آج کا کالم

کل یگ کے راون

ایودھیا کے دوروزہ دورے کے بعد ادھو ٹھاکرے کو اپنی اوقات کا پتہ چل گیا

ڈاکٹر سلیم خان

وشو ہندو پریشد والے برسوں سے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے رہے ہیں لیکن شیوسینا نے تو سریو ندی میں ڈبکی لگا لی۔ سیاسی مبصرین اس جیوتش کو ڈھونڈ رہے ہیں  جس نے ادھو ٹھاکرے کو 25 نومبر 2018 کا شبھ مہورت نکال کردیا۔ اس راز کو شیوسینا کے ترجمان سامنا کے مدیر اوررکن پارلیمان سنجے راوت نے فاش کردیا۔ انہوں نے اپنے ہفتہ وار کالم روک ٹھوک  کی ابتداء کچھ اس طرح کی کہ ’’ کڑاکے کی سردی میں ایودھیا تپنے لگی۔ اس مضمون کے شائع ہونے تک ادھو ٹھاکرے رام کی ایودھیا پہنچ چکے ہوں گے۔ کارتک پورنیما کے موقع پر لاکھوں عقیدت مند (ایودھیا)  آتے ہیں اور صبح 4 بجے سریو ندی میں ڈبکی لگاتے ہیں ‘‘۔ ادھو ٹھاکرے بھی اگر سچے رام بھکت ہوتے تو صبح چار بجے نہ سہی تو 8 بجے ایودھیا کے ساحل پر سریو ندی میں کود جاتے لیکن وہ دو پہر ایک بج کر 47 منٹ پر ایودھیا پہنچے۔ سادھو سنتوں سے ملے۔ تقریر کی اور شام میں سریو ندی کے کنارے آرتی کرنے کے بعد اگلے  دن رام للاّ کے درشن اور پریس کانفرنس کرکے لوٹ آئے۔ سریو ندی میں ان کے اشنان  کی خبر کسی اخبار میں نہیں چھپی۔

ایک ایسے وقت میں جبکہ لاکھوں رام بھکت  ایودھیا میں جمع ہوتے ہیں شیوسینا کو یہ توقع نہیں تھی کہ ان میں سے 10 یا 5 ہزار لوگ ادھو جی کے ساتھ براجمان  سادھو سنتوں کو سننے کے لیے جمع ہوں گے۔ اس لیے شیوسینا کو 2 ٹرینوں میں 3 ہزار لوگوں کو بھرکے مہاراشٹر سے لے جانا پڑا۔ خود اھو راو ٹھاکرے نے اپنے سینکوں کے ساتھ سفر کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ چارٹرڈ ہوائی جہاز سے بیوی رشمی اوربیٹے ادیتیہ   کے ساتھ ایودھیا پہنچے۔  رامائن کے مطابق چارٹرڈ جہاز راون کی پرمپرا  ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے رام کا روان سے سابقہ مہاراشٹر کے جنگلوں میں لکشمن کے ذریعہ سپر نکھا کی ناک کاٹنے  کے بعدپیش آیا۔ اپنی بہن کی اہانت کا بدلہ لینے کے لیے راون کو سری لنکا سے آنا تھا اس لیے وہ چارٹرڈ ہوائی جہاز پون ہنس کو لے کر آیا اور سیتا کو اغواء کرکے لے گیا۔

ہندوتواوادی تحریکیںفی الحال رافیل کے چارٹرڈ جہاز میں ہندوستانی انتخابات کو اغواء کرنے کا جتن  کررہے ہیں۔ رام نے تو اپنا سری لنکا آنے جانے کا سفر پیدل کیا تھا لیکن یہ رام بھکت ٹرین تک کے روادار نہیں ہیں۔ اس لیے شک ہوتا کہ کہیں رام کے بھیس میں یہ  راون کے بھکت تو نہیں ہیں۔ ویسے راون بھی ایک بھکشو کا بدل کر سیتا کو اغواء کرنے کے لیے آیا تھا۔ ان زعفرانیوں کو راون بھکت کہنے پر تمل ناڈو کا راون نوازطبقہ  ناراض ہوسکتا ہے جو راون کو بہت بڑا عالم فاضل گردانتا  ہے۔ ویسے جس کسی نے ادھو ٹھاکرے کو مہاراشٹر سے چارٹرڈ ٹرین لے جانے کا مشورہ دیا وہ نہایت حقیقت پسند انسان تھا۔ یہ شیوسینک اگر وہاں نہیں پہنچتے تو ادھو ٹھاکرے کے جلسے میں پانچ ہزار لوگ بھی نہیں ہوتے۔

ایک زمانے میں کارتک پورنیما پر ایودھیا  آنے والے رام بھکت وشوہندو پریشد کے جلسوں میں شریک ہوجایا کرتے تھے  لیکن وہاں پر اوٹ پٹانگ  تقاریر  سننے کے بعد اپنے نئے پاپ دھونے کے لیے انہیں پھر سے سریو میں ڈبکی لگانے کی ضرورت محسوس ہوتی تھی اس لیے لگتا ہے ان لوگوں نے سیاسی جلسوں میں شرکت کرنا ترک کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وشو ہندو پریشد کو بھی اپنے دھرم سبھا کو کامیاب کرنے کے  لیے اتر پردیش کے گاوں گاوں میں بسیں لگانی پڑیں تاکہ لوگوں کو پکنک پر ایودھیا لایا اور واپس لے جایا جاسکے۔ پہلے یہ مجبوری نہیں تھی۔ ہندوستان کے عوام اب اس سیاسی تماشے کو سمجھ چکے ہیں اور وہ ان کی تقریبات میں شرکت کے لیے اپنی جیب سے ایک  روپیہ بھی خرچ کرنا نہیں چاہتے بلکہ انہیں سے کچھ کچھ نہ اینٹھ لینا چاہتے ہیں۔ اس میں غلط کیا ہے؟ رام کے نام پر جمع کی جانے والی دکشنا اگر نیتاوں اور سادھو سنتوں کے ساتھ بھکتوں کے بھی کام آجائے تو اس میں برا کیا ہے؟

ایودھیا میں ادھو ٹھاکرے کی تقریر نے حماقت میں  مودی کی لال قلعہ والے بھاشن کو بھی  مات دے دی۔ وہ بولے ’’مرکز میں مکمل اکثریت کی مودی حکومت کو میں جگانے آیا ہوں‘‘۔ مرکز کی حکومت دہلی میں ہے۔ اس کو جگانے کے لیے ادھو جی کا ایودھیا جانا کس قدر احمقانہ قدم ہے۔ وہ اگر ممبئی کے اندر بیٹھے بیٹھے بھی اپنے وزراء سے استعفیٰ دلوا دیتے اور مرکزی و صوبائی بی جے پی حکومت کی حمایت واپس لے لیتے تو ان کے عم زاد بھائی راج ٹھاکرے کو یہ پوسٹر لگانے کا موقع نہیں ملتا کہ ’’ایودھیا تو چلے جوش میں مگر استعفیٰ اب بھی جیب میں‘‘۔ ادھو جی اگر اعلان کرتے کہ  میں اب مندر کی تعمیر تک ایودھیا سے لوٹ کر نہیں جاوں گا تو یوگی جی  خوش ہوکر ان کے لیے فائیو اسٹار آشرم بنادیتے تاکہ مہاراشٹر میں بی جے پی کا سر درد کم ہوجائے لیکن وہ  تو صرف ’’مندر تعمیر کی تاریخ کے اعلان‘‘  کا مطالبہ کرکے لوٹ آئے۔ سرکار ی گھوشنا کا انتظار تک نہیں کیا۔ اس لیے کہ پتہ تھاکہ اعلان تو نہیں ہوگا مگر ان کی پکار پر سیر وتفریح کے لیےایودھیا جانے والے سینک  واپس ہو کر کمل تھا م لیں گے اس لیےان سے پہلے جہاز میں بیٹھ کر  واپس آگئے۔

ادھو ٹھاکرے نے ایودھیا میں آمد کا سبب اس طرح بیان کیا کہ ’’ میرے آنے کا مقصد جنگ کرنا نہیں ہے۔ میں  کمبھ کرن کو نیند سے جگانے کے لیے آیا ہوں۔ کمبھ کرن صرف رامائن میں نہیں  تھا بلکہ اب بھی ہے۔ رامائن کا کمبھ کرن ۶ ماہ سوتا تھا یہ چار سال سے سورہا ہے‘‘۔ رام چندر انتخابی مہم پرنہیں بلکہ جنگ کے لیے لنکا گئے تھے۔ ادھو جی بھی اگر سچے رام بھکت ہوتے تو وہ  کل یگ کےکمبھ کرن کو جگانے کے لیے ایودھیا کے بجائے دہلی جاتے۔ ست یگ میں راون کے دو بھائیوں کا ذکر ملتا ہے ایک  کمبھ کرن اور دوسرا وِ بھیشن۔ ست یگ میں  آریس ایس کے  دو  چھوٹےبھائی بی جے پی اور شیوسینا ہیں۔ کمبھ کرن نے آخری وقت تک راون کا ساتھ دیا تھا لیکن وِ بھیشن اپنے بھائی کے خلاف رام چندر جی سے جاملا اور انہیں راون کو مارنے کا طریقہ بھی  بتایا۔ فی الحال ادھو راو وہی وبھی شن والا کردار نبھا رہے ہیں اور بی جے پی کی گھیرا بندی میں بلاواسطہ کانگریس کی مدد کررہے ہیں۔

 ادھو نے کہا ’’اٹل جی کی مشترکہ سرکار تھی لیکن اب بی جے پی ایوانِ زیریں میں مکمل اکثریت حاصل ہے‘‘۔ یہ درست ہے لیکن یہ اکثریت ساڑھے چار سال قبل حاصل ہوئی تھی۔ ادھو جی کو یہ بتانا پڑے گا کہ  اتنے دن کمبھ کرن کی مانند سونے کے بعد آخر وہ اچانک  کیوں  بیدار ہوگئے؟ کہیں  انتخاب کی آندھی نے  تو ان کی نیند نہیں اڑا  دی؟ سچ تو یہ ہے اپنے ارکان پارلیمان و اسمبلی کے بی جے پی میں چلے جانے کے خوف سے ادھو جی پچھلے ۴ سال سے جاگ رہے ہیں۔ ادھو ٹھاکرےکو جب اندازہ ہوگیا کہ لوک سبھا الیکشن سے قبل بی جے پی  کےرام مندر کی شرن میں جانے کے روشن امکانات ہیں  تو اس کا کریڈٹ لینے کے لیے سینا نے یہ ہنگامہ مچا دیا۔ ۱۹۹۲ ؁ میں بھی یہی ہوا تھا۔ شیوسینا کے چند رہنما کولکاتہ ہوئی اڈے پر پھنسے رہےاور بالاصاحب ٹھاکرے نےممبئی میں بیٹھے بیٹھے بابری مسجد شہید کرنے کا دعویٰ کردیا۔ ادھو جی کہہ رہے ہیں کہ وہ کریڈٹ لینا نہیں چاہتے مگر ۵ روز قبل ممبئی میونسپلٹی  میں صحافیوں کے گوشے کا افتتاح کرتے ہوئے وہ اعتراف کرچکے ہیں  کہ مجھ پر اس لیے تنقید ہورہی ہے کہ میں نے انتخاب کے پیش نظر رام مندر کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ میں نے انتخاب کو سامنے دیکھتے ہوئے جان بوجھ کر یہ مسئلہ اٹھا یا ہے۔ اس میں چھپانے جیسا کچھ نہیں ہے۔ ہم اس مسئلہ پر کتنے چناو جیتیں گے؟ یہ اعتراف سارے اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا کہ میں کریڈٹ نہیں لینا چاہتا کیسی منافقت ہے؟

بی جے والے پہلے تو ادھو کے ارادے  سے گھبراگئے اور جلسۂ عام کی اجازت نہ دینے کی افواہ اڑی  مگر پھر بدنامی کے ڈر سے پینترا بدلا اور ادھو کی چھوٹی لکیر کے پاس وشوہندو پریشد کا بڑا خط کھینچ کر انہیں رسوا کرنے کا منصوبہ بناگیا۔ ادھو کو  اگر اجازت نہیں ملتی تو جان چھوٹ جاتی مگر یوگی جی نے ان کو سرکاری مہمان بنا کر بے نقاب  کردیا۔ اگلے دن  کی دھرم سبھامیں کئی گنا زیادہ بھیڑ جمع کرکے بتا دیا کہ رام مندر پر اصلی اجارہ داری کس کی ہے؟  ۲۵نومبر  کو دھرم سنسد میں ڈھائی لاکھ لوگوں کے شریک ہونے کی خبر اڑائی گئی اور ایک لاکھ  سے زیادہ حفاظتی دستے تعینات کرکے  ڈھائی لاکھ کی کمی کو پورا کیا گیا۔ ڈھائی بھکت پر ایک جوان کا انتظام کرکے یوگی نےملائم کو پچھاڑدیا۔ وی ایچ پی کی دھرم سبھا کسی تحریری قرارداد کے بغیر  زبانی جمع خرچ کرکے طے شدہ وقت سےپہلے ختم ہو گئی۔ اس ہنگامہ کے دوران اندر کی  بات  بی جے پی کے رکن اسمبلی سریندر سنگھ نے یوں کہہ دی کہ  ’’شیو سینا رام مندر کا مدا کیسے ہائی جیک کر سکتی ہے؟ شیو سینا کے کارکنان نے شمالی ہندکے لوگوں پر حملہ کروائے ہیں، انہیں مہاراشٹر سے کھدیڑ دیا‘‘۔سریندر سنگھ نے یہ یہ سوال کیا  کہ  ’’خدمت خلق کی سوچ  سے عاری لوگ  رام کی خدمت کیسے کریں گے؟‘‘

ایسا لگتا ہے کہ ایودھیا کے دوروزہ دورے کے بعد ادھو ٹھاکرے کو اپنی اوقات کا پتہ چل گیا اس لئے دوسرے دن کی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا اگر سرکار مندر نہیں بنائے گی تو سرکار نہ بنے مگر مندر ضرور بنے گا۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ’’ اگر معاملہ عدالت کے پاس ہی جانا ہے تو انتخابی مہم کے درمیان اسے استعمال نہ کریں۔ بتادو کہ بھائیو اور بہنو ہمیں معاف کرو یہ بھی ہمارا ایک چناوی جملہ تھا۔ ہندووں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں یہی کہنے کے لیے میں   یہاں (ایودھیا) آیا ہوں ‘‘۔یہی سمجھداری کی باتیں ادھو جی ممبئی میں بیٹھ کر بھی کہہ سکتے تھے لیکن اس صورت میں انہیں میڈیا اس قدر نہیں اچھالتا اس لیے یہ تسلیم کرناپڑے گا کہ تشہیر کے حوالے سے ادھوجی کی یہ مہم کامیاب رہی۔ انتخاب میں اس کا کتنا فائدہ ہوگا اور کیا وہ  نتیش کمار کی طرح بی جے پی کو بلیک میل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گاَ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close