آج کا کالم

کمبھ میلے میں بھیا جی جوشی کی ڈبکی

ڈاکٹر سلیم خان

بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا  ماہر سنگھ پریوار وقتِ ضرورت ڈبکی بھی لگا لیتا ہے۔ فی الحال کمبھ میلے کا سیاسی فائدہ اس بے حیائی کے ساتھ اٹھایاجارہاہے  کہ سوشیل میڈیا میں حج کی تصاویر تک کا بے شرمی سے استعمال ہونے لگا ہے۔ آرایس ایس کے جلسوں میں لوگ نہیں آتے اس لیے سکریٹری جنرل کمبھ میلے میں پہنچ گئے اور اپنے خطاب سےغیروں کے ساتھ اپنوں کو بھی مایوس کردیا۔ وہ خود اس وقت سے مایوس ہیں جب عدالت عظمیٰ نے سنگھ کے دباو کو ٹھکرا کر کہہ دیا تھا مندر کا معاملہ ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ بھیاجی نے  دل برداشتہ ہوکر اس سال دیوالی کا تہوار بھی  ٹھیک سے نہیں منایا۔ اب مکر سنکرانتی کو اپنا غم غلط کرنے کے لیے وہ پریاگ راج پہنچ کر اعلان کیا  ’’مندر بنے یہ ہماری خواہش ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ  ۲۰۲۵ ؁ تک  یہ تعمیر مکمل ہو جائے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ رام مندر کی تعمیر اگر آج شروع ہو تو بھی وہ پانچ سالوں میں بنے گا‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کم ازکم ۲۰۲۰ ؁ تک اس کام کا آغاز ہوجانا چاہیے لیکن  یہ کب شروع ہوگا ؟ اس  سوال کا جواب انہوں نے حکومت پر چھوڑ دیا اور کہا ’یہ حکومت کو طے کرنا ہےکیونکہ رام مندر کی تعمیر کو لے کر اب بھی بہت سے چیلنج ہیں، جن سے نپٹنے کی ضرورت ہے‘۔

سوال یہ ہے کہ بھیاجی نے ۲۰۲۵ ؁ کا مہورت کیوں نکالا؟  شایداس لیے کہ ۶ سال بعد پھرسے پریاگ راج میں کمبھ میلا لگے گا۔ اب   سوال یہ پیدا ہوتا  ہے کہ رام مندر کی تعمیر کا کمبھ میلے سے کیا تعلق ؟ اور خاص طور پریاگ راج کے کمبھ سے کیا رشتہ؟ کمبھ کا میلا تو ہر سال کہیں نہ کہیں لگتا ہے اور گزشتہ ۳۰ سالوں سے بی جے پی یہ تحریک چلارہی ہے۔ اس دوران نہ جانے کتنی بار  الہ باد میں کمبھ کا میلا لگ چکا ہے۔ بھیاجی نے رام مندر کی تعمیر کایہ مقصد بتایا کہ ’’رام مندر صرف ایک مندر کی تعمیر نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں ہندوؤں کے عقیدے اور وقار سے بھی جڑا ہوا ہے‘‘۔ یہ بات درست ہے سنگھ نے اپنی کوششوں سے  اس مندر کی تعمیر کو کروڈوں کے عقیدے سے جوڑ دیا ہے لیکن وہ  مندر کی تعمیر بابری مسجد کی زمین پر کیوں  کرنا چاہتی ہے؟  کیا ایودھیا میں اس کے لیے کوئی خطۂ اراضی کی کمی  ہے؟  غیر متنازع رام کتھا پارک کے وسیع و عریض احاطے میں سنگھ کو مندر کی تعمیر سے کون روکتا ہے؟ ویسے کہا جاتا ہے کہ راجہ دشرتھ کے محل میں ایک ہزار کمرے تھے نیز ان میں سے جس کمرے میں رام چندر جی کا جنم ہوا اس کا محل وقوع معلوم کرنا ناممکن ہے۔

بھیا جی جوشی نے یہ بھی  کہا کہ ’جب سال ۲۰۲۵ ؁  میں ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر ہوگی تو اس سے وکاس کو رفتار ملے گی‘۔  اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ۲۰۱۳ ؁ میں مودی جی کو ’ سب کا ساتھ سب کا وکاس ‘کے بجائے ’ مندر کے بعد ہی ہوگا  وکاس‘   کا نعرہ لگانا چاہیے تھا لیکن  مودی جی اگر ایسا کرتے تو کیا وہ وزیراعظم بن پاتے؟ ایسا لگتا ہے کہ وکاس کے پاگل پن کا تھوڑا بہت اثر  بھیا جی پر بھی ہوگیا ہے ورنہ وہ  بی جے پی کے حریف اول کانگریسی وزیراعظم پنڈت  نہرو  کی تعریف نہیں کرتے۔   بھیاجی بولے ’ ہندوستان اسی طرح سے آگے بڑھے گا جس طرح ۱۹۵۲ ؁  میں سوم ناتھ مندر کی تعمیر کے بعد ہوا تھا اور جواہر لال نہرو وزیراعظم تھے‘۔ اب بھیاجی کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ ۱۹۵۰ ؁ میں دستور ہند نافذ ہوا اور پسماندہ طبقات کو آگے بڑھانے کے لیے ۱۰ سالوں کی مدت تک ریزرویشن دیا گیا۔ ۱۹۵۲ ؁ میں سومناتھ مندر بن گیا اور ملک آگے بڑھنے لگا۔ اس کے بعد وی پی سنگھ کو منڈل کمیشن نافذ کرکے ریزرویشن کو توسیع کیوں دینی پڑی؟ نریندرمودی  کو معاشی بنیادوں پر اعلیٰ ذات کے لوگوں کو ریزرویشن دینے کے لیے کیوں مجبور ہوئے ۔ یہ کیسا وکاس ہے جو ریزرویشن کو ختم کرنے کے بجائے اس کا دائرۂ کار وسیع کرتا جاتا ہے؟پسماندہ تو دور اعلیٰ ذات کے لوگوں کو بھی اس کا حقدار بناتا ہے۔

ایک طرف تو بھیاجی نے پنڈت نہرو کی تعریف کردی اور دوسری جانب اپنے ہی  پردھان منتری کی تردید فرمادی۔ انہوں  نے مودی راج میں ہندوستان کے پھر سے وشو گرو (عالمی رہنما) بننے کی راہ پر چلنے کے دعووں کو بھی مسترد کرکے کہا کہ ہندوستان تقریباً ۱۵۰سال بعد وشو گرو بن جائے گا۔  بھیاجی کے اس دعویٰ پر بے ساختہ  غالب کا یہ شعر یاد آگیا  ؎

آہ کو  چاہیے اک عمر اثر ہونے تک     

 کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک

بھیا جی جوشی جس ترقی کی بات کررہے ہیں اس کے دو نمونے ملاحظہ فرمائیں۔  ماضی میں  کمبھ میلا کے موقع پر ہر اسنان سے قبل کانپور کے چمڑے کے کارخانے بند کیے جاتے تھے اور وہ تین چار دن کے لیے ہوتا تھا۔ اس بار تین ماہ کے لیے ۱۳۰ کارخانوں کو  بند کردیا گیاہے۔ باقی ۱۱۹ میں پیداوار نصف سے کم ہوگئی ہے۔ اس کے سبب ۲ لاکھ لوگ بیروزگار ہوگئے ہیں۔ یوگی جی خوش ہورہے ہوں گے کہ انہوں ان کارخانوں میں کام کرنے والے مسلم مزدوروں اور مالکوں کے پیٹ پر لات ماردی لیکن   چمڑے کےکاروبار میں  یہ لوگ تو محنت مزدوری کرتے ہیں اصلی ملائی بی جے پی کو ووٹ اور نوٹ دینے والے بیوپاری کھاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ان کا کاروبار بھی ٹھپ ہوگیا ہے۔ اب وہ چین سے مال لاکر بیچیں گے جس سے ہندوستان کے حریف اول کا فائدہ ہوگا لیکن برآمدات کا  جو آرڈر ہندوستان آتا  تھا وہ پاکستان اور بنگلا دیش جارہا ہے اس لیے ان دونوں دشمن ممالک  کے  وارے نیارے ہوگئے ہیں۔ یہ یوگی سرکار کا  اندھا وکاس  ہےجو بھیا جی کے خیال میں ۱۵۰ سال بعد ہندوستان کو عالمی رہنما بنادے گا۔

بھیاجی ۲۰۲۰ ؁ سے مندر کی تعمیر کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر آل انڈیا کونسل فور ٹیکنیکل ایجوکیشن  نے ۲۰۲۰ ؁ سے کسی نئے انجنیرنگ کالج کے تعمیر کی اجازت پر پابندی لگا دی ہے اور ہر دوسال بعد فیصلے کا جائزہ لے گی۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کہ  سائنس کےطلباء کی تعداد میں اضافہ ہورہاکے باوجود انجنیرنگ کالج کی سیٹس فل نہیں ہوتیں یہ اور بات ہے کہ  حکومت ریزرویشن دے رہی ہے۔ اس کی وجہ  معیار تعلیم  کی گراوٹ، سہولیات کا فقدان  اور بیروزگاری ہے۔  اس کانتیجہ یہ ہے کہ  ۲۰۱۸ ؁ تا ۲۰۱۹ ؁ کے سال میں بی ٹیک اور ایم ٹیک کے طلباء  کی تعدادمیں ایک لاکھ ۶۷ ہزار کی گراوٹ آئی جو گزشتہ ۵ سالوں میں سب سے زیادہ ہے اور ایک سال پہلے کے مقابلے دوگنا ہے۔ بھیاجی کو یہ بتانا پڑے گا اس گمبھیر صورتحال میں ہندوستان عالمی گرو کیسے بنے گا؟ اور رام مندر کی تعمیر اس نازک صورتحال کو بدلنے میں کس طرح معاون  و مددگار ثابت ہوگی؟

ہمارے ملک میں اس طرح کے سنجیدہ سوالات پر غوروفکر کرنے کا مزاج نہیں ہے۔ بھیا جی جوشی کے بیان پر ہنگامہ اس لئے کھڑا ہو گیا کہ پہلے سنگھ  حکومت سے رام مندر تعمیر کے لئے آرڈیننس کا  مطالبہ کر رہاتھا  اوراب  اسے ۲۰۲۵ ؁ تک ٹال رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ’پہلے مندر پھر سرکار‘ کا نعرہ لگانے والی  شیو سینا نے آر ایس ایس پر بی جے پی کے دفاع  کاالزام لگایا ہے۔ اس  کا کہنا ہے کہ  ’’رام مندر معاملہ پر آر ایس ایس مودی حکومت کی ڈھال بن کر کھڑی ہو ئی ہے۔ رام مندر کو لے کر بھیا جی جوشی کا بیان ایک نیا جملہ ہے۔ بھیا جی جوشی یہ بتائیں کہ تعمیر شروع کب ہوگی؟‘‘ شیو سینا کے رہنما اروند ساونت نے سوال کیا  کہ، ’’کیا بھیا جی جوشی یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ایک مرتبہ پھراس حکومت کو منتخب کیا جائے  تو اس کے بعد مندر بنے گا؟ ‘‘ حقیقت تو یہ ہے کہ    تعلیم و صنعت کی چتا پر مندر  کی تعمیر سے ترقی اور خوشحالی کا   خواب دیکھنا  سنگھ پریوار کی خام خیالی ہے۔ یہ عجیب منافقت ہے کہ ایک طرف سر سنگھ چالک موہن بھاگوت سرحد پر فوجیوں کی ہلاکت پر حکومت کی تنقید کرتے ہیں اور دوسری جانب ان کے نائب بھیا جی جوشی رام مندر کے معاملے میں سرکار کا دفاع کرتے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close