کچھ گنہگار تو ہم بھی ہیں !

ایک انسانی گروہ جب مناسب حصہ داری، سیاسی اقتدار میں شراکت اور معاشی قوت کے حصول کے لئے میدان میں اترتا ہے تو طبقاتی کشمکش مذہبی، نسلی، تہذیبی اور سیاسی آویزش پیدا کرتی ہے۔ ایسی حالت میں طاقتور اکثریتی گروہ کمزور اقلیتی اکائی کو دبانے اور سیاسی و سماجی طور پر مغلوب کرنے کی کوشش کرتا ہے، نتیجہ میں ٹکرائو، تعصب، تشدد، نفرت اور جارحیت کے ڈائناسور جنم لیتے ہیں، جو تہذیبوں اور سماج کو اپنی خوراک بناتے ہیں، خاص طور سے جب سماج کے طاقتور گروہ کے دل سے انصاف و مساوات کے لطیف احساسات ختم ہوجائیں تو اقلیتیں گھٹن محسوس کرتی ہیں۔ ان کی آواز کو دبانے اور احساس کمتری و خوف میں مبتلا کرنے کے لئے ہر جائز و ناجائز حربے استعمال کئے جاتے ہیں۔ یہی نہیں، ملک میں آنے والی ہر مصیبت کے لئے ذمہ دار بتاکر، قصوروار ٹھہراکر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش ہر زمانہ، ہر سماج نے تاریخ کے ہر دور میں کی ہے۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا ہے کہ ناانصافی اور حقوق سے محرومی کی سازش کے تحت مظلوم طبقات کو ملک کا باغی، دہشت گرد، تخریب کار جیسے ’القابات‘ سے نوازکر ظلم کی نئی طرحیں ایجاد کی جاتی ہیں اور سرکاری و غیرسرکاری پروپیگنڈہ مشنری کہیں رغبت تو کہیں دبائو کے آگے ہتھیار ڈال کر انھیں بدنام کرنے اور ان کی شبیہ مسخ کرنے کی مہم چلاتی ہے۔ ان حالات میں سول سوسائٹی اور عدالتیں ہی آخری امید بن کر حوصلہ کی شمع نہاں خانہ دل میں روشن رکھتی ہیں۔

ہندوستان میں اقلیتوں کو آئین نے وہ تمام حقوق و اختیارات دیے ہیں جن کا کوئی بھی مہذب سماج تصور کرسکتا ہے اور عدالتوں نے ہمیشہ ان کا تحفظ کیا ہے، جب بھی حکمرانوں کی نیت میں کھوٹ اور فتور آیا، عدالتوں نے اس پر گرفت کی اور سیدھے راستہ پر لانے کی کوشش کی۔ یہ ان کی جرأت ہی ہے کہ اندرا گاندھی جیسی طاقتور وزیراعظم کو بھی آئین شکنی کا مرتکب قرار دینے سے نہیں ہچکیں، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اہنساوادی ملک میں تشدد و خوں ریزی کی لامتناہی داستانیں تواتر کے ساتھ دہرائی جاتی رہیں۔ مہاتما گاندھی، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی دہشت گردی کا شکار بنے مگر ان کی سنگینی کو کبھی محسوس نہیں کیا گیا۔ فرقہ وارانہ فسادات بھی دہشت گردی کی بدترین قسم ہیں جس میں بے گناہوں کو زندہ جلادیا جاتا ہے، ان کے گھر پھونک دیئے جاتے ہیں اور کاروبار کو تباہ کرکے معاشی کمر توڑ دی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اقلیتیں خاص طور سے مسلم اقلیت اس منظم سرکاری منصوبہ بند دہشت گردی کا شکار رہی ہے، سرکار کسی کی بھی ہو انھیں اس عذاب سے چھٹکارا نہیں ملا۔ سیکولرزم کی دھاردار چھری ان کے حلقوم پر رکھی جاتی رہی۔ کانگریس، بی جے پی، لیفٹ، سماجوادی پارٹی ہر ایک میں اقلیت کشی میں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی بے قراری نظر آئی۔ جب یہ دیکھا گیاکہ فرقہ وارانہ فسادات کے باوجود مسلم اقلیت حقوق کی بازیابی کی جدوجہد اور آئین میں دیے گئے اختیارات کی مانگ سے باز نہیں آئی اور خود کو اس دوڑ میں باقی رکھنے کے لئے جمہوری راستہ کو ترک نہیں کیا، اکسانے کے باوجود قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا، نکسلی دہشت گردوں کو مثال بناکر تشدد کو اختیار نہیں کیا تو اسٹیٹ پالیسی میں تبدیلی آئی۔ نائن الیون کے واقعہ نے نئی راہ دکھائی۔ سپرپاورس نے اپنے مقاصد کی یاوری کے لئے ’مجاہدین‘ تخلیق کئے اور جب انھوں نے مستقل غلامی سے انکار کردیا تو وہی مجاہدین راتوں رات دہشت گرد بنادیے گئے اور دہشت گردی مخالف عالمی مہم تہذیبوں کے ٹکرائو کے نظریہ میں ڈھال دی گئی۔ ہندوستان اس سے اچھوتا نہیں رہا۔ ملک میں وقفہ وقفہ سے بم دھماکے ہوئے، اس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اٹھایا گیا۔ فرقہ وارانہ فساد کے متاثرین مظلوم ہوتے تھے، انھیں ملک کے ہر طبقہ کی ہمدردی و حمایت ملتی تھی، انھیں پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے ہزاروں ہاتھ اٹھتے ہیں، لیکن دہشت گردی کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی شخص دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے وہ اچھوت بن جاتا ہے۔ اس کے خاندان کا ہر فرد مشکوک، مشتبہ ہوجاتا ہے۔ رشتہ دار تک قطع تعلق کرلیتے ہیں اور کوئی انھیں چمٹے سے بھی چھونے کی ہمت نہیں دکھاتا۔ مقدمہ لڑنے والے وکلاء کی پٹائی تک کی گئی ہے۔ پورا خاندان بکھر جاتا ہے اور معاشی طور پر تباہ۔ اس میں پڑھے لکھے، ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنے والے نشانہ بنائے گئے۔ وہیں سائیکل پنکچر جوڑنے، فٹ پاتھ پر رومال بیچنے اور یومیہ کماکر پیٹ کی دوزخ بھرنے والے بھی متعصب بیورو کریٹس کے ’محبوب نظر‘ بنے۔ یہ تصور یقین میں بدلنے کے لئے میڈیا کی خدمات بھی حاصل کی گئیں کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں لیکن پکڑا جانے والا ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے، حالانکہ عدلیہ نے 99 فیصد مقدمات میں اس مفروضہ کی دھجیاں اڑادیں۔ ایجنسیاں پکڑتی رہیں، جیلوں کی بھینٹ جوانیاں چڑھتی رہیں اور عدالتیں استغاثہ کے منھ پر کالک ملتی رہیں۔ مالیگائوں بم دھماکہ میں باعزت رہا ہونے والے مسلم نوجوان اس سلسلہ کی تازہ کڑی ہیں۔ میڈیا کا بڑا حصہ اب کارپوریٹ کا حصہ ہے، جو صحافت ہوتی ہے وہ خاص ایجنڈے کے تحت مفادات کو بڑھانے والی، عامر گیلانی سے لے کر وانی تک میڈیا ٹرائل کی لمبی ہوشربا کہانی ہے۔ بہرحال یہ لڑکے رہا ہوگئے، وہ ان دنوں کا تصور بھی نہیں کرنا چاہتےجس جہنم سے گزر کر آئے ہیں۔ ان کی یادوں سے چھٹکارا چاہتے ہیں وہ، انھیں پھنسانے والے افسروں کو سزا دلانے اور معاوضہ کا مطالبہ کرنے سے گریز کررہے ہیں۔ شاید وہ خوف زدہ ہیں یا کردیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس صورت حال میں ہماری کیا ذمہ داری ہے یا جب وہ لوگ جیل میں تھے تو مسلمانوں نے ایک امت کے طور پر ان کی دادرسی کا فرض ادا کیا؟ ان کی خبرگیری کی؟ ان کے بچوں کا حال چال معلوم کیا؟ ان کے ساتھ اخلاقی طور پر کھڑے ہونے کی جرأت دکھائی؟ ان کے مقدمات سے کوئی تعلق رکھا؟ سوال صرف اس ایک مقدمہ کا ہی کیوں؟ جو بھی مقدمات ہوں یا جو نوجوان آج بھی سالوں سے جیلوں میں سڑرہے ہیں، ان کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کی یا ان کے بارے میں کبھی سوچنے کی بھی زحمت کی؟ حکومتوں اور ایجنسیوں کا رویہ اپنی جگہ، عدالتی کارروائی کی سست رفتاری کی مجبوریاں چیف جسٹس آف انڈیا کے آنسوئوں میں سمجھی جاسکتی ہیں، لیکن ہم نے اپنے فرائض انفرادی اور اجتماعی طور پر نبھانے یا ان کا مظاہرہ کرنے کا حوصلہ دکھایا۔ اگر ہاں تو قابل مبارکباد ہیں، اگر نہیں تو پھر تشویش اور غور کا مقام ہے کہ ہم نے بالواسطہ طور پر ان لوگوں کی مدد کی ہے جو یہی چاہتے ہیں۔ دوسرے اس واقعہ کے بعد بھی ہمارا رویہ وہی ہے جو ہمیشہ رہا ہے۔ وہی بیانات وہی مطالبے وہی انتباہ، سرکار معاوضہ دے، سرکار پھنسانے والے افسروں کو سزا دے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سب کچھ سرکار کرے، لیکن کیا ہماری بھی کچھ ذمہ داری ہے کہ نہیں۔ جمعیۃ علماء نے اکشردھام کے بے گناہوں کے ذریعہ سپریم کورٹ میں معاوضہ اور قصوروار افسروں کو سزا دینے کی عرضی داخل کی ہے، اس پر اگلے ماہ فیصلہ آنے کی توقع ہے، جو نظیر بن سکتا ہے، مگر یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ ہماری تنظیمیں اِلا ماشاء اللہ سوشل میڈیا کے دور میں بھی پرانے طریق کار پر عمل پیرا ہیں۔ قراردادوں کے سدا بہار معجون سے ہر بیماری کا علاج کررہی ہیں۔ بے مقصد کانفرنسوں میں مالی و جسمانی توانائی کھپارہی ہیں۔ عملی سطح پر محنت کرنے سے جی چرانا اور ملّی مفادات کو جماعتی مفادات کے تابع رکھنا، باہمی چپقلش، چھوٹے چھوٹے فقہی مسلکی اختلافات، ایک دوسرے کی تذلیل و توہین کے مرض سے چھٹکارا نہیں ملا، ترجیحات متفرق ہیں، باوجود اس کے کہ ملک کی اجتماعی زندگی میں کوئی مقام نہیں۔ سیاسی حیثیت صفر ہوگئی ہے۔ ہم سے چھوٹے گروہ زیادہ منظم، زیادہ بااختیار اور زیادہ فعال و متحرک ہیں۔ ہم سچ بولنے کی جرأت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ مزاج میں مصلحت اور خاموشی گھر کرتی جارہی ہے۔ باہمی رنجشوں کا عالم یہ ہے کہ آئے دن صرف ہماری انانیت، مسلکی برتری کے جاہلانہ جنون کی وجہ سے مسجدوں میں تالے پڑتے جارہے ہیں۔ ایک دوسرے کو مچلکوں کا پابند بنایا جارہا ہے یا پھر فرزندان توحید ایک دوسرے پر ہاتھ آزماکر جیلوں کو آباد کرنے میں لگے ہیں۔ علماء کو اس تباہ خیز طوفان کی دھمک کیوں نہیں محسوس ہوتی۔ کیا اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ ایک مانیٹرنگ میکانزم بنائیں، دہشت گردی کے خلاف مہم چلانے کے ساتھ ایک ایسی مہم کی منصوبہ بندی کریں جس کے تحت بے گناہوں کو پھنسانے والے افسروں پر کارروائی کا ماحول بن سکے، ورنہ قصائی کی طرح دربہ میں ایک کے بعد ایک مرغی حلال کی جاتی رہے گی اور ہم دیگر مرغیوں کی طرح صرف تھوڑی دیر پھڑپھڑاکر احتجاج کرکے خاموش ہوجائیں گے۔ کیا اپنی باری کا انتظار کرنے کے علاوہ اور کوئی راہ نجات نہیں۔ سوچئے کہیں نہ کہیں گنہ گار تو ہم بھی ہیں۔

 

 



⋆ قاسم سید

قاسم سید
معروف صحافی اور روز نامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر

آپ اسے بھی پسند کر سکتے ہیں

دیکھ اپنی سادگی اوروں کی عیاری بھی دیکھ

قاسم سید کبھی جسم پر ننھے دانے ہوجاتے ہیں انہیں بے ضرر سمجھ کر چھوڑ …