آج کا کالم

کشمیر: اس وادی پرخوں سے اٹھے گا دھواں کب تک؟

ڈاکٹر سلیم خان

کشمیر کی دگرگوں صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے دوسری بار اننت ناگ لوک سبھا کا انتخاب ملتوی کردیا۔ 2014 کے اندر کشمیر کےتینوں پارلیمانی حلقوں میں پی  ڈی پی کو کامیابی ملی ۔ اس کے بعد صوبائی انتخاب میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری اور کمال ابن الوقتی سے اپنے نظریاتی حریف بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنالی ۔ اقتدار کی ہوس میں بی جے پی نے بھیمصالحت کرلی اور قوت  کے زور پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے لگی۔ اس حکمت عملی کے خلاف سرینگر سے پی ڈی پی کے طارق محمد قرہ نے استعفیٰ دے دیا ۔ مفتی محمد سعید کی موت کے بعد محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ بن گئیں اور انہیں لوک سبھا کی نشست خالی کرنی پڑی۔ اپریل میں صرف سرینگرمیں  ضمنی انتخابہوا۔ تین سال قبل جہاں 26 فیصد ووٹ پڑے تھے اس بار صرف 7 فیصد پولنگ ہوئی  اور پی ڈی پی کےبجائےاین سی کےفاروق عبداللہ کامیاب ہوگئے یعنی بی جے پی اپنے ساتھ پی ڈی پی کو بھی لے  ڈوبی ۔ راجدھانی میں حکومت کا یہ حشر ہوا۔

وزیراعلیٰ کے حلقہ انتخاب اننت ناگ میں جہاں 28 فیصد ووٹنگ ہوئی تھی  دوبارہ  انتخاب کرانے کے لیے الیکشن کمیشن نے 75 ہزار حفاظتی دستوں کی کمک  طلب کی ۔  حال میں 5 صوبوں کے اندرانتخابات ہوئے جن میں سے اکیلے اترپردیش میں 402 انتخابی حلقے ہیں اس کے باوجود صرف 70000ہزار کی نفری سے کام چل گیا مگر اکیلے جموں کشمیر کے چھٹویں حصے کے لیے 75 ہزار حفاظتی دستوں کی طلب حالات کی  سنگینی کا پتہ دیتی ہے۔ بی جے پی کو مسائل پیدا کرنے کا تجربہ تو ہے مگر حل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔  اس کی حالت بندر کی طرح ہے جس کے ہاتھ میں استرا آگیا ہو۔ اس سے کبھی وہ اپنے گاہک کے کان کاٹتا ہے تو کبھی خود اپنی ناک کاٹ لیتا ہے۔ ترکی کے صدر کی آمد کت موقع پر پاکستانی فوج کے حملےنے بل کلنٹن کی آمد کے قبل نرسنگھ پورہ کے واقعہ کی یاد تازہ کردی اور کانگریس کو یہ کہنےکا موقع مل گیا کہ ۵۶ انچ والی چھاتی کہاں گئی؟ اسی دن  کلگام میں بنک کی گاڑی پر حملہ کرکےجنگجووں نے 5 حوالدار اور دوافسران کو ہلاک کردیا نیز نقدی واسلحہ   اپنے ساتھ لے گئے ۔ امن وامان قائم کرنے میں ناکامی کی  یوں پردہ پوشی نہیں ہوسکتی۔ کشمیر میں انٹرنیٹ کے بعد بنک میں نقدی لین دین پر پابندی لگا دی گئی لیکن کیا اس طرح کی پابندیوں سے مسئلہ حل ہوگا؟

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ125  کروڈ کی آبادی والا عظیم ملک منوہر پریکر کے بعدہمہ وقتی  وزیردفاع سے محروم ہے اور وزیرخزانہ ارون جیٹلی کویہ اضافی  ذمہ داری ادا کرنی پڑررہی ہے ۔ کشمیر میں جاری احتجاجی لہر پر بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے جموں کے اندر ’’ فکرو تشویش‘‘ ظاہر کرتے ہوئے پارٹی سے وابستہ وزراء اورممبران قانون ساز کوبحالی امن میں پی ڈی پی کاہاتھ بٹانے کی ہدایت کی۔ امیت شاہ نے پارٹی سے  رہنماوں کوتلقین کی کہ وہ صرف اپنے اسمبلی حلقوں تک محدود نہ رہیں بلکہ وادیٔ کشمیر میں سماج کے مختلف طبقات سے رابطہ کریں اور سرکردہ اشخاص کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ شروع کرکے پی ڈی پی کو تعاون دیں ۔کاش کے امیت شاہ یہ تقریر سرینگر میں جاکر عوامی رابطے کی ابتداء کرنے کے بعدکرتے۔ وہ خود تو جموں سے آگے جانے کی جرأت نہیں کرسکے مگراپنے ساتھیوں کی اس کوتاہی کا بلاواسطہ اعتراف کرلیا کہ مرکزی اور صوبائی حکومت کے باوجودزعفرانی شیروں کے اندرعوام میں جانے ہمت نہیں ہے۔

 امیت شاہ نے اپنے ارکان اسمبلی کو بتایا کہ  کشمیر میں حالات کو معمول پر لانا مخلوط حکومت کی ذمہ داری ہے جس میں  بی جے پی بھی شامل ہے۔جس جماعت کےارکان اسمبلی کو اپنی ان کی  بنیادی ذمہ داری بتانے کے لیے قومی صدرکو قصد کرنا پڑے اس کی دیش بھکتی کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ امیت شاہ نےپارٹی  رہنماوں کے سامنے انکشاف کیاکہ ’’ہم ان کے ساتھ ہیں اس لیے کہ وہ ہمارے اپنے لوگ ہیں ‘‘ ۔ اس کے معنیٰ یہی ہوئے کہ بی جے پی کے مقامی رہنما کشمیری عوام کو اپنا نہیں سمجھتے شاید اس لیے کہ کشمیر کی وادی میں بی جے پی کے تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ شاہ نے آگے کہا ’’ بندوق کی نوک حالات بگاڑ والےچند لوگوں کے علاوہ جو وہاں کی اکثریت امن چاہتی ہے‘‘۔اس میں شک نہیں کہ کشمیر کے عوام امن چاہتے ہیں لیکن سرینگر کے ضمنی انتخاب کا کامیاب بائیکاٹ شاہد ہے کہ عوام کی اکثریت کس کے ساتھ ہے۔شاہ جی کویہ بھی  بتانا پڑا کہ وہ سب ہندوستانی ہیں اور ان کے جان و عزت کی حفاظت صوبائی و مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کی ادائیگی کو دیکھ کر نہ کشمیری عوام بلکہ ساری دنیا کے انصاف پسند حیران پریشان ہیں ۔

شاہ جی کےکشمیر کی دگرگوں صورتحال پر گھڑیالی آنسو تو بس ایک دکھاوے کے تھے دورے کی اصل وجہ مخلوط حکومت کے فریقوں کے درمیان  اختلافات کا اندازہ  کرناتھا ۔ ریاستی کابینہ سےبی جے پی کےتین وزیروں کی چھٹنی زیر غور ہےان میں سے ایک  چودھری لال سنگھ صوبائی شاخ سے ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے دہلی کا دورہ کرچکے ہیں ۔ موجودہ اسپیکر کوندر گپتا وزیر بن کر عیش کرنا چاہتےہیں  اس لیے سکھ نندن کو ان کی جگی لانے کی تجویزہے تاہم پی ڈی پی اسپیکرکے عہدے کا دعویٰ پیش کر سکتی ہے  ۔قومی صدرنے کابینہ میں  نئے چہروں کو کی بابت پارٹی کے اعلیٰ ہائی کمان سے مشورہ کرنے کا یقین دلایا ۔ ان داخلی مسائل کے علاوہ جموں کشمیر میں صدر راج نافذ کرنے کے سیاسی اثرات کا جائزہ لینا بھی پیش نظر رہا ہوگا اس لیے کہ جس وقت شاہ جی جموں میں تھے گورنر این این ووہرا دہلی پہنچے ہوئے تھے ۔

مرکزی حکومت نے کشمیر کی نئی حکمت عملی کوحتمی شکل دینے سے قبل اہم مشاورت کیلئے ریاستی گورنرکودہلی طلبکیا۔ گورنر ووہرا وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ ، مرکزی داخلہ سیکریٹری راجیو مہرشی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ساتھ کشمیر کی تازہ امن و قانون کی صورتحال اور مخلوط سرکار کی کارکردگی پر غورو خوض کرنے کے لیے دہلی آئے تھے ۔گورنر کی طلبی  دراصل خود اپنی ہی صوبائی حکومت پر عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔ ان ملاقاتوں  میں یقیناً دیگر  غیر معمولی اقدامات کے ساتھ صدر راج کی تجویز بھی زیرِ غور آئی ہوگی۔اس  کڑے فیصلے میں  امیت شاہ کی رائے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اس لیے کہ بی جے پی قومی سلامتی سے زیادہ  اقتدار کی اہمیت دیتی ہے۔  اس

عدالت عظمیٰ میں فی الحال  جموں کشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر سماعت ہورہی ہے۔عرضی گزار نے کشمیر ہائی کورٹ میں  وادی کے اندر پیلٹ گن کے استعمال پر پابندی لگانے کی درخواست دی تھی جو مسترد کردی گئی ۔ اس کے بعد ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ  کے در پر دستک دی ہے۔سماعت کے دوران بار ایسوسی ایشن کے وکیل ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے پیلٹ گن کے مہلک اثرات کی ایک رپورٹ پیش کی جس میں 2014 سے اب تک پیلٹ گن سے متاثر مظاہرین  کی تفصیلات مع تصاویر شامل تھیں  ۔ ایڈوکیٹ شا ہ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ حکومت اس اسلحہ کے متبادل  کی باتیں تو کرتی ہےلیکن عدالتی احکامات و  ہدایات کے باوجود اس کا استعمال جاری ہے اور خصوصاً بچوں کے اموات اور ان کی بینائی سے محرومی کے واقعات رونما ہورہے ہیں ۔سپریم کورٹ نے مرکز ی حکومت کو کشمیریوں سے بات چیت کی تلقین مگر سرکار کے کان پر جوں نہیں رینگی بقول شاعر؎

کلیجہ کانپتا ہے دیکھ کر اس سرد مہری کو

 تمہارے گھر میں کیا آئے کہ ہم کشمیر میں آئے

سرکاری وکیل مکل روہتگی نے ظفر شاہ کےاس الزام کو مسترد کیا کہ  سرکار مذاکرات میں سرد مہری برت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس کےعلیحدگی پسند لیڈروں سے سرکار بات چیت نہیں کرے گی مگر تسلیم شدہ سیاسی پارٹیوں سے بات چیت کو تیار ہے۔سماعت کے دوران عدالت نے وادی میں پتھراؤ کو لیکر سخت رائے زنی کی۔ عدالت نے سوال کیا کہ پتھر بازی اور بات چیت ایک ساتھ کیسے ہوسکتی ہے؟ اس  نے بار ایسوسی ایشن سے وادی کشمیر میں پتھر بازی اور پرتشدد تحریک کی روک تھام  کے بارے میں اپنی تجاویز پیش کرنے  کے لیے  کہا حالانکہ یہبار ایسوسی ایشن کی  نہیں بلکہ حکومت یا انتطامیہ کی ذمہ داری ہے ۔  مقدمہ کی سماعت کےدوران بارکے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدالقیوم نے برملا کہا کہ مذاکراتی عمل کیلئے آئین ہند کے دائرے کی شرط ہٹائے بغیر تنازعے کا ہر فریق بات چیت کیلئے تیار نہیں ہوگا ۔انہوں نےبتایایہ ایک دیرینہ سیاسی و تاریخی مسئلہ ہے جس کو حل کرنے کیلئے مذاکراتی عمل لازمی ہے ۔

اقتدار پر فائز  سیاستداں گوناگوں وجوہات کی بناء حق بولنے سے گریز کرتے ہیں لیکن حزب اختلاف میں دانشمندی کی باتیں کرتے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے ضمنی انتخاب سے قبل کشمیر عظمیٰ نامی اخبار کے ایک انٹرویومیں الزام لگایاکہ  عوام کو خوفزدہ کرکے رائے دہندگی سےروکنےکی سازش  کے تحت گولیاں چلائی جارہی ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ ہندوستان’’ وحدت میں کثرت ‘‘کے نام پر بنا تھالیکن آج اُس وحدت کوختم کرکے ہندو راشٹر بنایا جارہا  ہے۔کشمیریوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ  ایسا دن آئے گاجب آر ایس ایس اور بی جے پی اُس خاکے میں رنگ بھریں گے جو قائد اعظم محمد علی جناح نے1946 میں کھینچا تھا۔انہوں  نےافسوس کا اظہار کیا کہ پارلیمنٹ میں کسی  بھی شخص نےمودی جی  سے یہ نہیں پوچھا کہ کہیں آپ کا مقصد بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا تو نہیں ؟ کسی بھی جماعت سے تعلق رکھنے والاکشمیری مسلمان ہندوستان کو ہند راشٹر کی شکل میں نہیں دیکھنا چاہتے۔

فاروق عبداللہ نے مزاحمتی جماعتوں کی بابت کہا وہ  اس ریاست کا حصہ ہیں ۔ وہ کوئی بیرونی طاقتیں نہیں ہیں اور ان کا ریاست پر اتنا ہی حق ہے جتناہمارا ہے۔ان کے وجود کا انکار ممکن نہیں ہے۔یہ پوچھے جانے پر  کہ وہمذاکراتی عمل کو آپ کیسے دیکھتے ہیں جبکہ حکومت ہندمتعلقہ فریقین کے ساتھ بات کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے فاروق عبداللہ نے جواب دیاہمیں مایوس نہیں ہونا بلکہ مقابلہ کرنا ہے اور اگر نیت صحیح ہے تونہ گھبرائیں نہ  اللہ کی مدد ہمیں ہمت عطا کر یں گی۔پارلیمنٹ میں ایک یا دو اراکین کی آواز کی کیا  قدر ہوگی؟ اس سوال کے جواب میں وہ بولے ارادے اگر پختہ ہوں تو اللہ تعالیٰ آپ کی آوازکوقوت عطا کرتا ہے ،انسان کو ہمت کرنی چاہئے ،اللہ تعالیٰ خودبخود راستہ بناتا ہے۔ہم  پارلیمنٹ میں اس لئے جانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان سے کہہ سکیں  ہم تمہارے غلام نہیں ہیں ۔ہمیں غلام نہ سمجھو،ہم عزت رکھتے ہیں اور عزت کی خاطر لڑنے کیلئے تیار ہیں ۔ عوام کے اندرجنگجوؤ ں کیلئے مر مٹنے کے  رجحان پر عبداللہ نے کہا کشمیریت کا قتل کیا گیا اور انکے وقار کو مسخ کیا گیا، اس لئے وہ گولیوں کا سینہ تان کے سامنا کرتے ہیں اور وہ اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے۔اپنے مکالمہ کے آخر میں انہوں نے حکومت ہند کو یہ پیغام دیا کہ حکومتیں آتی ہیں اور جاتی ہیں ۔جو تم سختیاں کر رہے ہو، وہ ختم کرو۔جن کے ساتھ( اتحاد کر کے) حکومت کرتے ہو ان سے لڑنے کی ہمت رکھواور اگرایسا نہیں کرسکتے تو حکومت سے استعفیٰ دو۔ مرکزی حکومت کے استبداد کے خلاف فاروق عبداللہ کے دلیرانہ اظہار خیال پرراحت اندوری کا یہ شعرصادق  آتا ہے کہ ؎

وہ کہہ رہا کہ کچھ دنوں میں مٹاکے رکھ دوں گا نسل تیری

 ہے اس کی عادت ڈرا رہا ہے ، ہے میری فطرت ڈرا نہیں ہوں

 کشمیر کے حالات کو بہتر بنانے کی خاطر ہر کوئی حریت سے بات چیت کرنے پر زور دے رہا ہے مگر بی جے پی اپنی انا پر اڑی ہوئی ہے سوال یہ پیدا ہوتا  ہے کہ اگر ناگالینڈ کے علٰحیدگی پسندوں سے گفت و شنید ہوسکتی ہے تو کشمیر میں یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟   کانگریس کے معمر رہنما سیف الدین سوز نے بھی برملا کہا کہ  مودی کے نزدیکی صلاح کار اُن کو صحیح مشورہ نہیں دیتے”انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت “ کے کھوکھلےنعرے میں کشمیریوں کو مودی جی کا  ہلکا پن نظر آتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے ساتھ اس بے مقصد نعرے کے ذریعے مذاق کیا جاتا ہے۔پروفیسر سوز نے کہا” وزیر اعظم مودی کو یہ سوچنا چاہئے کہ تعمیر و ترقی کے سارے منصوبے اُس قوم کےلئے بے معنی ہو جاتے ہیں جن کے قلب و ذہن میں اضطراب ،مایوسی اور پریشانی مسلط ہو اور اُن کی نفسیات زخمی ہو چکی ہو۔ ایسی قوم سب سے پہلے اپنے قلب و ذہن میں بامقصد اور روح پرور سکون کی متلاشی ہوتی ہے۔“

 محبوبہ مفتی نے لاکھ کوشش کی کہ مرکزی حکومت کی مدد سے حالات پر قابو کرے لیکن شاید اب وہ بھی مایوس ہوگئی ہیں اور انہوں نے بھی بی جے پی کے نگراں رام مادھو کو بات چیت کا مشورہ دے دیا ہے دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی اس کو قبول کرتی ہے یا صدرراج نافذ کرتی ہے۔ جولوگ یہ سوچتے ہیں کہ حریت سے بات چیت کا مشورہ صرف مسلمان رہنما دے رہے ہیں انہیں چاہیے کہرآ  (RAW)کے سابق سربراہ امرجیت سنگھ دولت کا تازہ مکالمہ دیکھ لیں ۔ امرجیت 1990 سے قبل دوسال کشمیر انٹلیجنس کے جوائنٹ ڈائرکٹر تھے ۔ اس کے بعد انہیں رآ کا سربراہ بنایا گیا اور وہ کشمیر کے معاملے میں  اٹل جی کے مشیر بھی تھے۔ وہ ’’کشمیر :دی واجپائی ائیر‘‘نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں ۔امرجیت دولت نے اس صورتحال کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر ڈالتے ہوئے شمالی فوج کے کماندار لیفٹنٹ جنرل ڈی ایس ہودا کا  بیان یاددلایا جس میں ہودا نے  کہا تھا کہ  اگر عوام ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو ہم کچھ نہیں کرسکتے۔اس لیے کہ اس کے معنیٰ قتل عام کے ہوں گے۔انہوں نے کشمیریوں سے بات چیت پر زور دیا اور میرواعظ نے اس پیشکش کا استقبال کرتے ہوئے کہا ہم فوج سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن  امرجیت کے مطابق  نئی دہلی نےجنرل ہودا کے  اس مشورے  پر توجہ نہیں دی ۔

چینل 18 کےاس  چشم کشا انٹرویو میں انکشاف کیا گیا کہ وادی میں زیادہ سے زیادہ 300 جنگجو ہیں ۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ  10 لاکھ کی تعداد میں حفاظتی دستے کیوں بے دست وپا ہیں ؟امرجیت کے پاس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اس کی وجہ  عوام میں شدید مایوسی ہے اور اسے ختم کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کچھ نہیں کیا جارہا ۔ امرجیت نے انڈین ایکسپریس سے ملاقات میں حالات کی ابتری کیلئے حکومت کو ذمہ دار قراردیا۔ انہوں نے کہا ہم نے بات چیت کے دروازے بند کرکے پاکستان کو موقع دیا۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بات چیت خوشامد کرنے کے مترادف ہے لیکن ایسے میں اگر خوشامد سے کام نکلتا ہے تو وہ بھی کرنی چاہیے۔ انہوں نے تسلیم کیا بی جے پی کا انتہا پسند ووٹ بنک اس کے راہ کی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ان کی نظر میں  گورنر راج  مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ہند اٹل جی کے صلاح کار کامشورہ مانتی ہے یا اپنی من مانی سے حالات مزید بگاڑ دیتی ہے؟ویسے گورنر نے بھی حکومت کو بات چیت پر راضی کرنے کی کوشش کی ہے اور امید ہےدیگر سیاسی جماعتوں کے بعد حریت کو بھی اس میں شامل کیا جائیگا۔  اس بابت مرکزی حکومت بیدار تو ہورہی ہے مگر بہت تاخیر سے اور اس کی بڑی قیمت عوام اور حفاظتی دستے چکا رہے ہیں  ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ  ؎

اس وادی پرخوں سے اٹھے گا دھواں کب تک

محکومی گلشن پر روئے گا سماں کب تک

ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم

  محروم نوا ہوگی غنچوں کی زباں کب تک

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close