیے یہی بات وی وی لکشمن نے بھی کہی لیکن اپنے کپتان کی مرضی کے خلاف وہ خود تو ایسا فیصلہ  نہین کرسکتے تھے۔ رشبھ پنت پر اپنا غصہ اتارتے ہوئے گنگولی بولے انہوں نے ایک ایسے موقع پر اسپنر پر اونچا شاٹ کھیلا جب وہ سیٹ ہو چکے تھے اور ہدف حاصل کرنے کے لیے آخر تک جا سکتے تھے۔

اس میچ کے بعد شائقین کو یہ اندیشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں  مہندر سنگھ دھونی سبکدوشی کا اعلان نہ کردیں اس لیے ان کےعندیہ کا انتظار کیے بغیر لوگوں نے انہیں سمجھانا اور منانا شروع کردیا۔ سوشل میڈیا پر ڈو ناٹ ریٹائر دھونی کا ہیش ٹیگ سے چلنے والے لگا اس  ٹرول میں  لتا منگیشکر بھی شامل ہوگئیں اور انہوں نے لکھا کہ "ملک کو آپ کی ضرورت ہے اور آپ ریٹائرمنٹ کی سوچ بھی اپنے دل میں نہ لائیں”۔ ہندوستانی عوام کے اندر کرکٹ کی مقبولیت کا یہ ایک جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ اس ٹویٹ کو ایک لاکھ گیارہ ہزار صارفین نے پسند اور 25 ہزار نے ری ٹویٹ کیا۔ ایسے میں سیاستداں کیوں کر اس سے دور رہتے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ٹیم کی شکست پر ٹویٹ کیا‘‘ ایک مایوس کن نتیجہ۔ لیکن یہ دیکھ کر اچھا لگا  کہ بھارتی ٹیم نے آخر تک جدوجہد کی۔ کھلاڑیوں نے پورے ٹورنامنٹ میں بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ میں عمدہ کارکردگی پیش کی جس پر ہم سب کو فخر ہے۔ ہار اور جیت زندگی  کا حصہ ہے۔ مستقبل میں ٹیم کے لیے نیک خواہشات’’۔ کاش کہ یہی بات انتخابی نتائج کے بعد وہ  حزب اختلاف  سےکہتے لیکن اس کے لیے ۵۶ انچ کے سینے میں ایک فراخ دل کی  بھی ضرورت ہوتی ہے۔

راہل گاندھی کا بڑے دنوں کے بعد ایک ٹویٹ ذرائع ابلاغ کی زینت بنا حالانکہ اب  ٹوئیٹر پر ان کا تعاقب کرنے والوں کی تعدادایک کروڈ سے تجاوز کرچکی ہے۔ انہوں نے لکھا گوکہ  آج رات سو کروڈ لوگوں کی دل شکنی ہوئی ، ٹیم انڈیا ، تم نے عظیم مقابلہ کیا اور اس کے لیے محبت و احترام کے سزاوار ہو۔ یہ جملہ  تو انتخابی ناکامی کے بعد خود ان پر بھی منطبق ہوتا ہے۔ راہل نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے  لکھا کہ اس  کامیابی کے مستحق تھے جس نے انہیں فائنل میں جگہ دلا دی۔ مودی جی کا پیغام  نیوزی لینڈ کے ذکر سے خالی تھا۔ مودی اور راہل کے علاوہ بلےّ مار بیٹے آکاش وجے ورگیہ کے والد کیلاش وجئے ورگیہ نے بھی اپنا نہایت دلچسپ پیغام ٹویٹ کیا۔ انہوں نے لکھا کھیل میں ہار جیت چلتی ہے مگر دباو کےوقت  پیچھا کرتے ہوئے ہندوستانی کھلاڑیوں نے  غیرمعمولی حوصلہ اور صبر کا  مظاہرہ کیا۔ وہ اپنے آوارہ بیٹے کو بھی اگر اس صبر و ضبط کی تعلیم دیتے   تو ساری دنیا میں بدنامی نہیں ہوتی۔ انہوں نے آگے لکھا کہ عالمی کپ کے ہر شعبے میں  ہندوستانی کھلاڑیوں  کا  اپنی چھاپ چھوڑنا قابلِ تعریف ہے۔ ویسے آکاش نے بھی اپنے بلے سے سیاست کے میدان میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے لیکن بدقسمتی سے وہ قابلِ مذمت ہے۔

اس ٹورنامنٹ سے متعلق بےشمار سیاسی لطیفے  بنائے گئے ان میں  سب سے بہترین یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ۹ کھلاڑی ہندوستانی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں اور اس طرح اب انگلینڈ کے خلاف بھارتیہ جنتا ٹیم  فائنل کھیل رہی ہے۔ اس لچیفہ میں یہ اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ  اس بار انگلینڈ پر کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے‘ ایک نیشن ایک الیکشن’  کی طرز پر‘ ایک میچ ایک امپائر’  کی تجویز کو آئی سی سی نے قبول کرلیا ہے۔ یہ امپائر کوئی انسان نہیں بلکہ ایک مشین ہوگی۔ میدان میں لگے مختلف کیمروں سے تصاویراس کے اندر داخل ہوں گی اور وہ ان کی مدد سے رنوں، کیچوں  اور وکٹوں  پر فیصلہ سنائے گی۔ ان مشینوں پر قابو پانے کے لیے ای وی ایم کے ماہرین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ حسب ضرورت کیمرہ آنکھیں موند لیا کرے۔  اسے الیکشن کمیشن کی طرح ہندوستانی گیند بازوں  کے نو بال اوربلہ  بازوں کے رن آوٹ وغیرہ نظر ہی  نہ آئیں نیز جب بھی اس کے  بالر جئے شری رام کا نعرہ لگائیں مشینی امپائر کے اندر ایک کمل کا پھول کھل جایا کرے اس طرح ای وی ایم کے کمال کا لوہا ساری دنیا مان جائے اور بھارتیہ جنتا ٹیم طلائی تمغہ کے ساتھ لوٹ آئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close