آج کا کالم

کورو اور پانڈو کا کرکٹ میچ 

بی جے پی اور شیوسینا کا تعلق مہابھارت کے کورو پانڈو کا سا ہے کہ ایک ہی خاندان سے ہونے کےسبب ایک دوسرے سے لڑتے بھی ہیں اور ملتے بھی ہیں۔ ان کے درمیان ایک زمانے سے ہندوتوا کی بنیاد پر اتحاد قائم  رہاہے۔ ان کے باہمی رشتوں کی نوعیت وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ پارلیمانی  انتخاب کے وقت جو کورو ہوتا ہے وہ اسمبلی کے الیکشن میں پانڈو بن جاتا تھایعنی قومی انتخاب میں شیوسینا کم نشستوں پر انتخاب لڑتیاور بی جے پی کو زیادہ سیٹوں پر موقع دیتی تھی۔ اس کے برعکس صوبائی سطح پر بی جے پی کے مقابلے شیوسینا زیادہ نشستوں پر انتخاب لڑتی تھی۔  اس کے باوجود ہمیشہ مہاراشٹر سے شیوسینا کے ارکان  کی تعداددونوں ایوانوں میں بی جے پی سے زیادہ ہوتی تھی۔ اس لئے بڑا بھائی کون ہے اور چھوٹا کون یہ سوال کبھی پیدا ہی نہیں ہوتا تھا  لیکن  2014 کے قومی انتخاب میں یہ توازن الٹ گیا  اور مودی لہر کے چلتے بی جے پی کوشیوسینا سے بڑی کامیابی ملی جس سے اس کے اندر اپنے تئیں احساس برتری پیدا ہوگیا اور اسمبلی الیکشن میں اس کی توقعات بڑھ گئیں اس لئے ان دونوں کے درمیان مفاہمت نہ ہوسکی اورانتخابی کوروکشیتر میں دو نوں بھائی ایک دوسرے  کے  خلاف اپنی  فوج سمیتدھرم یدھ میں کود پڑے۔

بی جے پی  براہمنی ذہنیت احسان فراموشی، سازش   اور فریب کاری کیلئے مشہور ہے۔ جب تک وہ اقتدار سے محروم رہتی ہے ابن الوقتی کے سبب چاپلوسی کرتی رہتی ہے لیکن مرکزی سرکار کے بنتے ہی اس کا دماغ خراب ہوگیا۔ بی جے پی نے اپنی کامیابی  کو یقینی بنانے کیلئے پہلے دشمن کے قلعہ میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی اور  شرد پوار کو کانگریس سے الگ کر نے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے بعد شیوسینا سے اپنی پارلیمانی  کامیابی کے تناسب میں حلقہائے  انتخاب کا مطالبہ کیا۔ اس سے شیوسینا کے اندر اپنے عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہوگیا  اور یہی سبب تھا کہ دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف انتخاب  لڑا۔ شومئی قسمت بی جے پی کو اسمبلی انتخاب میں بھی  زبردست کامیابی نصیب ہوئی   اور اس نے شیوسینا کو اس کی حیثیت کا احساس دلانے کی خاطرواضح اکثریت سے محروم ہونے  کے باوجود  این سی پی کی بلاواسطہ مدد سے اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

شیوسینا کی اس دوسری ناکامی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی نے ساری اہم وزارتیں اپنے لوگوں میں تقسیم کرنے کے بعد اس کے ساتھ الحاق کیا اور بچا کچھا اس کے آگے ڈال دیا۔ اس دوران مرکز میں سریش پربھو کو سینا سے بغاوت کراکے  وزیر بناکر  شیوسینا کی تضحیک کی گئی۔ ادھو ٹھاکرے ساری رسوائی برداشت کرتے رہے اس لئے کہ انہیں خوف تھا اگر وہ بی جے پی سے مفاہمت نہیں کریں گے تو ان کے ارکان اسمبلی اور پارلیمان اقتدار کی لالچ میں بغاوت کرکے بی جے پی میں شامل ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ کوئی نظریاتی اختلاف تو ویسے بھی نہیں ہے۔ ساری سیاست اقتدار کی خاطر ہے تواس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ  وہ شیوسینا کے نام پر حاصل ہو یا بی جے پی کے واسطے سے  ملے۔

ممبئی میونسپل  انتخاب  کو اس سیاسی پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ مہاراشٹر میں ایک زمانے تک کانگریس کا بول بالہ رہا لیکن یہ حسنِ اتفاق ہے اس صوبے میں زعفرانی جماعتوں نے دو کونوں سے سر بھارا۔ مہاراشٹر کی اسمبلی کا ایک اجلاس ناگپور میں بھی ہوتا ہے جہاں  آرایس ایس کا مرکزی دفتر ہے اور اس کے اثرات ودربھ کے اندر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب اس کو لگتا تھا کہ مہاراشٹر کا اقتدار ان کے ہاتھوں میں کبھی نہیں آسکتا تو وہ  صوبے کو منقسم کرکے ودربھ کی علٰحیدگی کا مطالبہ بھی کرتے تھے اور اس معاملے میں شیوسینا کے ساتھ ان کا اختلاف بھی ہوجایا کرتا تھا۔ممبئی سے شیوسینا ابھری تو اس نے کوکن اور ناسک تک پیر پسارے۔ ممبئی بلکہ مہاراشٹر کے بارے یہ عام رائے تھی کہ بی جے پی شیوسینا کی مدد سے کامیاب ہوتی ہےلیکن پچھلی مرتبہ یہ بات ممبئی میں بھی غلط ثابت ہوگئی اس لئے کہ اپنے بل بوتے پر اس شہر میں  بی جے پی کوسینا سے ایک سیٹ زیادہ مل گئی۔

  اس بار سینا نے کے سامنے اپنے وجود کو باقی رکھنے کا چیلنج تھا اس لئے اس نے بی جے پی کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا۔ شیوسینا کو توقع تھی کہ نوٹ بندی کے بہانے سرجیکل اسٹرئیک کرکے بی جے پی پر ووٹ بندی نافذ کردے گی۔   اس لئے وہ بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ  122 کے مقابلے 105 کے فارمولے پر بھی راضی نہیں ہوئی اور حکومت گرانے کی گیڈر بھپکی دینے لگی۔ اس دوران  سینا کے رکن پارلیمان آنند راو اڈسول نے ایوان عام  میں نوٹ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے بڑے بھائی اور چھوٹے بھائی والے تعلق کو ایک دلچسپ مثال سے سمجھایا۔ وہ بولے اٹل بہاری واجپائی اور بالا صاحب ٹھاکرے کے زمانے سے مہاراشٹر کے اندر سینا کی حیثیت  بڑے بھائی جیسی   اور بی جے پی  کی چھوٹےبھائی کی سی ہے۔ جولوگ ارکانِ اسمبلی کی تعداد بتاکر اس ترتیب کو الٹنا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ بچوں کی تعداد سے بھائیوں کا رشتہ نہیں بدلتا۔ یعنی اگربڑے بھائی کے 2  بچے ہوں  اور چھوٹےبھائی کے بچوں کی تعداد4  ہوجائے تب  بھی  وہ چھوٹا ہی رہتا ہے۔ اس بار اپنے مونسپل کاونسلر کی تعداد کو بڑھا کر شیوسینا یہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ اس کے بچے بی جے پی زیادہ ہیں اس لئے اس کو بڑا بھائی تسلیم کیا جانا چاہئے۔ ممبئی  اور تھانے کے علاوہ مہاراشٹر کے سارے بڑے شہروں میں بی جے پی نے کامیابی درج کرائی ہے اس لئےسمجھ میں نہیں آتا کہ اکبر اور اصغر کون  ہے؟

کورو اور پانڈو بھیشما پتامہ  کے پوتے ہونے کے سبب آپس میں  چچا زاد بھائی تھے جیسے آرایس ایس اور شیوسینا دونوں وکر ساورکر کی  ہندومہاسبھا کے دو بیٹے ہیں۔ممبئی میونسپل کے الیکشن مہم کے دوران بی جے پی اور شیوسینا کی مقابلہ آرائی  کو امیت شاہ نے اسےدوستانہ   میچ قراردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے درمیان کوئی مت بھید نہیں بلکہ من بھید ہے توادھو ٹھاکرے نے جواب دیا یہ معمولی من بھید نہیں ہے آپ کے صوبائی رہنما اسے کورو اور پانڈو کی مہابھارت قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ دیویندر فردنویس اس جنگ کو  رامائن تک لے گئے۔ ان سےجب پوچھا گیا کہ شیوسینا سے بغاوت کرنے والے مجرم پیشہ  افراد  کو بی جے پی  کا ٹکٹ کیوں دیا ؟ تو اس اہم سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ  نے رامائن کے وبھیشن کی کہانی سنا دی ۔ وبھیشن اپنے بھائی راون سے غداری کرکے رام کے  ساتھ  ہوگیا  تھا۔   وزیراعلیٰ فردنویس نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ وہ نتائج کے دن شیوسینا کو اس کی حیثیت دکھا دیں گے۔ یعنی یہ فیصلہ ہوجائیگا کہ اس  مہا بھارت میں کورو کون ہے اورپانڈو کون ؟   نتائج نےرام اورراون  دونوں معمولی فرق کے ساتھ  کامیاب کردیا۔ کورو اور پانڈو کی اس مشترکہ جیت پر سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی کویتا یاد آتی ہے؎

کورو کون، کون پانڈو،ٹیڑھا سوال ہے

دونوں  اورشکونی، کاپھیلا، کوٹ جال ہے

دھرم راج نے چھوڑی نہیں، جوئے کی لت ہے

ہر پنچایت میں،پانچالی، اپمانت ہے

بنا کرشن کے، آج،مہابھارت ہونا ہے

کوئی راجہ بنے، رنک کو تو رونا ہے

جمہوری نظام سیاست پر اس سے بڑا کوئی اور طنز نہیں ہوسکتا کہ حکمراں کوئی بھی بنے  لیکن عوام کو تو رونا ہی رونا ہے۔راجہ اور رنک کے اس کھیل میں سیاست اور خدمت کی گتھی کو ایک  ماہر سیاستداں نے نہایت  دلچسپ انداز میں سلجھایا ہے۔ ان کے مطابق عوام کی یادداشت بہت مختصر ہوتی ہے۔ وہ دماغ کے بجائے دل سے سوچنے کا کام لیتے ہیں  اس لئےانہیں  دوہفتوں کی انتخابی مہم کے ذریعہ بہ آسانی بے وقوف    بنایا جاسکتا ہے۔ اب اگر کوئی امیدوار پورے پانچ سال خدمت کرے اور انتخابی  مہم کے دوران محنت نہ کرے تو ناکام ہوجاتا ہے۔ وہ خدمت نہ  کرے اور اس مہم میں  محنت کرے تب بھی کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر خدمت و محنت دونوں کرے تب بھی کامیابیکے علاوہ کچھ اور ہاتھ نہیں آتا۔   اس لئے خدمت کےجھنجھٹ میں کیوں پالیں؟بس امتحان سے قبل محنت کرو اور پاسنگ مارکس سے پاس ہوجاو پھر اس کے بعد مزے اڑاو۔

دانشور حضرات بجا طور پر انتخابی نتائج کو  خدمت کے علاوہ نظریات، دولت، قوت  اور حماقت وغیرہ سے منسوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں حیرت ہوتی ہے نوٹ بندی جیسی عظیم حماقت کے باوجود فسطائی نظریات کی حامل بی جے پی کو کامیابی کیسے مل گئی جبکہ اس کے امیر کبیر امیدوار نہ تو عوام کے مسائل کو جانتے ہیں، انہیں حل کرتے ہیں اورنہ اس کا ارادہ رکھتے ہیں۔ دراصل مندرجہ بالا فہرست میں  اگرعصبیت کو جوڑ دیا جائے تو معمہ حل  جاتا ہے۔ عصبیت علاقائی بھی ہوتی ہے اورتعصب  ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر بھی ہوتا  ہے۔ اس کو میرے اپنےسانتاکروذ کے حلقۂ انتخابکی  مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔

ہمارے وارڈ نمبر 97 میں رائے دہندگان تین بڑے طبقات پر مشتمل ہیں۔  ایک تو مہاراشٹر کے رہنے والےمراٹھی،دوسرے شمالی ہند کے باشندے اور تیسرے گجراتی۔ پچھلی میقات میں یہاں مراٹھی کونسلر تھا اور اس سے قبل راجستھان کا مسلمان  اور اس سے بھی قبل اترپردیش کا ہندو۔ اس بار یہ ہوا کہ  شیوسینا نے اپنے  منتخب شدہ کونسلر کو ٹکٹ دینے کے بجائے نئے آدمی کو ٹکٹ دے دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ صاحب  باغی یعنی آزادامیدوار کے طور انتخابی میدان میں کود پڑے جس سے مراٹھی ووٹ تقسیم ہوگئے۔ سابق راجستھانی مسلما ن کونسلر شیوسینا میں چلا گیا۔  اس بیچارے کوٹکٹ تو نہیں ملا مگراپنے سماج  میں اس کا وقار مجروح ہوگیا۔ کانگریس نے اپنے پرانے اترپردیش کےہندو کونسلر کو ٹکٹ دے دیا۔ بی جے پی نے دیکھا کہ  کوئی گجراتی میدان میں نہیں ہے اس لئے اس نے ایک گجراتی کوا پنا امیدوار بنا دیا۔

اس کے بعد ایم آئی ایم کا ایک راجستھانی امیدوار بھی میدان میں آگیا جس سے شمالی ہند کے ووٹ علاقائی اور مذہبی بنیاد پر تقسیم ہوگئے۔ شیوسینا نے  دیکھا کہ سارے گجراتی ووٹرس ایک طرف ہوگئے ہیں اور اس کے اپنے ووٹرس دو حصوں میں منقسم ہیں  تو اس نے ایک گجراتی آزاد امیدوار کومیدان میں اتار دیا۔ اس طرح انتخابی شطرنج کی بساط پر کامیابی کا دارومداراپنی پارٹی کے امیدوار کی صلاحیت اور صالحیت سے ہٹ کر  مقابل کےووٹوں کی تقسیم پر جاکر ٹک گیا۔ مراٹھی اور شمالی ہند کے چاروں امیدوار مضبوط تھے اس لئے ووٹ یکساں طور پربنٹ گئے۔  بدقسمتی شیوسینا نے جس گجراتی  آزاد امیدوارکو  کھڑا کیا تھا وہ کمزور نکلا اور  بی جے پی کے قلعہ میں سیندھ نہیں لگا سکا اس لئے بی جے پی  کامیاب ہوگئی۔ نوٹ بندی سے سب سے زیادہ زحمت متوسط درجے کے گجراتی سماج کو ہوئی ہوگی مگر گجراتیوں نے سوچاپہلی بار ہمارے حلقۂ انتخاب سے کسی اپنے والے  کو کامیابی نصیب ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد کون جانے کہ یہ موقع پھر ملے نہ ملے اس لئے نوٹ بندی کی ساری صعوبتوں کو بھلا کر اس کو کامیاب کردو۔ ممکن ہے اسی طرح کی  صورتحال  دوسرے حلقہائے انتخابات میں بھی  پیش آئی  ہو اس لئے کہ  بی جے پی کے 26 گجراتی امیدواروں نے اس بار کامیابی درج کرائی ہے۔ شیوسینا کے مسلم امیدوار کا بھی یہ حال ہے کہ اسے 18000 ہزار میں 4000 ووٹ ملے۔ ممکن ہے اس میں 400 مسلمان ووٹ ہوں باقی  10000ہزار مسلما ن ووٹ چار  عدد مسلمان امیدواروں میں تقسیم ہوگئے ہوں۔

شطرنج ایک شاہی کھیل ہوا کرتا تھا ایک زمانے میں درباری سیاست کو شطرنج کا کھیل کہا جاتا تھا۔سلطانی  ٔ جمہور کا زمانہ آیا تو بادشاہوں کے دن لد گئے اور شطرنج کی بساط بھی لپیٹ کررکھ دی گئی۔ اب حکمرانی کے منصب پر عوام کے نمائندے فائز ہوگئے ہیں  اور عوام شطرنج کے بجائے کرکٹ کو پسند کرنے لگے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ انتخابی سیاست کی بہترین مثال آئی پی ایل کرکٹ  ٹورنامنٹ ہے۔ کرکٹ کی  اس مہابھارت  میں سب سے پہلے کچھ ٹیمیں عوام کے سامنے آتی ہیں جن کے پیچھے ان کے مالک ہوتے ہیں۔ مثلاً کولکاتہ نائٹ رائیڈرس کا مالک شاہ رخ خان ہے ممبئی انڈینس مکیش  امبانی کی ملکیت ہے، کنگس الیون پنجاب کی مالکن پریتی زنٹا ہے تو رایل چیلنجرز بنگلوروپروجئے ملیا کی اجارہ داری ہے۔ ٹیموں کے یہ مالکان    نیلامی کے بازار  میں دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو بولیاں  لگا کر  خریدتے ہیں    ۔ بین اسٹاک 14 کروڈ میں بکتا ہے تو راشد خان کو 4 کروڈ میں خریدا جاتا ہے۔ تائمل مل 12 کروڈ تو انکت چودھری 2 کروڈ میں اپنے آپ کو ایک سال کیلئے  برضا و رغبت فروخت کردیتا ہے۔

اس کے بعدجب  کھیلوں کی  نشریات کا آغاز  ہوتا ہے تو اشتہار دینے والے سرمایہ دار آگے آتے  ہیں اور آخر میں شائقین کی باری آتی ہے جواپنے آپ کو مختلف ٹیموں سےوابستہ کر لیتے  ہیں۔  ان چار عناصر  کی مدد سے آئی پی ایل کی رام لیلا کھیلی جاتی  ہے۔ اس تماشے میں کھلاڑی معاوضے کے بدلےکرتب دکھاتے ہیں۔ ان کے مالک اشتہارات سے جمع ہونے والی رقم سے منافع کماتے  ہیں۔ کمال شفافیت کے ساتھ یہ  لین دین   کھلمّ کھلاّ  ہوتا ہےمگر کروڈوں کاجوا رشوت کی مانند چھپ چھپا کر کھیلا جاتا ہے۔ اشتہار دینے والے توسال بھر مصنوعات فروخت کرکے اپنی تجوری بھرتے ہیں مگر شائقین کے حصے میں بھی بہت کچھ  آتا ہے؟ اول تو ٹورنامنٹ کے کھیلوں کے درمیان ان کو ایک مفت کی تفریح مل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ٹیم کے کامیاب ہوجانے کی خوشی ہاتھ لگتی ہے۔ جب ان کی ٹیم ہار جاتی ہے تو وہ وقتی طور پر رنجیدہ ہوتے ہیں لیکن پھر ٹورنامنٹ میں کامیاب ہونے والی کسی اور ٹیم سے وفاداری استوار کرلیتے ہیں تاکہ فائنل تک دلچسپی برقرار رہے۔ فائنل کے دن خوب لطف اٹھاتے ہیں اور کھیل کے دوران دیکھے گئے مصنوعات خرید کر    سرمایہ کاروں کوسال بھرفائدہ پہنچاتےہیں۔

اب سیاست میں آئیے یہاں پر ٹیموں کے بجائے سیاسی جماعتیں ہیں۔ ان میں سے کسی کامالک مودی ہے تو کوئی گاندھی کی ملکیت ہے۔ کسی پر ٹھاکرے پریوارکی اجارہ داری ہے  تو اویسی خاندان  کسی کا کفیل بنا ہوا ہے۔ یہ لوگ کھلاڑیوں کے بجائے امیدواروں کو میدان میں اتارتے ہیں۔ سرمایہ دار ان کی اشتہاربازی پر خرچ کرتے ہیں اور عوام ان کے حق میں زندہ باد مردہ بار کے نعرے لگاتے ہیں۔ آج کل یہ کام مفت میں نہیں ہوتا بلکہ اجرت پر کیا جاتا ہے۔   انتخابی تماشے میں بھی عوام کو وہی سب ملتا ہے جو آئی پی ایل شائقین کے حصے میں آتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران ان کیلئے تفریح کا  بہت بڑا سامان ہوتا ہے۔نتائج کے اعلان کا دن تو گویا فائنل میچ جیسا ہوتا ہے۔ اس سے کچھ لوگ وقتی طور پر خوش اور کچھ رنجیدہ بھی ہوجاتے ہیں  لیکن اس کے بعد آئندہ انتخاب تک انہیں کے ٹیکس اور رشوت سے  یہ کھلاڑی اور ان کی ٹیم کے مالکان عیش کرتے ہیں۔

آئی پی ایل  ٹورنامنٹ اور انتخابی سیاست میں ایک فرق ضرور ہے۔  ٹورنامنٹ میں اشتہارات کی کمائی سیدھے ٹیم مالکان کی جیب میں جاتی ہے اس لئے انہیں اس کا ایک حصہ کھلاڑیوں کو ادا کرنا پڑتا ہے۔ سیاست میں مراعات اور رشوت براہ راست امیدواروں کو ملتی ہے اس لئے وہ  پ قیمت  ادا کرکےٹکٹ خریدتے ہیں۔ پیشگی رقم ادا کرنے والا امیدوار نہیں جانتا کہ  جیتے گا یا نہیں اور اسے کمانے کا موقع ملے بھی ملے گا یا نہیں۔ اس کے برعکس کرکٹ میں ٹیم کا مالک پیشگی رقم ادا کرکے کھلاڑی کو خریدتا ہے اور نہیں جانتا کہ یہ کھیل پائیگا یا نہیں اور اس پر خرچ ہونے والی رقم وصول ہوگی کہ نہیں؟ جہاں تک  مشتہرین اور شائقین کا سوال ہے    ان کی حالت میں اورسرمایہ کاروں اور رائے دہندگان کی  کیفیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔  یہ  بیچنے والےدوکاندار اورخریدنے والے گاہک کا باہمی رشتہ ہے۔ ان کے علاوہ  باقی  سارےاقتدار کے دلال   ہیں جو ان  دونوں  کی محنت پر عیش کرتے ہیں۔ ممبئی الیکشن کے نتائج پر عنایت علی خان کی ایک نظم صادق آتی ہے؎

الیکشن کا نتیجہ آرہا ہے،عجب کیفیتیں دکھلا رہا ہے

مثال گل اگر خنداں ہے کوئی، تو کوئی بن کھلے مرجھا رہا ہے۔

تصور میں کوئی بن بن کہ  گھوڑا ،خود اپنی بولیاں بڑھوا رہا ہے

  حلیفوں کی کوئی گن گن کے تعداد، دل مایوس کو سمجھا رہا ہے

کسی کو حکمرانی کاتصور، عجب خوابِ حسیں دکھلا رہا ہے

عنایت خاں  تو اپنے گھر میں بیٹھا،مزے سے شاعری فرما رہا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

متعلقہ

Close