آج کا کالم

کوئی پیسہ لے کر بھاگ گیا ہے، کوئی پیسہ لے کر بیٹھ گیا ہے

رويش کمار

حکومت کتنا کام کر رہی ہے اس کا ایک نمونہ دیکھیے. فائنانشیل ایکسپریس کی خبر ہے کہ سنچائی یوجنا کے لیے 5000 کروڑ کا فنڈ 14 ماہ سے وزارت میں ہی پڑا ہوا ہے. وزارت خزانہ نے 23 فروری 2018 کو ہی منظوری دے دی تھی مگر وزارت زراعت اس پیسے کو پاس کرانے کے لیے کابینہ کے پاس پیشکش ہی لے کر نہیں گئے. ان چودہ مہینوں میں 5000 کروڑ سے کسانوں کا کتنا بھلا ہو سکتا تھا. کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ہندوستان کے وزیر زراعت کرتے کیا ہیں؟ گزشتہ سال دسمبر میں وزارت خزانہ نے لوک سبھا میں بتایا تھا کہ ایجوکیشن لون میں ڈفالٹ، مارچ 2015 اور مارچ 2017 کے درمیان 47 فیصد بڑھ گیا ہے. مارچ 2013 میں ایجوکیشن لون کا این پي اے615 2،  کروڑ تھا جو دسمبر 2016 تک 6،336 کروڑ تک پہنچ گیا ہے. DAILYO کی مادھوری دنتھالا نے لکھا ہے کہ ایجوکیشن لون کا این پی اے اس لیے بڑھ رہا ہے کیونکہ روزگار نہیں مل رہے ہیں.

کیا آپ جانتے ہیں کہ سی بی آئی ہزاروں کروڑ لے کر بھاگنے والے نیرَو مودی جی اور مےهل چوکسی سے پوچھ گچھ نہیں کر پائی ہے؟ اب دونوں کی خبریں اندر اندر کے صفحات میں کھونے لگی ہیں. آج کے انڈین ایکسپریس میں چھپا ہے کہ مےهل چوکسی جی سی بی آئی کو خط لکھ رہے ہیں کہ وہ بیرون ملک ہیں اور ان کی پریشانیوں کا حل نہیں ہوا ہے اس لئے نہیں آئیں گے. وہ میڈیا ٹرائل کو بہانہ بنا رہے ہیں. مےهل چوکسی جی کو اس کی حکومت پر اعتماد نہیں ہے جس کے کہنے پر سی بی آئی اپوزیشن کے نیتاؤں کے گھر فوری طور پر پہنچ جاتی ہے. کچھ ملنے سے پہلے میڈیا ٹرائل بھی شروع کروا دیتی ہے کیونکہ کیمرے پہلے سے پہنچے رہتے ہیں.

رگھو رام راجن نے کہا ہے کہ بھارت میں ہر سال 1 کروڑ 20 لاکھ نوجوان ملازمتوں کے لیے مارکیٹ میں آتے ہیں. ان سب کو کام دینے کے لئے 7.5 فیصد کا اضافہ ریٹ کافی نہیں ہے.

DALIYO کی مادھوری دنتاتھا نے لکھا ہے کہ ایجوکیشن لون کا این پی اے بھی کافی تیزی سے بڑھ رہا ہے. بازار میں کام نہ ہونے کے سبب بہت سے طالب علم ایجوکیشن لون نہیں چکا پا رہے ہیں. وزارت خزانہ نے گزشتہ دسمبر میں پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ 2015 اور 2017 کے درمیان ایجوکیشن لون کا این پی اے 47 فیصد بڑھا ہے. مارچ 2013 میں ایجوکیشن لون کا این پی اے تھا615 2، کروڑ جو دسمبر 2016 میں 6،336 کروڑ تک پہنچ گیا ہے.

GOLDMAN SACHS نے پنجاب نیشنل بینک کے 13000 کروڑ کے مبینہ اسکینڈل کے بعد بھارت کے جی ڈی پی گِروتھ کی پیشین گوئی میں کمی کر دی ہے. پہلے اس نے 2018-19 کے لئے 8 فیصد کہا تھا، اب 7.6 فیصد کر دیا ہے. FITCH اور عالمی بینک نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ اس دوران جی ڈی پی کا گِروتھ ریٹ 7.3 فیصد رہے گا.

Credit Suisse نے کہا ہے کہ 2018 کے اب تک کے وقت میں باقی بازاروں کے مقابلے میں بھارت کے شیئر بازار کی کارکردگی سب سے خراب ہے، بدتر ہے. مہاراشٹر ریاست بجلی کی وترن کمپنی لمیٹڈ نے کہا ہے کہ اس کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے کیونکہ صارفین نے 39،000 کروڑ کے بل نہیں بھرے ہیں.

اس کے ڈھائی کروڑ صارفین میں 38 لاکھ کسانوں پر 23،000 کروڑ کا بقایا ہے. ملکی صارفین نے 1500 کروڑ نہیں چکائے ہیں. پانچ لاکھ سے زیادہ پیشہ ورانہ لوگ بھی ہیں جن پر 478 کروڑ کا بقایا ہے. سرکاری پانی کارپوریشنز پر بھی 1500 کروڑ باقی ہے. روڈ لائٹ کنزیومر پر 3300 کروڑ کا بقایا ہے.

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close