آج کا کالم

کشمیری عوام کی شکایتیں کتنی درست؟

رویش کمار

اس سال 4 اپریل کو جب محبوبہ مفتی جموں و کشمیر کی وزیر اعلی بنیں تو سب نے ریاست کی پہلی خاتون وزیر اعلی کے طور پر ان کا استقبال کیا تھا. 12 جولائی کو محبوبہ حکومت کے سو دن پورے ہوتے ہیں. حالات تو جشن کے نہیں ہے، مگر سوویں دن محبوبہ کو اپنی کرسی سے پیغام جاری کرنا پڑتا ہے. وزیر اعلی اتوار کے بعد سے لوگوں کے درمیان نہیں گئی ہیں. ‘انڈین ایکسپریس’ نے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے وزراء کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے درمیان جائیں. جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں جہاں حالات خراب بتائے جاتے ہے وہاں کوئی وزیر نہیں گیا ہے. دہلی میں جب وزیر اعظم کی صدارت میں کشمیر کی صورتحال پر اعلی سطحی میٹنگ ہوئی تو محبوبہ مفتی موجود نہیں تھیں. حزب اختلاف کے رہنما عمر عبداللہ نے سوال بھی اٹھایا کہ اس اجلاس میں کشمیر کی کوئی نمائندگی ہی نہیں تھی. وزیر اعلی ويڈيوكانفرنسنگ سے بھی اجلاس میں حصہ لے سکتی تھیں. کشمیر کے لئے اجلاس ہو رہا ہے اور کشمیر کا نمائندہ نہ ہو تو اس ریاست میں کیا پیغام گیا ہوگا. وزیر اعظم نے بھی اس مسئلے پر کوئی ٹویٹ نہیں کیا ہے اور نہ ہی براہ راست کوئی بیان دیا ہے. اجلاس کے بعد پی ایم او میں وزیر مملکت جيتیندر سنگھ نے بیان دیا کہ ‘وزیر اعظم کشمیر کے حالات پر باریک نظر بنائے ہوئے ہیں اور ریاست کو ہر ممکنہ مدد دی جائے گی. وزیر اعظم نے کشمیر کے حالات کا جائزہ لیا اور اس سلسلے میں ہم لوگوں کی رہنمائی کی. امن شانتی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے اور حالات پر تشویش ظاہر کیا ہے. ‘ یہ بیان کیا عوام سے بات چیت قائم کرنے کے لئے کافی ہے؟

مظاہروں کے دوران ہوئے تشدد میں مارے گئے لوگوں کے لئے کوئی لفظ نہیں. کیا ان کے بارے میں بھی حکومت نے کوئی رائے بنا لی ہے. ایجنسی کی خبروں کے مطابق وزیر اعظم نے میڈیا پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ دہشت گرد برہان کو ہیرو کی طرح کیوں پیش کیا گیا. کیا میڈیا کوریج کی وجہ سے مسئلہ پیدا ہوا یا وادی میں لوگ میڈیا کے خلاف بھی گئے. کیا یہ آنے والے وقت میں ہونی والی سیاسی لائن کا اشارہ ہے. کیا ناراضگی اس بات کو لے کر بھی ہے کہ کس کی اجازت سے برہان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کو جمع ہونے دیا گیا. وزیر اعظم کشمیر کو سمجھتے ہیں کیونکہ 7 نومبر 2015 کے دن شیر کشمیر اسٹیڈیم میں انہوں نے ایسا ہی کچھ کہا تھا. "مجھے اس دنیا میں کشمیر پر کسی سے مشورہ یا تجزیہ کی ضرورت نہیں ہے. اٹل جی کے تین منتر ہیں اور یہ آگے بڑھنے کے لئے کافی ہیں. کشمیریت کے بغیر ہندوستان نامکمل ہے.”

جموں کشمیر میں پی ڈی پی- بی جے پی کی حکومت ہے. ریاست کے وزیر صحت بالی بھگت بھی بی جے پی کے ہیں. بڑی تعداد میں زخمی اسپتالوں میں داخل ہیں. ہمارے پاس اس کی پختہ اطلاع نہیں ہے کہ وزیر صحت نے اسپتالوں کا دورہ کیا ہے یا نہیں، جہاں بڑی تعداد میں زخمی موجود ہیں. سرینگر کے مسٹر مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال میں سب سے زیادہ زخمی داخل ہیں. وہاں کوئی وزیر نہیں گیا ہے. اس سے کیا پیغام بھیجا جا رہا ہے.

کشمیر میں جب سیلاب آیا تھا تب وزیر اعظم نے دیوالی کی رات وہیں گزاری تھی. 7 نومبر 2015 کے اجلاس میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ کیا جموں کشمیر کے عام لوگوں کو وہ سارے حقوق نہیں ملنے چاہئیں جو ہندوستان کے دیگر سارے شہریوں کو حاصل ہیں. یہیں پر انہوں نے 80000 کروڑ کے پیکیج دینے کا وعدہ کیا تھا. کتنا پورا ہوا ہے؟ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ جس ریاست نے پرویز رسول جیسے کرکٹر کو دیا ہے وہاں بین الاقوامی کرکٹ میچ کیوں نہیں ہو سکتا ہے. عام طور پر کرکٹ سے دور رہنے والے آپ کے اینکر کو نہیں معلوم کہ بی سی سی آئی کشمیر میں بین الاقوامی کرکٹ میچ کرانے کے لئے کیا کوشش کر رہی ہے. کیا یہ سب بات چیت قائم کرنے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا تھا.

1 دسمبر 2013 کو وزیر اعظم کا جموں میں ایک اجلاس ہوا تھا. اس کا نام للکار ریلی رکھا گیا تھا. ان کی تقریر وزیر اعظم مودی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے. جموں میں انہوں نے کشمیر میں آزادی کا مطالبہ اور علیحدگی پسند سیاست کو ایک نیا ہی رخ دے دیا تھا. وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر انہوں نے کہا تھا، "یہ سیپریٹ سیپریٹ کے نام پر سیپریٹزم کو فروغ دیا گیا ہے. علیحدگی پسندی کو فروغ دیا گیا ہے. علیحدگی پسند قوتوں کو فروغ دیا گیا ہے. بھائیوں بہنوں کتنا اچھا ہوتا اگر سیپریٹ اسٹیٹ بنانے کے بجائے سپر اسٹیٹ بنانے کے خواب دیکھے جاتے. آپ لوگ ہی بتائیں کہ آپ کو سیپریٹ اسٹیٹ چاہئے یا سپر اسٹیٹ چاہئے. "

ایک طرح سے وزیر اعظم نے سیپریٹ اسٹیٹ کی بات سرے سے مسترد کر دی لیکن کیا سپر اسٹیٹ بنانے کی سمت میں ان کی یا محبوبہ کی حکومت اپنے وعدوں پر کھری اتر رہی ہے. لوگ کیوں الجھے ہوئے ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں برہان کے جنازے میں لوگ کیسے آ گئے. دہلی کی بات چیت میں سوالات پہلے سے طے ہیں. سمجھنے کی جگہ اپنی اپنی سمجھ تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے. وہاں کے لوگوں کی شکایت تمام طرح کے حفاظتی دستے سے ہیں. یہاں کے لوگوں کو صرف حفاظتی دستوں کی آواز سنائی دیتی ہے. یہ ایک فرق ہے. یہ ایک دیوار ہے کہ آپ ہمیشہ اُس طرف دیکھ کر بات کرتے ہیں، اِس طرف نہیں.

وادی میں کرفیو کی ویرانی بہت کچھ کہہ رہی ہے. بدھ تک کرفیو ہے. جمہوریت کو زندہ اور جوابدہ بنانے کا دم بھرنے والا سوشل میڈیا دہشت گردی کا علم بردار اور نظام قانون میں رکاوٹ قرار دے کر بند کر دیا گیا ہے. یہ سوال تو پوچھنا ہی ہوگا کہ کیوں پڑھے لکھے، اچھے گھروں کے نوجوان دہشت گردی کے راستے پر جا رہے ہیں. کسی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی زيادتی آپ کو ان ہر گھر والوں میں ملے گی جہاں سے کوئی باغی ہوا ہے. پھر بھی نوجوان کہتے ہیں کہ ہم يونیفارم دیکھ کر بڑے ہوتے ہیں. ہمارے دل و دماغ پر خاص طرح کا اثر ہوتا ہے. کوئی ہمیں سمجھتا کیوں نہیں ہے.

نيوزلینڈری نے کشمیری میڈیا اور دہلی میڈیا کے کچھ حصوں میں ہوئی رپورٹنگ کا تقابلی مطالعہ کیا ہے. یہ فرق پایا ہے کہ دہلی میڈیا کے یہاں پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جانبداری زیادہ ہے. کشمیری میڈیا میں لوگوں کی جانبداری زیادہ ہے. دہلی میڈیا میں مرنے والے 30 لوگوں کی صرف ایک تعداد ہے جبکہ کشمیری میڈیا میں مرنے والوں کی صرف تعداد نہیں ہے، نام بھی ہیں. ایک مسئلہ لفظ کا بھی ہے. کشمیری میڈیا ملٹینٹ لفظ کا استعمال کرتا ہے یعنی شدت پسند. دہلی کا میڈیا براہ راست ٹیرورسٹ لکھتا ہے دہشت گرد. کبھی دہلی کا میڈیا بھی شدت پسند یا ملٹینٹ لکھتا تھا مگر بہت سال سے دہشت گرد لکھنے لگا ہے.

2011 میں جموں و کشمیر کے طلبہ کے لئے اسپیشل اسکالرشپ کی منصوبہ بندی کی گئی تھی. 1200 کروڑ کی اس منصوبہ کے تحت ہر سال پانچ ہزار طلبہ کو ہندوستان کے تمام کالجوں میں داخلہ دیا جانا تھا، تاکہ وادی کے طلبہ مرکزی دھارے سے جڑ سکیں. گزشتہ دو سال سے اس اسکالر شپ کا مطالبہ گرنے لگا ہے. طلبہ نے بتایا کہ اس کی کئی وجوہات ہیں. 1 جنوری، 2016 کو جیون پرکاش شرما نے ‘ہندوستان ٹائمز’ میں اس اسکیم پر ایک رپورٹ شائع کی تھی. وزیر اعظم کے نام پر چلے اس اسكالرشپ کی حالت یہ ہے کہ ایسے کالج کے لئے طلبہ کو داخلہ دیا گیا جہاں کالج زمین پر تھا ہی نہیں. کئی بار فنڈ وقت پر نہیں آیا تو کالج نے طلبہ کو خارج کردیا اور کئی بار کالجوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس اسکالرشپ کا کیا اہمیت ہے.

 2015-16 کے سیشن میں 3742 طالب علموں کو ملک بھر کے کالجوں میں نامزدگی کے لئے بھیجا گیا. اس میں سے 1200 طلبہ نے پیشکش قبول کی مگر بہت سوں نے داخلہ نہیں لیا. تقریبا 70 فیصد طلبہ نے اسکالرشپ نہیں لی.

اگر وزیر اعظم کے نام سے چل رہے اتنے اہم منصوبہ کی یہ حالت ہے تو پھر ہم کون سی بات چیت کی امید لگائے بیٹھے ہیں. اس منصوبہ کے سہارے ہندوستان کے کالجوں میں پڑھنے گئے طلبہ کو کمرے سے نکال کر پوچھا جائے کہ وہ کون سا گوشت کھا رہے ہیں تو کیا حالت ہوگی. آل انڈیا کونسل آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کو اس کی پیروی کرنی تھی. اس اسکیم کو مانیٹر کرنے کے لئے بہت سی وزارتوں کی ایک کمیٹی بنی ہے. انسانی وسائل کی وزارت کے سیکرٹری اس کے سربراہ ہوتے ہیں.

کشمیر میں شرح خواندگی 68.74 فیصد ہے. خواتین کی خواندگی کے معاملے میں جموں کشمیر 30 ویں نمبر پر ہے. فی کس آمدنی کے مطابق جموں کشمیر 25 ویں نمبر پر ہے. بے روزگاری کی شرح 5.3 فیصد ہے جبکہ ہندوستان کا اوسط 2.6 فیصد ہے.

ہمیں کشمیر کا خوبصورت پہاڑ ہی نظر آتا ہے وہاں کی غربت اور بیکاری نہیں نظر آتی ہے. حالات ذمہ دار ہیں تو وہاں کی ریاستی حکومت کیا کرتی رہی ہے. اس کے بعد بھی جونیئر ریسرچ فیلوشپ کے تحت انڈین کونسل فار ایگریکلچر ریسرچ میں شامل ہونے والے طلبہ میں کشمیر کے طلبہ بہت اچھا کرتے ہیں. اس آل انڈیا امتحان میں بہت زیادہ تعداد میں کشمیری طلبہ چوٹی کے پچاس طلبہ میں ہوتے ہیں. مجھے بھی حیرانی ہوئی کہ کشمیر کے طلبہ ویٹرنری اور ایگریکلچر سائنس کی تعلیم کیوں حاصل کر رہے ہیں. تو ایک طالب علم نے بتایا کہ ریاست میں 1000 سے زیادہ ویٹرنری گریجویٹ بے روزگار ہیں. اسی 2 جولائی کو جموں میں بے روزگار ویٹرنری ڈاکٹروں نے پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا تھا کہ حکومت اسامی نہیں نکال رہی ہے. مفتی محمد سعید صاحب نے وزیر اعلی رہتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ نوکری دی جائے گی مگر حکومت نے صرف 24 پوسٹ کے لئے ویكینسی نکالی ہے. ریاست میں 2445 ویٹرنری سینٹر ہیں اور تقریبا 600 ڈاکٹر ہی ہیں جبکہ ریاست میں مویشیوں کی تعداد کافی ہے. کروڑوں میں ہے.

کشمیر پر جب بھی بات ہوتی ہے بات کشمیر سے نہیں ہوتی ہے. سب کشمیر کو لے کر اپنی اپنی بات کرنے لگتے ہیں. اپنے اپنے مفروضات کے پہاڑ چڑھنے لگتے ہیں.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close