آج کا کالم

کم ظرف انتخاب کی محفل سے آئے ہیں

ڈاکٹر سلیم خان

جس طرح مار کا ڈر مار سے زیادہ خوفناک  ہوتا ہے اسی طرح ہار کا اندیشہ بھی ہار سے بڑھ کر  تکلیف دہ ہوتا ہے۔  بی جے پی والوں سے آئے دن   حسبِ ظرف اس خوف  کا  مظاہرہ  ہورہا ہے۔ مثال کے طور پر پچھلے دنوں  سلطانپور سے بی جے پی کی امیدوار اور مرکزی وزیر  مینکا گاندھی کا بیان آیا  تھا  کہ ’’لوگوں کی مدد اور پیار سے میں جیت تو رہی ہوں۔ لیکن اگر میری جیت مسلمانوں کے بغیر ہوگی تو مجھے بہت اچھا نہیں لگے‌گا‘‘۔ اس بیان میں جن لوگوں کی مدد  اور پیارسے جیتنے کا ذکر ہے ظاہر ہے وہ ہندو ہیں۔ اگر   کامیابی یقینی ہے  تو بی جے پی سے نفرت کرنے والی قوم کے دروازے پر  ہاتھ پھیلا کر جانے کی  زحمت ہی کیوں کی  گئی  اور یہ کہا کہ ’’ میں خود دوستی کا ہاتھ لےکر آئی ہوں‘‘۔ اپنی پارٹی کے صدر کی مانند سینہ ٹھونک کر مینکا بھی  کہہ سکتی تھیں کہ ہمیں مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

مسلمانوں کے تئیں بی جے پی والوں کا موقف کھٹے انگور کی مانند  ہوتا ہے۔ اس کا اعتراف مینکا گاندھی نے بھی اپنے خطاب میں کیا۔ وہ بولیں ’’ دل کھٹا ہو جاتا ہے اور جب مسلمان کسی کام کے لئے آتے ہیں تو پھر میں سوچتی ہوں کہ نہیں رہنے ہی دو، کیا فرق پڑتا ہے، آخر نوکری ایک سودے بازی ہی ہوتی ہے‘‘۔ برسرِ روزگار ہونے میں  کسی کا تعاون  کرنا  سودے بازی نہیں بلکہ خدمت ہے لیکن افسوس کہ جمہوی   سیاست نے  اسے  تجارت بنا دیا  ہے۔ یعنی آپ ووٹ دو تو ہم نوکری دیں گے۔ مسلمانوں سے ٹیکس لینا اور انہیں  ملازمت سے محروم رکھنا حق تلفی ہے۔ یہ سودے بازی  نہیں بلکہ  دھوکہ بازی ہے۔ جانوروں کے حقوق کے لیے پریشان رہنے والی مینکا   شایدنہیں جانتیں  کہ  وقت کے ساتھ ہندوستان کا  مسلمان سرکاری  نوکری سے بڑی حدتک بے نیاز ہوچکا ہے۔ وہ اب اس  کا محتاج نہیں ہے؟ مسلمانوں کے لیے   ملازمت  کا دروازہ تو ان لوگوں نے بھی نہیں کھولا جن کو مسلمان ووٹ دیتے رہے ہیں۔ سرکاری نوکری میں ملنے والی رشوت کو  وہ اپنے لیے حرام سمجھتا ہے۔

  ایک اور تلخ حقیقت کا اظہار بی جے پی کے معمر رہنما نتن گڈکری برملا کرچکے ہیں کہ ’اے ریزرویشن مونگنے والو یہ تو دیکھو کہ سرکاری نوکری ہے کہاں؟‘ نجی شعبے میں مسلمان  اپنی  قابلیت اور صلاحیت   کی بنیاد پر ملازمت کرتا ہے یا پھر محنت اور تجارت  کرکے حلال کی روزی کماتا  ہے۔ اس  ملک کا  مسلمان نوکری پانے جیسے حقیر مقصد  کے لیے ووٹ نہیں بیچتا بلکہ مینکا جیسے کم ظرف لوگوں کو ہرانے کے اپنے ووٹ کا استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ   وہ نتائج کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ کسی  کی دھونس و دھمکی میں آتا ہے ۔ انتخابات کے دوران مسلمانوں کا رویہ  غالب کے اس  مصرع ’نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پرواہ ‘ کی مصداق ہوتا ہے۔ امت  کے نزدیک سیاست کوئی  سودے بازی نہیں ہے۔

مینکا گاندھی نے اس دلچسپ  تقریر  میں اپناتعارف اس طرح کرایا  کہ، ’ ایسا نہیں ہے کہ ہم لوگ مہاتما گاندھی کی چھٹی اولاد ہیں‘۔ انہوں نے  صرف یہ بتانے پر اکتفاء کیا کہ وہ کس کی اولاد  نہیں ہیں لیکن یہ واضح نہیں کیا کہ پھر کس کی اولاد ہیں۔ قومی سیاست میں چونکہ گاندھی اور گوڈسے کے درمیان زور آزمائی چل رہی ہے اس لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ مینکا نے کس سے اپنا رشتہ  قائم کرلیا ہے۔ اس کے بعد وہ کہتی ہیں ’’ کہ ہم دیتے ہی جائیں‌گے، دیتے ہی جائیں‌گے اور پھر انتخاب میں شکست کھائیں‌گے‘‘۔ اس بیان کا آخری حصہ تو خیر حقیقت پسندانہ ہے لیکن ابتدا  سننے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ  جیسے مسلمانوں کو انہوں نے  بہت کچھ دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ  مسلمان تو دور اگر انہوں نے  ہندووں کی فلاح و بہبود کا  بھی کچھ  کام کیا ہوتا تو ان کا پیلی بھیت سے ٹکٹ نہیں کٹتا۔ سلطانپور آنے کے بجائے ساتویں بار  بھی وہیں سے الیکشن لڑتیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے کچھ  دیا بھی ہے تو اپنے باپ دادا کی وراثت میں سے نہیں دیا۔ عوام کی جو دولت سرکاری خزانے میں آئی اس کو پہلے تو خود جی بھرکے لوٹا اور پھر دوچار ٹکڑے اپنے زعفرانی حامیوں کے آگے ڈال دیئے۔ اب مسلمانوں کو اس کا لالچ دے رہی ہیں تاکہ وہ بھی ان کے آگے دم ہلائیں لیکن یہ ممکن نہیں ہےکیونکہ بقول  محسن نقوی؎

میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے

 کہ ٹوٹ کر بھی میرا حوصلہ چٹان کا ہے

مینکا گاندھی کی احمقانہ تقریر پر جب تنازع کھڑا ہوگیا اور الیکشن کمیشن نے انہیں  سزا کے طور ۴۸ گھنٹے تشہیر  سے روک دیا تو ان کے شعلہ بیان بیٹے ورون گاندھی کی عقل ٹھکانے آگئی اور پیلی بھیت کے اس بی جے پی امیدوار نے کہا ’’ میں بس ایک چیز اپنے مسلم بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ نے مجھے ووٹ دیا تو مجھے اچھا لگے گا۔ اگر مجھے ووٹ نہیں دیا تو کوئی بات نہیں،  تب بھی مجھ سے کام لے لینا، کوئی دقت کی بات نہیں ہے۔ لیکن میری چائے میں اگر  آپ کی بھی چینی پڑ جائے تو میری چائے اور میٹھی ہو جائے گی۔ کیا میری چائے میں مسلم چینی پڑنے والی ہے؟‘‘ ورون گاندھی چونکہ وزیراعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ کی آنکھوں کا کانٹا ہیں اس لیے امکان تھا کہ اس بار ان کو بی جے پی ٹکٹ نہیں دے۔  پیش بندی کے طور پر  انہوں نے  انتخاب سے قبل راہل اور ایس پی،  بی ایس پی جانب پینگیں بڑھائی تھیں۔ اس بلیک میل  کا ایک فائدہ تو یہ ہوا  کہ بی جے پی نے ان  کو پھر سے  کمل پکڑا دیا ۔ ورون گاندھی اگر سائیکل پر بیٹھ کر انتخابی میدان میں اترتے تو بغیر بولے ان کی چائے میں مسلم چینی پڑ جاتی۔ وہ  اگر چاہتے ہیں کہ مسلم چینی ان کے چائے  کی لذت بڑھائے تو انہیں کمل کا ساتھ چھوڑنا پڑے گا۔

ورون گاندھی نے اپنی تقریر میں یہ بھی  کہا تھا کہ  ’’ جو اس ملک کے ساتھ ہے وہ کیسے کسی کے خلاف ہو سکتا ہے۔ جو ملک کے لئے لڑ رہا ہے، جو کسان کاشت کاری کر رہا ہے، جو ملک کے لئے جی رہا ہے مر رہا ہے، اس کا نہ کوئی مذہب ہے اور نہ ذات ہے۔ میں دنیا کو ہندو، مسلم کے طور پر نہیں دیکھتا ہوں۔ میں دنیا کو دو ہی شکل میں دیکھتا ہوں اور وہ ہے اپنے اور پرائے‘‘َ۔ یہ میٹھی میٹھی باتیں اس وقت ہورہی تھیں جب ان  کو اپنی کامیابی کا یقین تھا لیکن  عوام میں جانے پر جب پتہ چلا  کہ کمل تو گئوماتا کے گوبر میں لت پت ہے اور ہاتھی کے ساتھ ساتھ سائیکل بھی اسے اپنے پہیوں تلے روند رہی ہے  تو ان کا لب و لہجہ بدل گیا۔ ہار کے خوف سے انہوں نے   اپنے مخالفین  کو نام لیے بغیر ‘پاکستانی’ قرار دے دیا۔ اس کے بعد جس طرح آسا رام کے بیٹے  نرائن سائیں نے اپنے والد کا نام روشن کیا اسی طرح ورون نے اپنی والدہ سے آگے بڑھ کر کہہ دیا ’’جو لوگ سیفئی میں ۱۵ تا ۲۰ برس پہلے گوبر کے کنڈے اٹھاتے تھے، وہ آج پانچ پانچ کروڑ کی گاڑیوں میں گھوم رہے ہیں۔ یہ پیسہ عوام کا ہے نہ کہ ان کے دادا کا‘‘۔

ورون گاندھی یہ بھول گئے ان کی والدہ مینکا گاندھی،   والد سنجے گاندھی،  دادا فیروز گاندھی،   دادی اندراگاندھی، پرناناجواہر لال نہرو اور لکڑ نانا موتی لال نہرو تک سبھی عوام کی دولت پر عیش کرتے رہے ہیں۔ ورون گاندھی کی کم ظرفی کا منہ توڑ جواب  ملائم سنگھ یادو کے بھتیجے دھرمیندر یادو نے دیا۔ انہوں نے  کہا کہ’’ورون گاندھی کے رہنما مودی جی دن بھر گاندھی خاندان کو گالی دیتے ہیں، اگر ان  میں ہمت تھی تو کم از کم  رد عمل ظاہر کرتے لیکن وہ ایسا  نہیں کر پائے۔ انہوں نے ہمارے تعلق سے جو بات اٹھائی ہے تو میں فخر کے ساتھ کہتا ہوں کہ آج بھی ہمارے گھر میں کھیتی ہوتی ہے لیکن عوام نے ہمیں ایک بار نہیں کئی بار ریاست اور ملک میں حکومت چلانے کا موقع دیا ہے۔ یہ گوبر والے لوگ جب انگلی میں سیاہی لگاتے ہیں تو بڑی سے بڑی حکومت کو پلٹ دیتے ہیں‘‘۔ انتخابی نتائج کے بعد مینکا اور ورون  کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کیونکہ    بقول محسن بھوپالی؎

مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے

  کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close