آج کا کالم

کشمیر کے خونخوار، چھتیس گڑھ میں رشتے دار

   اس سنگین صورتحال سے آنکھیں موند کر وزیر اعظم جموں وکشمیر سے متعلق آئین کی دفع ۳۵ اے اور ۳۷۰ کو ختم کرنے کا راگ الاپ رہے ہیں۔

ڈاکٹر سلیم خان

یہ حسن اتفاق ہے کہ جس دن وزیر اعظم نے کشمیر کو مرکزی موضوع بناکر نیوز ۱۸ پر (نورا) انٹرویو دیا اسی دن چھتیس گڑھ میں عام انتخابات سے ٹھیک پہلے نکسلیوں نے بی جے پی کے قافلہ پر گھات لگا کر  آئی ای ڈی دھماکہ کردیا۔ دنتےواڑہ کے  اس حملہ میں بی جے پی رکن اسمبلی بھیما منڈاوی کی موت ہو گئی ہے اور پولیس کے پانچ جوان مارے گئے لیکن اس زبردست سانحہ پر چونکہ نیوز۱۸ کے مدیر اعلی ٰ راہل جوشی نے کوئی سوال نہیں  کیا اس لیے  مودی جی بھی خاموش رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ  اس  سوال  کا کوئی معقول جواب وزیراعظم کے پاس نہیں تھا اور فرقہ وارانہ ماحول کو ہوا دے کر انتخاب لڑنے میں اس موضوع کو چھیڑنا مفید  نہیں تھا۔  مودی جی نے جس طرح انتخاب سے قبل اس مکالمہ کو نشر کروانے کا اہتمام کیا اسی طرح نکسلیوں نے بھی انتخاب  پہلے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ نکسلی تو اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کے ہاتھ کامیابی  آتی ہے یا ناکامی؟

آنجہانی بھیما منڈاوی  بستر پارلیمانی سیٹ سےتشہیر کے آخری دن لوٹ  رہے تھے کہ نکسلیوں نے بارودی سرنگ سے ایسا زبردست دھماکہ کیا  کہ رکن  اسمبلی کی  بلیٹ پروف گاڑی کے پرخچے اڑ گئےاور  لاشوں کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔ دھماکے کے بعد حملہ آور  فائرنگ کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف بھاگ گئے۔ اس حملے کے ۲۴ گھنٹے بعدسالے گھاٹ کے جنگلوں میں ایک اور تصادم میں  سی آر پی ایف کے ایک جوان کے مارے جانے اور  تین جوانوں کے زخمی ہونے کی  خبر بھی  آگئی۔ چھتیس گڑھ میں اس طرح کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ چار دن قبل بھی  اسی علاقہ میں کانکیر کے مقام پر  نکسلیوں کے ساتھ انکاؤنٹر میں بی ایس ایف کے چار جوان مارے  گئے تھےاور دو زخمی ہوگئے۔ اس سے پہلے  مارچ میں دنتے واڑہ کے نکسلی حملے میں اناؤ کے رہنے والے سی آر پی ایف جوان ششی کانت تیواری کی موت ہوگئی اور پانچ دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ بدستور ہونے والے  یہ واقعات بحث کا موضوع  نہیں کیونکہ اس میں حزب اقتدار کا نقصان ہے۔

ان سانحات  سے  پورے علاقے میں  خوف و ہراس پھیل گیا۔ اس کا اثر سیکڑوں میل دور مہاراشٹر کے نکسل متاثر علاقہ گڈچرولی اور چندر پور میں بھی محسوس کیا گیا جہاں بی جے پی نے ہیلی کاپٹر کی خرابی کا بہانہ بناکر امیت شاہ کی دو ریلیاں منسوخ کردیں۔ ویسے راشٹر وادی کانگریس  کے نواب  ملک کا دعویٰ ہےکہ  جلسوں کو منسوخی کا سبب  عوام کی عدم دلچسپی  ہے۔ ناگپور کے اندر نتن گڈکری جیسے مقبول رہنما کے جلسے میں اگر کرسیاں کی خالی رہتی ہیں  تو بیچارے امیت شاہ کس کھیت کی مولی ہیں ؟ ایسا  بھی نہیں کہ صرف بی جے پی دہشت گردی کے نشانے پر ہے بلکہ وہ بھی موقع کی تلاش میں  رہتی ہے۔ منی پور کے گاؤں پردھانوں کو کوکی نیشنل آرمی کی جانب سے بی جے پی کے حق میں ۹۰ فیصد ووٹ نہ ملنے کی صورت میں سزا کی  دھمکی مل رہی ہے۔ کوکی نیشنل آرمی کے کمانڈر تھانگ بوئی ہاؤ کپ نے کھلے عام بوقتِ ضرورت تشدد سے ڈرایا ہے۔ یہ گروہ ۱۹۸۸ ؁ سے  مسلح جدوجہد کررہا ہے۔ ۶۰۰ جنگجو افراد پر مشتمل اس  گروہ نے فی الحال بی جے پی سے مصالحت کرلی ہے۔ اس کے برعکس جموں کشمیر کے کشتواڑ علاقہ میں مرکزی حکومت کے سخت گیر  پالیسی کی قیمت آر ایس ایس  کے رہنما چندر کانت شرما   اور ان کے محافظ کو چکانی پڑی  اور وہ ہلاک کردیئے گئے۔

   اس سنگین صورتحال سے آنکھیں موند کر وزیر اعظم جموں وکشمیر سے متعلق آئین کی دفع ۳۵ اے اور ۳۷۰ کو ختم کرنے کا راگ الاپ رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے اس رکاوٹ کے چلتے وہاں  کوئی سرمایہ کاری کے لئے نہیں جاتا اور بیروزگاری دور نہیں ہوتی اگر ایسی بات ہے تو جموں کشمیر کی عوام کو اس کا مطالبہ کرنا چاہیے لیکن وہاں کے عوام و خواص اس کے مخالف ہیں۔ وزیراعظم نے ایک انٹرویو میں  یہ بھی کہا کہ  پنڈت نہرو کے بنائے ہوئے قوانین جموں وکشمیر کی ترقی میں  مشکل کھڑی  کر رہے ہیں۔ ان پر نظر ثانی درکار ہے۔ مودی شاید نہیں جانتے کہ  قانون فرد واحد نہیں بلکہ دستور ساز کمیٹی بناتی ہے۔ اس کمیٹی میں ولبھ بھائی پٹیل کے ساتھ  شیاما پرشاد مکرجی بھی موجود تھے۔ مودی جی کے اندھے بھکت چونکہ کچھ نہیں جانتے اس لیے وہ اپنے من کی اوٹ پٹانگ باتیں  کہتےرہتے  ہیں۔

وزیر اعظم کے اس بیان سے چراغ پا ہوکر کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ نے کہا ’’جموں کشمیر کے خصوصی درجہ کی ضامن دفعہ۳۷۰ ہٹائی گئی تو الحاق ختم ہوجائے گا اورکشمیر آزاد ہوجائے گا ‘‘۔ اس بیچ دہلی ہائی کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کرکےفاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے انتخابات لڑنے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس کے جواب میں   محبوبہ مفتی نے یہاں تک  کہہ دیا  کہ ”عدالت میں اپنا وقت کیوں ضائع کرتے ہو۔ بی جے پی کی جانب سے دفعہ ۳۷۰ ختم کرنے کا انتظار کرو۔ ہم خود بہ خود الیکشن نہیں لڑ پائیں گے کیونکہ آئین ہند کا جموں وکشمیر پر اطلاق ختم ہو جائےگا‘‘۔ بی جے پی کی کوتاہ اندیش حکمت عملی کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ہندوستان کے آئین سے وفاداری کا دم بھرنے والی  کشمیری قیادت  کو بھی  علٰحیدگی پسندوں کی صف میں کھڑا کردیا ہے۔  محبوبہ مفتی نے اپنے ٹویٹ میں علامہ اقبال یہ مشہور شعر بھی لکھا کہ؎

نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو

تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close