آج کا کالم

کون کر رہا ہے نوٹوں کی ہیرا پھیری؟

رویش کمار

 8  نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد کے دو تین ہفتے تک بینک ملازمین کی ساکھ پر کسی نے سوال نہیں اٹھائے۔ وزیر اعظم سے لے کر لائن میں لگا عام آدمی بھی بینک ملازمین کی تعریف کر رہا ہے۔  لیکن اب جب روز چھاپے پڑ رہے ہیں اور یہاں وہاں سے بھاری مقدار میں نئے نوٹ برآمد ہو رہے ہیں، عام عوام کی نظر میں بینک والوں کی ساکھ گرنے لگی ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ پیسہ تو بھارتی ریزرو بینک سے بینکوں میں ہی گیا تو ظاہر ہے لاکھوں کے نئے نوٹ کسی ایک آدمی کو بینک مینیجر کی ملی بھگت سے ہی ملے ہوں گے۔ آج جب بینک کے نظام کو سمجھنے کے لئے بینکوں کے ملازمین سے بات کر رہا تھا تب انہوں نے اپنی کہانیاں کچھ اس طرح بيان کی۔ ایک شریف آدمی نے کہا کہ 25 دن پہلے اور اب میں کافی فرق آ گیا ہے۔ پہلے ہم سمجھتے تھے کہ سرحد پر تعینات ایک فوجی کی طرح ملک کے لئے کام کر رہے ہیں، دہشت گردی پر لگام لگے گا، انکم ٹیکس ختم ہو جائے گا، کالا دھن ختم ہو جائے گا  لیکن جب بینکوں کے پاس پیسہ نہیں آیا، باہر لائنوں میں کھڑی عوام کا صبر جواب دینے لگا، وہ پتھراؤ، گھیراؤ کرنے لگی تو فوجی والی روح نکل گئی۔ ہم سےبھی ان کا درد نہیں دیکھا گیا اور وہ بھی اب ہمارا درد نہیں سمجھ رہے تھے۔ جیسے جیسے خبریں آنے لگی کہ نوٹ بندی کے دن جتنا روپیہ چلن میں تھا، اس کا اسی فیصد سے زیادہ حصہ بینکوں میں واپس آ گیا تو کالا دھن ملنے کی ہماری امید جاتی رہی، ہمیں سمجھ آنے لگا کہ بلیک منی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ پرانے نوٹ کو نئے نوٹ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ کچھ اور ہے۔ ملک کے مفاد کا معاملہ نہیں ہے. ہم سب نے 12-12 بجے رات تک کام کیا۔ ہم نے اسے حب الوطنی کے عینک  سے دیکھنا بند کر دیا۔ اب تو عوام بھی ہمیں ہیرو کی جگہ چور سمجھنے لگی ہے۔

 ضروری نہیں کہ سارے بینکر ایسا ہی سوچتے ہوں لیکن اس ایک شخص کی کہانی بہت کچھ کہتی ہے۔ ہم بھی جاننا چاہتے ہیں اور ظاہر ہے آپ کے دماغ میں بھی یہ سوال ہوگا کہ جب لوگوں کو تین تین، چار چار دنوں تک لائن میں لگنے کے بعد دو ہزار کا ایک نوٹ نہیں مل رہا تھا، تب کس طرح کسی ایک کے پاس کروڑوں روپے کے نئے نوٹ آگئے؟ ظاہر ہے ہم سب نے یہی سوچا کہ بینک مینیجر نے 30-40 فیصد کمیشن لے کر یہ کام کر دیا ہوگا۔ ایک اور بینک ملازم نے کہا کہ بینک مینیجرس یا ملازمین پر اس طرح شک کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لئے بینک ملازمین کو بدنام کیا جا رہا ہے۔

 ہر بینک میں کیشیر اور برانچ منیجر کے کمرے میں سی سی ٹی وی کیمرہ تو ہوتا ہی ہے۔ بہت آرام سے دیکھا جا سکتا ہے کہ کوئی بوری میں نوٹ لایا اور بوری میں لے کر گیا۔ بڑے پیمانے پر ایسا ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ کیشیر کے پاس ایک اور ملازم ہوتا ہے۔ اگر کیشیر اتنی بڑی مقدار میں نوٹ بدلے گا تو برانچ مینیجر اپنے کمرے سے دیکھ سکتا ہے کہ کیشیر کے کاؤنٹر پر کیا ہو رہا ہے۔ کیشیر کے ساتھ ایک اور افسر ہوتا ہے۔ کیش موومنٹ رجسٹر پر آنے والے اور جانے والے ہر نوٹ کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس پر دونوں کے دستخط ہوتے ہیں۔  ہر شام کو کیش سے ملاپ کیا جاتا ہے۔ اس کیش موومنٹ رجسٹر کی تین چار دنوں پر جانچ ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ 15 دنوں تک تحقیقات نہیں ہوئی تو برانچ مینیجر تحقیقات کے دائرے میں آ جاتا ہے۔ باقاعدہ سرٹیفکیٹ دیی جاتی ہے کہ جانچ ہوئی اور برانچ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ نوٹ بندی کے دوران جب بینکوں کے باقی کام بند ہو گئے تب ان کے افسر بینکوں کا دورہ کر برانچ کے رجسٹر کی چیکنگ کر رہے تھے، اس وجہ سے کسی برانچ سے بڑی رقم تبدیل کرنے اور ایک یا دو لوگوں کو ملنے کی گنجائش بہت کم ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب برانچ میں دو تین چار کروڑ سے زیادہ پیسہ آیا ہی نہیں۔ کسی خاص برانچ میں تو اتنا بھی نہیں آیا۔ جب بینک والے 24000 کی جگہ 2000 دے رہے تھے تو کس طرح ممکن ہے کہ ان کے پاس کسی ایک یا دو کو دس کروڑ یا چار کروڑ کے نئے نوٹ دینے کی صلاحیت ہے۔

 بینک والے بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ بھی حیران ہیں کہ اتنا پیسہ جب آیا ہی نہیں اور ہر نوٹ کی گنتی ہوتی ہے تو کس طرح کسی ایک کے پاس اتنا پیسہ آ گیا۔ بہت سے بینکوں میں پرانے بند پڑے اکاؤنٹس کو چالو کر اس میں پیسے ڈالے جانے کی بات تو سامنے آئی ہے۔ نوئیڈا کے ایکسس بینک میں 20 فرضی اکاؤنٹس میں 60 کروڑ جمع کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ ایک بینک سے 200 ملین فرضی اکاؤنٹس میں جمع ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کہیں کہیں جمع کرنے کی رسید میں جہاں آپ لکھتے ہیں کہ 100 کے کتنے نوٹ ہیں اور 500 کے کتنے نوٹ، اس کی جگہ نیا فارم بھر کر چھوٹی موٹی رقم کا تبادلہ ہو سکتا ہے لیکن موٹی رقم ممکن نہیں ہے کیونکہ بینکوں کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوتے ہیں۔ اگر بینک مینیجر پکڑا جاتا ہے تو اس کے نیچے کا افسر بھی شک کے دائرے میں آ جاتا ہے کہ اس نے اس کی رپورٹنگ کیوں نہیں کی۔ بینک ملازمین نے بھی کہا کہ ہم نہیں کہتے کہ ہمارے یہاں کرپشن نہیں ہے لیکن جب ہمارے ہاتھ میں پیسہ ہی نہیں تھا تو کچھ لوگوں کے پاس کروڑوں کی تعداد میں نئے نوٹ کس طرح پہنچے یہ انہیں بھی نہیں سمجھ آتا ہے۔ بینک کے برانچ میں جو نوٹ پہنچتا ہے وہاں سیریز نمبر نہیں ہوتا لیکن یہ لکھا جاتا ہے کہ 500 کے کتنے نوٹ جمع ہوئے اور 2000 کے کتنے نوٹ نکالے گئے۔ اس میں غلطی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

 شمالی بینگلور کے يشونت پورا کے اس اپارٹمنٹ میں سوا دو کروڑ کے نئے نوٹ کس طرح پہنچے؟ چنڈی گڑھ میں ایک کپڑا تاجر کے یہاں سے 18 لاکھ روپے کے نئے نوٹ کس طرح ملے؟ تھانے میں تین تاجروں کے پاس ایک کروڑ 40 ہزار کے نئے نوٹ کہاں سے پہنچے؟ حیدرآباد میں 2000 کے نئے نوٹوں کی گڈیاں کہاں سے آئیں؟ وہ بھی 52 لاکھ کی۔ مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں 15 لاکھ 40 ہزار کی نئی کرنسی برآمد ہوئی ہے۔ وڈودرا میں 13 لاکھ کے نئے نوٹ برآمد ہوئے۔ کئی جگہوں پر بینک افسران بھی پکڑے گئے ہیں۔ سی بی آئی نے ریزرو بینک کے افسر کو منی لاوّنڈرگ میں پکڑا۔ ان پر پرانی کرنسی لے کر 30 فیصد کمیشن پر نئی کرنسی دینے کا الزام ہے۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ جب لوگ قطار میں دم توڑ رہے تھے تو اندر کون دھاندلی کر رہا تھا؟ ابھی تک جتنی بھی رقم برآمد ہونے کی خبر آئی ہے اس سے لگتا نہیں کہ بڑے پیمانے پر بینکوں میں گھوٹالہ ہوا ہے. سي بي ڈي ٹي کے مطابق نوٹ بندی کے بعد کے 291 چھاپوں میں 316 کروڑ کے نوٹ ضبط ہوئے ہیں۔ تقریبا 300 چھاپہ ماری کے بعد اسی کروڑ کے نئے نوٹ ہی برآمد ہوئے ہیں۔ 80 کروڑ کے نئے نوٹ کی بنیاد پر کیا کہا جا سکتا ہے کہ بڑے پیمانے پر بینکوں میں دھاندلی ہوئی ہے؟ انکم ٹیکس محکمہ نے 3000 لوگوں کو نوٹس بھیجا ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ اور پکڑے جائیں۔ سوا لاکھ برانچز کے مقابلے میں برآمد نوٹ اور نوٹس کی تعداد کوئی بہت زیادہ نہیں ہے۔

 محکمہ انکم ٹیکس کا کہنا ہے کہ ان تمام سروے اورچھاپے میں انکم ٹیکس دہندگان نے 2600 کروڑ کی غیر اعلانیہ آمدنی کی بات مانی ہے۔ یہ آخری فیصلہ ہے، کہنا مشکل ہے، کیونکہ پورے مرحلے کو مکمل ہونے میں ہی کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ جمعرات کو اقتصادی امور کے سیکرٹری شكتی كانت داس نے کہا کہ تمام بینکوں کو ایک برش سے پینٹ نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشتبہ ٹرانزیکشن کی رپورٹ بینک افسران ہی دیتے ہیں، جس کی بنیاد پر کارروائی ہوتی ہے۔ 8 نومبر کے دن  کل ساڑھے 15 لاکھ کروڑ کی کرنسی چلن میں تھی۔ 10 دسمبر تک 12 لاکھ کروڑ پرانے نوٹ بینکوں میں واپس آ گئے تھے۔

 سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر سارا پیسہ بینکوں میں آ گیا تو اس کا مطلب ہے کہ کالا دھن نہیں تھا۔ اس کے بھی بہت سےپہلو ہیں، لیکن ہم آج اس پر نہیں بلکہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں کہ کیا واقعی بینک بدنام کئے جا رہے ہیں یا بینکوں نے کام ہی ایسا کیا ہے؟ حکومت کو بتانا چاہئے کہ کس برانچ میں ایک کروڑ سے زیادہ پیسہ گیا؟ کتنے برانچز میں چار لاکھ یا دس لاکھ روپیہ گیا؟ کسی برانچ سے کسی کو کروڑوں روپے کے نوٹ تبھی ملیں گے جب اس برانچ میں کئی کروڑ نئے نوٹ آئے ہوں گے۔ کیا کچھ برانچز ایسے تھے جہاں پچاس، سو کروڑ روپے بانٹنے کے لئے دئے گئے؟ پرانے نوٹ ضرور جمع کئے گئے ہوں گے؟ وہ ایک مختلف معاملہ ہے کہ کس طرح کے اکاؤنٹ میں جمع کیا گیا؟ پرانے کے بدلے نئے نوٹوں کو بدلا جانا مختلف اور سنجیدہ معاملہ ہے۔ 80 کروڑ کے نئے نوٹ بھلے بڑی رقم نہ ہوں مگر یہ رقم چند لوگوں کے ہاتھوں میں کس طرح پہنچی؟ بینک ملازم کہتے ہیں کہ اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئے، ورنہ بینک والے پبلک کی نگاہ میں ہمیشہ کے لئے بدنام ہو جائیں گے۔

مترجم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Back to top button
Close