آج کا کالم

کھودا پہاڑ نکلا یوگی!

ڈاکٹر سلیم خان

اتر پردیش میں فی الحال مودی یگ کے بعد یوگی یگ  کا نعرہ گونج رہا ہے۔  اس موقع پر یوگی ادتیناتھ کی تاجپوشی پر ان کے والد کا  غیر سیاسی بیان بہت دلچسپ ہے۔ ایک چینل پر یوگی کے والد آنند سنگھ بشٹ نے خوشی اور فخر کا اظہار کرنے کے بعد کہا کہ ’’مہنت اویدیہ ناتھ کے لکشن(علامات)  یوگی میں بھی آگئےہیں۔ میں نے بھی اسے سمجھایا کہ سرو سمبھاو( عام رواداری)  رکھو۔ اب تم بڑے عہدے پر ہو۔ کسی سے برا سلوک نہ کرو۔ مسلمانوں سے بھید بھاو نہ کرو‘‘ یہ  کوزہ اپنے اندر سمندر رکھتاہے۔سوال یہ ہے کہ آخر اس نصیحت  کی ضرورت آنند سنگھ کو کیوں محسوس ہوئی؟ اس لئے کہ یوگی میں مذکورہ صفات کا فقدان ہے جس کا اعتراف ان کے والد نے بلاواسطہ کرلیا ۔ آنند سنگھ نے اس کیلئے  مہنت اویدیہ ناتھ کو موردِ الزام ٹھہرایا ۔ اگر آنند سنگھ اپنے بیٹے کو اویدیہ ناتھ کے ساتھ نہ بھیجتے توانہیں سمجھانے بجھانے کی یہحاجت نہیں پیش آتی ۔

ادتیناتھ   کے والد نے تواس موقع پر اپنے خاندانی بزرگ اویدیناتھکا ذکر کیا لیکن خود وزیراعلیٰ کی زبان پر اپنے گرو نام  ابھی تک ایک بار بھی نہیں آیا ۔ مودی اور یوگی دونوں میںیہ احسان فراموشی مشترک ہے۔ مہنت  ادیتیہ ناتھ کا اصلی نام   کرپال سنگھ بشٹ تھا اور یہ سارے لوگ اتراکھنڈ میں پوڑی  گڑھوال کے باشندے ہیں ۔ ادیتیہ ناتھ نے ۱۹۶۲؁ سے لے کر ۱۹۷۷؁ تک پانچ مرتبہ اسمبلی کا انتخاب جیتا۔ 1970  میں  آزاد امیدوار کی حیثیت سے اور ۱۹۸۹؁ میں ہندومہاسبھا کے ٹکٹ پر پارلیمانی انتخاب میں کامیابی حاصل کی  اور 1991   اور  1994  میں بی جے پی کے نشان پر الیکشن جیتنے کے بعد 26 سالہ اویدینتاتھ کو اپنا سیاسی وارث بنا دیا ۔  اس طرح اویدیناتھ کو پکی پکائی روٹی مل گئی اور وہ اویدیہ ناتھ کے نام پر1998   سے پانچ مرتبہ رکن پارلیمان چنے گئے ۔ ستمبر 2014 میں جب ادیتہ ناتھ کا  انتقال ہوا تو کو اویدیناتھ کو گورکھپور مٹھ کا مہنت بنادیا گیا ۔  ادیتناتھ اپنے گرو کو کیا یاد کرتے کہ انہوں نے ابھی تک اپنی ماں تک کو فون نہیں کیا۔  اس لئے ٹی وی نامہ نگار کے پوچھے جانے پر بوڑھی ماں بولی  ابھی بات نہیں ہوئی ہے۔ ایسا تو مودی جی بھی نہیں کرتے۔ یوگی  نے اپنے نئے گرو سے ماں کی محبت کو بھنانے  کی سیاست ابھی نہیں سیکھی ہے۔

اتر پردیش میں وزیراعظم اور پارٹی صدر نے کریڈٹ لینے کے چکر میں وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان  نہیں کیا لیکن انتخاب میں زبردست کامیابی کے بعد شاید ان کی نیت خراب ہوگئی۔  آج کل جس طرح کی صحافت  رائج اس کے چلتے  ایک ہفتے تک  جاری وزیراعلیٰ کی میراتھون  دوڑ میں راجناتھ سنگھ  نام برابر اخبارات میں سب سے آگے ہیں  آنا شکوک و شبہات پیدا کرتا ہے۔  اس کے ذریعہ راجناتھ پر دباو بنایا جارہاتھا کہ وہ دہلی چھوڑ کر لکھنو چلے جائیں ۔ سشما سوراج کے بیمار ہوجانے کے بعددہلی سے پریکر کیا گیا۔ اب اگرراجناتھ کو بھی دہلی روانہ کردیا جاتا تب تو مودی کا کوئی مدمقابل ہی نہیں بچتا اس لئے  کہ جیٹلی ایک ہارا ہوا گھوڑا ہے ۔ اس دوران امیت شاہ کو مرکزی وزیر بنانے کی خبر بھی آئی لیکن یہ داوں نہیں چلا۔ اتفاق سے اس بار  سنگھ بھی چاہتا تھا کہ راجناتھ کی مدد سے وہ  لکھنو میں اپنا رسوخ بڑھائےلیکن راجناتھ اس کیلئے کسی صورت راضی نہیں ہوئے۔  یہی فرق ہے منوہر پریکر اور راجناتھ سنگھ میں ایک سب سے چھوٹی ریاست کا وزیراعلیٰ بننے پر مجبور کردیا گیا اور دوسرے  نے سب سے بڑی ریاست کے وزارت اعلیٰ  کی کرسی کو ٹھوکر ماردی۔

اس بیچ  ذرائع ابلاغ میں راجناتھ کے پیچھے کیشو پرشاد موریہ اور منوج سنہا کی کمنٹری  اس طرح نشر ہوتی رہی کہ کبھی شیر آگے تو کبھی گولی آگے ۔  راجناتھ کےازخود ریس سے نکل جانے کے بعد امیت شاہ کو اچانک یاد آیا کہ موریہ پر قتل سمیت کئی جرائم  میں ملوث ہونے کا الزام ہے حالانکہ یہ الزامات گزشتہ سال اس وقت بھی تھے جب انہیں پارٹی کا صدر بنایا گیا تھا اور اب بھی ہیں جبکہ وہ نائب وزیراعلیٰ بنائے گئے ہیں لیکن حقیقت ہے کہ خشواہا اور کرمیوں کو بے وقوف بناکر ان کے ووٹ ہتھیانے کے بعد اب موریہ کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے وزیراعلیٰ کی کرسی سے محروم کردیا گیا۔  جہاں تک جرائم کا تعلق ہے اس سے نہ ادتیناتھ کا دامن پاک ہے اور نہ امیت شاہ کا۔ اس حمام میں تو سبھی برہنہ ہیں۔

منوج سنہا مودی اور شاہ کی دوسری پسند تھے ۔ ان کو اس قدر یقین دلایا گیا کہ  وہ بری نظر سے بچنے کیلئے سنیچر کی صبح  وارانسی کے کال بھیرو ، کاشی وشوناتھ اور بٹک بھیرو مندر پہنچ گئے ۔ منوج سنہا سے متعلق بی جے پی کے ہمدرد اخبار دینک جاگرن نے یہاں تک لکھ دیا   اس زبردست کا میابی کے بعد منوج  سنہا کو وزیراعلیٰ کی  کرسی سونپ کر مودی جی اترپردیش سے ذات پات کی سیاست کا خاتمہ کردیں گے لیکن سنہا کی ذات  انہیں لے ڈوبی اور بھومی ہاروں کی کم تعداد نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا ۔ ویسے آر ایس ایس   نےبھی ان کے نام پر  اتفاق نہیں کیا اور اب تو حال یہ کہ  نائب وزیراعلیٰ تک کے عہدے سے محروم کردیئے گئے۔ اس طرح ذات پات کی سیاست کے خاتمے کا خواب  چکنا چور ہوگیا اور اویدیناتھ کی لاٹری لگ گئی جنھیں سنیچر کی دوپہر کو خاص طیارے کے ذریعہ گورکھپور سے  دہلی بلا کر وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھادیا گیا۔

یہ کس قدر افسوسناک صورتحال ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 312 کامیاب  ارکان اسمبلی میں سے ایک بھی  اس قابل نہیں ہے  کہ  جسے وزیراعلیٰ کے عہدے پر فائز کیا جاسکے ۔ اس لئے پہلے راجناتھ کو مکھن لگایا گیا اور پھر اویدیناتھ کو راضی کرنا پڑا جبکہ یہ دونوں ارکان پارلیمان ہیں ۔ راجناتھ تو خیر دوسرے نمبر کے قومی رہنما ہیں لیکن اویدیناتھ کس قابل ہیں ؟ اٹل جی کے زمانے میں وہ رکن پارلیمان تھے لیکن انہیں کوئی وزارت نہیں سونپی گئی۔ اس کا جواز اگر ان کی عمر کم تھی تو2014 میں وہ 42 سال کے تھے اور پانچویں بار کامیاب ہوئے تھے۔ اگر ان میں کوئی صلاحیت ہوتی تو مرکزمیں کوئی اہم نہ سہی معمولی سی وزارت ہی تھما دی جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

 اویدیناتھ کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ واضح اکثریت کے باوجود انہیں نائب وزرائے اعلیٰ کے طور پر دو عدد بیساکھیاں تھمانی پڑیں جو بی جے پی روایت سے انحراف ہے۔ گزشتہ ڈھائی سال میں بی جے پی نے جہاں  بھی انتخاب جیتاایسا نہیں کیا گیا ۔  اس کا صاف مطلب ہے کہ فی الحال بی جے پی میں کوئی ایک بھی ایسا  رہنما نہیں ہے جس پر  مسلمان تو کجا ہندو سماج کی تمام ذاتیں  اعتماد کرسکیں ۔ اس لئے ایک پسماندہ ، ایک براہمن اور ایک راجپوت  میں اقتدار کومنقسم  کرنا پڑتا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی آپسی کھینچ تان کیا گل کھلاتی ہے؟

ذرائع ابلاغ میں ان واقعات کو کس طرح توڑ مروڈ کر پیش کیا جارہا ہے اس کا بھی ایک نمونہ ملاحظہ فرمائیں ۔ اتوار کی صبحساڑھے 11 بجے تک  دینک بھاسکر  کی ویب سائٹ پر تفصیل کے ساتھ بی جے پی کے اندر ہفتہ بھر سے پکنے والی کھچڑی  کی داستان درج تھی ۔ اس کی روشنی میں یہ واضح ہوجاتا تھا کہ  ادیتناتھ کی رکابی میں اس بیربل کی کھچڑی کو کیسے مجبوراً  پروسنا پڑا۔تمام  تفصیلات  وقت کے ساتھ درج تھیں  اس پوری کہانی میں سر سنگھ چالک موہن بھاگوت  کا کہیں ذکر نہیں تھا ۔ اچانک 12 بجے وہ کہانی غائب ہوگئی اور ایک نئی کہانی چلی آئی کہ جمعہ کو رات میں بھاگوت نے شاہ جی کو فون کرکے اودیناتھ کے نام کی پیشکش کی۔ شاہ جی نے مودی جی سے پوچھ کر بتانے کا بہانہ بنا کر انہیں ٹال دیا ۔ دوسرے دن صبح خود موہن بھاگوت نے مودی جی کو فون کرکے اویدیناتھ کے نام پر راضی کرلیا۔

اس کہانی میں آر ایس ایس کی تضحیک کا پہلو واضح ہے۔ اس میں کہا  گیاصبح ساڑھے 6 بجے موہن بھاگوت نے مودی جی سے  کہا میں ایک ا ٓخری  بار ایک چیز مانگنا  چاہتا ہوں ۔ اگر مانوگے تو بولوں گا۔  مودی جی نے کچھ دیر سوچ کر ہاں کہہ دیا۔ بھاگوت نےفوراًاودیناتھ کو وزیراعلیٰ بنانے کو کہا ۔ مودی پس وپیش میں پڑگئے اور ہاں بولنے کے علاوہ ان کے پاس کو کوئی متبادل نہیں تھا اس لئے مجبور ہوگئے۔  اس کہانی میں ایک تو بھاگوت کو مودی کے آگے ہاتھ پسارے بتایا گیا جو ان کی عمر اور مقام سے فروتر ہے  دوسرے اگر فیصلہ صبح ہوگیا تھا تو دوپہر تک اویدیناتھ کا گورکھپور میں موجود ہونا اور دن بھر افواہوں کےبازار کے گرم ہونے کی بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ خیر اس خبر سے سنگھ والے خوش ہوں گے کہ ان کی جئے جئے کار ہوگئی اور مسلمان اس کو خوب پھیلائیں تاکہ  بزعم خود ملت میں بیداری آسکے حالانکہ اس طرح کی بے بنیاد باتوں سے مایوسی جنم لیتی  ہے۔

یوگی ادتیناتھ اپنے جرائم پیشہ  ماضی اور بدزبانی کیلئے مشہور ہیں ۔ انہوں نے کئی مرتبہ مسلمانوں کی دلآزاری کی ہے۔  اسی کے ساتھ جماعتی نظم و ضبط کی خلاف ورزی سے بھی مرکزی ذمہ داران   کو بارہا ناراض کیا ہے۔ دسمبر 2006کے اواخر میں جب بی جے پی کی قومی مجلس انتظامیہ کا اہم اجلاس لکھنو میں ہورہا تھا ادتیناتھ نے گورکھپور میں اس کے خلاف تین دن کا وراٹ ہند سمیلن منعقد کردیا۔  2007 کے انتخابات میں ادتیناتھ نے مرکزی رہنماوں سے  مطالبہ  کیا پروانچل میں 100 امیدواروں کو منتخب کرنے کا حق اسے دیا جائے۔   بی جے پی کے مرکزی رہنماوں نے اس مطالبے کو ٹھکرا دیا۔  بات بہت بڑھ گئی تو آر ایس ایس کو درمیان میں لایا گیا اور اس نے یوگی کو 8 پر راضی کرلیا۔

 مارچ 2010 میں ادتیناتھ ایوان پارلیمان میں پارٹی وہپ کے خلاف ورزی کرتے ہوئے خواتین  ریزرویشن بل کی مخالفت میں ووٹ دیا  لیکن جس طرح کیشو بھائی پٹیل کی ناکامی سے مودی جی کے بھاگ کھل گئے اسی طرح راجناتھ کے انکار سے ادتینا تھ کی قسمت چمک گئی ۔  جن  مسلم دانشوروں نے ۲۰۱۴؁ میں ملت کو خوف و ہراس کا شکار کرنے کی حتی الامکان کوشش کی تھی وہ یوگی کے آنے بعد اپنی پرانی مشغولیت میں جٹ گئے ہیں  حالانکہ  امت مسلمہ اس سے بے نیاز ہے اس لئے کہ ان کا معاملہ تو یوں ہے؎

نہیں سجدہ کیا صاحب شہنشاہوں کی چوکھٹ پر

 ہمیں جتنی ضرورت ہے خدا سے مانگ لیتے ہیں

ڈھائی سال قبل جب ہریانہ میں بی جے پی اقتدار میں آئی تھی تو ایسا ماحول بنایا گیا تھا کہ گویا اس نے مہابھارت میں دریودھن کا نام و نشان مٹا دیا ہے لیکن آج یہ حال ہے کہ  جس وقت لکھنو  میں ادتیناتھ کی تاجپوشی کا جشن منایا جارہاہے پانی پت سے قریب فتح آباد میں جاٹ دہلی کے اندر ایوان پارلیمان کو گھیرنے کیلئے جمع ہورہے ہیں اور حفاظتی دستے دہلی کی ناکہ بندی پر مامور کردیئے گئے ہیں۔ مظاہرین نے دوبسوں کو آگ لگا کر 200 پولس والوں کو یرغمال بنا لیا ہے ۔ ڈی ایس پی گردیال سنگھ زخمی ہو گئے ہیں اور ذرائع ابلاغ کے کیمرے اور موبائیل چھین لئے گئے  ہیں۔  ہسار ، چرکھی دادری، روہتک ، جھاجر، بھیوانی،کیتھل ، سونی پت، پانی پت ، فریدآباد ، گڑ گاوں اور کئی ضلعوں میں دفع 166 نافذ ہے انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے۔کچھ ضلعوں میں تو پٹرول، ڈیزل  وغیرہ کی فروخت بھی بند کردی گئی ہے۔

دہلی میں  رات 8 بجے کے بعد دہلی میں آنے والی ساری سڑکیں تادمِ حکم ثانی بند کرویا گیا ہے۔ سوال یہ ہے جس وزیراعظم  کی تعریف میں آسمان اور زمین کے قلابے ملائے جارہے ہیں وہ ان کسان رہنماوں سے خوف کھانے کے بجائے انہیں ایوان  میں بلا کر بات چیت کیوں نہیں کرتے؟ یا اپنے وزیراعلیٰ منوہر کھٹرکو پانی پت کے میدان میں کیوں نہیں اتارتے ؟  کیا یہی ہے بہادروں کی حکومت؟ جاٹ کسانوں کا یہ احتجاج  مرکزی اور صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے ہورہا مگر سب بے دست و پا ہیں ۔ آج نہیں تو کل جاٹ تحریک اترپردیش میں بھی داخل ہوجائیگی اس وقت ادتیناتھ کو پتہ چلے گا کہ اشتعال انگیز بیانات دینے اور کام کرنے میں کیا فرق ہے؟شیوسینا کے سنجے راوت نے بھی ادتیناتھ کو اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے ترقی کے کام کرنے کا مشورہ دیا ہے۔  عوام کو ورغلا کر انتخاب جیتنے اور ان کی بے چینی کو دور کرنے فرق  مودی جی کی سمجھ میں آچکا ہے بہت جلد یوگی کی سمجھ میں بھی آجائیگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

سلیم خان

ڈاکٹر سلیم خان معروف کالم نگار اور صحافی ہیں۔

ایک تبصرہ

  1. معروف صحافی اور کالم نگار کا لاحقہ سمجھ سے باہر ہے، ایک ایسا شخص جو اب اترپردیش جیسی بڑی ریاست کا وزیر اعلی بن چکا ہے اس کے نام میں بار بار غلطی کا شکار ہونا کسی اور ہی جانب اشارہ کرتا ہے،واضح ہو کہ کئی جگہوں پر آدتیہ ناتھ کی جگہ اوید ناتھ تحریر ہے، ایک بڑے صحافی سے ایسی بڑی غلطی کا صدور تشویش کن ہے

متعلقہ

Close