آج کا کالم

کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

رويش کمار

مسئلہ یہ ہے کہ کسان دہلی آ جاتے ہیں تب بھی ان کی کوئی نہیں سنتا، میڈیا میں آ جاتے ہیں تب بھی کسی کو فرق نہیں پڑتا. ایسا نہیں ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کرتی ہے، اس کے تمام دعووں اور منصوبوں اور ان کی ویب سائٹ کے بعد بھی کاشت کا بحران جہاں تہاں سے نکل ہی آتا ہے. کسان دوبارہ جنتر منتر پر آ گئے ہیں. مدھیہ پردیش کے مندسور سے آل انڈیا کسان جدوجہد رابطہ کمیٹی نے کسان مکتی یاترا نکالی، جس میں 6 ریاستوں سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچی ہے. اس سفر کو ملک کے 150-200 سے زیادہ کسانوں کی تنظیموں نے حمایت دی ہے. اسٹیج پر کسان لیڈروں کے علاوہ پہلی بار خود کشی کرنے والے کسانوں کے بچوں نے بھی اپنا درد دہلی والوں کو سنایا. اس امید میں کہ دہلی کے لوگوں کو سنائی دیتا ہو گا.

جنتر منتر پر چل رہے کسان مکت پارلیمنٹ میں دو ہی مانگیں خصوصیت کی حامل ہیں. کسانوں کو فصل کا پورا دام ملے اور کسانوں کو مکمل طور پر قرض مفت کیا جائے. این ڈی اے کے نائب صدر کے امیدوار وینکیا نائیڈو کا بیان تو یاد ہی ہوگا کہ کسانوں کے قرض معافی کا مطالبہ کرنا آج کل فیشن ہو گیا ہے. کھیتی سے 48 فیصد لوگ منسلک ہیں جن میں 22.5 فیصد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں. آپ کو لگتا ہے کہ کسانوں کے پاس فیشن کے لئے وقت اور پیسہ ہے.

اس پارلیمنٹ میں کئی ممبران پارلیمنٹ نے حصہ لیا. سوابھمانی شیتكاري سنگھٹن کے راجیو شیٹی، عام آدمی پارٹی چھوڑ چکے ڈاکٹر دھرم ویر گاندھی، سی پی ایم کے سیتا رام یچوری، محمد سلیم، تپن کمار سین. جے ڈی یو کے شرد یادو، علی انور، شیوسینا کے اروند ساونت، کانگریس کے بی آر پاٹل. آپ ناظرین بھی ان رہنما یا لیڈروں کو جانتے ہوں گے مگر اس فورم پر بہت سے کسان رہنماؤں نے بھی تقریر کی جنہیں آپ نہیں جانتے ہیں، جنہیں ہم صحافی بھی نہیں جانتے ہیں، مگر وہ اپنے اپنے علاقے میں کسانوں کی آواز ہیں. ان کے رہنما ہیں. اعلان ہوا کہ اب مکمل قیمت اور قرضے سے مکمل آزادی کی لڑائی آر پار کی ہوگی. کسان دام مانگ رہے ہیں. بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ اخراجات میں پچاس فیصد اضافہ کر کے منافع طے کیا جائے گا. ابھی تک اس وعدے کے انتظار میں ہیں. حکومت اب اس وعدے پر نہیں بولتا ہے مگر 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کی بات کرتے ہے. حکومت کو یہی بتانا چاہئے کہ اس وقت کسانوں کی آمدنی کتنی ہے اور 2022 میں دگنی ہوکر کتنی ہو جائے گی. کسان مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر ایک کوئنٹل گیہوں بڑھتی ہوئی میں 1500 روپیہ خرچہ آ رہا ہے تو اس میں 750 روپیہ جوڑ یعنی 2250 روپیہ فی كوٹل دو. اس وقت گندم کی کم از کم امدادی قیمت 1625 روپے ہے.

میڈیا میں جب بھی کسانوں کی خودکشی خبر آتی ہے تب ان کا خاندان اس خبر سے غائب رہتا ہے. مرنے والے کسان کی بیوی کے تصادم اور ان کے بچوں پر نفسیاتی اثر کا ذکر تو کبھی آتا نہیں.

مہاراشٹر سے چل کر جنتر منتر پر ان بچوں کا آنا ہم سب کی ناکامی ہے. میں جانتا ہوں کہ اب ہم سب ہر طرح کی ناکامی کے عادی ہو چکے ہیں. فرق نہیں پڑتا، مگر یہ بچے ایک اور بار کوشش کر رہے ہیں کہ جھوٹے آنسو رونے والی حکومتیں اگر کچھ کرتی ہیں تو ان کا اثر کہاں ہے. کیا اس حکومت کو شرم نہیں آرہی ہے جس نے ان بچوں کو صرف یقین دہانی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے. معاوضہ دیا ہے مگر کسانوں کا مسئلہ حل کہاں ہوا ہے  اور  کب ہوگا. لیڈروں کی ریلیاں دیکھئے. وہ ہر الیکشن میں عالیشان ہوتی جا رہی ہیں. ان کے پاس کہاں سے اتنا پیسہ آتا ہے. کیا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ وہ وهايٹ منی کا پیسہ ریلیوں میں اڑا رہے ہیں. جس ملک کی سیاست جہاں چھک کر نوٹ اڑاتی ہے اس ملک کی سیاست کیوں نہیں ان سوالات کو حل کرتی ہے. آخر رہنماؤں کے عیش تو کبھی کم نہیں ہوتے ہیں، کیا تم نے کبھی لیڈر کو ٹرین سے چل کر انتخابی مہم پر جاتے دیکھا ہے، تو پھر یہ کسان کس طرح مر رہے ہیں. ان کے بچے کیوں یتیم ہو رہے ہیں.

ہم ان خاندانوں کی کہانی نہیں جانتے. ہماری حساسیت ابھی بیچاری ہو گئی ہے. وہ کس کس کے لیے روئے اور کہاں کہاں روئے. کبھی گٹر میں مر جانے والے گمنام مزدوروں کے لئے رونے کا ڈرامہ کرنا پڑتا ہے تو کبھی اسے شہید کے لئے رونا پڑتا ہے، کبھی ملک کے حالات کے لئے. اس بار جنتر منتر پر کسانوں کی پارلیمنٹ میں کسانوں کا ملک آیا. تمل ناڈو والے کسان بھی واپس آ چکے ہیں.

16 جولائی کو جب یہ کسان وزیر اعظم سے ملنے گئے تو گرفتار کر لئے گئے. 17 جولائی کو نرمڈ لے کر بیٹھ گئے. کسانوں کا کہنا ہے کہ یہ کھوپڑی ان کسانوں کی ہے جنہوں نے خودکشی کی ہے. مارچ مہینے میں بھی کسانوں نے طرح طرح سے مظاہرہ کیا تاکہ دہلی میں اثر پیدا ہو جائے. مگر دہلی کو نہ تو نرمڈ سے فرق پڑتا ہے نہ انسانی ڈھانچہ سے. دہلی کی ضمیر پر دہلی بیٹھ گئی ہے. یہاں کے دربار میں رہنما تقریر دے کر بھی خوبصورت لگتا ہے. جھوٹے آنسو روتا ہے جس پر طالی بجتی ہے مگر کسانوں کی خود کشی آج تک رکی نہیں. جاری ہے. جے جوان جے کسان کا نعرہ کبھی جاگنا تھا، آج اس نعرے کا استعمال کسانوں کو ٹھگنے کے لئے کیا جاتا ہے. جب بھی لیڈر کو دھوکہ دینا ہوتا ہے وہ کسانوں کو انّ داتا کہتا ہے، خدا کہتا ہے، سب کہتا ہے مگر اس کے مسئلہ کو کبھی حل نہیں کرتا.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close