آج کا کالم

کون ڈرتا ہے لڑکیوں کے بولنے سے؟

جب بھی کوئی تنہا بولتا ہے، اس کا بولنا کسی بھی بھیڑ سے بہت بڑا ہوتا ہے. اکیلا بولنے والا کمزور سے کمزور وقت میں ، غالب سے طاقتور حکومت کے سامنے ایک امید ہوتی ہے. حکومتیں اگر ہمیشہ عوام کے ساتھ ہوتیں تو اسی بھارت ملک میں اسی وقت میں مختلف حکومتوں کے خلاف سینکڑوں کی تعداد میں احتجاج نہیں چل رہے ہوتے. حکومت کا انتخاب کریں تو آپ ہیں مگر وہ ہمیشہ آپ نہیں ہوتی ہے. یہ بات جاننے کے لئے میٹرک پاس ہونا ضروری نہیں ہے. اسی لئے ہم پانچ سال کے بعد حکومت بدل دیتے ہیں یا تبدیل کرنے کا انتظار کرتے ہیں . اس ملک میں اپنی زمین بچانے کے لئے لوگوں کو حکومتوں سے گولی کھانی پڑی ہے. حکومتوں نے اپنے شہریوں کو جھوٹے مقدموں میں پھنسا کر دہشت گرد بنا دیا اور بیس بیس سال جیل میں سڑا دیا.

مکمل تاریخ بھرا پڑا ہے، احتجاج کے نئے نئے حوصلوں سے. ہر دور میں کوئی مخالف آتا ہے جو اس دور کو ایک نیا مقام دیتا ہے. سیاسی پارٹی ہی صرف مخالفت نہیں کرتے ہیں . حکمراں جماعت کے لوگ جب مخالفت کرتے ہیں تو انہیں ہر طرح کی سہولت حاصل ہوتی ہے. پولیس ان کا ساتھ دیتی ہے. حکومت ساتھ دیتی ہے. مخالف ٹیم کے لئے تھوڑی چیلنجز ہوتی ہیں مگر ان کے پاس بھی طاقت ہوتی ہے. یہ خصوصیت تمام ملازم تنظیم، کسان مزدور اور پیشہ ورانہ تنظیم کو حاصل نہیں ہوتی ہے. احتجاج کے لئے تمام طرح کی تنظیم کی ضرورت ہوتی ہے. ہر مسئلے پر سیاسی جماعت کے لوگ مخالفت نہیں کرتے ہیں . جیسے اگر آپ اے بی وی پی اور این ایس یو آئی سے کہیں گے کہ آپ بے روزگاری اور مہنگی تعلیم کے خلاف ملک بھر کے دارالحکومتوں میں مظاہرہ کریں تو وہ كتتھك کرنے لگیں گے. کیونکہ جہاں وہ آواز اٹھائیں گے، ممکن ہے وہاں ان کی پارٹی کی حکومت ہو سکتی ہے. دہلی کے جنتر منتر جائیں . ریاستوں کے دارالحکومت سے لے کر ضلع کواٹر پر جاکر دیکھئے. لوگ کن حالات میں اپنی مانگ کو لے کر احتجاج کر رہے ہوتے ہیں .

ان سب اس کی مخالفت سب سے بڑا ہوتا ہے جو اکیلے آواز اٹھاتا ہے. جب تک کوئی اکیلا آواز اٹھانے والا ہوتا ہے تب تک یہ امید بھی بچی رہتی ہے کہ کوئی ہے. یہ بات خاموش رہنے والے یا دیکھ کر نظر انداز کرنے والے تبھی سمجھتے ہیں جب وہ کہیں حکومت اور معاشرے کے تشدد کے شکار ہوتے ہیں اور کسی لیڈر یا رپورٹر کو فون کرتے ہیں . گرمےهر کور کی مخالفت اس لیے بڑا تھا کہ اس نے اپنی بات کہنے کے لئے تنظیم نہیں بنایا. اس کی مخالفت اس وجہ سے بڑے ہو گیا جب اس کی آواز پر مرکزی حکومت کے وزیر نے ردعمل ظاہر کیا. وزیر داخلہ کرن رجيجو کو قائد سے گرمےهر کور کا حوصلہ بڑھانا چاہیے تھا مگر انہوں نے اس کے خلاف تبصرہ کر ساری حکومت کو اس کے خلاف کر دیا. اس گرمےهر کور کی مخالفت بڑا ہے.

گرمےهر کور نے مخالفت تو جتایا تھا کہ وہ اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی ہیں . اس نے اکیلے جب بولا تو سوشل میڈیا کی کمزور دنیا دوڑ پڑی کہ کوئی تو بولا. شاید وائرل ہوا اور پھر گرمےهر کور کو نشانہ بنایا گیا. اے بی وی پی کی تنقید تو سب نے کی اور اے بی وی پی نے بھی ڈٹ کر جواب دیا مگر ایک لڑکی کا اکیلے بولنے سے کہ وہ اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی ہے، اس سے ڈر تو پیدا ہوا. اس بات کو پل بھر میں غائب کر دیا گیا اور سامنے لایا گیا ایک سال کی عمر ویڈیو، جسے گرمےهر کور نے کسی اور تناظر میں یو ٹیوب پر ڈالا تھا. اب اس ویڈیو کے سہارے اس پر حملہ ہوا. اس حملے میں وزیر داخلہ تک شامل ہو گئے. بی جے پی کے ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ داؤد ابراہیم نے بھی اپنے اینٹی نیشنل کو صحیح ٹھہرانے کے لئے باپ کے سپاہی ہونے کا دیجیے نہیں کیا. ظاہر ہے گرمےهر کا تنہائی اور بڑھ گیا اور اس کی حوصلہ بھی.

گاندھی کا سب سے بڑا شراکت کیا تھا. انہوں نے عام سے عام لوگوں کو اس خوف سے آزاد کر دیا کہ بغیر لاٹھی کے بندوقوں سے لیس اور 200 سال سے منجمد برطانوی حکومت کی مخالفت کر سکتے ہیں . بغیر ڈرے. اس بنیادی خوف سے جو بھی آزاد کرانے نکلتا ہے، معاشرے اور حکومت کو ڈر لگ جاتا ہے. آپ ٹوئٹر کے دورے دیکھئے، گرمےهر کے خلاف کس زبان دیجیے کیا گیا ہے. یہ اس لئے کہ کوئی لڑکی حکومت پولیس دیکھ کر خاموش رہے. بولے نہیں . مگر لڑکی تھوڑی ضدی نکلی کہہ دیا کہ ڈرتی نہیں ہے. اب اس نے کہا ہے کہ اسے جتنا آواز اٹھانا تھا اٹھا لیا، اب وہ چپ رہے گی. بات صحیح بھی ہے. وہ ڈری نہیں ہے، اس نے اب آپ پر ڈال دیا ہے کہ آپ کو ایک اکیلی لڑکی کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں تو کھڑے ہو کر دكھايے. کوئی رام صاحب ہیں جو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کے خلاف ہیں . امن کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں . وہی یو ٹیوب میں ایسے پیغام ڈالتے ہیں . 28 اپریل 2016 کو انہیں کے لئے گرمےهر نے ہندی اور انگریزی میں یہ ویڈیو ڈالا تھا.

گرمےهر کور اس ویڈیو میں بتا رہی ہیں کہ جب وہ دو سال کی تھی تو اس کے والد شہید ہو گئے، چھ سال کی تھی تو ایک بركےوالي کو مارنے کی بھی کوشش کیا کیونکہ اسے لگتا تھا کہ میرے والد کی موت کی ذمہ دار وہی ہے. تب اس کی ماں نے سمجھایا کہ پاکستان نے نہیں میرے والد کو جنگ نے مارا ہے. اس نے یہی لکھا کہ نفرت کو بھولنا سیکھ لیا. یہ آسان نہیں تھا لیکن بہت مشکل بھی نہیں . اگر میں ایسا کر سکتی ہوں تو آپ بھی کر سکتے ہیں . آج میں بھی اپنے باپ کی طرح ہی ایک فوجی ہوں . میں نے بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے لئے لڑتی ہوں کیونکہ اگر جنگ نہیں ہوا ہوتا تو میرے باپ آج میرے پاس ہوتے.

دنیا جنگ کے خلاف بولتا ہے. سب کو پتہ ہے کہ جنگ انسانیت کا دشمن ہے اس لئے چھٹبھےيا سے لے کر بڑے لیڈر امن کی بات کرتے ہیں . گرمےهر نے جب یہ ویڈیو یو ٹیوب پر ڈالا تو اس کا ساتھ پاکستان کے ایک نوجوان فیاض خان نے دیا. ابھی تک آپ نے دوست ملک سنیں گے، دشمن ملک سنیں گے، فیاض خان نے گرمےهر کور کے ساتھ ایک نئے ملک کا تصور پیش کی. سبلگ ملک یعنی بھائی بہن کا ملک. ہم زندگی میں اس لئے آتے ہیں نئے اور خوبصورت سوچنے. آسٹریلیا میں رہتے ہیں فیاض خان. 6 مئی 2016 کو یہ ویڈیو یو ٹیوب پر ڈالا. کوئی رام صاحب ہیں جو بھارت پاکستان کے درمیان امن کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے یو ٹیوب پر تحریک چلاتے ہیں . اسی ویڈیو میں پھےياج کہتے ہیں …

ہیلو گرمےهر کور، میں نے پھياذ خان ہوں پاکستان سے. جب میں پہلی بار آسٹریلیا آیا تو تمام ہندوستانیوں کو ویسے دیکھتا تھا جیسے مجھے اسکول میں سکھایا گیا تھا. لیکن جلد ہی ہم لوگ کلاس روم میں کھانا، ساکٹ اشتراک کرنے لگے جیسے ہم قریبی دوست ہوں . کارگل جنگ میں تمہارے باپ کی موت پر ہم سب کو افسوس ہے. میں نے جنگ دیکھا ہے، آپ کے شہر سوات میں اموات دیکھی ہیں لیکن قسمت سے اپنے گھر کے کسی رکن کو کھو نہیں ، لیکن میرے ارد گرد ہزاروں گرمےهر کور ہیں . میں نے بھارت آنا چاہتا ہوں بغیر کسی وذا کی پابندی کی. ہم دونوں ان پابندیوں کے خلاف مل کر لڑیں گے. سرحد کے دونوں طرف ہزاروں لوگوں کو گرمےهر کور کی طرح تکلیفوں سے گزرنا نہ پڑے، ہم اس کے لئے لڑیں گے. میں تمہیں تمہارے باپ کی محبت تو نہیں دے سکتا، لیکن کورس کے تمہیں دشمن ملک سے ایک بھائی مل گیا ہے. چلو اس دنیا میں ایک منفرد رشتہ بناتے ہیں جہاں بھائی ایک مسلمان ہے اور بہن ایک سکھ. اب اس دشمن ملک لفظ کو سبلگ ملک سے بدل دیتے ہیں . مطلب بھائی بہن کا ملک کر دیتے ہیں .

یہ اثر ہوا تھا گرمےهر ویڈیو کا. گرمےهر کور کے ویڈیو کے خلاف بھی کئی ویڈیوز آ رہے ہیں . ان پر تنقید بھی ہو رہی ہے. ہمارا توجہ اس بات پر ہے جب کوئی اکیلی لڑکی بولتا ہے تو کیا ہوتا ہے. آپ ٹوئٹر کے دورے گرمےهر کور کو دی گئی گالیوں کو جمع کیجئے. عورت دیوی ہے کے نام پر نوٹنکی کرنے والے معاشرے کی پول کھل جائے گی. بنیادی بات کیا ہے، گرمےهر کور نے ویڈیو ڈالا کہ وہ اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی ہے. مگر اسے کنارے پر ایک سال کی عمر ویڈیو نکالا گیا اور اس طرح پیش کیا گیا جیسے وہ پاکستان کے خلاف لڑتے ہوئے مارے گئے فوجیوں کی قربانی قصر کر رہی ہے. ان کے والد کا استعمال کر رہی ہے. ڈھونڈنے والوں کو اسی یو ٹیوب پر یہی ویڈیو پایا ہوگا لیکن انہوں نے آپ تک یہ بات نہیں پھیلائی کیونکہ کوشش ہے کہ آپ قوم پرستی کے نام پر سنكتے رہیں . اپنے اندر تشدد کی روح کو موقع دیتے رہیں . گرمےهر پوسٹس نے جو حاصل کیا وہ ہزار میزائل سے بھی دنیا میں آج تک کہیں بھی حاصل نہیں ہو سکا ہے. سبلگ ملک. بھائی بہن کا ملک. ہم نے شہید کا لفظ استعمال نہیں کیا. ہم نہیں کرتے ہیں . آپ پوچھيے کہ ہم شہید کا استعمال کیوں نہیں کرتے ہیں جو جواب دیتے ہیں . اور یہ جواب وزیر داخلہ كرے رجيجو نے لوک سبھا میں دیا ہے. 22 دسمبر 2015 کو لال گنج کی رہنما نیلم سونکر کے سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ” وزارت دفاع نے مطلع کیا ہے کہ ‘شہید’ لفظ بھارتی مسلح افواج میں كنهي كےذلٹيذ کے تناظر میں استعمال کیا جاتا ہے نہیں کیا جاتا. اسی طرح کسی کام یا کارروائی کے دوران مرکزی مسلح پولیس فورسز اور آسام رائفلز کے جوانوں کی موت ہو جانے کے تناظر میں بھی ایسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے نہیں ہے.

یہی جواب 18 پھروير 2014 کو سابق وزیر داخلہ آر پی این سنگھ نے لوک سبھا میں دیا تھا کہ حکومت نے کبھی شہید لفظ کی وضاحت نہیں کی ہے. اے بی وی پی کے لیے كرے رجيجو سے پوچھنا چاہئے کہ ملک کے لئے جان دینے والے فوجیوں کے لئے شہید کا لفظ استعمال کیوں نہیں ہوتا ہے. حکومت اور فوج اپنی جان کی قربانی دینے والے کو شہید نہیں کہتی ہے. یہ جواب آپ کو لوک سبھا کی ویب سائٹ سے مل جائیں گے. آپ کو پرنٹ آؤٹ لے کر انہیں ٹویٹ کر سکتے ہیں . حکومت ہند سرحد پر جان دینے والے فوجیوں کے لئے شہید کا لفظ استعمال نہیں کرتی ہے. اخبار اور ٹی وی کو لے کر محتاط ہو جائیں ورنہ اس ملک کا بیڑا گرك کرنے والوں میں آپ بھی شامل ہوں گے. ان میں سے زیادہ تر کام حکومت کے لئے زندہ باد بولنا ہو گیا ہے.

گرمےهر کور نے جتنا غزلیں لیا تھا اتنا بول لیا ہے. اس کے خلاف لوگ بولے تو حمایت میں بھی بولے ہیں . وہ ایک سکول ہے. اس سے بڑی بات کیا ہو سکتی ہے کہ پہلے سال کی اس سکول کا ساتھ اس کے اساتذہ نے دیا ہے. لیڈی شری رام کالج کے انگریزی سیکشن کے ٹیچروں نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں لکھا ہے، ‘ہم لیڈی شری رام کالج کے انگریزی سیکشن کے فیکلٹی ممبر سافتور پر اور معتبر طریقے سے اپنی سکول گرمےهر کور کی حمایت کرتے ہیں . یونیورسٹی سے منسلک مسائل پر اپنے خیالات رکھنے کے اس حق کی حمایت کرتے ہیں . ہم اساتذہ کے لیے یہ کافی تسلی بخش ہے کہ اس نے اپنے ارد گرد بنے ماحول پر خاموشی کا سہارا لینے کے بجائے بڑی ہی سنویدنشیلتا، تخلیقی صلاحیتوں اور بہادری کے ساتھ خود کا اظہار کیا ہے. ہمیں لگتا ہے کہ تعلیم اداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو تشدد انتقامی کارروائی کے خوف سے دور ان حساس اور جوابدہ بنائیں اور ان میں تنقیدی چنتن کی صلاحیت کو تیار کریں . ہمیں فخر ہے کہ گرمےهر نے اس ملک کے ایک نوجوان شہری کے طور پر اپنا فرض ادا کیا ہے. اسے مل رہی تشدد اور بربریت کی دھمکیوں کی ہم مذمت کرتے ہیں . وریندر سہواگ اور رديپ ہڈا جیسے پبلک پھگرس طرف سوشل میڈیا پر دیے گئے جواب اس دھمکی اور خوف کا شرمناک روپ ہیں جس کا سامنا گرمےهر کر رہی ہیں ، اس پر تشدد ہجوم کی طرف سے جس کا طور یونیورسٹی نے حال ہی میں دیکھا. ہم عوام سے سمجھداری کی اپیل کرتے ہیں . ہم ان اداروں سے بھی سمجھداری کی اپیل کرتے ہیں جن کے ہاتھ میں یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قانون اور انصاف میں لوگوں کا اعتماد بحال کریں اور ہمارے نوجوان شہریوں کے لئے بغیر ڈرے سوچنے اور خود کا اظہار کرنے کا ماحول دیں … ‘

حکومتوں کے پاس طاقت بہت ہوتی ہے. ہم اور آپ جب اس واقعہ کو بھول جائیں گے تو وہ کوئی طریقہ نکالے. گرمےهر کور کی حمایت دینے والے اساتذہ کو پریشان کرے گی. نوٹس بھیجے گی. ان رجسٹر چیک كرواےگي. بہت سے استاد نہ تو اپنے لئے بول پاتے ہیں نہ اپنے طالب علم کے لئے. بہت سے استاد اس ملک میں دهےذ لے کر شادی کرتے ہیں اور ٹیچر کے دن کے دن دیوتا بن کر گھومتے ہیں . ایسے اساتذہ کے لئے میں ان اساتذہ کا نام پڑھ رہا ہوں جنہوں نے گرمےهر کا ساتھ دیا ہے. جانےٹ لالوامپي، ناگوم مهےشكاتا سنگھ، مےترےيي منڈل، جنتھن وگچذ، رچتا متل، شےرناذ کاما، آرتی منوچا، روخسانا شروپھ، شہد گروور، وفا حامد، ریٹا جوشی، مایا جوشی، تانیہ سچدےو، متالی مشرا، ارما رے، دیپتی ناتھ، ہمدردی راجیو، تانیہ سچدےو.

ایسی کہانی کے لئے تیار رہیے کہ حمایت کرنے والے ٹیچروں کو کیسے ہراساں کیا گیا. ایک ٹیچر کو اپنی سکول کا ساتھ نہیں دینا چاہئے تو کیا کرنا چاہئے، خاص طور پر اس وقت جب اس کے خلاف وزیر اور ممبر پارلیمنٹ بول رہے ہوں . ٹوئٹر کے اس عصمت دری کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہوں اور لکھ کر گالیاں دی جا رہی ہوں . مان لیجئے کہ آپ کی بیٹی وہاں پڑھتی ہو تو ٹیچر کو کیا کرنا چاہئے. اس لحاظ سے یہ بڑی بات ہے.

اے بی وی پی نے پیر کو اپنی طرف سے ترنگا یاترا کا اہتمام کیا تھا. بی جے پی لیڈر شانا این سی نے کہا ہے کہ جسے بھی مصیبت ہے اسے لے کر بحث ہونی چاہئے. تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے. اے بی وی پی کے رہنما ساکیت بہوگنا نے مورس نگر تھانے میں شکایت درج کرائی ہے. کہا ہے کہ میڈیا کے ذریعے پورے ملک سے اور مجھ سے بھی ٹی وی سٹوڈیو میں یہ بات کہی ہے کہ کچھ لوگ انہیں سوشل میڈیا پر جان سے مارنے اور عصمت دری کی دھمکی دے رہے ہیں . ملک کے کسی بھی شہری کو ایسی دھمکیاں ملنا غلط ہے. پولیس کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہئے. بدقسمتی سے گرمیهر جی ہماری تنظیم اے بی وی پی پر الزام لگا رہی ہیں، لیکن میں صاف کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارا کوئی بھی دايتودھاري اس میں شامل نہیں ہے. دیر سے ہی سہی، ساکیت بہوگنا نے اچھا کام کیا ہے. ساکیت کو كرے رجيجو سے بھی کہنا چاہئے کہ آپ گرمیهر کا ساتھ دیجئے، سیکورٹی کیجئے کیونکہ وہ اکیلی ہے. بھلے ہی اس نے ہمارا مخالفت کی ہے. پھر بھی جتنا اس کے بس میں ہے اتنا تو ساکیت نے کیا ہی. ساکیت کو اب ان تصاویر کو دیکھنا چاہئے، جس میں اس تنظیم کے لوگ تشدد کرتے دکھائے گئے ہیں . وہ چاہیں تو تشدد کرنے والے اراکین کو نکال سکتے ہیں . بھلے ہی دوسرے تشدد کرنے والے آپ کی تنظیم میں بنے رہیں مگر ساکیت بہوگنا کے پاس ایک شاندار موقع ہے مخالفین کو جواب دینے کا اور آپ کی تنظیم کو پیغام دینے کا کہ ہم تشدد نہیں کریں گے.

امید ہے ساکیت بہوگنا کی یہ بات وزراء اور ممبران پارلیمنٹ تک پہنچے گی جو گرمیهر کے دماغ کو آلودہ کرنے والوں کا پتہ لگا رہے تھے. اس کے ایک سال پرانی ویڈیو کی بنیاد پر اس کی حب الوطنی یا سمدھ کو چیلنج دے رہے تھے. کسی بھی حکومت کا نمائندہ لڑکیوں کی بات کو بھلے ناپسند کرے مگر اس کی سمجھ یا آزاد سوچ کو چیلنج نہیں دے سکتا ہے. بہرحال اب گرمیهر نے خود کو آگے کی کارروائی سے الگ کرتے ہوئے بیان دیا ہے کہ،

‘میں مہم سے خود کو الگ کر رہی ہوں . آپ سب کو مبارک ہو. مجھے اکیلا چھوڑ دیں . مجھے جو کہنا تھا وہ میں نے کہہ دیا. ایک ہی چیز جو یقینی ہے کہ اب ہم تشدد کرنے یا کسی کو دھمکی دینے سے پہلے دو بار سوچیں گے، اور اس وجہ میرا مخالفت تھی. یہ مہم طالب علموں کے لئے ہے، میرے لئے نہیں . مارچ میں بڑی تعداد میں حصہ لیں جو کوئی بھی میرے ہمت اور بہادری پر سوال اٹھا رہے ہیں. ان کے لئے کہوں گی کہ میں نے ضرورت سے زیادہ ہمت دکھائی ہے. ‘

گرمیهر کور نے اپنا کام کر دیا ہے. ان کے ساتھ اور ان کے پہلے بھی بہت سی لڑکیوں نے آواز اٹھائی ہے. ہم نے کچھ نوجوان لڑکیوں سے پوچھا کہ جب وہ بولتی ہیں، پہلی بار بولتی ہیں یا بار بار بولتی ہیں تو ان کے آس پاس کا سماج ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کرتا ہے. وہ پہلے کس خوف سے خود کو آزاد کرتی ہیں اور جب آزاد ہوتی ہیں تو ان کا بولنا کس طرح اور کس کس کو ڈرا دیتا ہے. کون ہیں جو لڑکیوں کے بولنے پر کہتے ہیں کہ بہت بولتی ہو، بولوگی تو دیکھ لینا، آج کے پرائم ٹائم کا مقصد اس کے جواب میں ان لڑکیوں کو سمانے لانا ہے جو بولتی ہیں، لہذا آپ کو انہیں دیکھ سکیں . ضرور لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے کوئی فائدہ نہیں ملنا چاہئے، اس کی بات کا دلائل کی بنیاد مخالفت ہونا چاہئے. بحث ہونی چاہئے لیکن جب کوئی کسی لڑکی کو خاموش کرائے تو اس بات کے لئے نہ سہی، اس کی ہمت کے لئے اس کا ساتھ دینا چاہئے.

مرانڈا ہاؤس کی سکول شہد نے ایک ویڈیو ہمیں بھیجا ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں ، ‘سب کو آواز اٹھانی چاہئے، میں نہیں ہم نہیں تو کون آواز اٹھائے گا.’ لڑکیوں کے لئے کتنی ہدایت ہوتی ہے پھر بھی کوئی نہ کوئی آگے آتی ہے بولنے کے لئے. ان کے خاندان والوں سے گزارش ہے کہ اتنا بھی نہ ڈریں .

سدھی کہتی ہیں کہ جب بھی ان کے ساتھ کی لڑکیاں بولنے کو ہوتی ہیں انہیں تحفظ کی یاد دلا کر چپ کرا دیا جاتا ہے. وہ کون لوگ ہیں جو لڑکی کے بولنے پر خطرہ بن جاتے ہیں . اس بات کی مخالفت کیجئے. اختلاف هويے لیکن اسے یہ بولنے والے کون لوگ ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ٹھیک نہیں ہو گا. کیا ایسی آواز کرسی پر بیٹھے لوگوں سے بھی آ رہی ہے. کہیں آپ ایسے لوگوں کی حمایت تو نہیں کرتے جو لڑکیوں کے بولنے پر دیکھ لینے کی بات کرتے ہیں . معاشرے سے لے کر تمام حکومتوں میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہیں . يامني دکشت ایسی ہی ایک سکول ہیں جو بولنے کے آپ کے تجربے کو آپ سے اشتراک کرنا چاہتی ہیں .

يامني یونیورسٹی میں ایک ایسی جگہ کے لئے لڑ رہی ہے جہاں کسی بھی قسم کی اختلافات بات چیت کے ذریعہ حل کیا جا سکے. رامجس کالج میں جھگڑے کس طرح ہوئے، پتھر کس نے پھینکے، پولیس کیا کر رہی تھی، اس کی جانچ ہو رہی ہے اور کبھی نتیجہ نہیں آئے گا. اس لیے پرائم ٹائم میں ہمارا مقصد اس جھگڑے کی وجوہات یا طرف اپوزیشن میں جانا نہیں ہے. ہم گرمےهر کو لے کر ہوئے تنازعہ کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب کوئی لڑکی بولتا ہے تو اس کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے. وہ بولنے سے پہلے خود سے کیسے لڑتی ہے، جب وہ بولتا ہے تو اس سے دنیا کس طرح لڑتی ہے. ہم بات کر رہے ہیں کہ تشدد کا ڈر ختم کرنے کی ذمہ داری جتنا اے بی وی پی کی ہے اتنی ہی آیسا کی بھی ہے، ان دونوں سے سب سے زیادہ احتساب پولیس اور یونیورسٹی ہے. ہم نے ان لڑکیوں سے اتفاق لی ہے، انہوں نے بھی ہمت دکھائی ہے کہ وہ بولنے کے حالات پر بولیں گی.

دنیا میں احتجاج کا طریقہ حکومت نہیں طے کرے گی. لوگ طے کریں گے. اب دیکھئے وزیر اعظم نے دل کی بات شروع کی. اس کے جواب میں کانگریس کے لیڈر سندیپ دکشت نے کام کی بات شروع کر دی. وہ بھی ریڈیو کے ذریعہ کام کی بات میں وزیر اعظم سے سوال کرتے ہیں اور انٹرنیٹ پر ڈال دیتے ہیں . اس طرح سے جمہوریت پھلتا پھلتا ہے. طرح طرح کی آوازیں سنائی دیتی ہیں . ان آوازوں کے درمیان ہی آپ کسی کو وزیر اعظم کا انتخاب کریں اور کسی کا انتخاب نہیں کرتے ہیں .

مرانڈا ہاؤس کی ادتي کہتی ہیں ، ‘میں کسی تنظیم کی نہیں ہوں . اگر کسی کو کچھ پسند نہیں تھا تو انہیں پرامن مظاہرہ کرنا چاہئے. ان کے پاس سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ لکھنے سے ڈرتے ہیں . وہ سیاست سے بھاگنے لگے ہیں . یہ سیاست کے لئے اچھا نہیں ہے. انہیں کیوں لگتا ہے کہ گالی دینے والوں کے گروہ اناپ شناپ لکھنے لگے گا. آپ گالی دینے والوں کی پروفائل چیک کیجئے. دیکھئے کہ وہ کس سیاسی پارٹی کے حامی ہیں . وهاٹسےپ آج کل معلومات کے نام پر ردی کی ٹوکری پھیلایا جا رہا ہے. اناپ شناپ افواہیں ہیں . پورا نظام لگا ہوا ہے کسی کو اندر اندر بدنام کرنے میں . شاید انہی وجوہات سے خاص طور پر عام خواتین لکھنے سے گھبراتی ہیں . گرمےهر پوسٹس پر بھی کیسی کیسی باتیں لکھی گئی ہیں . پولیس نے معاملہ تو درج کیا ہے. دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے. منگل کو دہلی یونیورسٹی میں ایک مارچ ہوا. اس مارچ کا اہتمام طالب علم اور اساتذہ نے کیا تھا. اسا تنظیم بھی شامل تھا. اس مارچ میں سروپريا سانگوان نے ان لڑکیوں سے بات کی جو کسی تنظیم کی تو نہیں ہیں مگر تشدد کی سیاست کی مخالفت میں آئیں تھیں .

امید ہے کہ کالج انتظامیہ ایسی بولنے والی لڑکیوں کو پریشان نہیں کرے گا بلکہ انہیں ایک خط جاری کرے گا کہ آپ نے پرامن مظاہرہ میں حصہ لے کر کالج کا نام روشن کیا ہے. ایسا خط کالج کے پرنسپل کو دینا چاہئے. اے بی وی پی کے ارکان کو بھی دینا چاہیے اور آیسا والوں کو بھی. اور ان طالب علموں کو بھی جو کسی تنظیم سے نہیں ہیں جیسے ادتي. ندكشما شرما رامجس کی طالبہ ہیں . وہ کہتی ہیں ، ‘ہم نے دیکھا کہ کس طرح ہماری یونیورسٹی رايٹ جگہ میں بدل گئی. یہ بات رکھنے کے لئے ہوتی ہے. مخالفت کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ہمیں ڈرانا چاہتے ہیں . ‘

سوشل میڈیا پر ہم کیسا سماج بننے دے رہے ہیں جہاں لڑکیوں کو بولتے وقت سوچنا پڑے کہ خطرہ تو نہیں ہے. گھر سے نکلو تو خطرہ، گھر میں رہ کر دنیا سے بولو تب بھی خطرہ. جب کی زبان ہی نہیں بچے گی تو بیٹیاں کس کے لئے باقی رہیں گی. کیا شماریات ڈویژن اور عورت بہبود محکمہ کے اعداد و شمار کے لئے باقی رہیں گی. بہت سی لڑکیاں ہیں جو ان گالی دینے والے گروہوں کا مقابلہ کر رہی ہیں . آنے والے وقت میں ان کا شراکت یاد کیا جائے گا. گالی دینے والے ایک بات یاد رکھیں . حکومتیں اور سیاسی جماعتیں ان کا استعمال کر چھوڑ دیں گے. وہ سوشل میڈیا میں چاہے جو لکھ لیں ، جس بھی لیڈر کا نام لے لیں مگر معاشرے میں کبھی نہیں بتا سکیں گے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں گالیاں لکھتے ہیں . لوگوں کو دھمکاتے ہیں .

ایک سکول پراجل نے کہا، ‘پہلے میں نے اس احتجاج میں آنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ میرے پیرینٹس بہت فکر مند تھے. ایسا نہیں ہے کہ وہ اے بی وی پی کو سپورٹ کرتے ہیں ، لیکن وہ اے بی وی پی سے ڈرتے ہیں کہ کہیں وہ مجھے کچھ نہ کر دیں . پراجل کی طرح ہی سروپريا کو دہلی یونیورسٹی کے مارچ میں اسکول کی ایک طالبہ ملی. ادتي. وہ پراجل کے ساتھ ہی تھی. ادتي نے کہا کہ خوف ان کا ہتھیار ہو گیا ہے اور لڑکیوں کی مخالفت کرنا زیادہ ضروری ہے کیونکہ انہیں بولا جاتا ہے کہ تم کمزور ہو.

دنیا میں طرح طرح کے احتجاج ہو رہے ہیں . بھارت میں ہی هاجي علی درگاہ اور ہفتہ مندر میں خواتین کے داخلے کو لے کر کتنا زبردست احتجاج ہوا. خواتین نے یہ تحریک چلائی. آپ کے سوال کے نام پر ووٹ لینے کے لئے نہیں بلکہ معاشرے کو تبدیل کرنے کے لئے. آپ نکتا آزاد یاد ہے. پٹیالہ نکتا نے اکیلے رومال تحریک کی شروعات کر دی. نکتا نے سبريمالا مندر کے ٹرسٹی کو خط لکھ دیا کہ میں بیس سال کی لڑکی ہوں ، میرے آنکھ، کان، ناک، ہونٹ، ہاتھ، پاؤں سب ہیں جیسے دوسرے انسانوں کے ہیں . میں نے ایک عورت ہوں جسے حیض ہوتی ہے. میں نے ماں کو کہتے سنا ہے کہ ایسے وقت میں مندروں میں نہیں جانا چاہئے. عورت کی بے حرمتی ہوتی ہے. نکتا کے اس خط نے ملک میں ہنگامہ مچا دیا جس میں اس نے سبريمالا والوں سے پوچھا تھا کہ حیض کے وقت عورتوں کو مندر آنے سے کیوں روکا جا رہا ہے. یہ سوال اس نے اکیلے اٹھایا. کانگریس بی جے پی کے پلیٹ فارم سے نہیں اٹھایا. ان جماعتوں کے رہنماؤں کی سانسیں پھول جائیں گی. اس لئے ضروری ہے کہ کوئی اکیلے بھی آواز اٹھائے. جب کوئی ایسا کرے تو ہم ساتھ دیں . آواز اٹھانے والے سے سوال بھی کریں . نکتا سے بھی سوال ہوئے مگر اسے سوال کرنے کے لئے دھمکی ٹھیک نہیں ہے.

لڑکیاں آواز اٹھا رہی ہیں . انہیں اکیلے میں یا بھیڑ میں کسی بھی وجہ سے مارنے والوں کو دھمکانے والوں کا ساتھ مت دیجئے. ہو سکتا ہے کہ بھیڑ کے پاس سب سے صحیح دلیل ہوں ، وجہ ہوں مگر وہ عدالت نہیں ہے. وہ قانون نہیں ہے. صحیح بات کے لئے سڑک پر فیصلہ کرنے کا حق اس کے پاس نہیں ہے. یہ بات کیمسٹری کے نصاب کا نہیں ہے. عام زندگی کے نصاب میں ہے. بغیر اسکول گئے سمجھ میں آ سکتی ہے.

مترجم: محمد اسعد فلاحی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close