آج کا کالم

کچھ اور بھی کہہ رہے ہیں پانچ ریاستوں کے نتیجے!

سدھیر جین

پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نئے سرے سے تجزیے ہونے لگے ہیں . اہم مسئلہ تو پورے انتخابات میں ہی غائب تھا، سو، اس بنیاد پر حساب لگانا ہی فضول ہے. دوسرے مسئلے اتنے سارے ہوتے ہیں کہ اس موضوع پر پی ایچ ڈی کی ضرورت پڑے گی. پھر بھی تقریبا تجزیہ کر کے کوئی ایک نتیجہ ہٹا دیں، تو وہ یہ ہے کہ ووٹر نے علاقائی سیاست کو بالکل رد کر دیا. خاص طور پر ملک کے سب سے بڑے ریاست اتر پردیش میں دونوں بڑی پارٹی ایس پی اور بی ایس پی تقریبا نیست و نابود ہو گئے. باقی چار ریاستوں میں دونوں قومی پارٹیوں کے درمیان ہی سیدھی ٹکر نظر آئی. فی الحال، یعنی ووٹوں کی گنتی کے فورا بعد، اس وقت صرف سرسری نظر ڈال سکتے ہیں، سو، اس کے مطابق اگر کانگریس اتراکھنڈ میں ہار گئی تو پنجاب اسی انداز میں جیت بھی گئی. مضمون لکھنے کے وقت تک کانگریس منی پور اور گوا میں بی جے پی سے کافی آگے ہے. ان نتائج سے مجموعی طور پر یہ نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ ملک فی الحال دو قطبی سیاست کے موڈ میں ہے اور یہ قطب ہیں بی جے پی اور کانگریس.

اتر پردیش

پردیش میں بی ایس پی کا صرف 18 سیٹ پر سمٹنا اور بی جے پی کا 325 نشستیں حاصل کرنا ہی قابل ذکر ہے. آنے والے کچھ گھنٹوں میں جتنے بھی نئے تجزیہ ہوں گے، وہ اسی کو سمجھنے اور سمجھانے میں لگے ہوں گے. لیکن سماج وادی پارٹی کی تباہی پر جو بحث ہو رہی ہو گی، اس میں یہ نہیں دیکھا جا رہا ہو گا کہ بی جے پی کے نوودي میں سب سے زیادہ نقصان بی ایس پی کو ہوا ہے. یعنی بی جے پی کی جیت میں سب سے بڑی شراکت بی ایس پی کے نقصان کا ہے. اب ووٹ فیصد کی آخری حساب تو نہیں ہو پائی ہے، لیکن اتنا تو پتہ چل ہی رہا ہے کہ بی جے پی کو جہاں 40 فیصد ووٹ ملیں گے، وہاں بی ایس پی کو صرف 20 فیصد اور ایس پی کانگریس اتحاد کو 27 فیصد. یعنی ووٹوں کے لحاظ سے ایس پی کو اتنا بڑا نقصان نہیں ہوا، جتنا نشستوں میں دکھائی دے رہا ہے. ان حقائق کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ بی جے پی کو سب سے بڑا فائدہ بی ایس پی سے ہوا. ووٹوں کی گنتی سے ایک نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ اگر ایس پی اور کانگریس کا اتحاد نہ ہوتا تو ایس پی کا ووٹ فیصد بھی کم  ہوتا اور اس کی یہ حالت بھی نہ دکھائی دے رہی ہوتی، جو اس وقت نظر آرہی ہے. قابل ذکر ہے کہ ایس پی کا اپنا ووٹ فیصد بی ایس پی کے برابر 20 فیصد کے ارد گرد ہی دکھائی دے رہا ہے. لیکن سیٹوں میں تین گنا کا فرق ہے. اس اعداد و شمار صورتحال ایس پی میں کانگریس کے ووٹ شمولیت سے ہی بنی ہے.

ایس پی کانگریس اتحاد پر سوال

جو لوگ اتحاد کو فضول ثابت کر رہے تھے، وہ یہی کہہ رہے تھے کہ دونوں کی حالت اتنی پتلی ہے کہ اتحاد سے بھی کچھ نہیں ہوگا. نتائج کے پہلے یہ کسی نے نہیں کہا تھا کہ اس کا نقصان ہوگا. جی ہاں ، ایس پی میں ہی اکھلیش مخالف خیمہ ضرور کہہ رہا تھا کہ کانگریس کو 100 سیٹیں دینے سے ایس پی کو نقصان ہو رہا ہے. یعنی ان 100 نشستوں پر کانگریس تو جیت نہیں سکتی اور ان سیٹوں پر بھی ایس پی لڑتی تو کچھ نشستیں اور ملتیں . اس کے علاوہ جن ایس پی امیدواروں کے ٹکٹ کٹے، ان کی ناراضگی نہ جھیلنی پڑتی. لیکن اب جب نتیجہ ہمارے سامنے ہیں ، تو یہ صاف ہوا ہے کہ ایس پی کی حالت پتلی ہی تھی. اور یہ اتحاد ہونے سے ایس پی کے 300 سیٹوں پر کانگریس کے جو ووٹ منسلک ہیں، اگر وہ نہ جڑے ہوتے تو سماج وادی پارٹی کی حالت بھی بی ایس پی کی طرح دکھائی دیتی. ایس پی کو ابھی 20 فیصد ووٹ ملے ہیں . تقریبا بی ایس پی کے برابر. لیکن اس کی سیٹیں بی ایس پی سے تین گنا زیادہ آئی ہیں . یہ کانگریس کے ایک حصے کے چھ فیصد ووٹ جڑنے کا اثر ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ 12 فیصد ووٹ کے سہارے اگر وہ اکیلے لڑتی، تو ہو سکتا ہے، اسے چار سیٹ سے ہی اکتفا کرنا پڑتا. اتحاد کی وجہ سے اسے ڈیڑھ گنا بڑا اعداد و شمار دکھائی دے رہا ہے. اور ویسے بھی کم سے کم کانگریس کے لئے یہ انتخابات 2019 کے لئے ایک تیاری یا ریہرسل سے زیادہ اور کچھ نہیں تھا. یعنی ایس پی کانگریس اتحاد کی شکست کا باعث اور کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن اتحاد والی وجہ بالکل بھی ثابت نہیں ہوتا.

اتر پردیش میں بی جے پی کی جیت کا آغا ز

کیا اس میں ذرا بھی شک ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی نہیں ، مودی لڑ رہے تھے. مودی ہی اتر پردیش کی تنظیم کو بذريعہ امت شاہ سنبھالے تھے. اترپردیش بی جے پی کی بجائے مودی اور مرکز میں حکمران بی جے پی کا ہی داؤ پر سب سے زیادہ لگا تھا. یعنی جس کا سب سے زیادہ داؤ پر لگا تھا، اسے ہی جیتا کیوں نہیں مانا جائے گا. اور اگر جیت کا سہرا اپنے چہرے پر ہی باندھا جائے گا تو آگے کی ذمہ داری سے بھی وہ حصہ نہیں پائے گا. یعنی اترپردیش میں مودی کے من کا وزیر اعلی اور پوری کابینہ بھی ان کے ذہن کی ہی بنے گی. اتنا ہی نہیں، اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کا کام کاج اور اس کا مستقبل کارکردگی مودی کا ہی کارکردگی مانا جائے گا. اس طرح سے مودی کے کندھے پر پہلے سے لدی ڈھیر ساری چیلنجوں میں اتر پردیش کی نئی چیلنج اور جڑ گئی ہے. سن 2019 میں جب مودی اپنا رپورٹ کارڈ پیش کر رہے ہوں گے، اس میں اتر پردیش کا ایک بڑا سا کالم ہوگا.

عوام نے كانگریس مكت بھارت کا نعرہ کا انکار کیا

پانچ ریاستوں کے انتخابات بی جے پی کے لئے كانگریس مكت ہندوستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کا ایک اور موقع تھا، لیکن ایمانداری سے اور معروضی انداز میں تجزیہ کرتے ہوئے دیکھیں تو عوام نے یہ نعرہ بالکل قبول نہیں کیا۔ کانگریس اتراکھنڈ ہاری تو اس سے بڑا پردیش پنجاب جیت گئی. گوا اور منی پور میں وہ بی جے پی سے آگے کھڑی دکھائی دے رہی ہے. کانگریس کے حق میں اس مینڈیٹ کو نہ دیکھنا بڑی بے ایمانی ہوگی. یعنی ان انتخابات کو اگر 2019 سے پہلے کے سیمی فائنل کی شکل میں دیکھیں ، تو کانگریس کا اپنی کارکردگی پہلے سے بہتر ہی ثابت ہوگی. کانگریس اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کی جونیئر پارٹنر بننے کو راضی ضرور ہو گئی تھی، اور اس سے مستقبل کے اتحاد میں اس کی حیثیت کمتر ہونے کے اندیشے کھڑے ہو گئے تھے. لیکن اب خود علاقائی جماعتوں کی حیثیت جس طرح مٹتی نظر آ رہی ہے، اس نئی صورت حال میں مستقبل کے اتحاد میں لنگر بنے رہنے والی کانگریس کی حیثیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے. اتر پردیش میں بی جے پی کی بھاري بھركم جیت کے ماحول میں یہ بات سننے میں اب بے تکی ضرور لگ سکتی ہے، لیکن جب ہم نے پہلے ہی پانچ ریاستوں میں انتخابات کو 2019 کا سیمی فائنل مان رہے تھے، تو آگے کی بات، یعنی 2019 میں فائنل کی بات ابھی سے کیوں نہیں ہونی چاہئے؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Close