آج کا کالم

کسان کیوں ہے پریشان؟

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

آدھے سے زیادہ ملک باڑھ اور بارش سے جوجھ رہا ہے۔ وہیں تمل ناڈو سمیت جنوب کے کئی حصے سوکھے کی چپیٹ میں ہیں ۔ جبکہ اسے 2015-16میں ہلاکت آمیز باڑھ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سوکھاہو یا شدید بارش دونوں ہی صورتوں میں کھیت اور کسان متاثر ہوتا ہے۔ اس وقت آندھرا، کرناٹک،تمل ناڈو کے کسان آندولن کررہے ہیں ۔ مدھیہ پردیش کے کسان دھرنے میں اپنے کئی ساتھیوں کی جان گنوا چکے ہیں ۔ پچھلے سالوں میں مہاراشٹر، گجرات، راجستھان، ہریانہ، پنجاب اور یوپی کے کسان سڑکوں پر تھے۔ بے چینی اب بھی ملک بھر کے کسانوں اور کھیتی سے جڑے مزدوروں میں دکھائی دے رہی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ جنتر منتر اس وقت تمل ناڈو کے کسان احتجاج کا گواہ بن رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یوگیندر یادو کی قیاد ت میں کئی ریاستوں کے کسان یہاں جمع ہوئے تھے۔

مظاہرہ کے انوکھے طریقے اپنانے والے تمل ناڈو کے کسانوں نے ایک بار پھر جنتر منتر پر ڈیرہ ڈال دیا ہے۔ اس سے قبل مارچ، اپریل میں اکتالیس دن تک وہ احتجاج کرچکے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بار وہ بڑے پیمانے پر آندولن کرنے کے ارادے سے دہلی آئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو میں 100 سال کا سب سے خوفناک سوکھا پڑا ہے۔ پچھلے چار ماہ میں قریب چار سو کسانوں نے خودکشی کرلی۔ سوکھا راحت کے نام پر سرکار نے تین ہزار روپے دیے ہیں ،اتنے میں کیسے گزارا ہوسکتا ہے؟ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تمل ناڈو میں تاریخی سوکھا پڑنے سے وہاں کے کسان بدحال ہیں لیکن جن صوبوں میں اچھی بارش اورکافی اچھی فصل ہوئی وہاں کے کسانوں کی حالت کیوں خراب ہے؟ کیوں کئی ریاستوں میں کسان قرض معافی کیلئے مظاہرے کررہے ہیں ؟ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 1995 سے 2015 کے بیچ 21 برسوں میں دیش کے کل 3,18,528کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

ان داتا کی خودکشی تشویشناک ہے۔ اس سے زیادہ پریشان کن وہ وجوہات ہیں جن کے چلتے کسان کو خودکشی کرنی پڑتی ہے۔ ساہو کاروں اور مہاجنوں پر الزام لگایاجاتاہے کہ وہ قرض وصولنے کیلئے دبائو بناتے ہیں جس کی وجہ سے وہ خود کشی کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں ۔ این سی آر بی کی رپورٹ کہتی ہے کہ 2015 میں جن 3000 کسانوں نے خود کشی کی ان میں سے 2474 نے بینکوں سے قرض لیا تھا نہ کہ ساہوکاروں سے۔ کسانوں کے ساتھ اگر کھیت مزدوروں کی خودکشی کو جوڑ دیا جائے تو تصویر کچھ اس طرح سامنے آتی ہے۔2015 میں کھیتی سے جڑے 12602لوگوں نے خودکشی کی جو 2014 کے مقابلے دوفیصد زیادہ ہے صرف مہاراشٹر میں ملک کے ایک تہائی 4291 کسانوں نے خودکشی کی۔ آج حالت یہ ہے کہ ہر 41 منٹ میں دیش میں کہیں نہ کہیں ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔ قریب 87 فیصد واقعات مہاراشٹر، کرناٹک، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، گجرات، چھتیس گڑھ، آندھرا پردیش اور تمل ناڈو کے ہیں ۔ کھیتی کیلئے لیا گیا قرض خود کشی کی بڑی وجہ ہے۔ پچھلی دہائی کے مقابلے کسان قرض داروں کی تعداد میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ کسانوں کے قرض کا ان کی غریبی اور بیماری سے سیدھا تعلق ہے۔ سابق وزیراعظم چودھری چرن سنگھ نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ کسان قرض میں جنم لیتا ہے اور قرض میں ہی مرجاتا ہے۔

مرکزی و ریاستی سرکاروں کے زراعت کی ترقی اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دعوئوں ، وزیراعظم فصل بیمہ یوجنا، ڈی ڈی کسان چینل، سوائل(Soil health card)صحت کارڈ یوجنا کے باوجود کیا وجہ ہے کہ کسانوں کی حالت مایوس کن بنی ہوئی ہے۔ کھیتی لگاتار گھاٹے کا سودا بنی ہوئی ہے۔ آلو، پیاز اور ٹماٹر کی فصل کے وقت دیکھنے کو ملا کہ بازار میں انہیں کوئی دو روپے کلو کو بھی لینے کو تیارنہیں تھا۔ کسانوں کو آلو، پیاز، ٹماٹر اپنے جانوروں کو کھلانے پڑے یا پھر گڈھوں میں دبانے پڑے۔ ان کے پاس اتنی گنجائش نہیں تھی کہ وہ اپنی فصل کو کولڈ اسٹور میں محفوظ رکھ پاتے۔ آج ٹماٹر بازار میں سوروپے کلو بک رہا ہے۔ سرکار نے اس وقت ان کی مدد کی ہوتی تو کسان کو آج اس کی محنت کا بدلہ مل سکتا تھا۔ اس پر طرہ یہ کہ کئی سرکاری افسران اور بھگت کہتے ہیں کہ اگر کھیتی کسانوں کیلئے گھاٹے کا سودا ہے تو وہ کھیتی کرتے کیوں ہیں ۔ کوئی اور کام کیوں نہیں کرتے۔ دراصل ناقص اقتصادی پالیسی کی وجہ سے ہی کسان غریب اور کھیتی گھاٹے کا کام بنی  ہوئی ہے ۔ اسی وجہ سے کسان قرض کے ایسے جال میں پھنسے ہیں کہ وہ اس سے نکل نہیں پارہے ہیں ۔

آزادی کے وقت مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ پچاس فیصد سے زیادہ تھا۔ وہیں اب یہ بیس فیصد بھی نہیں رہا۔ جبکہ ملک کی 60-70 فیصد آبادی کھیتی پر منحصر ہے۔ قومی نمونہ سروے نے دیش کے آٹھ کروڑ کسان خاندانوں میں سے 48.5 فیصد کو قرض میں دباہوا بتایا۔ کسانوں کی مالی حالت سدھارنے کیلئے ماہرین مشورے دیتے ہیں کہ آبپاشی کا مناسب انتظام، وقت پر کسانوں کو رعایتی شرح پر بجلی، بیج، کھاد، کیڑوں کو مارنے کی دوائوں کی فراہمی ،دیہی علاقوں کو پکی سڑکوں سے جوڑنا اور مناسب قیمت پر سرکار کے ذریعہ ان کی فصل کی خرید وغیرہ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے کسانوں کی بدحالی دور ہوجائے گی؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کیلئے سبز انقلاب میں آگے رہا پنجاب کا جائزہ لینا مفید ہوگا۔ پنجاب کے اکسار میدان میں زرخیز مٹی پائی جاتی ہے۔ یہاں 98.5 فیصد کھیتی کے لائق رقبہ کو سینچائی کی سہولت حاصل ہے۔ 80 فیصد آبپاشی زمینی پانی سے ہوتی ہے، جس کیلئے لگ بھگ مفت میں کسانوں کو بجلی دی جاتی ہے۔ ریاست میں نہروں کا جال بچھا ہے۔ سبھی گائوں پکی سڑکوں سے جڑے ہیں ۔ پنجاب میں اناج کی خرید کاانتظام دیش میں سب سے بہتر ہے۔ صوبے میں نوے فیصد اناج واجب داموں پر خریدا جاتا ہے۔ بینکنگ سہولیات  بھی موجود ہیں ۔

اس بنیادی ڈھانچے کی وجہ سے  پنجاب  میں شروع میں کھیتی کسانی خوشحالی لے کر آئی۔ لیکن جیسے جیسے کھیتی کا روایتی طریقہ بدلا گیا ویسے ویسے کھیتی لگاتار بدحالی کی طرف بڑھتی چلی گئی۔ آج حالت یہ ہے کہ 96 فیصد دیہی خاندانوں کی آمدنی خرچ کے مقابلے میں کم ہے۔ 98فیصد دیہی خاندان قرض میں دبے ہوئے  ہیں ۔ سرکار کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ یہ کیسی اقتصادی پالیسی ہے کہ کھیتی میں لگی پوری آبادی ہی خطرے میں ہے۔ اوپر سے قومی زرعی ترقی یوجنا، این ایف ایس ایم اور ڈیری وکاس کیلئے دی جانے والی رقم سرکار نے کم کردی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سرکار نے جان بوجھ کر کسانوں کیلئے معاشی مشکلات پیدا کرنے والی پالیسی بنائی ہے تاکہ وہ کھیتی چھوڑ دیں ۔ اس سے انفراسٹکچر، تعمیرات اور ریئل اسٹیٹ کیلئے سستے مزدور مل سکیں گے۔ قومی  پیشہ وارانہ  ترقی کونسل کے ذریعہ ایسی پالیسی بنائی جارہی ہے جس سے اگلے پانچ برسوں میں زراعتی زمرے سے موجودہ 57فیصد مزدور طاقت گھٹ کر 38 فیصد ہوجائے۔

پنجاب میں 1972 سے 1986تک زراعتی ترقی کی شرح 5-7فیصد تھی جبکہ قومی شرح صرف 2.3فیصد۔ اس کے بعد سبز انقلاب کی چمک یہاں پھیکی پڑنے لگی1987سے 2005کے بیچ یہ شرح گھٹ کر تین فیصد رہ گئی جو قومی شرح 2.9 سے کچھ ہی بہتر تھی۔ اگلی دہائی میں 2006سے2015کے درمیان یہ محض1.6فیصد رہ گئی۔ یہ کڑوی حقیقت ہے کہ سبز انقلاب لوگوں کا پیٹ بھرنے کیلئے نہیں بلکہ ان بین الاقوامی کمپنیوں کو منافع کمانے کا موقع دینے کیلئے شروع کیا گیا تھا جو دوسری عالمی جنگ سے پہلے جنگی سازو سامان بنایا کرتی تھیں ۔امریکہ کے قیام کے بعد سیدھے جنگ کے امکانات ختم ہوگئے۔اپنی بیکاری دور کرنے کیلئے ان کمپنیوں نے کیمیکل کھاد، کیڑے مارنے کی دوائیں بنانا شروع کردیا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ان کی کھپت محدود تھی اس لئے انہوں نے تیسری دنیا کے ملکوں میں سبز انقلاب کا شگوفہ چھوڑا۔ زیادہ پیداوار دینے والے بیج، ؎کیمیکل، کھاد اور کیڑے مارنے کی وہ دوائیں بھی یہاں پھیلا دیں جو ترقی یافتہ ملکوں میں قابل قبول نہیں تھیں ۔ اس کے نتیجہ میں ایک طرف ہمارا روایتی نظام زراعت درہم برہم ہوگیا تو دوسری طرف زمین کی زرخیزی کم ہوگئی۔ اس اناج کے ساتھ کینسر، دل کی بیماری، بلڈ پریشر، شوگر، تنفس اور متعدی بیماریاں بھی آئیں ، جن کی دوائیں بھی انہیں کمپنیوں نے فراہم کیں اور کروڑوں ڈالر کمائے۔

 ملک میں کسانوں کے احتجاج تو ہورہے ہیں لیکن ان مظاہرین کے درمیان آپسی ربط نہیں ہے۔ کئی کسانوں کا کہنا ہے کہ خود کشی بھی ایک طرح کا احتجاج ہے اور سرکار کی توجہ اس مسئلہ کی طرف مبذول کرانا ہے۔ سچائی یہ ہے کہ جب تک ان سب کے درمیان رابطہ نہیں ہوگا تب تک ان کے آندولن کی کامیابی مشکوک ہے۔ ملک میں پہلے بھی کسانوں کی بڑی بڑی تحریکیں چلیں اور کامیاب ہوئیں ۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل، سرچھوٹو رام، ساجانند سرسوتی، بلدیو رام مردھا، این جی رنگا، راجو سیٹھی، وی ایم سنگھ، رام منوہر لوہیا، چودھری چرن سنگھ، دیوی لال اور مہندر سنگھ ٹکیت وغیرہ جیسے لیڈر کسان تحریکوں کی ہی دین ہیں ۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ کھیتی کیلئے نئی پالیسی بناکر کسانوں کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے۔ ویسے وزیراعظم نریندر مودی اپنے ہر عوامی پروگرام میں یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی سرکار غریبوں اور کسانوں کیلئے وقف ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ ملک کے کسانوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر انہیں مجدھار میں مرنے کیلئے یونہی چھوڑ دیں گے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close