آج کا کالم

 کٹھ پتلی صحافت کے دور میں ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے

رویش کمار

تمام قوتوں میں اہم قوت حوصلہ ہی ہے- بغیر حوصلہ سب کمزور، مع حوصلہ کمزور بھی توانا ہے. حوصلہ بغیر کسی روایتی اور غیر روایتی توانائی کے نکلتا ہے- یہ وہ قوت ہے جو ذہن میں نمو پاتی ہے – حوصلہ خاص شخص ہو سکتا ہے اور مخصوص حالات ہو سکتا ہے- طاقت نہیں بھی رہے اور حوصلہ ہو تو آپ کیا نہیں کر سکتے ہیں- یہ فارمولا بیچ کر کتنے لوگوں نے کروڑوں کما لئے اور بہت سے تو گورنر بن گئے. جب سے سرجیکل اسٹرائک ہوا ہے تمام مضامین میں یہ لائن آ ہی جاتی ہے کہ ملک کا حوصلہ بڑھا ہے- ہمارا حوصلہ اسٹرائک سے پہلے کتنا تھا اور اسٹرائک کے بعد کتنا بڑھا ہے، اسے کوئی برنير پیمانے پر نہیں پیمائش  کرسکتا ہے- ترازو میں نہیں تول سکتا ہے. ملک کا حوصلہ کیا ہوتا ہے، کس طرح بنتا ہے، کس طرح بڑھتا ہے، کس طرح کم ہوتا ہے-

 اسٹرائک سے پہلے بتایا جا رہا تھا کہ ہبدوستان دنیا کی سب سے تیزی سےبڑھتی ہوئی معیشت ہے، کیا اس سے حوصلہ بلند نہیں ہوا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے اربوں گنايے جا رہے تھے، کیا اس سے حوصلہ بلند نہیں ہوا، دنیا میں پہلی بار ہندوستان کا نام ہوا تھا ، کیا اس سے حوصلہ بلند نہیں ہوا، اتنے ٹوائلٹ بن گئے، سستے میں مریخ پر پہنچ گئے، ریل بجٹ بھی ختم ہو گیا، پلاننگ کمیشن نتی آیوگ  بن گیا، کیا اس سے حوصلہ بلند نہیں ہوا- حوصلہ کتنا ہوتا ہے کہ ان سب سے بھی پورا نہیں بڑھتا ہے- ہم کیسے مان لیں کہ فوج کے سرجیکل اسٹرائک سے حوصلہ مکمل طور پر بڑھ گیا ہے- اب اور بڑھانے کی گنجائش نہیں ہے- ملک کا حوصلہ ایک چیز سے بڑھتا ہے یا کئی چیزوں سے بڑھتا ہے- ایک بار میں بڑھتا ہے یا ہمیشہ بڑھاتے رہنے کی ضرورت ہوتی ہے- ان سب پر بات ہونی چاہئے- حوصلہ کو لے کر پس و پیش نہیں ہونا چاہئے-

 سرجیکل اسٹرائک کے بعد ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا بتانے والے تمام لیکھنے والوں کے ڈھائی سال پرانے خطوط دیکھئے- ان کے جوش سے تو نہیں لگے گا کہ حوصلہ کی کوئی کمی ہے- سوشل میڈیا پر گالی دینے والوں کا حوصلہ کتنا بڑھا ہوا ہے- وہ مسلسل خواتین صحافیوں کی طرح طرح سےتصویر کشی کر رہے ہیں- ان کا کوئی بال بیکا نہیں کر پا رہا ہے- پھر ہم کیسے مان لیں کہ ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا نہیں تھا. یہ ملک کا حوصلہ کہیں کسی پارٹی کا حوصلہ تو نہیں ہے- 80 فیصد گئو رکشک کو فرضی بتانے کے بعد بھی حوصلہ کم نہیں ہوا- رام لیلا میں نوازالدين کو ماريچ بننے سے روکنے والوں کا حوصلہ کیا سرجیکل اسٹرائک کے بعد سے بڑھا ہوا ہے یا پہلے سے ہی ان کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے. کیا اس لئے حوصلہ بڑھا ہے کہ نواز کو رام لیلا سے نکال دیں گے- قتل کے الزام میں بند نوجوان کی المناک موت پر کیا لکھا جائے. لیکن اس ترنگے سے لپٹانا کیا یہ بھی بڑھے ہوئے حوصلے کا ثبوت ہے-

 حکومت پرستی کرنے والے چینلز کا حوصلہ تو پہلے ہی بڑھا ہوا تھا. آپ کو کب لگ رہا تھا کہ ان میں حوصلے کی کمی ہے- کچھ ڈر گئے تو سیکورٹی فورس بھی فراہم کر دیا گیا جن  سےحکومت کو ڈر لگتا ہے ان  کوکھلا چھوڑ دیا گیا- کیا کسی حوصلے کی کمی کی وجہ سے ناظرین قارئین صحافت کے اس زوال کو قبول کر رہے ہیں- تاریخ انہیں کبھی نہ کبھی مجرم ٹھهرائےگی- وقت انصاف کرے گا کہ جب صحافت حکومت کی کٹھ پتلی بنی ہوئی تھی تب اس ملک کے لوگ خاموشی پسند کر رہے تھے کیونکہ ان کا حوصلہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ وہ اپنی پسند کی حکومت اور صحافت کی خود مختاری میں فرق نہیں کر سکے، وہ چینلز کو ہی سرکار سمجھ بیٹھے تھے- کہنا مت کہ وقت پر نہیں بتایا- اسی قصبہ پر دس سال سے لکھ رہا ہوں، چینلز غلام ہو گئے ہیں. ہم مٹ چکے ہیں، ہم مٹا دیے گئے ہیں-

 جب عوام ہی ساتھ نہیں ہے تو صحافی کیا کرے- بہتر ہے اخبار کے اس کاغذ پر جوتا رگڑ دیا جائے جس پر لکھ کر ہم کماتے ہیں- اسے نہ تو صحافت کی ضرورت ہے نہ صحافی کی. ایک کٹھ پتلی چاہئے، سو ہزاروں کٹھ پتلیاں  دے دو اسے- ٹھونس دو اس ملک کے ناظرین کے منہ میں کٹھ پتلی- سامعین اور قارئین کی ایسی بزدل برادری ہم نے نہیں دیکھی. انہیں پتہ نہیں چل رہا ہے کہ ہم صحافیوں کی ملازمت کی گردن دبا کر لاکھوں کروڑوں کو غلام بنایا جا رہا ہے- میرے ملک کی عوام یہ مت کرو. ہماری آزادی کے لئے آواز تو اٹھاؤ- ہماری کمر توڑ دی گئی ہے- ہمیں کتنا تپے آپ کے لئے- آپ رات کو کٹھ پتلیوں کا رقص دیکھئے اور ہم اخلاقیات کا امتحان دیں-  کون سے سوال وہاں ہوتے ہیں جو آپ راتوں کو جاگ کر دیکھتے ہیں- صبح دفتر میں اس کٹھ پتلی کی بات کرتے ہیں- کھجلی ہے تو ظالم لوشن لگا ئیے- ٹی وی کی ڈبیٹ اور صحافت کی کٹھ پتلی سے مت ٹھیک کیجئے- آپ کے سوالات کو ٹھکانے لگا کر آپ کو خاموش کیا جا رہا ہے اور آپ خوش ہیں کہ حوصلہ بڑھ گیا ہے-

 پھر کون کہتا ہے کہ حوصلہ گرا ہوا تھا- پھر کیسے مان لیں کہ حوصلہ بڑھا ہوا ہے- جب ملک کا حوصلہ بڑھا تھا تب لدھیانہ کے کسان جسونت کا حوصلہ کیوں نہیں بڑھا- کیوں وہ پانچ سال کے بیٹے کو باںہوں میں بھر کر نہر میں کود گیا- تب تو سرجیکل اسٹرائک ہو گیا تھی- کیا پھر بھی اس کے جینے کا حوصلہ نہیں بڑھا- کیا تب بھی اسے یقین نہیں ہوا کہ وہ بھی ایک دن ہندوستان سے بھاگ سکتا ہے- جب ہندوستان کی حکومت مالیا کو سات ماہ سے وطن نہیں لا سکی تو دس لاکھ والے قرضے کے کسان کو ہندوستان لانے کے لئے کبھی کروڑوں خرچ کر سکتی ہے- کبھی نہیں کرے گی. کاش جسونت مالیا ہوتا- اپنے جگر کے ٹکڑے کو سینے سے لگائے نہر میں نہیں چھلانگ لگاتا، لندن بھاگ جاتا- جسونت کی موت پر پنجاب کی خاموشی بتاتی ہے کہ واقعی ان کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے- انہیں اب جسونت جیسے کسانوں کی حالت سے فرق نہیں پڑتا ہے- لوگوں کو حوصلہ مل گیا ہے- کوئی بتائے کہ قرض سے دبے کسانوں کا بھی حوصلہ بڑھا ہوگا کیا- ہم اس پنجاب کو نہیں جانتے- ہم اس پجابييت کو نہیں جاننا چاہتے- لندن کینیڈا کی غلامی کرتے کرتے، ہمارا وہ جانباز پنجاب ختم ہو گیا ہے- آپ کہتے ہیں ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے-

 فرض کریں حوصلہ بڑھا ہے- یہ بھی تو بتائیے کہ اس بڑھے ہوئے حوصلے کا ہم کیا کرنے والے ہیں. یوپی انتخابات میں استعمال کریں گے یا کچھ برآمد بھی کریں گے- دنیا کے بہت سے ممالک میں بھی حوصلہ گھٹا ہوا ہوگا. ہم حوصلے برآمد کر ان کا حوصلہ تو بڑھا سکتے ہیں. کیا ہم حوصلے کے سہارے پانچ سال میں بے روزگاری کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کی مدت اور دس سال بڑھا سکتے ہیں. کیا ہمارے نوجوان اس بڑھے ہوئے حوصلے کے سہارے اور دس سال گھر نہیں بیٹھ سکتے ہیں- کیا اتراکھنڈ کے اس دلت خاندان کا بھی حوصلہ بڑھا ہوگا جس کے بیٹے کی گردن ایک ماسٹر نے کاٹ دی- صرف اس بات کے لئے کہ اس نے چکی چھو دی. وہ بھی ٹھیک اسی دوران جب فوج کی کارروائی کی وجہ سے ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا تھا-

 سرجیکل اسٹرائک  سے جب ملک کا حوصلہ بڑھا ہوا ہے تب پھر یگیہ کرانے کی ضرورت کیوں ہے- کیا ملک کا حوصلہ بڑھانے والی فوج کا حوصلہ کم ہو گیا ہے- کیا فوج کو بھی یگیہ کی ضرورت پڑ گئی- ہر سال بارش نہ ہونے پر یگیہ کی خبریں چلتی ہیں. ٹی وی چینلز پر- کسی میچ سے پہلے یگیہ ہونے لگتا ہے- بارش نہیں ہوتی ہے. ٹیم ہار جاتی ہے- یہ کون سے یگیہ ہیں جو ہوتے ہیں مگر ہوتا کچھ نہیں ہے- ملک کا حوصلہ بڑھا ہے. حوصلے کے نام پر سیاسی شرارت بڑھی ہے- عہدوں پر بیٹھے لوگوں کی شرافت روز دھول چاٹ رہی ہے- آپ بیان میں کچھ اور سنتے ہیں. ہوتے ہوئے کچھ اور دیکھتے ہیں- آپ دیکھیں گے کس طرح جب کوئی سوال کرے گا تب نہ؟ آپ صحافی سے کیوں پوچھتے ہو- ان سے پوچھو جنہیں آپ ووٹ دیتے ہیں- ان سے پوچھيے کہ آپ کے راج میں پریس کی آزادی کیوں ختم ہو گئی. صحافی کیوں کٹھ پتلی بن گیا. کیا صحافیوں کا چینلز کی کٹھ پتلی ہونا حوصلے کا بڑھنا ہے. مبارک ہو آپ سب کو حوصلہ بڑھ چکا ہے، جشن منائیے، ہم بھی مناتے ہیں، اعلان کیجئے، برتن خالی ہیں، گردن میں پھانسی ہے- فکر نہیں ہمیں ، ہمارا حوصلہ بڑھا ہوا ہے-

مترم: شاہد جمال

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

رویش کمار

مضمون نگار ہندوستان کے معروف صحافی اور ٹیلی وژن اینکر ہیں۔

متعلقہ

Close